جموں و کشمیر
میر واعظ عمر فاروق نے اپنے ایکس پروفائل سے “حریت” کی شناخت ہٹادی

سری نگر، میر واعظ کشمیر میر واعظ عمر فاروق نے اپنے تصدیق شدہ ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پروفائل سے ‘چیئرمین آل پارٹیز حریت کانفرنس’ کی شناخت ہٹادی ہے۔
میر واعظ، جو وادی کے مقتدر عالم دین ہیں، کے تصدیق شدہ ‘ایکس’ ہینڈل پر دو لاکھ سے زیادہ فالورز ہیں۔ ترمیم کے بعد ان کے ‘بایو’ میں اب ان کے نام اور مقام کی بنیادی تفصیل درج ہے۔
میر واعظ کا الزام ہے کہ انہیں حکام کی جانب سے حریت چیئرمین کی حیثیت سے اپنے ایکس ہینڈل میں تبدیلی کرنے کے لئے دبائو ڈالا گیا۔
انہوں نے جمعہ کی صبح ‘ایکس’ پر اپنے ایک وضاحتی پوسٹ میں کہا: ‘کچھ عرصے سے مجھے حکام کی جانب سے دبائو تھا کہ میں اپنے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر حریت چیئرمین کی شناخت ہٹادوں کیونکہ حریت کانفرنس کے تمام حلقوں بشمول عوامی ایکسن کمیٹی (اے اے سی) جس میں میں قیادت کر رہا ہوں، پر یو اے پی اے کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے جس کے باعث حریت ایک ممنوعہ تنظیم بن گئی ہے، بصورت دیگر میرا ہینڈل بند کیا جائے گا’۔
ان کا پوسٹ میں مزید کہنا ہے: ‘ایسے وقت میں جب عوامی جگہ اور اظہار خیال کے ذرائع محدود کر دئے گئے ہیں، یہ پلیٹ فارم ان چند ذرائع میں سے ایک ہے جس کے ذریعے میں اپنے لوگوں تک پہنچ سکتا ہوں اور اپنے مسائل اور خیالات ان تک اور بیرونی دنیا تک پہنچا سکتا ہوں، ایسے حالات میں میرے پاس ایک مشکل انتخاب (ہوبسنز چوائس) کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں تھا’۔
واضح رہے کہ میر واعظ کی سربراہی والی حریت کانفرنس سال 2019 میں دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد عملی طور پر غیر فعال رہی ہے۔ بعد ازاں اس کی بیشترجزو تنظیوں پر مرکزی حکومت نے پابندی عائد کر دی جن میں میری واعظ کی قیادت والی عوامی ایکشن کمیٹی بھی شامل ہے۔
گذشتہ 6 برسوں کے دوران اس اتحاد کی جانب سے شاذ و نادر ہی سیاسی بیانات جاری کئے گئے۔
میر واعظ عمر فاروق سال 1993 میں قائم ہونے والی حریت کانفرنس کے بانی چیئرمین تھے۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
جموں ڈویژن کے سمر زون دسویں جماعت کے نتائج میں لڑکیوں نے ماری بازی
جموں، جموں و کشمیر اسٹیٹ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے نتائج میں ایک بار پھر لڑکیوں نے برتری حاصل کی ہے۔
محکمے کی جانب سے منگل کے روز جاری کردہ جموں ڈویژن کے سمر زون کی سالانہ اور باقاعدہ دسویں جماعت کے نتائج میں یہ رجحان دیکھنے کو ملا ہے۔ حکام نے بتایا کہ امتحان میں کل 50,754 امیدوار شامل ہوئے تھے، جن میں سے 45,094 امیدوار کامیاب ہوئے۔ اس سال کل کامیابی کا تناسب 88.85 فیصد رہا، جو گزشتہ سال کے 79.94 فیصد کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔ کل امیدواروں میں سے 27,486 لڑکے اور 23,268 لڑکیاں امتحان میں بیٹھی تھیں۔ ان میں سے 24,054 لڑکے اور 21,040 لڑکیاں کامیاب رہیں۔ لڑکوں کی کامیابی کا تناسب 87.51 فیصد رہا، جبکہ لڑکیوں نے 90.42 فیصد کے ساتھ اعلیٰ کامیابی درج کی۔
یہ امتحان 527 مراکز پر خوش اسلوبی سے منعقد کیا گیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ سرکاری اسکولوں سے 26,706 امیدوار امتحان میں بیٹھے، جن میں سے 22,283 پاس ہوئے اور کامیابی کا تناسب 83.44 فی صد رہا۔ پرائیویٹ اسکولوں سے 24,048 امیدوار شامل ہوئے اور 22,811 کامیاب رہے، جس سے ان کی کامیابی کا تناسب 94.86 فی صد درج کیا گیا۔
وزیر تعلیم سکینہ اتّو نے دسویں جماعت (سمر زون) کے طلبہ کو شاندار کامیابی پر مبارکباد دی۔ وزیر موصوفہ نے طلبہ کی محنت اور لگن کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ نتائج اساتذہ، والدین اور پورے تعلیمی نظام کی مشترکہ کوششوں کا ثبوت ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اسکولوں کا 83.44 فیصد پاس ہونا انتہائی حوصلہ افزا ہے اور یہ سرکاری اداروں میں تعلیمی معیار میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔
طالبات کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے ان کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے فخر کے ساتھ اس بات کا تذکرہ کیا کہ لڑکیوں نے ایک بار پھر لڑکوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جو ان کے پختہ ارادے اور تعلیمی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ کامیابی نہ صرف فخر کی بات ہے بلکہ تعلیم کے ذریعے لڑکیوں کو بااختیار بنانے کے حکومتی اقدامات کے مثبت اثرات کی واضح علامت بھی ہے۔‘‘
طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے وزیر موصوفہ نے ان پر زور دیا کہ وہ اپنے مستقبل کے اہداف کو خود اعتمادی کے ساتھ حاصل کریں۔ انہوں نے ان طلبہ کو بھی ناامید نہ ہونے اور مزید محنت کرنے کا مشورہ دیا جو توقع کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا سکے اور اس بات پر زور دیا کہ کامیابی ایک مسلسل سفر ہے۔ انہوں نے ایک جامع، منصفانہ اور اعلیٰ معیار کے تعلیمی نظام کی فراہمی کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
