تازہ ترین
سجاد میرا بھائی لیکن راستے الگ الگ، جلد ہی پارٹی کا نام تبدیل کروں گا : بلال لون

خبراردو:
مزاحمتی خیمے سے منسلک اور حریت (ع) سے وابستہ اکائی پیپلز کانفرنس (ب) کے چیرمین بلال غنی لون نے مین اسٹریم سیاست میں شامل ہوئے اپنے بھائی سجاد غنی لون کی ہرزہ سرائیوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں جس طریق کار پر کاربند ہوں تو مبنی بر حقیقت ہے اور میں اپنے والد مرحوم خواجہ عبدالغنی لون کے نظریے اور سیاسی میراث کو ہی آگے بڑھانے میں پیش پیش رہوں گا‘۔ بلال لون نے بتایا کہ ہم ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہے اور سجاد میرا بھائی ہے البتہ مجھے ذاتی طورپر اُس کی تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پی سی (ب) کے سربراہ بلال غنی لون آنے والے دنوں میں اپنی پارٹی کا نام تبدیل کرنے جارہے ہیں۔ معلوم ہو اہے کہ سجاد لون کو عوامی سطح پر یہ محسوس ہورہا ہے کہ پی سی کے دو دھڑوں کی وجہ سے عوام میں پارٹی کے تئیں کنفیوژن پید اہورہا ہے جس کو دور کرنے کی خاطر وہ اب پارٹی کا نام تبدیل کریں گے۔ پی سی (ب) کے چیرمین بلال غنی لون نے میڈیا کو بتایا کہ وہ مستقبل میں بھی ریاست جموں وکشمیر کی مزاحمتی تحریک کا حصہ رہیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ’میں پوری زندگی میں مزاحمتی تحریک کا حصہ رہوں گے کیوں کہ یہ راستہ سچائی پر مبنی ہے اور اس طرح میں اپنے والد مرحوم خواجہ عبدالغنی لون کی میراث کی حفاظت کرکے اسے آگے بڑھانے میں پیش پیش رہوں گا‘۔بلال لون نے بتایا کہ ’میں نے پارٹی کارکنان کی ایک میٹنگ طلب کی تھی تاکہ اس کنفیوژن کو ہمیشہ کے لیے دور کیا جاسکے۔ یہ پارٹی کارکنان پر ہے کہ وہ مزاحمتی خیمے کے ساتھ وابستہ رہنا چاہتے ہیں یا مین اسٹریم سیاست کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ میں صرف اپنا ذاتی نقطہ نگاہ سامنے رکھ سکتا ہوں اور کسی بھی فرد پر زور یا زبردستی کا قائل نہیں ہوں۔ عوامی سطح پر میرا ایک اپنا حلقہ اثر ہے جو میرا ساتھ کبھی بھی نہیں چھوڑیں گے‘۔بلال لون کے مطابق اُن کے بھائی سجادغنی لون نے اپنے انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ’ وہ سیاسی طور پر بہت عرصہ قبل ہی ہم سے علیحدگی اختیار کرچکے ہیں۔ اس وقت پیپلز کانفرنس کے دو الگ الگ دھڑے ہیں جو اپنی علیحدہ شناخت رکھتے ہیں‘۔بلال غنی لون نے مزید بتایا کہ’ ان کے بھائی سجاد لون نے ایک مرتبہ مجھے مین اسٹریم سیاحت میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔ سجاد نے مجھے کہا کہ میں انہیں جوائن کیوں نہیں کرتاتاکہ اہم اکھٹے ایک مضبوط اور مستحکم سیاسی جماعت تشکیل دیں‘۔ ’میں نے انہیں بتایا کہ کہ بہت بہت شکریہ میں اپنی پوزیشن پر مطمئن ہوں اور اس طرح سجاد نے دوبارہ اس قسم کی گفتگو میرے سامنے کبھی بھی نہیں کی‘۔بلال لون نے بتایا کہ میں وعدہ بند ہوں کہ میں اپنی پوری زندگی میں مزاحمتی تحریک کا حصہ رہوں گا۔ میں اپنے والد مرحوم کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ وہ اپنے سیاسی اصول اور عقیدے کے ساتھ اس دنیا سے چلے گئے۔میں اپنی پوری زندگی میں اُن کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرتا رہوں گا۔میں صحیح راستے پر ہوں، اُس راستے پر جو میرے والد مرحوم نے میرے اور پارٹی کارکنان کے لیے مقرر کیا ہے‘۔
بلال لون نے بتایا کہ میں نے حریت کانفرنس کو سال 2002میں جوائن کیا جب میرے والد کو شہید کیا گیا اور میں نے اُسی وقت یہ فیصلہ کیا کہ میں حریت کانفرنس کے ساتھ زندگی بھر رہوں گااور اس حوالے سے میں اندر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ میں نے جو فیصلہ لیا جو حق بجانب تھا اور میں اس پر عمر بھر قائم رہوں گا۔اپنے بھائی سجاد غنی لون اور اُن کے سیاسی طریق کار پر بات کرتے ہوئے بلال غنی لون نے بتایا کہ میں اپنی رائے کسی پر تھوپ نہیں سکتا۔کشمیر ایک وسیع خطہ یہاں جہاں ہر کسی کو اپنی رائے رکھنے کا بھر پور حق ہے۔ ہمیں اس بات کا ادراک حاصل ہونا چاہیے کہ مشترکہ طور پر کس طرح رہنا چاہیے۔ میں اپنے فیصلے پر کاربند ہوں اور وہ (سجاد) اپنے فیصلے پر۔ میری خواہش بس یہ ہے کہ وہ (سجاد) مین اسٹریم سیاست میں رہ کر کشمیریوں کی اُمنگوں اور خواہشات کا بھر پور خیال رکھے۔بلال غنی لون نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ ہم دو بھائیوں کے درمیان اس معاملے پر ماضی میں کافی تلخ کلامیاں ہوتی تھیں تاہم اب وہ مرحلہ گزر چکا ہے۔ اب ہمارے درمیان سیاسی طریق کار کو لے کر راستے علیحدہ ہیں۔ہم نے برسوں ایک دوسرے کے ساتھ بات بھی نہیں کی ، لگ بھگ پانچ سے چھ برس تک۔اس کے بعد ہم نے طے کیا کہ ہمیں ایک دوسرے کو اپنے اپنے طریق کار پر چھوڑدینا چاہیے اور اس طرح ہم نے آگے چلنے کا فیصلہ کیا‘۔ بلال لون نے بتایا کہ ’ان برسوں کے دوران رشتوں میں بدمزگی پیدا ہونے کے نتیجے میں ہم نے بہت کچھ سیکھا۔ سجاد میرا بھائی ہے اور میں اُس سے بہت پیار کرتا ہوں۔ طریق کار الگ الگ ہونے کے باوجود ہمارے پیار میں کوئی فرق نہیں آیا۔ لیکن جہاں تک سیاست کا تعلق ہے ہمارے راستے الگ الگ ہیں۔جب بچے جوان ہوجاتے ہیں تو وہ اپنی زندگی کے فیصلے لینے کے مجاز ہوتے ہیں، میں نے اپنے متعلق فیصلہ کیا اور سجاد نے اپنے متعلق۔ ہمارے راستے الگ الگ ہیں۔ ہمارا نظریہ اور ہماری رائے الگ الگ ہونے کے باجوود ہمارے رشتے پر کوئی ضرب نہیں آئی ہے‘۔
ایک سوال کے جواب میں بلال لون نے بتایا کہ ’میں انتخابی سیاست کا حصہ نہیں ہوں، میں یہاں پر ایک بڑے نصب العین کی آبیاری کے لیے ہوں، ایک ایسے کاز کے لیے جو اسمبلی یا حکومت سازی سے بھی بڑا ہے۔سجاد سیاسی طور پر عرصہ قبل علیحدگی اختیار کی ہوئی ہے اور وہ لوگ جو ہمارے والد مرحوم کے حامی و معاون تھے نے بھی بہت پہلے فیصلے کیا ہے کہ کس کو کہاں پر رہنا ہے‘ ۔ بلال لون کا کہنا تھا کہ حریت کانفرنس کو بھی میرے اور سجاد کے درمیان تعلقات سے کوئی معنی نہیں ہے اور اگر انہیں کبھی یہ ناگوار گزرے گا تو میں اسی روز سیاست سے کنارہ کشی اختیار کروں گا‘۔ انہوں نے بتایا کہ میں اپنے بھائی کی مخالفت نہیں کروں گا کیوں کہ انہوں نے الگ ہی راستہ خود کے لیے تجویز کیا ہے، میں حریت کانفرنس میں رہ کر ہی اپنے طریق کار کے صحیح ہونے اور غلط کاروں کی غلطی کو دلیل کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔بلال لون نے انٹرویو کے دوران کہا کہ مجھے سیاست میں آنے کا کوئی شوق نہیں تھا البتہ میرے والد مرحوم کی شہادت نے مجھے اس طرف لایا۔ میرے والد کے قاتل کہی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ ہم نے لون صاحب کے نظریے کو ختم کیا۔میں نے اپنے والد مرحوم کو نزدیک سے دیکھا ہے کہ انہوں نے کس طرح سخت محنت و مشقت کے بعد سیاسی منظر نامے پر ایک منفرد شناخت بنائی۔ بہت سارے لوگ ایسے بھی رہے ہیں جو اپنی زندگی میں اس طرح کا مقام حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے۔ میرے والد نے مزاحمتی سیاست میں آنے کا فیصلہ زور یا زبردستی سے نہیں لیا، بلکہ وہ چاہتے تھے وہ مزاحمتی سیاست میں رہ کر لوگوں کی ترجمانی کا فریضہ انجام دے‘۔ انہوں نے بتایا کہ میرے خیال سے حریت کانفرنس میں عوام کے اندر گھل مل جانے کے لیے مزید کچھ اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ حریت کو عصری تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو زندہ رکھنا ہوگا، اسے لوگوں کی نمائندگی کے لیے آگے آنا ہوگا اور عوام کی فلاح و بہبود اور بہتری کے لیے صحیح فیصلے لینے ہوں گے۔
