جموں و کشمیر
موجودہ سیٹ اَپ میں بیوروکریٹس میری ہدایات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کیا برملا مایوسی کااظہار

جب ریاست کاوزیراعلیٰ تھا تو ایک افسرکام کرنے کے 10 طریقے بتاتا تھا
اب UT میں افسر10 وجوہات بتاتے ہیں کہ کوئی کام کیوں نہیں کیا جا سکتا
سری نگر : جے کے این ایس : جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہاکہ نوکر شاہی اب ان کی ہدایات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مکمل ریاست کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اپنے دور میں بیوروکریٹس ان کی ہدایات پر فوری عمل کریں گے اور معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق سابق مرکزی وزیر قانون کپل سبل کی یوٹیوب چینل’دل سے کپل سبل‘ پر بات کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ بیسران، پہلگام میں حالیہ دہشت گردانہ حملے کا مقصد ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینا تھا۔عمرعبداللہ نے بات چیت کے دوران کہاکہ ہر جگہ پر فورسز کو تعینات کرنا ممکن نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ بیسران حملہ اور پاکستان کی جوابی کارروائی، دونوں ہی یہاں مذہبی تنازعہ کو ہوا دینے کی کوششیں تھیں۔انہوں نے ٹیک انٹرپرینیور ایلون مسک کے ساتھ مبینہ اختلافات پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی طنز کیا۔عمرعبداللہ نے کہاکہ ٹرمپ جو اپنے دوستوں کے ساتھ بھی وفادار نہیں رہ سکتے ، ہم ان سے ہمارے وفادار رہنے کی امید کیسے کر سکتے ہیں؟ ۔جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد گورننس میں تبدیلی پر بات کرتے ہوئے، عمرعبداللہ نے کہا کہ نوکر شاہی(بیوروکریسی) اب اتنی عجلت کے ساتھ کام نہیں کرتی۔انہوںنے کہاکہ جب میں ریاست کا وزیراعلیٰ تھا، جب میں کسی افسر سے کہتا تھا کے یہ کرنا ہے، وہ مجھ سے 10 تاریخ بتاتا تھاکہ کس تاریخ ہو سکتا ہے، آج جب میں کسی افسر کو کہنا چاہتا ہوں، وہ مجھ سے نہیں ہے، بتاتا ہے کے یہ کیوں نہیں ہوسکتا۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہاکہ آج اگر میں کسی افسر کو کچھ کرنے کو کہتا ہوں تو وہ مجھے10 وجوہات بتاتا ہے کہ ایسا کیوں نہیں کیا جا سکتا ۔انہوں نے مزید کہاکہ میں قبول کرتا ہوں کہ کچھ جگہیں ایسی ہیں جہاں قانون ساز اسمبلی کا ہونا ممکن نہیں ہو سکتا ہے، یا تو کم آبادی یا چھوٹے جغرافیائی رقبے کی وجہ سے – جیسے دمن، دیو، لکشدیپ، اور انڈمان اور نکوبار جزائر۔ لیکن جہاں اسمبلیاں ممکن ہیں، جیسے پڈوچیری یا جموں و کشمیر – پھر آپ ان کو یونین ٹیرٹری کے طور پر رکھنے کی اجازت دیتے ہیں، لیکن آپ ان کو حکومت بنانے کی اجازت دیتے ہیں؟ اس کے ہاتھ اس کی پیٹھ کے پیچھے ہیں۔عمرعبداللہ نے آرٹیکل370 کو ہٹانے کے پیچھے دلیل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے اس لحاظ سے بہت کم فرق پڑا ہے کہ کیا حاصل کیا جا سکتا ہے یا نہیں کیا جا سکتا۔انہوںنے مزیدکہاکہ میں نے مارچ میں جموں میں بجٹ اجلاس کے دوران اپنے بی جے پی کے دوستوں سے یہی سوال کیا تھاکہ مجھے بتاو ¿ ، جموں و کشمیر میں 5 اگست2019 کے بعد ایسا کون سا کام ہے جو اس تاریخ سے پہلے نہیں ہو سکتا تھا؟ میں اب بھی جواب کا انتظار کر رہا ہوں۔
جموں و کشمیر
جنوبی کشمیر رینج کے ڈی آئی جی نے پلوامہ میں جرائم اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا
سری نگر، جنوبی کشمیر رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس جاوید اقبال مٹو نے پیر کے روز پلوامہ میں جرائم اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا، جس میں انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے چوکسی بڑھانے اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا گیا۔
پلوامہ ضلع پولیس لائنز میں ایس ایس پی پلوامہ تنوشری اور دیگر سینئر افسران کی موجودگی میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاوید اقبال مٹو نے جاری تحقیقات، این ڈی پی ایس مقدمات اور مجموعی سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ خفیہ نیٹ ورک کو مضبوط بنایا جائے، مختلف ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر کیا جائے اور ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ سطح کی چوکسی برقرار رکھی جائے۔
انہوں نے ضلع میں انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں اور اینٹی ٹیرر گرڈ کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے موجودہ سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس دوران ملک مخالف عناصر کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان رابطہ بڑھانے، علاقے پر کنٹرول مضبوط کرنے اور خفیہ نظام کو مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔
افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ ہر وقت بلند سطح کی چوکسی برقرار رکھیں اور کسی بھی سکیورٹی چیلنج کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے تیار رہیں۔
یو این آئی۔ اے ایم۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع ادھم پور میں پیر کی صبح رام نگر سے ادھم پور جا رہی ایک بس کے گہری کھائی میں گر جانے سے کم از کم 16 مسافر ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ مسافروں کو لے جانے والی بس ضلع کی رام نگر تحصیل کے کانوٹے موڑ کے قریب حادثے کا شکار ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں 16 مسافر ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔” پولیس، مقامی لوگوں اور فوج کے جوانوں نے حادثے کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ زخمیوں کو ادھم پور کے گورنمنٹ میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا ہے۔
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے ادھم پور کے ڈی سی منگا شیرپا سے بات کی، کیونکہ ایک گھنٹہ پہلے کانوٹ گاؤں کے قریب رام نگر سے ادھم پور جانے والی ایک مسافر بس کے حادثے کی خبر موصول ہوئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’بچاؤ کی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئی ہیں۔ کئی ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔ شدید زخمیوں کو ایئر لفٹ کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔” ڈاکٹر سنگھ نے لکھا کہ وہ مقامی انتظامیہ اور راجندر شرما کی قیادت میں مقامی کارکنوں کی ٹیم کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’’ادھم پور میں ہونے والا سڑک حادثہ انتہائی دردناک ہے۔ میری گہری ہمدردی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔ خدا انہیں صبر عطا فرمائے۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔ میں نے ضلع انتظامیہ، پولیس، ایس ڈی آر ایف اور محکمہ صحت کو متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔”
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر
جموں کشمیر میں کالعدم جماعتِ اسلامی اور ایف اے ٹی سے وابستہ 58 پرائیویٹ اسکول حکومت کی تحویل میں
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے کالعدم تنظیم جمعات اسلامی اور اس کی تعلیمی شاخ فلاحِ عام ٹرسٹ سے وابستہ 58 نجی اسکولوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔
یہ کارروائی اس اقدام کے تقریباً آٹھ ماہ بعد کی گئی ہے، جب حکومت نے جماعت سے منسلک 215 اسکولوں کو اپنے کنٹرول میں لیا تھا۔ واضح رہے کہ وزارتِ داخلہ نے 2019 میں جماعتِ اسلامی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
جموں و کشمیر کے محکمۂ تعلیم کے سیکریٹری کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں نے مزید 58 فعال اسکولوں کی نشاندہی کی ہے، جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر جماعتِ اسلامی یا فلاحِ عام ٹرسٹ سے منسلک پائے گئے ہیں۔ حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ ان اسکولوں کی انتظامی کمیٹیوں کی قانونی حیثیت ختم ہو چکی ہے یا ان کے خلاف خفیہ رپورٹ موجود ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ماتحت محکمۂ تعلیم نے ضلع مجسٹریٹس/ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان اسکولوں کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لیں اور مناسب جانچ کے بعد نئی انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل کی تجویز پیش کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکولی تعلیم کے محکمے کے ساتھ مشاورت اور تال میل کے ذریعے ایسے اقدامات کیے جائیں تاکہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔
حکم جاری ہونے کے بعد حکام نے ہفتہ کے روز ان اسکولوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ان 58 اداروں میں سے سب سے زیادہ 29 بارہمولہ ضلع میں ہیں، جبکہ پلوامہ میں 7، کولگام اور کپواڑہ میں 5-5 اسکول شامل ہیں۔ اننت ناگ اور بڈگام میں 4-4 جبکہ بانڈی پورہ میں 2 اسکولوں کو کنٹرول میں لیا گیا ہے، جب کہ شوپیان اور سری نگر میں ایک ایک اسکول شامل ہے۔
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا4 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
دنیا4 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ
دنیا1 week agoٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی: دی اکنامسٹ
جموں و کشمیر4 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
جموں و کشمیر4 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک





































































































