فن و ادب
بچوں کے حقوق، اس دنیا میں آنے والی نسل کے حقوق سب سے اہم: کرینہ کپور خاں

نئی دہلی، بچوں کے حقوق اور یکساں تعلیمی، سماجی اور مساوات پر زور دیتے ہوئے ہندوستانی فلمی صنعت کی معروف اداکارہ کرینہ کپور نے کہا کہ بچوں کے حقوق، اس دنیا کی آنے والی نسل کے حقوق جتنے اہم ہیں اتنے کچھ بہی نہیں۔ یہ بات انہوں نے ہندوستان میں یونیسیف انڈیا کے 75 سال پورے ہونے کے موقع پر انہیں یونیسیف انڈیا کے قومی سفیر بنائے جانے پر کہی۔
انہوں نے کہاکہ یونیسیف انڈیا کی قومی سفیر کے طور پرتقرری ان کے لئے اعزاز کی بات ہے اور وہ یونیسیف فیملی کے ساتھ مل کر اپنی ذمہ داری کو پوری طرح سے ادا کریں گی۔ انہوں نے کہاکہ ‘بچوں کے حقوق، اس دنیا کی آنے والی نسل کے حقوق جتنے اہم ہیں اتنے کچھ بھی نہیں۔ مجھے اب ہندوستان کے قومی سفیر کے طور پر یونیسیف کے ساتھ اپنی وابستگی جاری رکھنے کا اعزاز حاصل ہے۔ میں کمزور بچوں اور ان کے حقوق، بالخصوص ابتدائی بچپن، تعلیم اور صنفی مساوات کے لیے اپنی آواز اور اثر و رسوخ استعمال کرنے کی کوشش کروں گی۔ کیونکہ ہر بچہ بچپن، ایک منصفانہ مواقع، مستقبل کا مستحق ہے۔ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ تعلیم کے معیار پر وہ کام کریں گی۔
واضح رہے کہ ہندوستان کے ساتھ شراکت داری کے 75 ویں سال میں یونیسیف انڈیا نے آج ہندوستانی فلمی صنعت کے مشہور ستاروں میں سے ایک کرینہ کپور خان کو تنظیم کی نیشنل امبیسڈر کے طور پر مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ اپنے کردار میں کرینہ کپور خان ہر بچے کے ابتدائی بچپن کی نشوونما، صحت، تعلیم اور صنفی مساوات کے حق کو آگے بڑھانے میں یونیسیف انڈیا کی مدد کریں گی۔2014 سے یونیسیف انڈیا کی حمایت کے طور پر کرینہ کپور خان لڑکیوں کی تعلیم، صنفی مساوات، بنیادی تعلیم، حفاظتی ٹیکوں اور دودھ پلانے کے لیے ایک مضبوط وکیل پر اپنا کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ کووڈ-19 وبائی مرض کے دوران محترمہ کرینہ خان نے بچوں کے سیکھنے اور دوبارہ کھلنے کے بعد اسکول واپس آنے کی وکالت کی۔ وہ #EveryChildRights پر یونیسیف کی متعدد عالمی مہموں میں ایک اہم معاون کے طور پر اپنا کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یونیسیف انڈیا کی نمائندہ سنتھیا میک کیفری نے کہاکہ ‘یونیسیف بچوں کے حقوق کو آگے بڑھانے کے لیے کرینہ کپور خان کو قومی سفیر کے طور پر خوش آمدید کہتے ہوئے مجھے بہت خوشی ہورہی ہے۔ انہوں نے کئی قومی اور عالمی مہموں میں اپنی حمایت کے ذریعے توانائی اور اثر پیدا کیا ہے۔“
وہ یونیسیف فیملی میں ہمارے چار نوجوان حامیوں کے ساتھ یونیسیف انڈیا کی قومی سفیر کے طور پر شامل ہوئی ہیں۔ ہم بچوں کے حقوق کی وکالت جاری رکھنے کے لیے ان کے اور چار نوجوانوں کے وکیلوں کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں۔
