تازہ ترین
تالہ بندی کے پانچویں مرحلے کا 11واں دن، غیر تالہ بندی کا چوتھا دن

کشمیر میں صورتحال جوں کی توں
تجارتی مرکز لالچوک سمیت سبھی مرکزی بازار بند،پبلک ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام،نجی گاڑیوں کی آوا جاہی جاری
سرینگر:ملک گیر تالہ بندی کے پانچویں مرحلے کے11ویں روز اور غیر تالہ بندی کے پہلے مرحلے کے چوتھے روز جمعرات کو وادی کشمیر میں صورتحال جوں کی توں ہے۔
تجارتی مرکز لالچوک سمیت سبھی بازار اور کاروباری ادارے وتجارتی مرکز بند ہیں جبکہ سڑکوں اور شاہراہوں سے مکمل طور پر پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہے۔تاہم نجی گاڑیوں کی آوا جاہی معمول کے مطابق جاری ہے جبکہ شہر اور دیگر قصبہ جات میں اکا دکا دکانیں آہستہ آہستہ کھلنا شروع ہوگئیں۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر میں جمعرات کو بھی جملہ کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مجموعی طور پر ٹھپ رہیں۔وادی کشمیر میں ماہ مارچ میں اُس وقت کورونا لاک ڈاؤن شروع ہوا جب 18مارچ کو شہر خاص کے ناؤ پورہ علاقے سے تعلق رکھنے والی خاتون کا ٹیسٹ پازیٹیو آیا۔
21مارچ کو وادی کشمیر میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن کا آغاز ہوا جبکہ ملک گیر سطح پر وزیر اعظم نریندر مودی کے اعلان پر 24مارچ سے لاک ڈاؤن کا مرحلہ وار سلسلہ شروع ہوا،جو مشروط نرمی کیساتھ تاحال جاری ہے۔
ملک گیر لاک ڈاؤن(تالہ بندی) کے پانچویں مرحلے کے11ویں روز اور اَن لاک ڈاؤن (غیر تالہ بندی) کے پہلے مرحلے کے چوتھے روز جمعرات کو وادی کے شمال و جنوب میں نظام زندگی کے مجموعی معمولات منجمد رہے۔اگرچہ چند ایک بازاروں میں جزوی طور پر کاروبا ری سرگرمیاں بحال ہوئیں،تاہم مجموعی طور یہ سبھی سرگرمیاں تاحال ٹھپ ہیں،کیونکہ دارالحکومت سرینگر کے تجارتی مرکز وقلب لالچوک کے سبھی بازار بند رہے اور ان علاقوں میں لوگوں کی آمد و رفت نہ ہونے کے برابر رہی۔
یاد رہے کہ بدھ کو ضلع انتظامیہ سرینگر اور تاجروں و ٹرانسپورٹروں کے درمیان ایک غیر معمولی میٹنگ منعقد ہوئی،جس میں دارالحکومت سرینگر میں تجارتی وکاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اصولی طور پر دونوں فریق سرگرمیاں دوبارہ بحال کرنے پر متفق تھے،تاہم سرینگر کو ریڈ زونز قرار دئے جانے کے رہنما خطوط آڑھے آئے جسکی وجہ سے ابھی بھی تعطل برقرار ہے۔ادھر دیگر قصبوں میں بھی اسی طرح کی صورتحال تھی تاہم بہت کم تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی یا پھر اس طرح کی سرگرمیاں بحال ہوسکیں۔
البتہ چھوٹے قصبوں و دیہات کے علاوہ پائین شہر میں مکمل طور پر تجارتی سرگرمیاں بحال ہوچکی ہیں، دکانیں کھل گئی ہیں،خرید و فروخت ہورہی ہے اور تاجروں نے اپنا معمول کا کام کاج شروع کردیا ہے۔
تاہم یہ سرگرمیاں محدود ہونے کیساتھ ساتھ بہت قلیل ہیں۔ادھر مسلسل مسلسل85ویں روز بھی وادی کشمیر میں کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں اور شاہراؤں سے مکمل طور پر غائب رہا۔پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہنے کی وجہ سے شہر ودیہات میں ہو کا عالم دیکھنے کو مل رہا ہے۔تاہم نجی گاڑیوں کی آمد ورفت حسب معمول دیکھنے کو ملی،جس دوران آٹو رکھشا بھی سڑکوں پر نظر آئے۔
دنیا
ایرانی وزیر خارجہ پاکستان، عمان اور روس کا دورہ کریں گے
تہران، ایران کی نیم سرکاری مہر خبررساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ آج شام سے “اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دوروں کا آغاز کریں گے”۔
مہر نیوز نے کہا کہ اس دورے کا مقصد دو طرفہ مشاورت، خطے کی موجودہ پیش رفت اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی طرف سے مسلط کردہ جنگ کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں مختصر وفد کی پاکستان آمد کی اطلاع کو اہم سفارتی پیشرفت قرار دے دیا۔
ذرائع نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے رابطے کے بعد نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے وزیر اعظم شہباز شریف سے رابطہ کیا اور ان کو ایرانی ہم منصب سے ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا۔ شہباز شریف اور اسحاق ڈار نے خطے کی سکیورٹی صورتحال اور کشیدگی میں اضافے کے خدشات پر بات چیت کی جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
واضح رہے کہ پاکستان دونوں فریقین کو جلد دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کیلیے سرگرم ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے امن و استحکام کیلیے اہم پالیسی اور سفارتی ہدایات جاری کر دی گئیں۔ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے، اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کیلیے پُرعزم ہے۔ شہباز شریف نے اعلیٰ سطح سفارتی رابطوں میں تیزی لانے اور مشاورت جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یورپی یونین اقوام متحدہ کے مشن کے بعد لبنان میں فوج بھیجنے پر غور کر رہی ہے
