ہندوستان
ملک میں کورونا کے ایکٹو معاملے سات ہزار سے کم ہوئے

نئی دہلی، ملک میں گزشتہ تین دنوں کے دوران کورونا کے ایکٹو معاملوں میں کمی دیکھی گئی ہے اور منگل کی صبح تک ایکٹو معاملوں کی تعداد کم ہو کر 6836 ہو گئی ہے۔ اس سے قبل اتوار اور پیر کو فعال کیسوں کی کل تعداد بالترتیب 7383 اور 7264 تھی۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا انفیکشن سے ایک اور مریض کی موت کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 109 ہو گئی ہے اور 428 معاملوں کی کمی کے ساتھ ایکٹو کیسز کی کل تعداد 6836 ہو گئی ہے، اس کے ساتھ ہی 1168 مریضوں کے صحت یاب ہونے کے بعد اب تک اس وائرس سے نجات پانے والوں کی مجموعی تعداد 14227 ہو گئی ہے۔ گزشتہ مئی تک ملک میں کورونا کے سرگرم معاملے صرف 257 تھے۔
صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت طرف سے آج جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مہاراشٹر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایک مریض کی کورونا انفیکشن سے موت ہوئی ہے۔ اس عرصےمیں جہاں 14 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کورونا کیسز میں اضافہ دیکھا گیا، وہیں 11 ریاستوں میں ان میں کمی دیکھی گئی۔
پچھلے 24 گھنٹوں میں کورونا انفیکشن کے سب سے زیادہ فعال معاملے جہاں رپورٹ ہوئے ہیں، ان میں ، کرناٹک (105)، ہریانہ (12)، پنجاب (10) اور راجستھان (29) ہے جب کہ کیرالہ (261)، دہلی (94)، گجرات (185) اور مہاراشٹر (28) معاملے کم ہوئے ہیں۔
محکمہ صحت کے افسران کے مطابق، انفیکشن نئی ابھرتی ہوئی اقسام، خاص طور پر ایل ایف.7، ایکس ایف جی، جے این.1 اور حال ہی میں شناخت کئے گئے این بی.1.8.1 ذیلی اقسام کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ان ویریئنٹ کی جانچ چل رہی ہے۔
وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک کی 32 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سے 29 میں کورونا کے ایکٹیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جب کہ تین ریاستوں میزورم، ہماچل پردیش اور اروناچل پردیش میں ابھی تک کورونا انفیکشن کا کوئی فعال کیس نہیں ہے۔
وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق، کیرالہ انفیکشن کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے، حالانکہ اس کی تعداد آج صبح تک 261 ایکٹیو کیسز کے ساتھ کم ہو کر 1659 پر آ گئی ہے۔ قومی راجدھانی میں 94 کیسز کم ہونے کے بعد متاثرین کی کل تعداد 555 تک پہنچ گئی ہے۔ مہاراشٹر میں 28 کیسز کم ہونے کے ساتھ متاثرین کی کل تعداد 512 ہوگئی ہے اور گجرات میں کیسز کی تعداد کم ہو کر 1248 ہوگئی ہے۔
اس کے علاوہ مغربی بنگال میں 747، کرناٹک میں 696، تمل ناڈو میں 222، اتر پردیش میں 278، راجستھان میں 251، ہریانہ میں 103، مدھیہ پردیش میں 137، آندھرا پردیش میں 77، اوڈیشہ میں 52، چھتیس گڑھ میں 51، بہار میں 37، سکم میں 45، پنجاب میں 37، جھارکھنڈ میں 32، آسام میں 22، منی پور میں 19، جموں و کشمیر میں 15 تلنگانہ اور پڈوچیری میں 9، اتراکھنڈ میں 7، گوا اور لداخ میں 5، تریپورہ میں 4، چنڈی گڑھ اور ناگالینڈ میں ایک ایک ایکٹیو کیس ہے۔
صحت افسران اور ماہرین نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ ماسک پہنیں، بار بار ہاتھ دھوئیں اور ہجوم والی جگہوں سے گریز کریں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، موسمی وائرل بخار بھی پھیلنے کے ساتھ، ماہرین صحت نے کورونا کو دوسرے انفیکشن سے الگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
تجزیہ
اگر حکومت کو پہلے ہی معلوم تھا تو بل کیوں پیش کیا گیا؟

