ہندوستان
مسلم خواتین: ملک وسماج کے لیے کچھ کرگزرنے کا جذبہ کم نہیں

نئی دہلی، ہندوستان میں جب بھی ملک اور سماج کی تعمیروترقی کی بات ہوتی ہے تو سب سے بڑی اقلیت کے بارے میں تذکرہ مایوسی پر مبنی ہوتا ہے اور اگر اس کمیونٹی کی مسلم خواتین کا ذکر ہوتو بات مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے، لیکن خواتین کے تعلق سے غیر جانبدارانہ طریقہ سے جائزہ لیا جائے تو صورتحال اتنی مایوس کن نہیں، جتنی نظر آتی ہے یا جس کا شور ہے، مسلم خواتین نے گزشتہ برسوں کے دوران ہر شعبے میں اپنی نمایاں موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ ادب وثقافت، معیشت، کارپوریٹ اور سرکاری ملازمت، تحقیق و ترقی، اسپورٹس گویا کہ کوئی شعبہ ایسا نہیں، جہاں مسلم خواتین کی نمائندگی نہیں ہے ۔
اگر ادب کی بات کریں تو 2025 میں ایک کنڑ مصنفہ بانو مشتاق کو”ہارٹ لیمپ” کے لیے بین الاقوامی بکر انعام سے نوازاگیا۔ بانو مشتاق کی پیدائش 3 اپریل 1948 کرناٹک میں ہوئی۔ دیپا بھاستی نے ان کی مختصر کہانیوں کا ترجمہ کیا تھا ،جس پر انھیں یہ انعام ملا۔ انھوں نے چھ مختصر کہانی کے مجموعے، ایک ناول، ایک مضمون کا مجموعہ اور ایک شعری مجموعہ شائع کیا ہے۔ ان کی تصنیفات کا اردو، ہندی، تمل، ملیالم اور انگریزی میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
بانومشتاق کو چھوٹی عمر سے ہی لکھنے کا شوق تھا۔انھوں نے اپنے احساسات اور تجربات کو روبہ عمل لانے کے لیے تحریروں کا رخ کیا۔ ان کی زیادہ تر تحریر خواتین کے مسائل پر نظر آتی ہے۔ مجموعے کی کہانیاں ایک صحافی اور وکیل کے طور پر مشتاق کی زندگی کی عکاسی کرتی ہیں، جس میں خواتین کے حقوق اور ملک کے اس حصے میں ذات پات اور مذہبی ناانصافیوں کے خلاف مزاحمت پر توجہ دی گئی ہے۔
ممتاز ادیبہ اور مترجم ارجمندآرا کے بقول “بے شک وہ کنڑ زبان میں کنڑ علاقے کی کہانیاں بیان کرتی ہیں لیکن ان کا اطلاق پورے برصغیر پر اور خصوصاً برِ صغیر کے مسلم معاشرے پر ہوتا ہے۔ یہ کہانیاں ہمیں غورو فکر پر مجبور کریں گی، قدرے حساس اور عقلمند اور نسبتاً بہتر انسان بننے پر مائل کریں گی۔”
بکر انٹرنیشنل ججوں کے سربراہ میکس پورٹر نے کہا کہ اگرچہ کہانیاں حقوق نسواں کی علم بردار ہیں اور ان میں پدرانہ نظام اور مزاحمت کے غیر معمولی بیانات ہیں، لیکن سب سے پہلے وہ ‘روزمرہ کی زندگی اور خاص طور پر خواتین کی زندگیوں کے خوبصورت بیانات ہیں۔’دی گارڈین نے تبصرہ کیا کہ ‘لہجہ خاموش سے مزاحیہ تک مختلف ہوتا ہے، لیکن نقطہ نظر میں استقلال ہے’ اور اس نے اسے ‘حیرت انگیز مجموعہ قرار دیا۔ بکر انعام کے علاوہ انھیں کرناٹک ساہتیہ اکیڈمی سمیت دیگر ایوارڈ سے بھی نوازاگیا ہے ۔
اس کے علاوہ ادیبہ انعم اشفاق احمد نے یواپی ایس سی 2024 کے امتحان میں 142 کا آل انڈیا رینک حاصل کرنے کے بعد مہاراشٹر کی پہلی مسلم خاتون آئی اے ایس (انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس) آفیسر بن کر تاریخ رقم کی۔ انھوں نے یہ کامیابی مالی مشکلات کے باوجود حاصل کی۔ مہاراشٹر کے ایوت محل ضلع کی طالبہ ادیبہ اشفاق احمد نے یونین پبلک سروس کمیشن(یوپی ایس سی ) کے نتائج میں اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔ ایک آٹو ڈرائیور کی بیٹی نے ایسا کارنامہ انجام دیا، جو ریاست میں اس سے پہلےکوئی مسلم طالبہ انجام نہیں دے سکی۔
