تازہ ترین
درابو کی برخواستگی، مشن مکمل

عاصم محی الدین
گزشتہ ہفتہ ایک بڑی سیاسی تبدیلی کے دوران جموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ڈاکٹر حسیب درابو کو کابینہ سے برطرف کیا جسے طاقتور وزیر خزانہ تصور کیا جاتا تھا اور انہوں نے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے جنرل سیکریٹری رام مادھو سے ایجنڈآف الائنس مرتب کیا تھا۔ ڈاکٹر درابو نہ صرف پی ڈی پی سرپرست و سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے قریبی تھے بلکہ وہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان واحد رابطہ تھا اور بی جے پی کی اعلیٰ قیادت اورمخلوط حکومت میں دیگر مختلف پارٹی لیڈران کے ساتھ اچھی سوجھ بوجھ تھی۔
مفتی محمد سعید نے حسیب درابو کو جموں وکشمیر کی سیاست میں لایا اور انتخابات میں حصہ لینے کیلئے حوصلہ افزائی کی اور ان کی حکومت کیلئے وزیر خزانہ بننے کی راہ ہموار کی۔ جب پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت تشکیل دی ، درابو کو وزارت خزانہ کے قلمدان کی ذمہ داری اُس وقت سونپی گئی جب 2014میں تباہ کن سیلاب کے بعد تعمیر نو کیلئے ریاست کوکافی مالی مدد کی ضرورت تھی ۔

درابو کو کشمیر پر دیئے گئے متنازعہ بیان سیاسی مسئلہ کی بجائے ’سماجی مسئلہ‘قرار دینے کے بعد برخواست کیاگیا۔ بیان کی وجہ سے پی ڈی پی کی اعلیٰ قیادت بشمول جموں وکشمیر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو خفت کا سامنا کرنا پڑا۔ پی ڈی پی کے قیام کے وقت سے ہی پارٹی کا موقف ہے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ٹھوس مذاکرات سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔والد کے انتقال کے بعد وزیر اعلیٰ بننے سے ہی محبوبہ مفتی نے ہمیشہ ہندو پاک اور مزاحمتی خیمہ کے ساتھ مذاکرات کی وکالت کی تاہم ابھی تک ثمر آور نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں۔
کشمیر کو سماجی مسئلہ قرار دینے کے بیان نے نہ صرف پی ڈی پی میں کھلبلی مچا دی بلکہ ہند نواز اور علیحدگی پسندجماعتوں کے شدید حملوں کا بھی نشانہ بننا پڑا۔ درابو کے علاوہ ،پی ڈی پی کے 2وزرائ، وزیر تعلیم الطاف بخاری اور یوتھ سروس اینڈ سپورٹس کے وزیر عمران رضا انصاری بھی اُس تقریب میں شامل تھے ، جس میںدرابو نے یہ تبصرہ کیا تھا حالانکہ انہوںنے درابو کا کوئی دفاع نہیں کیا، یہ سماجی بہبود کے وزیراور بی جے پی کے اتحادی سجاد لون اور بارہمولہ کے رکن قانون سازیہ جاوید بیگ تھے جنہوںنے درابو کا دفاع کیا باقی تمام نے سابق وزیر خزانہ کو کشمیر کو سماجی مسئلہ قرار دینے پر تنقید کی۔
گزشتہ ہفتہ نئی دہلی میں ’کشمیر:آگے بڑھنے کا راستہ‘ (Kashmir: The Way Forward)کے موضوع پر درابو کہا تھا کہ ’کشمیر کو ایک تنازعہ کی ریاست اور سیاسی مسئلہ‘ سے نہ دیکھا جائے، یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جسے سماجی مسائل کا سامنا ہے، ہم اپنی جگہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں اور ہم ایسے عمل سے گزر رہے ہیں جس طرح دیگر ممالک گزر رہے ہیں‘۔ ”یہ (جے اینڈ کے) ایک سیاسی مسئلہ نہیں ہے جہاں تک میں دیکھتا ہوں، یہ گزشتہ50یا 70برسوں سے سیاست کی باتیں کرکے غلط درخت کو نشانہ بنا رہے ہیں، سیاسی صورتحال میں کبھی بہتری نہیں آئی ہے، ہمیں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ یہ ایک ایسا سماج ہے جس کو خود اپنی تلاش میں ہے‘۔
