جموں و کشمیر
امرناتھ یاتریوں کا 9,000 سے زائد کا دسواں گروپ جموں بیس کیمپ سے روانہ
جموں، امرناتھ یاتریوں کا 9,000 سے زائد یاتریوں پر مشتمل دسواں گروپ سخت ترین حفاظتی انتظامات کے درمیان جمعہ کے روز جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے کشمیر کے لیے روانہ ہو گیا۔
حکام نے بتایا کہ 9,182 یاتری 333 گاڑیوں کے قافلے میں روانہ ہوئے۔ اس گروپ میں 3,305 یاتری بالٹال اور 5,877 یاتری پہلگام کے راستے جا رہے تھے۔ روانگی کا یہ عمل کثیر متبادل حفاظتی نظام کے تحت انجام دیا گیا، جس میں انتظامیہ، جموں و کشمیر پولیس، سکیورٹی فورسز اور شری امرناتھ شرائن بورڈ کے عہدیداروں نے حصہ لیا۔
واضح رہے کہ یاترا شروع ہونے کے بعد سے گزشتہ آٹھ دنوں میں ملک کے مختلف حصوں سے دو لاکھ سے زائد یاتریوں نے گپھا مندر کے درشن کیے ہیں۔ جموں و کشمیر انتظامیہ نے یاتریوں سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ وہ پکے رجسٹریشن اور طے شدہ تاریخ پر ہی یاترا کریں، کیونکہ بغیر رجسٹریشن کے کسی بھی یاتری کو بیس کیمپ تک جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امرناتھ یاترا کے سلسلے میں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے 2 جولائی کو جموں سے یاتریوں کے پہلے گروپ کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا تھا۔
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر
کشمیری زبان کا تحفظ محض بیان بازی سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ہونا چاہیے: گردھاری لال رائنا
سرینگر، سابق ایم ایل سی اور بی جے پی جموں و کشمیر کے ترجمان گردھاری لال رینا نے ہفتہ کے روز اس بات پر زور دیا کہ کشمیری زبان کا تحفظ اور فروغ ایک آئینی، ثقافتی اور تہذیبی ذمہ داری ہے جو علامتی اشاروں کے بجائے ٹھوس اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ زبان کسی بھی تہذیب کی روح ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا، “یہ تاریخ، ثقافت، اجتماعی یادداشت اور نسل در نسل شناخت کو محفوظ رکھتی ہے۔ کشمیر کا ادبی، ثقافتی اور روحانی ورثہ کشمیری زبان سے الگ نہیں ہو سکتا، جس کی وجہ سے اس کا تحفظ محض ایک علاقائی تشویش کے بجائے ایک قومی ذمہ داری بن جاتا ہے۔”
مسٹڑ رینا نے تبصرہ کیا کہ کشمیری زبان کو آج گلوبلائزیشن، بدلتے ہوئے سماجی ڈھانچے، ہجرت، نئی نسل میں اس کی منتقلی میں کمی اور ناکافی ادارہ جاتی مدد کی وجہ سے بے مثال چیلنجوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا، “جب تک فوری طور پر اصلاحی اقدامات نہیں کیے جاتے، یہ گراوٹ آنے والے وقت میں مزید سنگین ہو جائے گی جسے بدلنا مشکل ہوگا۔”
کشمیری اخبار “روزنامہ کہوَٹ” کو مسلسل 15 سال کی اشاعت مکمل کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے رینا نے اس کامیابی کو کشمیری زبان کے تحفظ میں ایک شاندار شراکت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ محدود قارئین، مالیاتی مسائل اور مشکل حالات کے باوجود کشمیری زبان میں ایک روزنامہ اخبار کو جاری رکھنا غیر معمولی عزم کی عکاسی کرتا ہے اور معاشرے کے ہر طبقے کی طرف سے تعریف کا مستحق ہے۔
تاہم، رینا نے سوال اٹھایا کہ کشمیری زبان میں شائع ہونے والے واحد روزنامہ اخبار کو اب بھی سرکاری اشتہارات سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے، جبکہ کشمیری ہندستانی کے آئین کے تحت تسلیم شدہ شیڈولڈ زبانوں (آٹھویں شیڈول) میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومتیں واقعی مقامی زبانوں کے تحفظ پر یقین رکھتی ہیں، تو یہ مدد محض تقریروں اور یادگاری تقریبات سے آگے بڑھنی چاہیے۔
رینا نے جموں و کشمیر حکومت سے پرزور اپیل کی کہ وہ کشمیری زبان کے فروغ کے لیے ایک جامع پالیسی وضع کرے اور فوری طور پر یہ یقینی بنائے کہ “ڈیلی کہوٹ” کو وہ سرکاری اشتہاری مدد ملے جس کا وہ حقدار ہے۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