وادی میں جنگجویانہ کارروائیوں پر گفتگو کرتے ہوئے بلال لون نے بتایا کہ ریاست میں فی الوقت انتہائی ظلم و جبر بپا ہے اور اقوام عالم ہماری اس کسمپرسی پر خاموش تماشائی ہے۔البتہ ہم اس بات کی قطعی اجازت نہیں دیں گے کہ ہماری نوجوان نسل آئے روز ظلم و جبر کی بھٹی میں پسے جائیں۔ مزاحمتی تحریک کی قیادت کو اس بارے میں متحدہ طور پر سنجیدگی سے غو روفکر کرنا چاہیے۔ نوجوان طبقے نے ظلم وجبر کا مقابلہ کرنے کے لیے جو فیصلہ لیا ہے اُس میں وہ کامیاب بھی ہوں یا نہیں، ہم نہیں جانتے۔ انتہائی رنجیدہ لمحات ہوتے ہیں وہ جب آئے روز ہمارے نوجوان مختلف کارروائیوں میں مارے جاتے ہیں۔بلال لون کے مطابق جوں کی توں پوزیشن مسئلہ کشمیر کا مناسب حل نہیں ہے۔جوں کی توں پوزیشن یا تو بھارت کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے یا تو پاکستان کے لیے ، البتہ جہاں تک کشمیریوں کا تعلق ہے، ہمارے لیے یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔موجودہ پرتناؤ صورتحال میں کشمیریوں کے پاس اور کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان کو مذاکرات کے لیے مجبور کریں۔
دنیا
واضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی
تہران، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ سے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، واضح نتیجہ سامنے آنے تک مذاکرات سے متعلق کوئی فیصلہ یا رائے نہیں دی جا سکتی۔
عباس عراقچی نے کہا کہ قیاس آرائیوں کو اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ دشمن کی باتوں اور وعدوں پر بھروسہ نہیں، امریکہ کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ ٹھوس نتائج کے بغیر نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ دشمن ملکی اتحاد کو کمزور کر کے انتشار پھیلانا چاہتا ہے، فوجی ناکامی کا بدلہ معاشی دباؤ کے ذریعے لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ کے بغیر کوئی معاہدہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں ایرانی پارلیمنٹ کے رکن علی رضا سلیمی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں کے درمیان واقع ہے، کسی
دوسرے ملک کو اس کے بارے میں فیصلے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ جلد آبنائے ہرمز سے متعلق قانون سازی کی منظوری دے گی۔
ہندوستان
ہند۔عمان تجارتی معاہدہ آج سے نافذ، دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز
نئی دہلی، مرکزی وزیر برائے تجارت و صنعت پیوش گوئل نے ہندستان اور عمان کے درمیان آزادانہ تجارتی معاہدے کے پیر سے نافذ العمل ہونے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا ہے مسٹر گوئل نے سوشل میڈیا پر کہا، “آج سے ہندستان-عمان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) نافذ ہو رہا ہے اور میں اس بارے میں لکھ رہا ہوں کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کو کیسے مزید مضبوط کرے گا۔”
وزیر تجارت نے کہا، “وزیر اعظم نریندر مودی کے ہندستان کی عالمی تجارتی شراکت داری کو وسعت دینے کے وژن سے متاثر یہ معاہدہ نئی مارکیٹیں کھول کر، برآمدات کو بڑھا کر، سرمایہ کاری کو راغب کر کے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں تیزی لا کر ہندستانی طلبہ، کاریگروں، خواتین، کسانوں، ماہی گیروں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے اداروں کو نمایاں طور پر فائدہ پہنچائے گا۔”
واضح رہے کہ دونوں ممالک نے گزشتہ سال دسمبر میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں نافذ ہو رہا ہے جب خلیجی خطے میں کشیدگی کی صورتحال کے باعث خطے کے ممالک کے ساتھ ہندستان کی تجارت متاثر ہوئی ہے۔
عمان ایک چھوٹا ملک ہے جس کی آبادی 55 لاکھ اور مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) 110 ارب ڈالر ہے، اس لیے ہندستان اور عمان کے متوقع تجارتی حجم کے آبادی اور معیشت کی حدود میں رہنے کا امکان ہے۔ ہندستان اور عمان کے درمیان 2024-25 میں دوطرفہ تجارت 10.61 ارب ڈالر کے برابر تھی۔
دوطرفہ معاہدے کے تحت بھارت کو عمان کی مارکیٹ میں اپنی برآمداتی فہرست کی 98.08 فیصد اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی (ٹیکس) میں 100 فیصد چھوٹ ملے گی۔ اس سے انجینئرنگ، ادویات، سمندری مصنوعات (سی فوڈ)، کپڑے، کیمیکلز، الیکٹرانکس، پلاسٹک اور جواہرات و زیورات کے شعبوں کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔ حکومت نے اس معاہدے کے تحت زیادہ افرادی قوت والے ملکی شعبوں کے مفادات کو خاص طور پر مدنظر رکھا ہے۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