اگر وزیرِاعظم Narendra Modi کی حکومت کو، جیسا کہ قائدِ حزبِ اختلاف Rahul Gandhi نے دعویٰ کیا، یہ علم تھا کہ آئین (131ویں ترمیم) بل لوک سبھا میں مطلوبہ خصوصی اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث ناکام ہو جائے گا، تو پھر اسے پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
حقیقت یہ ہے کہ ایک “ناکام ہونے والا” بل بھی قانون بننے سے آگے کئی مقاصد پورے کر سکتا ہے—جیسے ایجنڈا طے کرنا، عوامی بحث کا رخ موڑنا، اہم مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا، اور وقت کے ساتھ پالیسی خیالات کو معمول کا حصہ بنانا۔ مبصرین کے مطابق، ایسے بل کو متعارف کرانے کے کئی عملی اور سیاسی محرکات ہوتے ہیں، چاہے اس کی کامیابی کے امکانات کم ہی کیوں نہ ہوں۔
سب سے پہلے نیت کا پہلو سامنے آتا ہے۔ بل پیش کرکے حکومت نے اپنے حامیوں—خصوصاً خواتین، جو وزیرِاعظم مودی کا ایک مضبوط ووٹ بینک سمجھی جاتی ہیں—کو یہ پیغام دیا کہ بی جے پی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔ حتیٰ کہ مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود، یہ قدم انتخابی مہمات میں عوامی رائے ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسرا پہلو اپوزیشن پر دباؤ ڈالنا ہے۔ پارلیمان میں باضابطہ بحث نے تمام جماعتوں کو اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنے پر مجبور کیا، جس سے حکمران جماعت کو یہ بیانیہ بنانے کا موقع ملا کہ اس نے اصلاحات کی کوشش کی مگر مخالفین نے اسے ناکام بنایا۔ بل کی ناکامی کے بعد بی جے پی رہنماؤں نے اپوزیشن کو “خواتین مخالف” قرار دیتے ہوئے اسی بیانیے کو مزید تقویت دی۔
آئین (131ویں ترمیم) بل کی ناکامی کے بعد، جس کا مقصد 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر 2029 کے انتخابات تک خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنا تھا، پارلیمانی امور کے وزیر Kiren Rijiju نے دو متعلقہ بل—یونین ٹیریٹوریز لاز (ترمیمی) بل 2026 اور ڈیلیمیٹیشن بل 2026—بھی واپس لے لیے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ اس نے خواتین کے حقوق کی حمایت کا ایک اہم موقع ضائع کر دیا۔ این ڈی اے رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج بھی کیا اور اپوزیشن کے خلاف بیانات دیے۔
بی جے پی نے اس شکست کو محض عددی ناکامی کے طور پر نہیں بلکہ ایک اخلاقی مسئلہ بنا کر پیش کیا، اور خود کو وزیرِاعظم مودی کی قیادت میں خواتین کو بااختیار بنانے والی جماعت کے طور پر پیش کیا۔ اس کے برعکس، کانگریس، راہل گاندھی اور دیگر جماعتوں جیسے سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے کو صنفی مساوات کی اصلاحات کی مخالفت کرنے والا دکھایا گیا۔ بحث کے دوران وزیرِاعظم اور وزیرِداخلہ Amit Shah نے کہا کہ “ملک کی خواتین انہیں معاف نہیں کریں گی” — ایک ایسا پیغام جو آئندہ سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس عمل نے مستقبل میں مذاکرات اور ترامیم کی گنجائش پیدا کی ہو۔ اس سے حکومت کو پارلیمانی اعداد و شمار اور مختلف جماعتوں اور اراکینِ پارلیمنٹ کے مؤقف کا اندازہ لگانے کا موقع ملا ہوگا، جس کی بنیاد پر آئندہ قانون سازی کی حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکتی ہے—اگرچہ بعض مبصرین کے نزدیک بی جے پی قیادت کی حکمتِ عملی کو دیکھتے ہوئے یہ امکان کمزور دکھائی دیتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، این ڈی اے کو بل کے حق میں 298 ووٹ ملے جبکہ انڈیا اتحاد نے 230 ووٹ حاصل کیے، جبکہ بل کی منظوری کے لیے 352 ووٹ درکار تھے۔ کیا حکومت کو اس کا علم نہیں تھا؟ یہ بعید از قیاس لگتا ہے۔ راہل گاندھی نے بھی یہی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے سے زیادہ ایک سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا—خاص طور پر حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشے میں تبدیلی لانا اور جنوبی و چھوٹی ریاستوں کے حقوق کو متاثر کرنا، جبکہ ہندی بیلٹ کو فائدہ پہنچانا، جو بی جے پی کا اہم ووٹ بینک ہے۔
