دنیا
غزہ پر اسرائیلی فوج کے حملوں میں 50 افراد شہید

غزہ، غزہ کی پٹی میں اتوار کے روز ہونے والے اسرائیلی فوج کے حملوں میں کم از کم 50 فلسطینی شہید ہوگئے۔
فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ڈبلیو اے ایف اے نے اطلاع دی ہے کہ اتوار کے روز غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں کم از کم 50 فلسطینی شہید ہوگئے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں 46 افراد شہید ہوئے ہیں۔
غزہ کے شہری دفاع کے ترجمان محمود باسل نے ایک بیان میں کہا کہ اتوار کی صبح سے، اسرائیلی فوج نے اپنے حملوں میں “50 سے زائد عمارتوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور 100 دیگر کو جزوی طور پر نقصان پہنچایا ہے، جن میں اونچی عمارتیں بھی شامل ہیں جن میں ہزاروں شہری رہائش پذیر ہیں۔”
محمود باسل نے 18 مارچ کے بعد سے اس دن کو “جنگ کے سب سے مشکل دنوں میں سے ایک” قرار دیا” ۔
دریں اثناء، اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے غزہ شہر میں ایک بلند عمارت کو نشانہ بنایا، اور دعویٰ کیا کہ یہ حماس کے زیر استعمال تھی۔
آئی ڈی ایف کے مطابق، “حماس کے جنگجوؤں نے انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کا سامان نصب کیا اور علاقے میں اسرائیلی فوجیوں کے ٹھکانوں کی نگرانی کے لیے آبزرویشن پوسٹیں لگائیں۔” تاہم، اسرائیلی فوج نے اس دعوے کی حمایت میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ حماس نے ان الزامات کو “بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ پٹی میں آپریشن جاری رہنے کی وجہ سے مقامی باشندوں میں بے گھر ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔
اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (UNRWA) نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا “غزہ میں، ہزاروں افراد کو زبردستی اپنے گھروں سے بے گھر کیا جا رہا ہے – جاری حملوں کی وجہ سے اکھڑ گئے، اور چھوٹے، غیر محفوظ علاقوں تک محدود ہو گئے”۔
اس نے کہا، “عمارتوں، اسکولوں، پناہ گاہوں اور اسپتالوں کے تباہ ہونے کے ساتھ، خوراک، صاف پانی اور دیگر ضروری سامان کی رسائی انتہائی محدود ہے۔ کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے، کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔”
18 مارچ کو اسرائیل نے غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی تھیں۔ غزہ کے محکمہ صحت کے حکام نے اتوار کے روز بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے اپنے شدید حملے دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے کم از کم 11,911 فلسطینی جاں بحق اور 50,735 دیگر زخمی ہو چکے ہیں، جس سے اکتوبر 2023 سے اب تک ہلاکتوں کی کل تعداد 64,455 اور زخمیوں کی تعداد 162,776 ہو گئی ہے۔
حماس نے اتوار کے روز ایک بیان میں بتایا کہ اس کے وفد نے ہفتے کی شام مصر کا دورہ کیا، جس کے دوران اس نے “مصری دارالحکومت قاہرہ میں فلسطینی دھڑوں، سول سوسائٹی کے اداروں، فلسطینی شخصیات اور تاجروں سے ملاقات کی۔”
یو این آئی۔ م ش۔
دنیا
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے قانون منظور کر لیا۔
تہران ، ایرانی میڈیا نے رپورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کیلئے قانون منظور کر لیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس لی جائے گی،قانون کے تحت ایران کو یہ حق ہو گا وہ حفاظتی خدمات کے نام پر جہازوں سے ٹیکس وصول کرے،قانون کے تحت یہ طے کیا جائے گا اہم آبی گزرگاہ سے کن ممالک کے جہاز گزریں گے،ایران مخالف ممالک کے بحری جہازوں پرسخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ دوسری جانب ایرانی اسپیکر قالیباف نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ کیا جنگ بیچ کر دوبارہ عظیم بننا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی 4 آپشنز امریکہ کے سامنے رکھ دیئے ۔
ان کا کہناتھا کہ کیا مہنگائی کو دوبارہ عظیم بنانا چاہتے ہو؟ کیا عوام کی قوت خرید سے محرومی کو عظیم بنانا چاہتے ہیں؟کیا چند طاقتوروں کو دوبارہ عظیم بنانے کے خواہشمند ہو؟کیا ایپسٹین اسکینڈل کودوبارہ عظیم بنانا چاہتے ہو۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور اس کی ناکہ بندی ایک بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حیرت ہوئی ہم نے کل آبنائے ہرمز میں جو جہاز پکڑے اس میں ایران کیلیے تحائف تھے جو چین سے جا رہے تھے، چینی صدر شی جی پنگ سے میری اچھی انڈر اسٹیڈنگ ہے لیکن جنگ میں سب چلتا ہے، اس جہاز میں جو کچھ تھا وہ کچھ زیادہ اچھا نہیں تھا۔