یو پی ایس سی امتحانات کے لیے کلاسز اور سہولیات کی کمی کے باوجود ایوت محل کی اس ہونہار طالبہ نے اپنی محنت اور لگن سے مقصد کو حاصل کر لیا۔ ضلع کے بہت سے طلباء اپنے مقصد کو پورا کرنے اور امتحان کی تیاری کے لیے پونے، ممبئی اور دہلی جاتے ہیں۔
دوسری جانب جو طلباء غربت کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر ہیں، وہ آن لائن کورسز مکمل کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔
محترمہ ادیبہ نے اپنی ابتدائی تعلیم ظفر نگر ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول سے حاصل کی۔ انھوں نے یہاں پہلی سے ساتویں کلاس تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے آٹھویں سے دسویں جماعت تک کی تعلیم ضلع پریشد کے سابق گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سے حاصل کی۔
ادیبہ نے اپنی 11ویں اور 12ویں کی تعلیم ضلع پریشد سابق گورنمنٹ کالج، ایوت محل سے مکمل کی۔ اس کے بعد ادیبہ نے انعامدار سینئر کالج، پونے سے ریاضی میں بی ایس سی کیا۔
بعد ازاں، ادیبہ انعم نے پونے کی ایک اکیڈمی سے یو پی ایس سی فاؤنڈیشن کی کوچنگ لی۔ ان کو چوتھی کوشش میں کامیابی ملی۔ ادیبہ کے والد کی مالی حالت بہت خراب تھی، اس لیے انہیں اپنی بیٹی کی تعلیم کے لیے اپنا گھر فروخت کرنا پڑا۔ انھوں نے اپنی بیٹی کی تعلیم کے لیے اپنا رکشہ تک بیچ دیا۔ ادیبہ انعم کی داستان سن کر یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اگر انسان میں ہمت اور لگن ہوتو کوئی بھی چیز اسے اپنے مقصد کےحصول میں حائل نہیں ہوسکتی۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ کمپیوٹر انجینئرنگ سے حال ہی میں ایم ٹیک مکمل کرنے والی طالبہ تمکین فاطمہ کی وزارتِ دفاع، حکومتِ ہند کے تحت ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) میں بطور سائنس داں ‘بی’ تقرری عمل میں آئی ہے۔ ان کا انتخاب ایک مسابقتی عمل کے ذریعے ہوا، جس میں علمی کارکردگی، گیٹ اسکور اور انٹرویو شامل تھے۔
محترمہ تمکین فاطمہ نے 2025 میں ایم ٹیک (کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ) میں فرسٹ رینک حاصل کی۔ انہوں نے 2023 میں بی ٹیک بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے مکمل کیا تھا۔ علاوہ ازیں، انہوں نے 2024 میں اپنی پہلی ہی کوشش میں یو جی سی نیٹ (جے آر ایف) امتحان، کمپیوٹر سائنس میں آل انڈیا رینک 2 کے ساتھ پاس کیا۔
سیاست کی بات کی جائے تو اقراحسن چودھری جون، 2024 سے کیرانہ حلقے کی نمائندگی کرنے والی ہندوستان کی سب سے کم عمر مسلم رکن پارلیمنٹ (ایم پی) بن گئی ہیں۔ وہ کیرانہ کے سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے دادا چودھری اختر حسن ، والد منور حسن اور والدہ تبسم حسن، تینوں لوک سبھا سے رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں۔ جب کہ اقرا کے بھائی ناہید حسن کیرانہ سے رکن اسمبلی ہیں۔
اقرا حسن بتاتی ہیں کہ ان کا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، شاید ان کے والد نے انہیں گھر سے دور تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھا کیونکہ وہ انہیں گھر کے سیاسی ماحول سے دور رکھنا چاہتے تھے لیکن جب ان کے والد ایک حادثے میں انتقال کر گئے اور والدہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئیں تو ان سے قربت کی وجہ سےمجھے بھی سیاسی لوگوں سے ملاقات کرنے کا موقع ملا۔ اس طرح ان کے سیاسی سفر کا آغاز ہوا۔