راہل گاندھی کے مطابق، اس اقدام کے دو بنیادی مقاصد تھے: “پہلا، بھارت کے انتخابی نقشے کو تبدیل کرنا، اور دوسرا، وزیرِاعظم کو خواتین دوست رہنما کے طور پر پیش کرنا۔”
ہندوستان
خواتین کے ریزرویشن میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو ملک کی خواتین معاف نہیں کریں گی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ جن سیاسی جماعتوں نے ناری شکتی وندن ترمیمی قانون کو منظور نہیں ہونے دیا اور خواتین کو ان کا حق دینے سے روکا، ملک کی خواتین انہیں کبھی معاف نہیں کریں گی مسٹر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ جن جماعتوں نے یہ “جرم” کیا ہے، ملک کی خواتین انہیں کبھی برداشت نہیں کریں گی اور جب بھی وہ ان جماعتوں کو دیکھیں گی تو اس کی کسک ان کے دلوں میں باقی رہے گی۔
وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو اس “بے عزتی” کی سزا ملک کی خواتین ضرور دیں گی۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق جو دہائیوں سے زیر التوا تھے، انہیں 2029 سے نافذ کیا جانا تھا، لیکن خواتین کو نئے مواقع دینے اور آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے اسے خواتین کو انصاف دینے کا ایک مقدس عمل قرار دیا۔
مودی نے الزام لگایا کہ کانگریس اور اس کے اتحادیوں نے پارلیمنٹ میں اس بل کو روک کر “بھرون ہتھیا” جیسا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس، سماج وادی پارٹی اور ترنمول کانگریس جیسے جماعتیں اس کے لیے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ خواتین کو ریزرویشن دینے میں رکاوٹ ڈالی ہے اور اس بار بھی اس نے مختلف “جھوٹ” کا سہارا لے کر اس عمل کو روکنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق، اس سے کانگریس اور اس کے حامیوں کا “چہرہ بے نقاب” ہو گیا ہے اور وہ پہلے ہی ملک کے بیشتر حصوں میں اپنی ساکھ کھو چکی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بل تمام ریاستوں کے لیے ایک موقع تھا اور اگر یہ منظور ہو جاتا تو نمائندگی میں اضافہ ہوتا اور عوام کی آواز مزید مضبوطی سے اسمبلی اور لوک سبھا تک پہنچتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل میں رکاوٹ ڈال کر خواتین کی توہین کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ اصلاحاتی اقدامات جیسے یکساں سول کوڈ، ووٹر لسٹ کی درستگی، وقف قوانین اور ماؤ نواز تشدد کے خاتمے جیسے اقدامات کی مخالفت کی ہے، جس کی وجہ سے ملک اپنی مکمل ترقی حاصل نہیں کر سکا۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
خواتین کے ریزرویشن اور حلقہ بندی پر حکومت کو گھیرتے ہوئے پرینکا نے اپوزیشن کے اتحاد کو مضبوط قرار دیا
نئی دہلی کانگریس کی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے خواتین کے ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے لوک سبھا میں پاس نہ ہونے کو “جمہوریت کی بڑی جیت” قرار دیا ہے محترمہ پرینکا گاندھی نے ہفتہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت جمہوری نظام کو کمزور کرنے اور ملک کے وفاقی ڈھانچے میں تبدیلی کی “سازش” کر رہی تھی، جسے اپوزیشن نے متحد ہو کر ناکام بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ “یہ آئین کی جیت ہے، ملک کی جیت ہے اور اپوزیشن کے اتحاد کی جیت ہے۔ اقتدار میں بیٹھے رہنماؤں کے چہروں سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ انہیں بڑا جھٹکا لگا ہے۔” انہوں نے وزیر داخلہ اور وزیر اعظم کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اشارہ دیا تھا کہ اگر اپوزیشن متفق نہ ہوئی تو وہ کبھی انتخاب نہیں جیت پائے گی۔ “ان بیانات سے ہی حکومت کے ارادے واضح ہو جاتے ہیں۔”
