جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کابینہ نے ٹی بی آر پر لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعہ اٹھائے گئے سوالات کو حل کیا ہے:تنویر صادق

سری نگر، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی صدارت میں جموں و کشمیر کی کابینہ نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی طرف سے مجوزہ ٹرانزیکشن بزنس رولز (ٹی بی آر) پر اٹھائے گئے سوالات کو حل کیا ہے۔
نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ اور رکن اسمبلی تنویر صادق نے پیر کے روز میڈیا کو بتایا: ‘راج بھون سے کچھ سوالات اٹھائے گئے تھے آج صبح عمر عبداللہ صاحب کی صدارت میں کابینہ بیٹھی اور ان کا جواب تیار کیا گیا، جو آج واپس راج بھون پہنچ جائیں گی’۔
انہوں نے یہ باتیں ان اطلاعات پر سوالات کا جواب دیتے ہوئے دیا کہ لیفٹیننٹ گورنر سنہا نے مارچ میں حکومت کی طرف سے بھیجی گئی ٹی بی آر فائل کو ،اس بات کی وضاحت کے لیے کہ آیا قواعد وضع کرنے میں مناسب طریقہ کار پر عمل کیا گیا تھا،۔واپس کر دیا تھا-
مسٹر صادق نے کہا: ‘ٹی بی آر فائل کو رد نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس کو آج راج بھون واپس بھیج دیا جائے گا’
انہوں نے کہا: یہ ایک جاری کام ہے اور ہم جلد ہی اس پر صورتحال واضح ہونے کی توقع کرتے ہیں’۔
قابل ذکر ہے کہ ٹی بی آر کے قوانین لیفٹیننٹ گورنر اور یونین ٹیریٹری میں منتخب حکومت کے اختیارات کی وضاحت کرتے ہیں۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
سکیورٹی فورسز نے اننت ناگ میں دہشت گردوں سے منسلک دو مکانات منہدم کر دیے
سری نگر، جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں ایک پولیس اہلکار کے قتل کے بعد سکیورٹی فورسز نے کارروائی تیز کرتے ہوئے جنوبی کشمیر میں مبینہ طور پر دہشت گردوں کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے دو مکانات منہدم کر دیے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق بدھ کی رات اننت ناگ کے بجبہاڑہ علاقے میں لشکرِ طیبہ کے رکن عادل احمد ٹھوکر کے اہلِ خانہ کے مکان کے خلاف کارروائی شروع کی گئی۔ دوسرا منہدم کیا گیا مکان ہارون گنائی کے خاندان کا تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق دونوں مکانات کو دھماکہ خیز مواد کی مدد سے گرایا گیا۔ تاہم پولیس نے ابھی تک اس پیش رفت پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔
یہ کارروائی جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں جموں و کشمیر پولیس کے ایک ہیڈ کانسٹیبل کو گولی مار کر ہلاک کیے جانے کے ایک روز بعد کی گئی۔ اس واقعے کے بعد بڑے پیمانے پر سکیورٹی آپریشن شروع کیا گیا اور وادی میں مشتبہ دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف وسیع کارروائیاں کی گئیں۔
وسیع پیمانے پر جاری مہم کے دوران مختلف اضلاع سے تقریباً دو ہزار مشتبہ افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے، جن پر دہشت گردوں کی معاونت کا شبہ ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ سال اپریل میں پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد اب تک دہشت گردوں سے منسلک کم از کم نو مکانات منہدم کیے جا چکے ہیں۔
یواین آئی۔ ظا
جموں و کشمیر
عمر نے نڈا کے بیان کی تردید کی، کہا جے کے ایس ایس بی پیپر لیک ایل جی انتظامیہ کے دور میں ہوا تھا
سرینگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کے روز جے کے ایس ایس بی (جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ) پیپر لیک پر مرکزی وزیر اور بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈا کے تبصرے پر ان پر پلٹ وار کرتے ہوئے ان پر حقائق کو غلط انداز میں پیش کرنے کا الزام لگایا اور انہیں یاد دلایا کہ بھرتی کا یہ گھپلہ 2022 میں ایل جی کی قیادت والی انتظامیہ کے تحت ہوا تھا، نہ کہ این سی – کانگریس حکومت کے دوران۔
عمر نے پیپر لیک کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے انجام پر بھی سوال اٹھائے اور نڈا سے کہا کہ وہ اپنی اگلی پریس کانفرنس میں اس کی رپورٹ کے نتائج کو عام کریں۔
امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کے جاری احتجاج پر بدھ کی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نڈا نے دعویٰ کیا تھا کہ جے کے ایس ایس بی پیپر لیک اس وقت ہوا تھا جب کانگریس اور نیشنل کانفرنس اقتدار میں تھیں۔
عمر نے ایکس پر لکھا، ”جی جے پی نڈا، جموں و کشمیر میں ایس ایس بی پیپر لیک کے بارے میں آپ بالکل درست ہیں، لیکن آپ سے تاریخ غلط ہو گئی ہے۔ یہ 2022 کا واقعہ ہے۔ حکومت این سی اور کانگریس کی نہیں تھی۔ یہ لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت والی حکومت تھی لیکن ہر کسی کو اس ناکامی کی یاد دلانے کے لیے آپ کا شکریہ۔ اس میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے یہ مشاہدات اور احکامات شامل تھے۔“
”ہمیں نہیں معلوم کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی یا اس کی رپورٹ کا کیا ہوا۔ شاید آپ اپنی اگلی پریس کانفرنس میں ہمارے ساتھ اس کی معلومات شیئر کر سکیں۔“