ہندوستانی فوج کی کرنل صوفیہ قریشی اور ہندوستانی فضائیہ کی ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ نمایاں شخصیات تھیں، جنہوں نے مئی، 2025 میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن سندور کے بارے میں دنیا کو بریف کیا، جو مسلح افواج میں خواتین کی قیادت کی علامت ہے۔ کرنل صوفیہ نے جہاں اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دیکر حکومت اور اعلی افسران کا اعتماد حاصل کیا، وہیں یہ ثابت بھی کیا کہ اگرخواتین کو موقع ملے تو مشکل ترین کام سے بھی پیچھے نہیں ہٹتیں ۔
ڈاکٹر شبنم شبیر شیخ مہاراشٹر کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والی ایک بین الاقوامی ریسلنگ کوچ ہیں۔ انھیں ہندوستان کی ایسی پہلی خاتون کے طور پر جانا جاتا ہے، جنہوں نے اسپورٹس اسٹڈیز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ انھوں نے متعدد ریاستی اور قومی تمغے جیتے ، جن میں 2010 میں ‘ویمن مہاراشٹر کیسری’ خطاب بھی شامل ہے۔ وہ دوسری لڑکیوں کو کھیلوں کی حوصلہ افزائی کے لیے سرگرمی سے کام کرتی ہیں۔
فہرست یہیں ختم نہیں ہوتی، ایسی خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہے، جوکچھ کرگزرنے کا جذبہ رکھتی ہیں اور ملک وسماج کی تعمیروترقی میں تعاون کرنا چاہتی ہیں۔ ان خواتین نے اپنی ہمت،لگن اورجوش وجذبہ سے نہ صرف اپنے لیے خاص مقام حاصل کیا بلکہ ملک وملت کانام بھی روشن کیا۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ان خواتین کی زندگی ،جدوجہد اور حصولیابیاں لاتعداد مسلم لڑکیوں کے لیے باعث تحریک بنیں گی ۔
یو این آئی۔ ایف اے
تجزیہ
اگر حکومت کو پہلے ہی معلوم تھا تو بل کیوں پیش کیا گیا؟

اگر وزیرِاعظم Narendra Modi کی حکومت کو، جیسا کہ قائدِ حزبِ اختلاف Rahul Gandhi نے دعویٰ کیا، یہ علم تھا کہ آئین (131ویں ترمیم) بل لوک سبھا میں مطلوبہ خصوصی اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث ناکام ہو جائے گا، تو پھر اسے پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
حقیقت یہ ہے کہ ایک “ناکام ہونے والا” بل بھی قانون بننے سے آگے کئی مقاصد پورے کر سکتا ہے—جیسے ایجنڈا طے کرنا، عوامی بحث کا رخ موڑنا، اہم مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا، اور وقت کے ساتھ پالیسی خیالات کو معمول کا حصہ بنانا۔ مبصرین کے مطابق، ایسے بل کو متعارف کرانے کے کئی عملی اور سیاسی محرکات ہوتے ہیں، چاہے اس کی کامیابی کے امکانات کم ہی کیوں نہ ہوں۔
سب سے پہلے نیت کا پہلو سامنے آتا ہے۔ بل پیش کرکے حکومت نے اپنے حامیوں—خصوصاً خواتین، جو وزیرِاعظم مودی کا ایک مضبوط ووٹ بینک سمجھی جاتی ہیں—کو یہ پیغام دیا کہ بی جے پی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔ حتیٰ کہ مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود، یہ قدم انتخابی مہمات میں عوامی رائے ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسرا پہلو اپوزیشن پر دباؤ ڈالنا ہے۔ پارلیمان میں باضابطہ بحث نے تمام جماعتوں کو اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنے پر مجبور کیا، جس سے حکمران جماعت کو یہ بیانیہ بنانے کا موقع ملا کہ اس نے اصلاحات کی کوشش کی مگر مخالفین نے اسے ناکام بنایا۔ بل کی ناکامی کے بعد بی جے پی رہنماؤں نے اپوزیشن کو “خواتین مخالف” قرار دیتے ہوئے اسی بیانیے کو مزید تقویت دی۔