محترمہ پرینکا گاندھی نے الزام لگایا کہ حکومت خواتین کے ریزرویشن کے نام پر ایک ایسا بل پاس کروانا چاہتی تھی جس سے اسے حلقہ بندی (ڈی لیمیٹیشن) میں من مانی کرنے کی آزادی مل جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی حکمت عملی یہ تھی کہ خواتین کے ریزرویشن کے نام پر اپوزیشن سے حمایت لی جائے اور اس کے بعد حد بندی کے عمل میں خود مختاری حاصل کر لی جائے۔ اس بہانے وہ ذات پات کی بنیاد پر ہونے والی مردم شماری کے اعداد و شمار سے بھی بچنا چاہتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ “یہ محض خواتین کے ریزرویشن کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ حد بندی سے جڑا ہوا ایک بڑا سوال تھا۔ ایسی صورت میں اپوزیشن کے لیے حمایت کرنا ممکن نہیں تھا۔”
کانگریس کی جنرل سکریٹری نے بی جے پی پر خواتین کے معاملے پر سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ملک کی خواتین سب دیکھ رہی ہیں۔ انہوں نے اناؤ، ہاتھرس، خواتین کھلاڑیوں کے احتجاج اور منی پور کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان معاملات میں حساسیت نہیں دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ “آج وہی حکومت پارلیمنٹ میں خواتین کی ہمدرد بننے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن ملک کی خواتین اب بیدار ہو چکی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے اتحاد نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب تمام جماعتیں متحد ہوتی ہیں تو حکومت کو چیلنج دیا جا سکتا ہے۔
محترمہ پرینکا گاندھی نے یہ بھی کہا کہ کانگریس اور انڈیا اتحاد 2023 میں منظور شدہ خواتین کے ریزرویشن قانون کو نافذ کرنے کے حق میں ہیں، بشرطیکہ اسے صحیح طریقے سے نافذ کیا جائے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے اس دن کو ‘بلیک ڈے’ (سیاہ دن) کہے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ “حکومت کے لیے جھٹکا” ہے اور ایسا جھٹکا ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ “ہندوستان کی خواتین اب صرف تشہیر اور دکھاوے سے متاثر نہیں ہوں گی۔ وہ حقیقی مسائل کو سمجھ رہی ہیں اور حکومت سے جواب مانگ رہی ہیں۔”
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کو آخرکار آدھار میں علیحدہ شناخت مل گئی، ‘ریاست’ کے خانے میں جموں و کشمیر کی جگہ لے لی
جموں و کشمیر6 days agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا6 days agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا6 days agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا1 week agoایران مخلص ہے تو ہم بھی کھلے دل سے بات کریں گے: جے ڈی وینس
دنیا3 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے، معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز خود بخود کھل جائے گا: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoبخاری نے 100 روزہ ’نشہ مکت‘ مہم کی حمایت کی، جموں و کشمیر میں عوامی تعاون کی اپیل
جموں و کشمیر1 week agoڈرگ فری جموں و کشمیر مہم اجتماعی اقدام کا تقاضا کرتی ہے: لیفٹیننٹ گورنر سنہا
دنیا6 days agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وفد کی پیشگی شرائط منظور کرلیں تو دوپہر کو امریکی حکام سے مذاکرات ہوں گے: ایرانی میڈیا
دنیا1 week agoڈونلڈ ٹرمپ کی شہرت میں کمی: ڈیموکریٹ کملا ہیرس نے 2028ء کا صدارتی انتخاب لڑنے کا عندیہ دیدیا







































































