وزیراعظم نے چھ سال مکمل ہونے پر پی ایم سواندھی یوجنا کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو پردھان منتری اسٹریٹ وینڈرز آتم نربھر ندھی (پی ایم سواندھی) اسکیم کے چھ سال مکمل ہونے پر اس کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پہل نے بغیر گارنٹی قرض، مالی شمولیت اور ترقی کے مواقع فراہم کر کے ان گنت ریہڑی پٹری والوں کی زندگی کو بدل دیا ہے وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، اسکیم کے مستفیدین کو مبارکباد دی اور ملک کی معیشت میں ان کے تعاون کی ستائش کی۔ مسٹر مودی نے کہا، “آج ہم پی ایم سواندھی اسکیم کے چھ سال مکمل کر رہے ہیں، جس نے بغیر گارنٹی قرض، مالی شمولیت اور ترقی کے نئے مواقع تک رسائی یقینی بنا کر ان گنت ریہڑی پٹری والوں کی زندگی کو بدل دیا ہے۔ یہ اسکیم بھروسے، وقار اور بااختیار بنانے کے بارے میں ہے۔ تمام مستفیدین کو میری مبارکباد، جن کا پختہ عزم اور کاروباری جذبہ ہمارے ملک کی معیشت کو مضبوط کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔”
مرکزی حکومت کی جانب سے جون 2020 میں کووڈ وبا کے درمیان شروع کی گئی، پی ایم سوانیدھی کو ان ریہڑی پٹری والوں کو اقتصادی سہارا فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا جن کا روزگار لاک ڈاؤن اور اقتصادی رکاوٹوں سے شدید متاثر ہوا تھا۔ یہ اسکیم اہل فروخت کنندگان کو بغیر کسی ضامن کے ورکنگ کیپیٹل لون حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے، جس سے انہیں اپنے کاروبار کو دوبارہ شروع کرنے اور اسے وسعت دینے میں مدد ملتی ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں، یہ پروگرام ایک اہم پہل کے طور پر ابھرا ہے جس کا مقصد سڑکوں پر ریہڑی پٹری لگانے والوں کو باضابطہ بینکنگ نظام میں لا کر ان کے درمیان مالی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔ مستفیدین کو ڈیجیٹل لین دین اپنانے کے لیے بھی ترغیب دی جاتی ہے اور وہ وقت پر قرض کی ادائیگی سے جڑی مراعات کے اہل ہیں۔
سرکاری حکام نے پی ایم سواندھی کو ایک انقلابی فلاحی اقدام کے طور پر بیان کیا ہے جس نے شہری علاقوں میں لاکھوں چھوٹے کاروباریوں کو بااختیار بنایا ہے، جس سے انہیں اپنی آمدنی میں بہتری لانے اور اپنی مالی لچک کو مضبوط کرنے میں مدد ملی ہے۔ وزیر اعظم کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں آیا ہے جب حکومت نے اسکیم کے چھ سال مکمل ہونے پر زمینی سطح کی کاروباری صلاحیت کی حمایت کرنے اور ملک بھر میں ریہڑی پٹری لگانے والوں کے درمیان خود انحصاری کو فروغ دینے میں اس اسکیم کے کردار کا ذکر کیا ہے۔
یواین آئی۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا2 days agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا3 days agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
ہندوستان1 week agoپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
جموں و کشمیر6 days agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
دنیا2 days agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
دنیا1 week agoمکمل طور پر اسرائیلی انخلاء ایک قومی ترجیح ہے:لبنانی صدر
ہندوستان1 week agoایندھن کی قیمتوں پر کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، ہر روز ہو رہی ہے عوام کی جیب پر ڈکیتی
دنیا2 days agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
دنیا3 days agoایرانی صدر نے ایک بار پھر پاکستان کے کردار کو سراہا
دنیا3 days agoامریکہ اسرائیل کے تمام جرائم میں شریک ہے: ترجمان ایرانی دفترِ خارجہ






























































