دہلی اور جموں و کشمیر کے درمیان بھروسے کی کمی مزید بڑھی ہے: فاروق عبداللہ
سرینگر، نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے ہفتہ کو مرکز پر جموں و کشمیر سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا اور کہا کہ نئی دہلی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان مزید بڑھا ہے۔
نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ کی اہلیہ بیگم اکبر جہاں عبداللہ کی برسی کے موقع پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ پارٹی جمہوری طریقوں سے انصاف کی تلاش جاری رکھے گی۔
مسٹر عبداللہ نے کہا، “شروع ہی سے مشکلات تھیں، لیکن یہ مشکلات دور ہو جائیں گی۔ وہ (اللہ) ہماری آزمائش کرتا ہے کہ ہمارا ایمان کتنا مضبوط ہے۔ ہم کیوں ڈریں”
سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ سمیت متعدد وزرائے اعظم کے ساتھ اپنی ملاقاتوں اور گفتگو کو یاد کرتے ہوئے مسٹر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کو بار بار یقین دہانیاں کرائی گئیں لیکن وہ ادھوری رہیں۔ انہوں نے کہا، “مجھے یاد ہے جب نرسمہا راؤ حکومت کر رہے تھے… انہوں نے کہا تھا، ‘آسمان آخری حد ہے ‘۔ لیکن ہم نے آزادی کب مانگی تھی؟ ہم ملک کا ایک حصہ ہیں، اور ہم ملک کے اس حصے کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ ہم اسے کمزور نہیں کرنا چاہتے۔”
سینیئر سیاست دان فاروق عبداللہ نے دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بلائی گئی کل جماعتی میٹنگ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے نئی دہلی اور کشمیر کے درمیان اعتماد کی کمی کا کھل کر اظہار کیا تھا۔
انہوں نے کہا، “میں نے ان سے کہا تھا کہ بدقسمتی سے، ہم آپ پر بھروسہ نہیں کرتے اور آپ ہم پر بھروسہ نہیں کرتے۔ پہلے، آئیے ہم اپنے درمیان یہ اعتماد پیدا کریں۔ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ دہلی اور کشمیر کے درمیان فاصلے کو دور کیا جائے گا۔ کیا اب تک ایسا ہوا ہے؟ جتنا انہوں نے اسے دور کرنے کی کوشش کی، یہ اتنی ہی بڑھتی گئی۔”
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ جموں و کشمیر کے عوام ہندستان کے اندر احترام چاہتے ہیں، مسٹرعبداللہ نے کہا، “ہم بھی انسان ہیں۔ ہم ہندستان کا تاج ہیں۔ ہماری اپنی عزت ہے۔ اس عزت کو بحال کرنے کے لیے، ہم پرامن طریقے سے اپیل کرتے ہیں۔”
انہوں نے جموں و کشمیر میں سیاسی مخالفین پر بھی نشانہ سادھا اور کچھ رہنماؤں پر دہلی کے اشارے پر کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ان سے اپیل کی کہ وہ “غلامی چھوڑیں” اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔
عمر عبداللہ حکومت کی تعریف کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا کہ انتظامی رکاوٹوں کے باوجود اس نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام جاری رکھا ہوا ہے۔ راج بھون (گورنر ہاؤس) کی مبینہ مداخلت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ “اللہ ان رکاوٹوں کو دور کرے گا” اور پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے حقوق کی جدوجہد میں متحد اور ثابت قدم رہیں۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کا مرکز کو انتباہ، ہمارے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز مرکز پر یہ الزام لگایا کہ وہ مرکزکے زیرِ انتظام علاقے کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے اپنے وعدے میں تاخیر کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی حکومت کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ کی اہلیہ بیگم اکبر جہاں عبداللہ، جنہیں پارٹی کارکن ‘مادرِ مہربان’ کے نام سے یاد کرتے ہیں، کی برسی کے موقع پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے ابتدائی طور پر مرکز کے ساتھ بات چیت کا راستہ اس امید پر چنا تھا کہ وہ ریاست کا درجہ بحال کرنے کے اپنے عزم کا احترام کرے گا۔