میک کیفری نے مزید کہاکہ’ساڑھے سات دہائیوں کے دوران ایک قابل فخر اور پرجوش شراکت دار کے طور پر یونیسیف نے حکومت ہند کی قیادت والے پروگراموں کی حمایت کی جس سے لاکھوں بچوں اور نوجوانوں کو فائدہ پہنچا۔ انڈیا@75 کے ساتھ یونیسیف کی قابل قدر شراکت داری کو نشان زد کرنے سے آنے والے برسوں اور دہائیوں میں بچوں کے لیے ایک وژن کی تجدید اور دوبارہ عزم کا موقع ملتا ہے۔ شراکت کے اس جذبے میں مقبول قومی سفیروں، مشہور شخصیات اور نوجوانوں کے حمایت کے ساتھ یونیسیف کی مصروفیت تمام بچوں کے لیے ایک امید افزا مستقبل کی تعمیر جاری رکھے گی۔’
اسی تقریب میں یونیسیف انڈیا نے بھی اپنے پہلے یوتھ ایڈووکیٹ کی تقرری کا اعلان کیا، جو کہ ہم مرتبہ رہنما ہیں اور موسمیاتی عمل، ذہنی صحت، اختراعات اور اسٹیم میں لڑکیوں کے مسائل پر ماہر ہیں۔ 16 سے 24 سال کے درمیان چار حامیوں کی دلچسپی کے مخصوص شعبے ہیں۔ مدھیہ پردیش سے گورانشی شرما کھیل کے حق اور معذوری کی شمولیت پر، اتر پردیش سے کارتک ورما موسمیاتی کارروائی اور بچوں کے حقوق کی وکالت، ذہنی صحت اور ابتدائی بچپن کی نشوونما پر، آسام سے ناہید آفرین اور تمل ناڈو سے ونیشا اوما شنکر ایک ابھرتی ہوئی جدت پسند اورسرخیل اسٹیم ہیں۔ یہ یوتھ یونیسیف کے عالمی پروگرام کا حصہ ہیں اور دنیا بھر میں 93 سے زیادہ نوجوانوں کے حامیوں کے ایک گروپ میں شامل ہیں اور بچوں اور نوجوانوں سے متعلق مسائل پر تبدیلی لا رہے ہیں۔
نوجوانوں کے حامی کے طور پر اپنی تقرری پر بات کرتے ہوئے کارتک ورما نے کہاکہ ‘نوجوان ہندوستان میں تبدیلی کی قیادت کر سکتے ہیں۔ یونیسیف انڈیا یوتھ ایڈوکیٹ کے طور پر میں اپنی آواز کا استعمال بچوں اور نوجوانوں کے تحفظات اور نقطہ نظر کو بڑھانے کے لیے کروں گا، خاص طور پر پسماندہ اور کمزور معاشرے سے تعلق رکھنے والے مختلف اسٹیک ہولڈرز تک۔’
آسام سے ییوتھ ایڈووکیٹ ناہید آفرین نے کہاکہ’میں یونیسیف انڈیا کے یوتھ ایڈوکیٹ کے طور پر مقرر ہونے پر بہت خوش ہوں۔ میرے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے کہ میں اپنی آواز کو ان مسائل کی طرف لوگوں کی توجہ کے لیے استعمال کروں جن سے بہت سے نوجوان ذہنی صحت سے نمٹ رہے ہیں۔“
یو این آئی۔ ع ا۔
فن و ادب
جموں فلم فیسٹیول کا پانچواں ایڈیشن 28-29 ستمبر کو ہوگا: منتظمین
جموں، وومیدھ کی جانب سے دی اوانتی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے پیش کیا جانے والا جموں فلم فیسٹیول (جے ایف ایف) کا پانچواں ایڈیشن 28 اور 29 ستمبر کو یہاں منعقد ہوگا۔
پیر کے روز اس کے پانچویں ایڈیشن کا باضابطہ اعلان کیا گیا، جو خطے کے ثقافتی اور سنیما کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
پریس کانفرنس میں آئندہ ایڈیشن کا اعلان کرتے ہوئے فیسٹیول ڈائریکٹر راکیش روشن بھٹ نے تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ “یہ سفر یقین، ثابت قدمی اور بے شمار افراد و تنظیموں کی حمایت سے ممکن ہوا ہے۔ ہم ان سب کے شکر گزار ہیں جنہوں نے جے ایف ایف کو ایک بامعنی پلیٹ فارم بنانے میں تعاون دیا۔ یہ سنگ میل پوری تخلیقی برادری کا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس ایڈیشن کی ایک خاص جھلک بہترین مقامی پروڈکشن کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام ہوگا، جس کا مقصد علاقائی ٹیلنٹ کو فروغ دینا اور بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھنا ہے۔