این سی کے چیف ترجمان اور ایم ایل اے تنویر صادق نے بھی نڈا پر حقائق کو غلط طریقے سے پیش کرنے کا الزام لگایا۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھرتی پیپر لیک 2022 میں ہوا تھا، جب جموں و کشمیر لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ کے تحت تھا اور یونین ٹیریٹری میں کوئی منتخب حکومت نہیں تھی۔
صادق نے کہا، ”جموں و کشمیر میں بھرتی کا پیپر لیک 2022 میں لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ کے تحت ہوا تھا، جس کا مطلب ہے کہ براہ راست آپ کے تحت، جب وہاں کوئی منتخب حکومت نہیں تھی۔ موجودہ حکومت نے صرف اکتوبر 2024 میں اقتدار سنبھالا تھا۔“
انہوں نے مزید کہا کہ اگر نڈا لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ اور منتخب حکومت کے درمیان فرق کرنے میں ناکام ہیں، ”تو انہیں کسی کو لیکچر دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔“
یو این آئی ایم جے
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین قریشی شہید، وادی بھر میں بڑا کریک ڈاؤن
سری نگر، جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں دہشت گردوں نے بدھ کو جموں و کشمیر پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین قریشی کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ پہلگام حملے کے بعد وادی کشمیر میں پولیس اہلکار پر یہ پہلا مہلک دہشت گردانہ حملہ ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق دہشت گرد نے اننت ناگ کے لال چوک کے قریب ہیڈ کانسٹیبل قریشی پر قریب سے فائرنگ کی، جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں فوری طور پر گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) اننت ناگ لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
حملے کے بعد علاقے میں سیکورٹی سخت کر دی گئی۔ پولیس اور سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کا محاصرہ کرکے حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل پولیس نلین پربھات سمیت سینئر پولیس افسران موقع پر پہنچے اور کارروائی کی نگرانی کی۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں حملہ آور کو ہیڈ کانسٹیبل قریشی کا تعاقب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹیج کے مطابق قریشی ایک دکان سے باہر نکل رہے تھے کہ حملہ آور نے قریب سے ان پر فائرنگ کی اور فرار ہوگیا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امرناتھ یاترا کے پیش نظر اننت ناگ ضلع میں پہلے ہی سیکورٹی ہائی الرٹ پر ہے، اگرچہ خراب موسم کے باعث یاترا اتوار سے معطل ہے۔ گزشتہ 33 ماہ کے دوران کسی پولیس اہلکار پر یہ پہلا ہدف بنا کر کیا گیا حملہ ہے۔
اس سے قبل 31 اکتوبر 2023 کو بارہمولہ کے ٹنگمرگ علاقے میں ہیڈ کانسٹیبل غلام محمد ڈار کو ان کے گھر کے قریب گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا، جبکہ اس سے دو روز قبل سری نگر کے عیدگاہ علاقے میں انسپکٹر مسرور احمد وانی پر کرکٹ کھیلنے کے دوران حملہ کیا گیا تھا، جو بعد میں نئی دہلی کے ایمس میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے تھے۔
شہید ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین قریشی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے خصوصی تقریب منعقد کی گئی، جس میں ڈائریکٹر جنرل پولیس نلین پربھات، سینئر پولیس افسران، سول انتظامیہ کے حکام اور شہید کے اہل خانہ نے شرکت کی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس گھناؤنے جرم کے ذمہ داروں کو ہرگز بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک شہید کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین قریشی نے فرض کی انجام دہی کے دوران عظیم قربانی دی ہے۔ انہوں نے شہید کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
ادھر، واقعہ کے چند گھنٹوں بعد سیکورٹی فورسز نے وادی کشمیر کے مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے دہشت گردوں کے مبینہ معاون نیٹ ورک کے خلاف کارروائی میں تقریباً دو ہزار مشتبہ اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا6 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
ہندوستان1 week agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
دنیا6 days agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
دنیا1 week agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا6 days agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
دنیا6 days agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
جموں و کشمیر5 days agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
ہندوستان5 days agoدہلی پولیس نے صحت کی تشویش کے پیش نظر سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیا
ہندوستان1 week agoاتراکھنڈ کے طلبہ پیپر لیک کے خلاف ‘چھاتروں کی گونج’ سے جڑے: راہل
ہندوستان1 week agoسرکار نے 62 ہزار کروڑ کی لاگت سے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم کو منظوری دی
دنیا6 days agoایران نے بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا: امریکہ










































































