یو این آئی۔ م ا ع
دنیا
ایران-امریکہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز بڑی رکاوٹ
واشنگٹن/تہران، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ایک اور دور کی تیاری کے درمیان آبنائے ہرمز کا معاملہ ایک بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس غیر حل شدہ تنازع کی وجہ سے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ تنگ سمندری راستہ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایک بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔ محفوظ گزرگاہ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے باعث ہزاروں ملاح اس کے دونوں جانب پھنسے ہوئے ہیں۔
ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ سے پہلے اس آبنائے سے روزانہ 100 سے زیادہ جہاز گزرتے تھے، لیکن اب یہ تعداد نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔ گزشتہ جمعہ سے اتوار کے درمیان صرف 36 جہاز ہی یہاں سے گزر سکے، تاہم ایران کی جانب سے پابندیوں میں معمولی نرمی کے باعث یہ گزشتہ ہفتوں کے مقابلے میں کچھ بہتر صورتحال ہے۔
شپنگ تجزیاتی ادارے کیپلر نے تصدیق کی ہے کہ 13 اپریل کو امریکی بحری ناکہ بندی کے نفاذ کے بعد کم از کم 27 ایرانی جہاز اس راستے سے گزر چکے ہیں۔ اسی دوران امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کئی جہازوں کو اپنا راستہ تبدیل کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ اس وقت خلیج عمان اور خلیج فارس میں آئل ٹینکروں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں اور بہت سے جہاز مالکان کے لیے بغیر سکیورٹی ضمانت کے یہاں سے گزرنا خطرناک بنا ہوا ہے۔
اس تنازع کی بنیادی وجہ اس آبی گزرگاہ پر کنٹرول کا مسئلہ ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران تاریخی طور پر اس راستے پر اپنا اثر و رسوخ رکھتا آیا ہے، اور اب وہ اسے باضابطہ شکل دینے کے لیے فیس نظام نافذ کرنے پر زور دے سکتا ہے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو عالمی توانائی کی ترسیل پر ایران کا کنٹرول بڑھ جائے گا، جسے امریکہ کے لیے قبول کرنا مشکل ہوگا۔
اس صورتحال کا اثر عالمی منڈیوں پر بھی واضح نظر آ رہا ہے۔ سپلائی میں کمی اور غیر یقینی حالات کے باعث تیل اور گیس کی قیمتیں بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
ایرانی میڈیا کا آبنائے ہرمز کو ‘اگلے اطلاع تک’ مکمل بند کرنے کا اعلان
تہران، ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے منگل کو اعلان کیا کہ تہران نے آبنائے ہرمز کو ‘اگلے اطلاع تک’ مکمل طور پر بند کردیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ “امریکی-اسرائیلی دشمن” کے حالیہ حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بعد کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے تجارتی جہازوں کی کنٹرولڈ نقل و حرکت کے لیے متبادل راستے بنائے گئے تھے۔ لیکن اب وہ بھی بند ہو گئے ہیں۔
ایجنسی کے مطابق یہ پابندی اس وقت تک نافذ رہے گی جب تک ایران کے خلاف عائد کردہ بحری ناکہ بندی کے مکمل خاتمے کی ضمانت نہیں دی جاتی۔ رپورٹ میں ‘حالیہ حملے’ کی کوئی خاص تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، لیکن یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب جب حال ہی میں امریکی افواج نے بحیرہ عرب میں ایک ایرانی تجارتی جہاز کو پکڑا۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق، منگل کو بھی، امریکی افواج نے ایران سے منسلک ایک اور جہاز کو روکا اور اس میں سوار ہو گئے۔ پینٹاگون نے اطلاع دی کہ خام تیل کے ٹینکر، ایم/ٹی ٹیفانی کو روکا گیا اور آپریشن “بغیر کسی واقعے کے” مکمل کیا گیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔ْ
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا5 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
جموں و کشمیر5 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا1 week agoٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی: دی اکنامسٹ
جموں و کشمیر5 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
ہندوستان1 week agoوزیراعظم مودی کا ‘ناری شکتی’ کے نام خط، خواتین کے ریزرویشن کے عزم کا اعادہ
دنیا5 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری









































































