آئین (131ویں ترمیم) بل کی ناکامی کے بعد، جس کا مقصد 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر 2029 کے انتخابات تک خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنا تھا، پارلیمانی امور کے وزیر Kiren Rijiju نے دو متعلقہ بل—یونین ٹیریٹوریز لاز (ترمیمی) بل 2026 اور ڈیلیمیٹیشن بل 2026—بھی واپس لے لیے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ اس نے خواتین کے حقوق کی حمایت کا ایک اہم موقع ضائع کر دیا۔ این ڈی اے رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج بھی کیا اور اپوزیشن کے خلاف بیانات دیے۔
بی جے پی نے اس شکست کو محض عددی ناکامی کے طور پر نہیں بلکہ ایک اخلاقی مسئلہ بنا کر پیش کیا، اور خود کو وزیرِاعظم مودی کی قیادت میں خواتین کو بااختیار بنانے والی جماعت کے طور پر پیش کیا۔ اس کے برعکس، کانگریس، راہل گاندھی اور دیگر جماعتوں جیسے سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے کو صنفی مساوات کی اصلاحات کی مخالفت کرنے والا دکھایا گیا۔ بحث کے دوران وزیرِاعظم اور وزیرِداخلہ Amit Shah نے کہا کہ “ملک کی خواتین انہیں معاف نہیں کریں گی” — ایک ایسا پیغام جو آئندہ سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس عمل نے مستقبل میں مذاکرات اور ترامیم کی گنجائش پیدا کی ہو۔ اس سے حکومت کو پارلیمانی اعداد و شمار اور مختلف جماعتوں اور اراکینِ پارلیمنٹ کے مؤقف کا اندازہ لگانے کا موقع ملا ہوگا، جس کی بنیاد پر آئندہ قانون سازی کی حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکتی ہے—اگرچہ بعض مبصرین کے نزدیک بی جے پی قیادت کی حکمتِ عملی کو دیکھتے ہوئے یہ امکان کمزور دکھائی دیتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، این ڈی اے کو بل کے حق میں 298 ووٹ ملے جبکہ انڈیا اتحاد نے 230 ووٹ حاصل کیے، جبکہ بل کی منظوری کے لیے 352 ووٹ درکار تھے۔ کیا حکومت کو اس کا علم نہیں تھا؟ یہ بعید از قیاس لگتا ہے۔ راہل گاندھی نے بھی یہی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے سے زیادہ ایک سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا—خاص طور پر حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشے میں تبدیلی لانا اور جنوبی و چھوٹی ریاستوں کے حقوق کو متاثر کرنا، جبکہ ہندی بیلٹ کو فائدہ پہنچانا، جو بی جے پی کا اہم ووٹ بینک ہے۔
راہل گاندھی کے مطابق، اس اقدام کے دو بنیادی مقاصد تھے: “پہلا، بھارت کے انتخابی نقشے کو تبدیل کرنا، اور دوسرا، وزیرِاعظم کو خواتین دوست رہنما کے طور پر پیش کرنا۔”
ہندوستان
خواتین کے ریزرویشن میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو ملک کی خواتین معاف نہیں کریں گی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ جن سیاسی جماعتوں نے ناری شکتی وندن ترمیمی قانون کو منظور نہیں ہونے دیا اور خواتین کو ان کا حق دینے سے روکا، ملک کی خواتین انہیں کبھی معاف نہیں کریں گی مسٹر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ جن جماعتوں نے یہ “جرم” کیا ہے، ملک کی خواتین انہیں کبھی برداشت نہیں کریں گی اور جب بھی وہ ان جماعتوں کو دیکھیں گی تو اس کی کسک ان کے دلوں میں باقی رہے گی۔
وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو اس “بے عزتی” کی سزا ملک کی خواتین ضرور دیں گی۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق جو دہائیوں سے زیر التوا تھے، انہیں 2029 سے نافذ کیا جانا تھا، لیکن خواتین کو نئے مواقع دینے اور آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے اسے خواتین کو انصاف دینے کا ایک مقدس عمل قرار دیا۔
مودی نے الزام لگایا کہ کانگریس اور اس کے اتحادیوں نے پارلیمنٹ میں اس بل کو روک کر “بھرون ہتھیا” جیسا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس، سماج وادی پارٹی اور ترنمول کانگریس جیسے جماعتیں اس کے لیے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ خواتین کو ریزرویشن دینے میں رکاوٹ ڈالی ہے اور اس بار بھی اس نے مختلف “جھوٹ” کا سہارا لے کر اس عمل کو روکنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق، اس سے کانگریس اور اس کے حامیوں کا “چہرہ بے نقاب” ہو گیا ہے اور وہ پہلے ہی ملک کے بیشتر حصوں میں اپنی ساکھ کھو چکی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بل تمام ریاستوں کے لیے ایک موقع تھا اور اگر یہ منظور ہو جاتا تو نمائندگی میں اضافہ ہوتا اور عوام کی آواز مزید مضبوطی سے اسمبلی اور لوک سبھا تک پہنچتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل میں رکاوٹ ڈال کر خواتین کی توہین کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ اصلاحاتی اقدامات جیسے یکساں سول کوڈ، ووٹر لسٹ کی درستگی، وقف قوانین اور ماؤ نواز تشدد کے خاتمے جیسے اقدامات کی مخالفت کی ہے، جس کی وجہ سے ملک اپنی مکمل ترقی حاصل نہیں کر سکا۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
خواتین کے ریزرویشن اور حلقہ بندی پر حکومت کو گھیرتے ہوئے پرینکا نے اپوزیشن کے اتحاد کو مضبوط قرار دیا
نئی دہلی کانگریس کی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے خواتین کے ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے لوک سبھا میں پاس نہ ہونے کو “جمہوریت کی بڑی جیت” قرار دیا ہے محترمہ پرینکا گاندھی نے ہفتہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت جمہوری نظام کو کمزور کرنے اور ملک کے وفاقی ڈھانچے میں تبدیلی کی “سازش” کر رہی تھی، جسے اپوزیشن نے متحد ہو کر ناکام بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ “یہ آئین کی جیت ہے، ملک کی جیت ہے اور اپوزیشن کے اتحاد کی جیت ہے۔ اقتدار میں بیٹھے رہنماؤں کے چہروں سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ انہیں بڑا جھٹکا لگا ہے۔” انہوں نے وزیر داخلہ اور وزیر اعظم کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اشارہ دیا تھا کہ اگر اپوزیشن متفق نہ ہوئی تو وہ کبھی انتخاب نہیں جیت پائے گی۔ “ان بیانات سے ہی حکومت کے ارادے واضح ہو جاتے ہیں۔”
