دنیا
ایرانی وزیرخارجہ نے ای3 کو پابندیوں کی بحالی کے خلاف خبردار کیا

تہران، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اتوار کو خبردار کیا کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی (ای3) تہران پر پابندیوں کو بحال کرنے کے لیے اسنیپ بیک میکانزم کو متحرک کرکے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یواین ایس سی) کی ساکھ کو مجروح نہ کریں۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں مسٹر عراقچی نے کہا کہ ای3 میں 2015 کے جوہری معاہدے کی شقوں یا یواین ایس سی کی قرارداد 2231 کی درخواست کرنے کے لیے “قانونی، سیاسی اور اخلاقی حیثیت” کا فقدان ہے، جو کہ اگر ایران معاہدے کی عدم تعمیل میں پایا جاتا ہے تو بین الاقوامی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کی اجازت دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2018 میں امریکہ کے مشترکہ جامع پلان آف ایکشن سے دستبرداری کے بعد ایران نے تدارک کے اقدامات کرنے سے پہلے تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو ختم کر دیا، جب کہ ای3 اپنے وعدوں کا احترام کرنے میں ناکام رہا اور یہاں تک کہ امریکی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کی حمایت کی۔
ایرانی وزیرخارجہ عراقچی نے کہاکہ “ای3 کو کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس سے صرف سلامتی کونسل میں تقسیم بڑھے یا اس کے کام پر سنگین منفی اثرات مرتب ہوں۔” انہوں نے کہاکہ ایران “بامعنی سفارت کاری” کے لیے تیار ہے، لیکن وہ دشمنانہ اقدامات کی مزاحمت کرے گا۔
قبل ازیں ایک میڈیا رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران اور ای3 نے تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے نام بتائے بغیر ایک باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور ای تھری مذاکرات کی تاریخ اور مقام پر مشاورت کر رہے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ مذاکرات نائب وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونے کی توقع ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
دنیا بھر کی فوج مل کر بھی ایران سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول نہیں چھین سکتی: ایرانی سیکیورٹی کونسل
تہران، ایران کے سیکورٹی کونسل کے ترجمان ابراہیم رضائی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کی فوج مل کر بھی ایران سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول نہیں چھین سکتی۔
تفصیلات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایران کے سیکورٹی کونسل کے ترجمان ابراہیم رضائی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ان کا کنٹرول غیر متزلزل ہے اور ایرانی اجازت کے بغیر ایک لٹرپٹرول بھی ہرمز سے نہیں جاسکتا۔
ابراہیم رضائی نے سپاہ پاسداران کی بحریہ کے کمانڈرز کے حوالے سے سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کی تمام افواج مل کر بھی آبنائے ہرمز سے ایران کا کنٹرول ختم نہیں کر سکتیں، ایران کی مرضی کے بغیر ایک لیٹر پیٹرول بھی اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے نہیں گزر سکتا۔
دوسری جانب ایرانی افواج کے ترجمان محمد اکرم نے موجودہ صورتحال کو خطرناک قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگرچہ بظاہر جنگ بندی کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن ہم اب بھی حالت جنگ میں ہیں، ایران کو امریکہ اور اسرائیل پر ذرہ برابر بھی بھروسہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل پر ذرہ برابر بھی بھروسہ نہیں، جنگ بندی کےدوران بھی ایران اپنے اہداف اپ ڈیٹ کر رہا ہے، نئے جنگی ساز و سامان کی تیاری کا عمل بھی پوری شدت سے جاری ہے، ملکی سرحدوں کی مسلسل نگرانی جاری ہے۔
ایرانی افواج کے ترجمان نے کہا کہ دشمن نے کوئی نئی جارحیت کی تو اسے نئے ہتھیاروں سے سخت جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے 60 دن بعد روس اور چین کے لیے پروازیں بحال کر دیں
تہران، ایران نے تقریباً دو مہینے کے وقفے کے بعد روس اور چین کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تقریباً 60 روز کے وقفے کے بعد ایران نے روس اور چین کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ اس سے ایک دن قبل قومی فضائی کمپنی ایران ایئر نے بھی اپنی پروازوں کی بحالی کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی۔
دوسری طرف امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ خبردار کر چکے ہیں کہ ایرانی فضائی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کرنے والی کمپنیاں امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا تھا کہ غیر ملکی حکومتیں یقینی بنائیں کہ ان کے دائرہ اختیار میں آنے والی کمپنیاں ایرانی طیاروں کو کوئی خدمات فراہم نہ کریں، جن میں ’طیاروں کے لیے ایندھن کی فراہمی، کیٹرنگ سروسز، ہوائی اڈوں پر لینڈنگ فیس یا طیاروں کی دیکھ بھال‘ شامل ہیں۔
ایران جنگ اور امن معاہدے سے متعلق تمام خبریں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی وزارت خزانہ ’کسی بھی ایسے تیسرے فریق کے خلاف کارروائی میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گی جو ایرانی اداروں کے ساتھ لین دین کرے یا انہیں سہولت فراہم کرے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے خلاف طویل مدتی ناکہ بندی کے لیے تیار رہیں: ٹرمپ کی قریبی معاونین کو ہدایت
واشنگٹن، امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف ناکہ بندی طویل عرصے تک جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے معاونین کو تیار رہنے کی ہدایت کردی۔
تفصیلات کے مطابق وال اسٹریٹ جرنل کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اقتصادی اور سفارتی ناکہ بندی کو طویل عرصے تک جاری رکھنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی معاونین کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ وہ طویل مدتی ناکہ بندی کے لیے تیار رہیں۔
اس حوالے سے امریکی اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ کھلی جنگ کے مقابلے میں ناکہ بندی ایک کم خطرناک راستہ ہے، تاہم صدر ٹرمپ ایران کے خلاف ‘یقینی فتح’ کے حصول تک پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ٹرمپ کو جنگی صورتحال سے نکلنے کے لیے اب تک جو تجاویز پیش کی گئی ہیں، وہ انہیں قابلِ قبول نہیں لگی ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک ایران 20 سال تک یورینیم کی افزودگی ترک کرنے کی تحریری یقین دہانی نہیں کرواتا، تب تک کوئی نئی ڈیل نہیں کی جائے گی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کو امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی نظر ثانی شدہ تجاویز پر غور کرنے اور اپنے سپریم لیڈر سے مشاورت کرنے کے لیے چند دن درکار ہیں۔ ایران کی جانب سے حتمی جواب آنے تک امریکہ نے اپنا دباؤ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر5 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر23 hours agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
دنیا1 week agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoشہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر
ہندوستان4 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
ہندوستان4 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
دنیا1 week agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں
دنیا5 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
دنیا1 week agoدھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کسی صورت قبول نہیں: اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
دنیا4 days agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی










































































































