ہندوستان
ایک طرف بجٹ اور دوسری طرف بنیادی سال میں تبدیلی پالیسی کوآرڈینیشن کی کمی ہے: کانگریس

نئی دہلی، کانگریس نے مالی سال 2026-27 کے مرکزی بجٹ پیش ہونے کے موقع پر شماریاتی اعداد و شمار کے جاری ہونے کے وقت کے حوالے سے گہری تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ بجٹ کے مالی تخمینے پرانے اعداد و شمار کی بنیاد پر ہو سکتے ہیں، کیونکہ بجٹ پیش ہونے کے صرف چند دن بعد ہی ملک کی ترقی کی شرح (جی ڈی پی) اور مہنگائی کی شرح (سی پی آئی) کے حساب کے بنیادی سال (بیس ایئر) میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
کانگریس کے جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی سال میں اس تبدیلی سے بجٹ کے اہم اعداد و شمار، جیسے کہ مالی خسارہ اور ترقی کی شرح کے اہداف میں بڑی بے ترتیبی پیدا ہوسکتی ہے۔ اس سے پالیسی سازی کے عمل میں ہم آہنگی کی کمی ظاہر ہوسکتی ہے جس سے بجٹ کے حقیقی اثرات کا درست اندازہ لگانا چیلنجنگ ہو جائے گا۔
انہوں نے لکھا کہ بجٹ کے کئی اعداد و شمار جی ڈی پی کے فیصد کے طور پر پیش کیے جائیں گے، لیکن چند دن بعد ہی 2022-23 کو بنیاد سال تصور کرکے نئی جی ڈی پی سیریز جاری ہونے والی ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اتوار کو پیش کیے جانے والے بجٹ کے اعداد و شمار میں اس کے فوراً بعد ترمیم کی جائے گی؟
انہوں نے ایک اور تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 2024 کو بنیاد مان کر نئی صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) سیریز 12 فروری کو جاری ہونے کی توقع ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس نئی سیریز میں غذائی اشیاء کی قیمتوں کی حصہ داری میں تیزی سے کمی دیکھی جا سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو اس کا بھی بجٹ کے اعداد و شمار پر اثر پڑے گا۔ ہول سیل پرائس انڈیکس میں بھی ترمیم کی جا رہی ہے اور ممکن ہے کہ اسے آئندہ چند مہینوں میں شائع کیا جائے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ جو بھی صورت حال ہو، یہ پالیسی سازی میں ہم آہنگی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ کل پیش کیا جائے گا۔
ریاستی حکومتیں بے صبری سے انتظار کر رہی ہوں گی کہ ان کے لیے اس میں کیا ہے، کیونکہ وزیر خزانہ 16ویں مالی کمیشن کی سفارشات نافذ کرنے کا اعلان کرنے والی ہیں۔
واضح رہے کہ مالی کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے، جسے ہر پانچ سال بعد قائم کیا جاتا ہے۔ اس کا کام مرکز کے مجموعی محصول میں ریاستوں کی حصہ داری اور پانچ سال کی مدت کے لیے مخصوص گرانٹس کی سفارشات کرنا ہے۔ نیا 16واں مالی کمیشن 2026-27 سے 2030-31 کی مدت سے متعلق ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
دہلی سے بغیر محرم خواتین حج کے لیے مدینہ روانہ
بغیر محرم حج سفر خواتین کو بااختیار بنانے کی ایک مضبوط علامت : کوثر جہاں
نئی دہلی آج سعودی ایئرلائن کی ساتویں حج پرواز نمبر ایس وی-5909 کے ذریعے 43 بغیر محرم خواتین دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے مقدس شہر مدینہ روانہ ہوئیں اس موقع پر اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل-3 پر دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی چیئرپرسن کوثر جہاں، حج کمیٹی کے ایگزیکٹو آفیسر اشفاق احمد عارفی، ڈپٹی ایگزیکٹو آفیسر محسن علی اور حج کمیٹی کے دیگر عملے نے ان خواتین کا استقبال کیا اور پھولوں کے ساتھ ان کی عزت افزائی کرتے ہوئے انہیں حج کے سفر پر روانہ کیا۔
اس موقع پر چیئرپرسن کوثر جہاں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت کی اس قابلِ تعریف پہل سے اب معاشرے کے ہر طبقے کے لیے سہولیات پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کی اس پہل کے تحت بغیر محرم (بغیر مرد ساتھی) خواتین کا حج پر جانا نہ صرف مذہبی اہمیت رکھتا ہے بلکہ خواتین کو بااختیار بنانے کی ایک اہم مثال بھی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ آج دہلی سے حج کے لیے روانہ ہونے والی 43 خواتین میں سے 12 دہلی سے، 21 اتر پردیش سے، 3 بہار سے، 4 جموں و کشمیر سے، 2 مدھیہ پردیش سے اور 2 اتراکھنڈ سے تعلق رکھتی ہیں۔ 18 اپریل سے شروع ہونے والی حج پروازوں کے سلسلے کی یہ ساتویں پرواز تھی، جس کے تحت اب تک مجموعی طور پر 2721 عازمین حج مدینہ روانہ ہو چکے ہیں۔ اب تک روانہ ہونے والوں میں 1423 مرد اور 1298 خواتین شامل ہیں۔