فیسٹیول ڈائریکٹر روہت بھٹ نے بتایاکہ“پانچویں ایڈیشن کے ساتھ ہم علاقائی کہانیوں کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم اٹھا رہے ہیں۔ بہترین مقامی پروڈکشن کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا ہے تاکہ جموں و کشمیر کے فلم سازوں کو مضبوط پلیٹ فارم مل سکے۔”
فیسٹیول کے مشیر ڈاکٹر امیت وانچو نے کہا کہ جموں فلم فیسٹیول ایک معتبر پلیٹ فارم بن چکا ہے جو بامعنی سنیما کو فروغ دیتا ہے اور اس کی مسلسل ترقی منتظمین کی محنت اور معیاری کہانیوں میں بڑھتی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔
شریک پیش کنندہ کی جانب سے سنجیو کاک نے کہاکہ“ہمیں خوشی ہے کہ ہم وومیدھ کے ذریعے جموں و کشمیر میں جے ایف ایف اور ٹی آئی ایف ایف ایس جیسے بین الاقوامی فلمی میلوں سے وابستہ ہیں۔ یہ پلیٹ فارم عالمی سنیما کو یہاں کے ناظرین تک پہنچانے اور مقامی ٹیلنٹ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔”
وومیدھ کی مشیر بھاونا پنڈیتا نے کہا کہ تنظیم فن و ثقافت کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور جے ایف ایف جیسے اقدامات کے ذریعے فنکاروں اور فلم سازوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
سینئر اداکارہ کسم ٹیکو نے کہا کہ ابتدا سے اس سفر کا حصہ ہونا خوش آئند ہے اور یہ دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے کہ یہ پلیٹ فارم وقت کے ساتھ ایک اہم ثقافتی سنگ میل بن چکا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
فن و ادب
رنویر سنگھ کی فلم دھوندھر: دی ریوینج 1000 کروڑ کلب میں شامل
ممبئی، بالی ووڈ اسٹار رنویر سنگھ کی فلم دھوندھر: دی ریوینج نے ہندوستانی مارکیٹ میں 1013 کروڑ روپے سے زیادہ کی کمائی کی ہے۔ آدتیہ دھر کی ہدایت کاری میں بننے والی بلاک بسٹر دھوندھر کا سیکوئل، دھوندھر: دی ریونج روزانہ لاکھوں روپے کی آمد کے ساتھ کامیابی جاری ہےرنویر سنگھ نے مرکزی کردار میں اداکاری کی، یہ فلم ریلیز کے بعد سے ہی شائقین کے درمیان زبردست ہٹ رہی ہے۔ فلم کی مقبولیت اپنے عروج پر ہے۔ رنویر سنگھ، آر مادھاون، ارجن رامپال، سنجے دت، راکیش بیدی، اور سارہ علی خان نے اہم کردار ادا کیے ہیں۔
سکنلک کے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق، “دھورندھر: دی ریوینج” نے 18 مارچ تک تقریباً 43 کروڑ کی کمائی کی۔ فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں ہندوستانی مارکیٹ میں 674.17 کروڑ روپے کمائے۔ اس نے دوسرے ہفتے میں 263.65 کروڑ روپے کمائے۔ فلم نے 16ویں دن 21.55 کروڑ روپے، 17ویں دن 25.65 کروڑ اور 18ویں دن 28.75 کروڑ کی کمائی کی۔ فلم نے 18 دنوں میں ہندوستانی مارکیٹ میں 1013.77 کروڑ روپے کمائے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
فن و ادب