بیان دینے کے بعد درابو کو بیان واپس لینے کیلئے کہا گیا جبکہ پی ڈی پی نے انضباطی کارروائی کرتے ہوئے انہیں خط بھیج دیا۔ پی ڈی پی ذرائع کے مطابق درابو کے بیان واپس نہ لینے اورکوئی جواب نہ دینے کے بعدمحبوبہ مفتی نے سینئر ساتھیوں سے مشاورت کے بعد انہیں وزیر اعلیٰ نے برطرف کیا ۔ کسی نے بھی درابو کا دفاع نہیں کیااور ان کےخلاف سخت کارروائی چاہی اورپارٹی کےلئے مسائل کیلئے پیدا کرنے کیلئے انہیں واحد شخص ذمہ دار قراردیا۔
پی ڈی پی نائب صدر، جو وزیر اعلیٰ کے ماموں ہیں، نے کہاکہ ان کی پارٹی جموں وکشمیر کو سیاسی مسئلہ تسلیم کرتی ہے۔ ” تشکیل کے وقت سے ہی پارٹی کی انتھک کوششیں ہیں کہ مسئلہ کو افہام و تفہیم اورمذاکرات کے ذریعہ داخلہ اور خارجی سطح پر حل کیاجائے‘۔ مدنی نے کہاکہ یہ بدقسمتی تھی کہ برصغیر میں چند طاقتیںمسئلہ کوصرف انتظامیہ کے زاویے سے دیکھ کر عوامی خواہشات کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔
سابق وزیر خزانہ حسیب درابو نے اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کو ایک خط شائع کرنے کیلئے جاری کیا جس میں انہوںنے کہاکہ اس کا خطاب پارٹی کی ’کشمیر کی سیاسی پالیسی‘ کیخلاف نہیں تھا۔ انہوںنے کہاکہ انہیں وضاحت کرنے کا موقعہ نہیں دیا گیا اور ذرائع ابلاغ کے ذریعہ ان کی برطرفی کی جانکاری دی گئی جو کہ دردناک تھا۔
درابو نے کہاکہ انہوںنے یہ کوشش کی کہ کشمیرنہ صرف ایک سیاسی مسئلہ تھا جسے بھارت اور آنے والی مرکزی و ریاستی حکومتوں کو حل کرنا چاہئے بلکہ یہ ایک سماجی معاملہ بھی ہے جسے سول سوسائٹی کی سطح پر بھی حل کرنے کی ضرورت ہے۔
’جنہوں نے میری تقریر سنی یا تصب کے بغیر پڑھینگے، وہ یہ جان سکتے ہیں کہ میںہماری خواہشات اور خود کو سمجھنے کا ذکر رہا تھا ، حتی کہ میں پی ڈی پی کے نظریہ کو منتخب حاضرین کے سامنے لارہا تھا‘۔ درابو نے کہاکہ وہ پی ڈی پی کے سیلف رول دستاویز بنانے والے گروپ کا حصہ تھے، ’جہاں تک میری سوچ اور علم کا تعلق ہے، پی ڈ پی کے سیاسی موقف کا مخالف نہیں ہوسکتا،نہ ہی اس کی ساخت کو مجروح کرسکتا ہوں، پی ڈی پی کے سیاسی فلسفے اور افہام و تفہیم کا حصہ ہوں“۔
انہوں نے کہا کہ’ نئی دہلی سے واپسی کے بعد انہیں برطرفی کی خبرذرائع ابلاغ سے ملی اور پی ڈی پی کے نائب صدر سرتاج مدنی کا بیان دیکھا جس میں کہا گیا کہ میں اپنے بیان سے منحرف ہوجاﺅں‘۔ انضباطی کمیٹی کے چیئرمین عبدالرحمان ویری کی طرف سے شام کو رہائش گاہ پر خط ملا جس میں کہا گیاکہ میں دیئے گئے بیان کی وضاحت کروں ، جس کی وجہ سے پارٹی کی ساخت کو زبردست نقصان پہنچا ہے‘۔
درابو نے کہاکہ برطرفی کے بعد وہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے ملنا چاہتے تھے ، ’سوموار کی صبح میں نے ویری صاحب سے بات کی اور انہوںنے مشورہ دیا کہ مجھے پارٹی صدر و وزیر اعلیٰ سے بات کرنی چاہئے، میں نے نئی دہلی میں وزیر اعلیٰ کی رہائش سے رابطہ کیا تاہم مجھے بتایا گیا کہ وہ مصروف ہیں اور 10منٹ بعد واپس رابطہ کرینگی،جو کبھی نہ ہوسکا‘۔ اگرچہ بی جے پی اس فیصلہ سے خوش نہیں ہے تاہم معاملہ کو پی ڈی پی کا اندرونی معاملہ قرار دیا لیکن اس کی قیادت نے کہا کہ درابو نے کوئی متنازعہ بیان نہیں دیا اور بی جے پی سمجھتی ہے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ نہیں ہے اور یہ 1947میں حل کیا گیا ہے۔ بی جے پی کے ریاستی جنرل سیکریٹری اشوک کول نے کہاکہ اگر کوئی معاملہ ہے تو وہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ڈی پی میں سیاستدانوں اور ورکروں کی اکثریت وزیر خزانہ حسیب درابو کے کام کرنے کے طریقے سے خوش نہیں تھی اور الزام عائد کیا کہ جب وہ ان سے ملنے کیلئے جاتے تو ان کی بے عزتی کرتے تھے۔ جموںوکشمیر کی وزیر اعلیٰ کے قریبی سمجھے جانے والی 3کابینہ وزراءبھی پی ڈی پی ورکروں کومدد نہ کرنے پر درابو سے ناراض تھے جبکہ کئی پی ڈی پی ورکروں اور سیاستدانوں نے درابو کی برطرفی کا جشن منایا اور تکبر کیلئے انہیںسبق سکھانا چاہتے تھے۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ کشمیر کو سماجی معاملہ قرار دینے کا بیان درابو کو ہٹانے کیلئے پارٹی کو موقعہ ہاتھ لگا اور وہ بنیادی ورکر نہیں تھے لیکن اس کے باوجود وہ جیسےچھت سے ٹپک کرسیاست میں آگئے۔
وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے وزارت خزانہ کا قلمدان وزیر تعلیم الطاف بخاری کو سونپ دیا جسے تعاون کرنے والا وزیر سمجھا جاتا ہے اور پارٹی کے اندر اور زمینی سطح پر ان کی شبیہ اچھی مانی جاتی ہے۔ وزیر خزانہ کی ذمہ داری سنبھالتے ہی بخاری نے ٹھیکیداروں کی ہڑتال ختم کروائی جنہوںنے تمام دفاتر اور تعمیرات عامہ کے شعبوں کو مقفل کیا تھا۔ بخاری نے پارٹی ورکروں کو اور ارکان قانون سازیہ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنے پیشرو کے نقش قدم پر چلیں گے۔ پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان سب ٹھیک ٹھاک نہیں ہے، درابو کی برطرفی سے بے نقاب ہوا اور پی ڈی پی میں بہت لیڈروں کا خیال تھا کہ درابو کو بی جے پی نے پی ڈی پی میں ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا ۔
ایک سینئر پی ڈی پی لیڈر نے کہاکہ ’ان کا بیان ہماری سیاست اور دلیل کا خاتمہ کرنے کیلئے کافی تھا، درابو کی کوشش تھی کہ وہ مرکزی قیادت کو خوش رکھے اور کشمیر میں لوگوں کی کوئی فکر نہیں تھی‘۔ درابو نے پہلے ہی یہ واضح کیا ہے کہ وہ پی ڈی پی میں موجود رہینگے اور اگلے 3 برسوں کو وہ ان کیلئے استعمال کرینگے جنہوں نے انہیںاسمبلی کیلئے منتخب کیا ہے۔ درابو کی برطرفی سے یہ معلوم ہوا ہے کہ انہوںنے پارٹی میں اثرورسوخ کھو دیا ہے اور اسے آنے والے مہینوںمیں بحال کرنا مشکل ہے۔ تاہم اب یہ دیکھنا ہے کہ ان کے دہلی میں دوست مستقبل میں ان کی باز آبادکاری کرینگے؟
پاکستان
“اسلام آباد مذاکرات”ایرانی وفد تاحال پاکستان نہیں پہنچ سکا
اسلام آباد، ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی وفد اب تک پاکستان نہیں پہنچ سکا ۔
نشریاتی ادارے نے کہاہے کہ اب تک کوئی بھی ایرانی وفد اسلام آباد نہیں پہنچا۔ آئی آر آئی بی نے مزید کہا کہ متعدد میڈیا رپورٹس کہ ایرانی وفد پاکستان کا سفر کرے گا یا یہ کہ مذاکرات پیر کی شام یا منگل کی صبح طے تھے، غلط تھیں۔ رپورٹ میں اتوار کی شام ایرانی حکام کے بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں اشارہ کیا گیا کہ مذاکرات میں مسلسل شرکت امریکی رویے میں تبدیلیوں پر منحصر ہے اور یہ کہ تہران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو مسترد کرتا ہے۔