اپنی دادی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے ان سے جو سب سے بڑا سبق سیکھا ہے وہ صبر ہے، باوجود اس کے کہ انہوں نے کئی سیاسی بحران دیکھے، جن میں شیخ عبداللہ کی قید، 1984 میں نیشنل کانفرنس کی تقسیم اور 1990 کی دہائی کی ہنگامہ آرائی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “سب سے بڑا سبق جو انہوں نے مجھے سکھایا وہ صبر ہے۔ اگر ہم مادرِ مہربان کو صحیح طریقے سے خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں صبر کے اس راستے کو یاد رکھنا ہوگا جو انہوں نے ہمیں دکھایا تھا۔”
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اصرار کیا کہ “صبر کا راستہ کمزوری کا راستہ نہیں ہے۔ صبر کا راستہ خاموشی کا راستہ نہیں ہے… یہ صبر ہماری طاقت ہے۔ یہ صبر ہماری آواز ہے۔”
ریاست کا درجہ بحال کرنے میں تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ “ہماری حکومت کو تقریباً دو سال ہونے والے ہیں۔ آخر آج ہم جنتر منتر پر احتجاج کرنے کی بات کیوں کر رہے ہیں؟ کیا ہوا؟”
انہوں نے کہا کہ “میں وہ شخص ہوں جس نے تقریباً دو سال تک اپنی سیاسی قسمت اور ساکھ کو داؤ پر لگایا اور مرکز سے کہا کہ ہم اپنے حقوق لڑ کر نہیں بلکہ بات چیت کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔”
دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد مرکز کی یقین دہانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ تین مراحل میں حالات کو معمول پر لانے کا وعدہ کیا گیا تھا، ڈی لیمیٹیشن، اسمبلی انتخابات، اور ریاست کا درجہ بحال کرنا۔
انہوں نے کہا کہ “ڈی لیمیٹیشن ہو گئی… انتخابات ہو گئے۔ اب اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ یہی نہ کہ جموں و کشمیر کے عوام نے ہمیں حکومت کی ذمہ داری سونپ دی۔”
ڈی لیمیٹیشن کو بی جے پی کے حق میں قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا، “ان کا مقصد کسی نہ کسی طرح جمہوریت کا گلا گھونٹ کر یہاں حکومت قائم کرنا تھا، لیکن جموں و کشمیر کے عوام ان کی توقع سے کہیں زیادہ سمجھدار ثابت ہوئے۔”
جاری۔۔۔۔ یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
دنیا5 days agoسپریم لیڈر کے قاتل کو سزائے موت کی طرف لے جائیں گے: سربراہ ایرانی عدلیہ
ہندوستان1 week agoسندھ طاس معاہدہ: پاکستان کو ہندوستان کا کرارا جواب، دہشت گردی کی حمایت بند کرنی ہوگی
دنیا5 days agoامریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا نفاذ مشکل لیکن ممکن: قالیباف
ہندوستان5 days agoحکومت کی ایم ایس ایم ای مخالف پالیسیوں سے راجستھان کے بس ٹرک باڈی بلڈرز پر بحران۔ راہل
دنیا1 week agoفیلڈ مارشل عاصم منیر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لئے تہران پہنچ گئے
دنیا1 week agoفرانس نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کیلئے مائن ہنٹرز تعینات کر دیے
تازہ ترین1 week ago’سیو امریکہ ایکٹ‘ پاس ہو گیا تو 100 سال تک ریپبلکنز ہار نہیں سکیں گے: ٹرمپ
دنیا4 days agoایران کا انتقاماً یروشلم کو آزادی دلانے کا اعلان
دنیا1 week agoایران مذاکرات کا خواہاں ہے، علی خامنہ ای کے جنازے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا3 days agoٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی
دنیا5 days agoنیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین پر روس کا بدترین فضائی حملہ، 11 افراد ہلاک
ہندوستان3 days agoرام مندر چڑھاوا تنازع گرما گیا، تیواری بولے– ’قصورواروإ کو بچانے میں مصروف بی جے پی حکومت‘





































































