نوتن فلموں میں کام کرنے والی پہلی مس انڈیا تھیں
21 فروری برسی کے موقع پر
خصوصی تحریر: نسیم الدین
بالی ووڈ میں ایسی شخصیتوں کی ایک طویل فہرست ہے جِن کے کارناموں کو ہم کبھی فراموش نہیں کرسکتے اور جِنھوں نے فلمی دنیا میں اپنے انمٹ نقش چھوڑے ہیں اِس طویل عرصے میں کیسے کیسے نامور فن کاروں نے، جِن میں ایکٹرز، ڈائریکٹرز، گلوکار، رائٹرز، شاعر اور موسیقار اور فلمی اسکرین پر اور اس کے پس پردہ کام کرنے والی سینکڑوں شخصیتیں شامل ہیں، اپنی لگن اور فنی جوہر سے بالی ووڈ کو وہ بلند مقام دیا جہاں اُسے ہم آج دیکھتے ہیں۔اِنہی میں ایک عظیم اداکارہ نوتن بھی شامل ہیں۔
نوتن نے اپنی فطری اداکاری، سادگی اور مکالموں کی ادائیگی سے فلم شائقین کو جِس طرح متاثر کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔
آج کے دور میں جہاں مس انڈیا کا خطاب جیتنے والی حسیناؤں کو فلموں میں کام کرنے کا موقع آسانی سے مل جاتا ہے، وہیں نوتن کو فلموں میں کام حاصل کرنے کے لئے کافی جدوجہد کرنی پڑی تھی۔
چار جون 1936 کو ممبئی میں پیدا ہوئیں نوتن کا اصلی نام نوتن سمرتھ تھا۔ ان کو اداکاری کا فن وراثت میں ملا۔ ان کی ماں شوبھنا سمرتھ اس زمانے کی معروف فلم اداکارہ تھیں۔ گھر میں فلمی ماحول ہونے کی وجہ سے نوتن اکثر اپنی ماں کے ساتھ شوٹنگ دیکھنے جایا کرتی تھیں۔
اس وجہ سے ان کا رجحان بھی فلموں کی جانب مائل ہو گیا اور وہ بھی اداکارہ بننے کے خواب دیکھنے لگیں۔نوتن نے بطور چائلڈا سٹار فلم ’نل دمينتی‘ سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس درمیان نوتن نے آل انڈیا بیوٹی مقابلہ میں حصہ لیا جس میں وہ سرفہرست رہیں لیکن بالی ووڈ کے کسی فلمساز کی توجہ ان کی طرف نہیں گئی۔ انہیں 1950 کی فلم ہماری بیٹی میں اداکاری کرنے کا موقع ملا جس کی ہدایت کار ان کی ماں شوبھنا سمرتھ تھیں۔
جاری۔یو این آئی۔ این یو۔
دنیا7 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
دنیا7 days agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
ہندوستان1 week agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
جموں و کشمیر6 days agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
دنیا1 week agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا7 days agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
دنیا7 days agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
ہندوستان7 days agoامریکی فوج کے ایران پر تازہ حملوں میں 8 افراد جاں بحق
ہندوستان6 days agoدہلی پولیس نے صحت کی تشویش کے پیش نظر سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیا
ہندوستان1 week agoاتراکھنڈ کے طلبہ پیپر لیک کے خلاف ‘چھاتروں کی گونج’ سے جڑے: راہل
ہندوستان1 week agoسرکار نے 62 ہزار کروڑ کی لاگت سے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم کو منظوری دی











































































