پاکستان نے 11-12 اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی، جب اس نے 8 اپریل کو 14 روزہ جنگ بندی کرانے میں کردار ادا کیا جو بدھ کو ختم ہونے والی ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کے ایک اور دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ اس سے قبل پاکستانی ذرائع نے کہا تھا کہ ایرانی حکام کی منگل کو اسلام آباد آمد متوقع ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان واپس پرواز کے لیے تیار تھے، لیکن تہران نے اپنی شرکت کے بارے میں غیر یقینی برقرار رکھی اور امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور ایک جہاز کی ضبطی کے ذریعے جلد ختم ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ وینس کے بارے میں توقع ہے کہ وہ منگل کی صبح مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہوں گے۔
امریکہ نے اسی طرح تہران پر الزام لگایا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کو ہراساں کرکے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، جو دنیا کے پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل کا راستہ ہے، جسے ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے جواب میں تقریباً بند کر دیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے پیر کو تہران سے اس اشارے کا انتظار کیا کہ وہ اپنا مذاکراتی وفد اسلام آباد بھیجے گا۔ ثالثوں نے ایرانی حکام سے مذاکرات میں شرکت کی درخواست کی ہے اور انہیں وفد بھیجنے پر زور دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ “انتہائی غیر ممکن” ہے کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور یہ کہ بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے مستقل خاتمے کا معاہدہ نہیں ہو جاتا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں ڈویژن کے سمر زون دسویں جماعت کے نتائج میں لڑکیوں نے ماری بازی
جموں، جموں و کشمیر اسٹیٹ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے نتائج میں ایک بار پھر لڑکیوں نے برتری حاصل کی ہے۔
محکمے کی جانب سے منگل کے روز جاری کردہ جموں ڈویژن کے سمر زون کی سالانہ اور باقاعدہ دسویں جماعت کے نتائج میں یہ رجحان دیکھنے کو ملا ہے۔ حکام نے بتایا کہ امتحان میں کل 50,754 امیدوار شامل ہوئے تھے، جن میں سے 45,094 امیدوار کامیاب ہوئے۔ اس سال کل کامیابی کا تناسب 88.85 فیصد رہا، جو گزشتہ سال کے 79.94 فیصد کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔ کل امیدواروں میں سے 27,486 لڑکے اور 23,268 لڑکیاں امتحان میں بیٹھی تھیں۔ ان میں سے 24,054 لڑکے اور 21,040 لڑکیاں کامیاب رہیں۔ لڑکوں کی کامیابی کا تناسب 87.51 فیصد رہا، جبکہ لڑکیوں نے 90.42 فیصد کے ساتھ اعلیٰ کامیابی درج کی۔
یہ امتحان 527 مراکز پر خوش اسلوبی سے منعقد کیا گیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ سرکاری اسکولوں سے 26,706 امیدوار امتحان میں بیٹھے، جن میں سے 22,283 پاس ہوئے اور کامیابی کا تناسب 83.44 فی صد رہا۔ پرائیویٹ اسکولوں سے 24,048 امیدوار شامل ہوئے اور 22,811 کامیاب رہے، جس سے ان کی کامیابی کا تناسب 94.86 فی صد درج کیا گیا۔
وزیر تعلیم سکینہ اتّو نے دسویں جماعت (سمر زون) کے طلبہ کو شاندار کامیابی پر مبارکباد دی۔ وزیر موصوفہ نے طلبہ کی محنت اور لگن کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ نتائج اساتذہ، والدین اور پورے تعلیمی نظام کی مشترکہ کوششوں کا ثبوت ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اسکولوں کا 83.44 فیصد پاس ہونا انتہائی حوصلہ افزا ہے اور یہ سرکاری اداروں میں تعلیمی معیار میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔
طالبات کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے ان کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے فخر کے ساتھ اس بات کا تذکرہ کیا کہ لڑکیوں نے ایک بار پھر لڑکوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جو ان کے پختہ ارادے اور تعلیمی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ کامیابی نہ صرف فخر کی بات ہے بلکہ تعلیم کے ذریعے لڑکیوں کو بااختیار بنانے کے حکومتی اقدامات کے مثبت اثرات کی واضح علامت بھی ہے۔‘‘
طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے وزیر موصوفہ نے ان پر زور دیا کہ وہ اپنے مستقبل کے اہداف کو خود اعتمادی کے ساتھ حاصل کریں۔ انہوں نے ان طلبہ کو بھی ناامید نہ ہونے اور مزید محنت کرنے کا مشورہ دیا جو توقع کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا سکے اور اس بات پر زور دیا کہ کامیابی ایک مسلسل سفر ہے۔ انہوں نے ایک جامع، منصفانہ اور اعلیٰ معیار کے تعلیمی نظام کی فراہمی کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
یو این آئی۔ م ع
دنیا
ایرانی میڈیا کا آبنائے ہرمز کو ‘اگلے اطلاع تک’ مکمل بند کرنے کا اعلان
تہران، ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے منگل کو اعلان کیا کہ تہران نے آبنائے ہرمز کو ‘اگلے اطلاع تک’ مکمل طور پر بند کردیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ “امریکی-اسرائیلی دشمن” کے حالیہ حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بعد کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے تجارتی جہازوں کی کنٹرولڈ نقل و حرکت کے لیے متبادل راستے بنائے گئے تھے۔ لیکن اب وہ بھی بند ہو گئے ہیں۔
ایجنسی کے مطابق یہ پابندی اس وقت تک نافذ رہے گی جب تک ایران کے خلاف عائد کردہ بحری ناکہ بندی کے مکمل خاتمے کی ضمانت نہیں دی جاتی۔ رپورٹ میں ‘حالیہ حملے’ کی کوئی خاص تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، لیکن یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب جب حال ہی میں امریکی افواج نے بحیرہ عرب میں ایک ایرانی تجارتی جہاز کو پکڑا۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق، منگل کو بھی، امریکی افواج نے ایران سے منسلک ایک اور جہاز کو روکا اور اس میں سوار ہو گئے۔ پینٹاگون نے اطلاع دی کہ خام تیل کے ٹینکر، ایم/ٹی ٹیفانی کو روکا گیا اور آپریشن “بغیر کسی واقعے کے” مکمل کیا گیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔ْ
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا4 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
دنیا4 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
جموں و کشمیر5 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ
دنیا1 week agoٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی: دی اکنامسٹ
جموں و کشمیر4 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا











































































































