ہندوستان
ملک میں کورونا کے موجودہ مریضوں کی تعداد گھٹ کر 6483 ہو گئی، مزید 4 مریضوں کی موت

نئی دہلی، ملک میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا کے زیر علاج مریضوں کی تعداد میں 353 کی کمی کے بعد موجودہ مریضوں کی کل تعداد گھٹ کر 6483 ہو گئی ہے۔ ساتھ ہی اس عرصے میں مزید چار مریضوں کی موت ہوجانے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 113 ہو گئی۔
گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 1173 مریض صحت یاب ہونے کے ساتھ ہی اس وائرس سے شفایاب ہونے والوں کی کل تعداد 15945 تک پہنچ گئی ہے۔واضح رہے کہ 22 مئی کو ملک میں صرف 257 ایکٹو کورونا کیسز تھے۔
مرکزی وزارت صحت وخاندانی بہبود کی طرف سے آج جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا سے متاثرہ چار مریضوں کی موت ہوئی ہے۔
مہاراشٹر میں کورونا کے انفیکشن سے دو مریضوں کی موت کے ساتھ ہی وہاں اموات کی تعداد 31 تک پہنچ گئی ہے اور قومی دارالحکومت دہلی اور کیرالہ میں ایک- ایک مریض کی موت ہونے کے ساتھ ہی اموات کی تعداد بالترتیب 13 اور 36 تک پہنچ گئی ہے۔ اس عرصے کے دوران 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کورونا کیسز میں اضافہ درج کیا گیا، جبکہ 10 ریاستوں میں فعال کیسز میں کمی دیکھی گئی۔ دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے کورونا انفیکشن کا کوئی کیس درج نہیں ہوا ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق، انفیکشن کا پھیلاؤ کورونا وائرس کی نئی ابھرتی ہوئی اقسام، بالخصوص ایل ایف.7، ایکس ایف جی، جے این.1 اور حال ہی میں شناخت شدہ این بی.1.8.1 کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 32 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سے 22 میں کورونا کے موجودہ مریضوں میں اضافہ اور کمی کی رپورٹ ملی ہے۔ جب کہ تین ریاستوں میزورم، ہماچل پردیش اور اروناچل پردیش میں ابھی تک کورونا انفیکشن کا کوئی مریض زیر علاج نہیں ہے۔
وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق، کیرالہ انفیکشن کے معاملے میں سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے، حالانکہ آج صبح تک اس کی تعداد 275 مریضوں کی کمی کے ساتھ 1384 ہو گئی ہے۔ قومی راجدھانی میں 65 متاثرین بڑھنے سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 620 ہو گئی ہے۔ مہاراشٹر میں 23 کیسز کی کمی سے مریضوں کی کل تعداد 489 ہوگئی اور گجرات میں 143 متاثرین کم ہونے سے کل تعداد 1105 ہوگئی۔ کرناٹک میں 653 ایکٹیو کیسز ہیں، تمل ناڈو میں 224، اتر پردیش میں 275، راجستھان میں 302، ہریانہ میں 115، مدھیہ پردیش میں 138، آندھرا پردیش میں 62، اڈیشہ میں 52، چھتیس گڑھ میں 57، بہار میں 40، سکم میں 45، پنجاب میں 42، آسام میں 42، جموں و کشمیر 17، تلنگانہ 10، پڈوچیری اور لداخ میں پانچ- پانچ، اتراکھنڈ تین، گوا اور تریپورہ میں چار، چنڈی گڑھ اور ناگالینڈ میں ایک ایک درج ہوئے ہيں۔
یو این آئی۔ م ش۔
ہندوستان
حد بندی اور خواتین کے ریزرویشن پر سونیا گاندھی کا حکومت پر نشانہ
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے ایک نجی اخبار میں شائع اپنے مضمون کے ذریعے مرکزی حکومت پر خواتین کے ریزرویشن اور حد بندی کے معاملے پر شدید تنقید کی ہے محترمہ گاندھی نے پیر کو یہاں واضح طور پر کہا کہ موجودہ وقت میں اصل تشویش خواتین کا ریزرویشن نہیں، بلکہ مجوزہ حد بندی ہے، جسے انہوں نے “انتہائی خطرناک” اور “آئین پر حملہ” قرار دیا ہے۔ اپنے مضمون میں انہوں نے خبردار کیا کہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں جس طرح سے حد بندی کا معاملہ سامنے آ رہا ہے، وہ جمہوری توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت جلد بازی میں اس موضوع کو آگے بڑھا رہی ہے، جس کے پیچھے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا ارادہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن سے حمایت تو مانگی جا رہی ہے لیکن اس اہم معاملے پر شفافیت نہیں برتی جا رہی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے کل جماعتی اجلاس کے مطالبے کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔ محترمہ گاندھی نے یاد دلایا کہ 2023 میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ ‘ناری شکتی وندن ادھینیم’ کے تحت لوک سبھا اور اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کی گنجائش پہلے ہی کی جا چکی ہے۔ تاہم، اس کے نفاذ کے لیے مردم شماری اور حد بندی ضروری ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت 2029 سے خواتین کےلیئے ریزریشن نافذ کرنا چاہتی ہے، تو یہ فیصلہ پہلے کیوں نہیں کیا گیا؟ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ صرف ریاضیاتی بنیاد پر نہیں، بلکہ سیاسی توازن کو مدنظر رکھ کر ہونا چاہیے، تاکہ آبادی پر قابو پانے میں آگے رہنے والی ریاستوں (خاص طور پر جنوبی ریاستوں) کو نقصان نہ ہو۔
اس کے علاوہ انہوں نے ذات پات پر مبنی مردم شماری میں تاخیر پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بہار اور تلنگانہ جیسی ریاستوں نے کم وقت میں سروے کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ کام ممکن ہے۔