آئندہ 20 مئی تک سعودی ایئرلائن کی 54 پروازوں کے ذریعے دہلی اسٹیٹ سمیت شمالی ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے 21,100 سے زائد عازمین حج مدینہ منورہ اور جدہ کے راستے مکہ مکرمہ روانہ ہوں گے۔ اس سال دہلی امبارکیشن سے حج کے لیے پہلے مرحلے میں 31 پروازوں کے ذریعے 12,240 عازمین مدینہ منورہ جائیں گے، جبکہ دوسرے مرحلے میں 23 پروازوں کے ذریعے 8,860 عازمین مکہ مکرمہ روانہ ہوں گے۔ جب کہ دہلی ریاست کے عازمین حج کی تعداد 3196 ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
ہندوستان
ڈیریک او برائن کا بی جے پی اور ایجنسیوں کے ذریعے ممتا بنرجی کو ‘نشانہ بنانے’ کا الزام
نئی دہلی، ترنمول کانگریس کے رہنما ڈیریک او برائن نے منگل کے روز مرکز اور متعدد اداروں پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ سب مل کر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو نشانہ بنا رہے ہیں سوشل میڈیا پر ایک سخت الفاظ میں لکھی گئی پوسٹ میں او برائن نے لکھا، “سب ایک عورت کے خلاف متحد ہو گئے ہیں،” اور انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع، کئی وزرائے اعلیٰ اور مرکزی ایجنسیوں کا نام لیتے ہوئے اسے ایک مربوط کوشش قرار دیا۔
انہوں نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی)، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) اور الیکشن کمیشن آف انڈیا جیسے اداروں کا حوالہ دینے کے ساتھ ساتھ “سی اے پی ایف کے 2400 پلاٹونوں” کی تعیناتی کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ “سب” بنرجی کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔
یہ ریمارکس حکمراں آل انڈیا ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے دوران سامنے آئے ہیں، خاص طور پر انتخابات کے دوران جب قانون نافذ کرنے والے اداروں، مرکزی افواج کی تعیناتی اور آئینی اداروں کا کردار اکثر تنازع کا مرکز بن جاتا ہے۔
بی جے پی ماضی میں اس طرح کے الزامات کو بارہا مسترد کر چکی ہے، اس کا موقف ہے کہ مرکزی ایجنسیاں آزادانہ طور پر کام کرتی ہیں اور سکیورٹی کی تعیناتی الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق کی جاتی ہے تاکہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنایا جا سکے۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
خواتین ریزرویشن کے نفاذ کی خواہش مند نہیں مودی حکومت: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت ہمیشہ خواتین کے ریزرویشن کے حق میں رہی ہے اور اس کے لیے وہ وقتا فوقتا حکومت پر دباؤ بھی ڈالتی رہی ہے، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت حکمت عملی کے تحت اسے نافذ نہیں کر رہی ہے۔
کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے منگل کے روز سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ ان کی پارٹی گزشتہ 10 سالوں سے حکومت پر خواتین کو ریزرویشن دینے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے اور اس بل کو پارلیمنٹ میں پاس کرانے میں بھی اپنی حمایت دی، لیکن مودی حکومت نے جان بوجھ کر اور حکمت عملی کے تحت اسے حد بندی (ڈی لیمیٹیشن) کے عمل سے جوڑ دیا، جس کی وجہ سے اس کے نفاذ میں رکاوٹ آئی۔
انہوں نے کہا کہ 2017 میں اس وقت کی کانگریس صدر سونیا گاندھی نے بھی خواتین کے ریزرویشن کا بل منظور کرنے کے حوالے سے مودی کو خط لکھا تھا۔ سابق کانگریس صدر راہل گاندھی نے بھی 16 جولائی 2018 کو وزیر اعظم کو خط لکھ کر خواتین کے ریزرویشن کو فوری طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ مودی حکومت نے اس مطالبے پر کوئی توجہ نہیں دی اور پھر حد بندی سے جوڑ کر اسے ٹالنے کی کوشش کی۔
مسٹر رمیش نے کہا، “خواتین کے ریزرویشن کے تعلق سے کانگریس کا موقف اٹل اور غیر تبدیل شدہ رہا ہے۔ راہل گاندھی کے لکھے ہوئے خط کے آٹھ سال بعد بھی، وزیر اعظم حد بندی سے جوڑ کر ریزرویشن کے نفاذ میں تاخیر کرنے کے خواہشمند ہیں اور اسی لیے انہوں نے اس مطالبے پر کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔”
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا5 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
جموں و کشمیر6 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ
دنیا1 week agoٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی: دی اکنامسٹ
جموں و کشمیر5 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
ہندوستان1 week agoوزیراعظم مودی کا ‘ناری شکتی’ کے نام خط، خواتین کے ریزرویشن کے عزم کا اعادہ









































































