محترمہ پرینکا گاندھی نے الزام لگایا کہ حکومت خواتین کے ریزرویشن کے نام پر ایک ایسا بل پاس کروانا چاہتی تھی جس سے اسے حلقہ بندی (ڈی لیمیٹیشن) میں من مانی کرنے کی آزادی مل جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی حکمت عملی یہ تھی کہ خواتین کے ریزرویشن کے نام پر اپوزیشن سے حمایت لی جائے اور اس کے بعد حد بندی کے عمل میں خود مختاری حاصل کر لی جائے۔ اس بہانے وہ ذات پات کی بنیاد پر ہونے والی مردم شماری کے اعداد و شمار سے بھی بچنا چاہتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ “یہ محض خواتین کے ریزرویشن کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ حد بندی سے جڑا ہوا ایک بڑا سوال تھا۔ ایسی صورت میں اپوزیشن کے لیے حمایت کرنا ممکن نہیں تھا۔”
کانگریس کی جنرل سکریٹری نے بی جے پی پر خواتین کے معاملے پر سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ملک کی خواتین سب دیکھ رہی ہیں۔ انہوں نے اناؤ، ہاتھرس، خواتین کھلاڑیوں کے احتجاج اور منی پور کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان معاملات میں حساسیت نہیں دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ “آج وہی حکومت پارلیمنٹ میں خواتین کی ہمدرد بننے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن ملک کی خواتین اب بیدار ہو چکی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے اتحاد نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب تمام جماعتیں متحد ہوتی ہیں تو حکومت کو چیلنج دیا جا سکتا ہے۔
محترمہ پرینکا گاندھی نے یہ بھی کہا کہ کانگریس اور انڈیا اتحاد 2023 میں منظور شدہ خواتین کے ریزرویشن قانون کو نافذ کرنے کے حق میں ہیں، بشرطیکہ اسے صحیح طریقے سے نافذ کیا جائے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے اس دن کو ‘بلیک ڈے’ (سیاہ دن) کہے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ “حکومت کے لیے جھٹکا” ہے اور ایسا جھٹکا ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ “ہندوستان کی خواتین اب صرف تشہیر اور دکھاوے سے متاثر نہیں ہوں گی۔ وہ حقیقی مسائل کو سمجھ رہی ہیں اور حکومت سے جواب مانگ رہی ہیں۔”
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کو آخرکار آدھار میں علیحدہ شناخت مل گئی، ‘ریاست’ کے خانے میں جموں و کشمیر کی جگہ لے لی
جموں و کشمیر6 days agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا6 days agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا6 days agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا1 week agoایران مخلص ہے تو ہم بھی کھلے دل سے بات کریں گے: جے ڈی وینس
دنیا3 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے، معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز خود بخود کھل جائے گا: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoبخاری نے 100 روزہ ’نشہ مکت‘ مہم کی حمایت کی، جموں و کشمیر میں عوامی تعاون کی اپیل
جموں و کشمیر1 week agoڈرگ فری جموں و کشمیر مہم اجتماعی اقدام کا تقاضا کرتی ہے: لیفٹیننٹ گورنر سنہا
دنیا6 days agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وفد کی پیشگی شرائط منظور کرلیں تو دوپہر کو امریکی حکام سے مذاکرات ہوں گے: ایرانی میڈیا
دنیا1 week agoڈونلڈ ٹرمپ کی شہرت میں کمی: ڈیموکریٹ کملا ہیرس نے 2028ء کا صدارتی انتخاب لڑنے کا عندیہ دیدیا







































































