کانگریس کا خواتین کے ریزرویشن کو فوری طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ
سری نگر، کانگریس پارٹی نے منگل کے روز خواتین کے ریزرویشن کے معاملے پر اپنی ملک گیر بیداری مہم کو تیز کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر خواتین کو بااختیار بنانے کی آڑ میں ‘جمہوریت کو کمزور کرنے’ کی کوشش کا الزام لگایا۔
اسمبلیوں اور پارلیمان میں خواتین کے لیے ریزرویشن لاگو کرنے اور لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھانے والا آئینی ترمیمی بل، مطلوبہ دو تہائی اکثریت نہ ملنے کی وجہ سے 17 اپریل کو پارلیمان میں منظور نہیں ہو سکا تھا۔ پارٹی کی قومی سکریٹری زریتا لیتفلانگ نے سری نگر میں پریس کانفرنس کے دوران 17 اپریل کے واقعات کو ‘سرکاری سازش’ قرار دیا اور الزام لگایا کہ سیاسی فائدے کے لیے ‘آئینی ڈھانچے کو بدلنے’ اور خواتین کے ریزرویشن کے مسئلے کا غلط استعمال کرنے کی کوششیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی مزاحمت ‘آئین، ہندوستان اور جمہوری اتحاد کی جیت’ کی عکاسی کرتی ہے۔ خواتین کے ریزرویشن کو ایک جائز مطالبہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے بی جے پی کو خبردار کیا کہ وہ خواتین کو اپنے چھپے ہوئے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ‘ڈھال’ کے طور پر استعمال نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم کسی کو بھی ایسی اسکیموں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے خواتین کا استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ خواتین بیدار ہیں اور انہیں گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
کانگریس لیڈر نے مختلف ریاستوں کے واقعات اور منی پور کے تشدد کا ذکر کرتے ہوئے خواتین کے تحفظ پر حکومت کے ریکارڈ پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے دلیل دی کہ ‘خواتین کی خود مختاری’ کے دعوے زمینی حقائق اور اعداد و شمار کے برعکس ہیں۔ محترمہ لیتفلانگ نے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے وقت پر بھی تشویش ظاہر کی اور نشاندہی کی کہ خواتین کا ریزرویشن بل پہلے ہی 2023 میں پاس ہو چکا تھا۔
انہوں نے سوال کیا کہ اپریل 2026 میں اچانک خصوصی اجلاس کی کیا ضرورت تھی؟ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ یہ قدم ڈی لیمیٹیشن کے منصوبوں سے جڑا تھا۔ انہوں نے 543 رکنی لوک سبھا میں ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی خواتین کے کوٹے سمیت خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو فوری طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ترامیم کی حمایت کے لیے تیار ہے اور حکومت سے بغیر کسی تاخیر کے کارروائی کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے این سی آر بی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم اور سیاست میں کم نمائندگی کا دعویٰ کیا اور کہا کہ کانگریس نے تاریخی طور پر خواتین کی شرکت کی حمایت کی ہے۔ کانگریس پارٹی نے خواتین کے ریزرویشن کے مسئلے پر ‘غلط معلومات’ کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک گیر عوامی رابطہ مہم شروع کی ہے۔ بعد ازاں، کانگریس کی خواتین لیڈروں نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر بی جے پی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
جموں کے بیرونی علاقے میں موٹر سائیکل سوار ہلاک، دوسرا زخمی
جموں، جموں شہر کے مضافاتی علاقے سوہنجنا میں رنگ روڈ پر ایک موٹر سائیکل کے ڈیوائیڈر سے ٹکرانے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دوسرا زخمی ہو گیا۔پولیس نے بتایا کہ موٹر سائیکل ستواری منڈل کے علاقے سوہانجنا میں رنگ روڈ پر ڈیوائیڈر سے ٹکرائی۔ پولیس کے مطابق اس حادثے میں جموں کے ضلع اکھنور کے علاقے امبارن کے رہائشی محمد عامر کی موقع پر ہی موت ہو گئی، جبکہ ایک اور شخص شدید زخمی ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زخمی شخص کو علاج کے لیے جموں کے گورنمنٹ میڈیکل کالج اور اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ لاش کو مردہ خانے میں رکھوا دیا گیا ہے اور قانونی ضابطے مکمل ہونے کے بعد اسے لواحقین کے حوالے کر دیا جائے گا۔
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا5 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
جموں و کشمیر5 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
جموں و کشمیر5 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
ہندوستان1 week agoوزیراعظم مودی کا ‘ناری شکتی’ کے نام خط، خواتین کے ریزرویشن کے عزم کا اعادہ
دنیا5 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ










































































