آخر میں انہوں نے 2021 کی مردم شماری ملتوی کرنے کے فیصلے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے کروڑوں لوگ سرکاری اسکیموں کے فوائد سے محروم رہ گئے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ایسے اہم فیصلوں پر جلد بازی کے بجائے اپوزیشن کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے اور پورے عمل کو جمہوری بنایا جائے۔
قابل ذکر ہے کہ خواتین کے ریزرویشن کے معاملے پر 16 سے 18 اپریل تک پارلیمنٹ کا تین روزہ خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
معاہدے کے قریب پہنچ کر ایران کو سخت شرائط کا سامنا کرنا پڑا: عباس عراقچی
نئی دہلی، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ایران ایم او یو پر دستخط کے قریب پہنچ چکا تھا، تاہم اسے ’’سخت ترین مطالبات، بدلتے ہوئے اہداف اور ناکہ بندی‘‘ کا سامنا کرنا پڑا۔
عباس عراقچی نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’’کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ خیر سگالی سے خیر سگالی جنم لیتی ہے اور دشمنی سے دشمنی۔‘‘ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ 47 برسوں میں اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے ان مذاکرات میں ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ سے نیک نیتی کے ساتھ بات چیت کی، تاہم “اسلام آباد ایم او یو” کے قریب پہنچنے پر امریکی جانب سے سخت شرائط اور ناکہ بندی کے اعلان کا سامنا کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے مذاکرات کی ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کی بحری ناکہ بندی کا حکم دیا ہے۔
یو این آئی۔ م ع
ہندوستان
اتر پردیش میں بس اور ٹرک کے درمیان تصادم، 6 افراد ہلاک، 7 زخمی
ہاپوڑ، اتر پردیش کے ضلع ہاپوڑ میں اتوار کی دیر رات باراتیوں سے بھری ایک بس اور ٹرک کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور سات دیگر شدید زخمی ہو گئے۔
یہ حادثہ رات تقریباً 1:30 بجے دھولانہ-گلاؤٹھی روڈ پر اس وقت پیش آیا جب بس شادی کی تقریب سے واپس آ رہی تھی۔ بارات غازی آباد کے علاقے داسنا سے بلند شہر کے علاقے گلاؤٹھی گئی تھی اور واپسی کے سفر کے دوران اس حادثے کا شکار ہو گئی۔
پولیس حکام کے مطابق ٹکر اتنی شدید تھی کہ بس پلٹ گئی۔ کئی مسافر بس کے اندر پھنس گئے جس سے جائے وقوعہ پر افراتفری پھیل گئی۔ مقامی پولیس اور راہگیروں نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا اور بس کے شیشے توڑ کر پھنسے ہوئے لوگوں کو باہر نکالا۔ ہلاک ہونے والوں میں دولہے کے والد بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
ضلع مجسٹریٹ ابھیشیک پانڈے، ایس پی کنور گیاننجے سنگھ اور چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر وید کمار نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور بعد ازاں ہسپتال جا کر زخمیوں کی عیادت کی۔
ایس پی گیاننجے سنگھ نے پیر کی صبح بتایا کہ پولیس ٹیموں نے بروقت پہنچ کر تحقیقات اور امدادی کام شروع کی۔ سڑک سے ٹرک کو ہٹا دیا گیا ہے اور ٹریفک کی روانی بحال کر دی گئی ہے۔ بس میں کل 12 مسافر سوار تھے۔ ایک ہلاک ہونے والے شخص، جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ ڈرائیور تھا، کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کی آمد کے بعد قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔ حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل تصادم میں مارے گئے شخص کی شناخت اے ٹی ایم کارڈ سے ہوئی
جموں و کشمیر1 week agoجموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟
دنیا6 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق تشویشناک دعویٰ، قیادت پر سوالات اٹھنے لگے
دنیا6 days agoایران میں کریک ڈاؤن تیز، مخالفین کے سہولت کاروں کے خلاف فوری فیصلوں کی ہدایت
ہندوستان5 days agoہندوستان نے مغربی ایشیا میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا، مستقل امن کی اپیل
دنیا1 week agoپاسدارانِ انقلاب کا ریاض حملے میں ملوث ہونے سے انکار
دنیا1 week agoامریکہ۔ ایران جنگ: ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی کی شرائط پر تبادلہ خیال
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایرانی افزودہ یورینیئم قبضے میں لینے کا عندیہ، ماہرین نے خطرناک قرار دے دیا
دنیا1 week agoایران کی جہازوں کو ہرمز سے گزرنے کیلئے نئی ہدایات، کئی کمپنیوں نے مسترد کر دیں
دنیا4 days agoدنیا ایران کو آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے ادائیگی قبول نہیں کرے گی: متسوتاکس
ہندوستان1 week agoادائیگی کے مسائل کے باعث ایرانی تیل کے ٹینکر کا رخ چین موڑنے کی رپورٹ غلط : وزارتِ پیٹرولیم
جموں و کشمیر6 days agoلشکر طیبہ کا بین ریاستی دہشت گردی کے ماڈیول کا انکشاف، دو پاکستانیوں سمیت 5 گرفتار











































































