بروسلز، یورپی یونین (ای یو) جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے خاتمے کے بعد اپنا الگ مشن بھیجنے کے امکان پر غور کر رہی ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کاجا کالس نے کہا کہ لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس کے مشن کے خاتمے کے بعد، لبنانی مسلح افواج کو حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور ملک میں دوبارہ کنٹرول قائم کرنے کے لیے اضافی مدد کی ضرورت ہوگی۔ اس سلسلے میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ اور دفاع کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مجوزہ یورپی مشن اقوام متحدہ کے مشن سے مختلف ہوگا اور اس کا مقصد لبنان کی حقیقی ضروریات کو پورا کرنا ہوگا۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور لبنانی نمائندوں کے درمیان بات چیت کے بعد لبنان میں ایک نازک جنگ بندی کو تین ہفتوں کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔ مارچ میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں حزب اللہ کی ایران کی حمایت اور اسرائیل کے ساتھ تنازعہ شروع ہوا۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ جنگ بندی میں توسیع صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے ممکن ہوئی اور اس سے دیرپا امن کی کوششوں کو وقت ملا ہے۔ امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یشیئل لیٹر نے کہا کہ امن کا ایک امکان باقی ہے لیکن اس کے لیے حزب اللہ کو بے اثر کرنے کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے جنگ بندی پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مکمل طور پر موثر نہیں ہے اور حزب اللہ کی سرگرمیاں اسے کمزور کر رہی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ جنگ بندی کے دوران بھی دونوں طرف سے حملے ہوتے رہے ہیں جن میں جنوبی لبنان میں حالیہ حملہ بھی شامل ہے جس میں ایک صحافی ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے ناکہ بندی سخت کردی، امریکی وزیر جنگ
واشگنٹن، امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے ناکہ بندی سخت کردی ہے۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس معاہدہ کرنے کا اچھا وقت ہے، ہمارا مقصد واضح ہے کہ ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار نہیں بنا سکتا، ان کے لیے بہتر ہوگا کہ اچھی ڈیل قبول کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا محاصرہ جاری ہے دوسرا امریکی فلیٹ میں چند دن میں روانہ ہوگا، امریکی فوج نے متعدد بحری جہاز قبضے میں لیے اور مزید بھی لیں گے، آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے ہماری اجازت کے بغیر کوئی نہیں جاسکتا۔ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایران بحری قزاقوں کی طرح مختلف جہازوں پر فائرنگ کررہے ہیں، ایرانی چھوٹی کشتیوں سے ایسے جہازوں پر فائرنگ کرتے ہیں جو امریکی یا اسرائیلی نہیں ہیں، صدر ٹرمپ نے مائنر بچھانے والے کسی بھی جہاز یا کشتی کو تباہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
امریکی وزیر جنگ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق وقت ایران کے ساتھ نہیں ہمارے ساتھ ہے، صدر نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ ہمیں کوئی جلدی نہیں ہمارے پاس وقت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو ایسے اتحادی چاہئیں جو قابل اور وفادار ہوں، یورپ اور ایشیا نے دہائیوں تک امریکا اور امریکی مفادات سے فائدہ اٹھایا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
جموں و کشمیر1 week agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا4 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
دنیا1 week agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا1 week agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
دنیا1 week agoامریکی سینیٹ نے ایران پر مزید حملوں کی اجازت کی قرارداد مسترد کردی
دنیا1 week agoاسرائیل کا ایران و لبنان میں جنگ جاری رکھنے کا اعلان، فوج مکمل تیاری کے ساتھ ہائی الرٹ پر : اہداف تیار
دنیا3 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر9 hours agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
جموں و کشمیر3 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند







































































































