تازہ ترین
محمد افضل گورو کی7ویں برسی،وادی میں ہڑتال

معمولات زندگی درہم برہم،2۔جی موبائیل انٹر نیٹ سروس منقطع
سنڈے مارکیٹ غائب، بارہمولہ۔بانہال ریل سروس معطل،لبریشن فرنٹ کے خلاف مقدمہ درج
سرینگر: پارلیمنٹ حملے میں ملوث قرار دیئے گئے محمد افضل گورو کی7ویں برسی پر وادی میں ہڑتال رہی،جسکے نتیجے میں معمولات زندگی درہم برہم رہے جبکہ ہر اتوار کو شہر سرینگر میں سجنے والا مشہور ومعروف ’سنڈے مارکیٹ‘ بھی غائب رہا۔
امن قانون کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے 2۔جی موبائیل انٹر نیٹ سروس کو منقطع کردیا گیا جبکہ بارہمولہ۔بانہال ریل سروس بھی معطل رہی۔ادھر پولیس نے ہڑتال کی کال دینے پر علیحدگی پسند تنظیم جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے خلاف پولیس تھانہ کوٹھی باغ میں ایک مقدمہ بھی درج کیا گیا۔کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق محمد افضل گورو کی7ویں برسی کے موقع پر کشمیر میں ہڑتال رہی۔
دارالحکومت سرینگر سمیت سبھی 10اضلاع میں اتوار کو محمد افضل گورو کی برسی کے موقع پر ہر طرح کے بازار،دکانات،پیٹرول پمپ،کاروباری ادارے،تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور غائب رہا۔ہڑتال کا اثر سرینگر کے علاوہ شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ،بانڈی پورہ،بارہمولہ اور وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام اور گاندر بل کیساتھ ساتھ جنوبی کشمیر کے چار اضلاع پلوامہ،اننت ناگ،شوپیان اور کولگام میں رہا۔ہڑتال کے باعث ہر سو ہو کا عا لم دیکھنے کو مل رہاتھا۔
ہڑتال کے نتیجے میں بازار ویران اور سڑکیں سنسان نظر آرہی تھیں۔اس دوران وادی بھر میں محمد افضل گورو کی برسی کے پیش نظر امن وقانون کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے سیکیورٹی کے کڑے انتظامات کئے گئے۔کسی بھی امکانی گڑھ بڑھ کو روکنے کیلئے حساس علاقوں میں پولیس وفورسز کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی تھی۔ادھر ہر اتوار کو شہر سرینگر کے قلب لالچوک میں سجنے والا’سنڈے مار کیٹ‘ بھی غائب رہا۔سنڈے مار کیٹ میں لوگوں کا کافی رش دیکھنے کو ملتا ہے،تاہم اس اتوار کو نہ تو سنڈے مار کیٹ سجا اور نہ ہی ٹی آر سی چوک سے لیکر جہانگیر چوک کسی بھی طرح کی گہما گہمی نظر نہیں آئی۔
اس دوران کشمیر میں ہڑتال کے دوران انتظامیہ نے2۔جی انٹرنیٹ اور ریل سروس کو احتیاطی طور معطل رکھا ہے،جس دوران انٹرنیٹ استعمال کرنے والے لوگوں کے ساتھ ساتھ عوام کو ریل سروس نہ ہونے کے نتیجے میں طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ دونوں اہم سروس کوامن و قانون کی صورت حال کو مدنظر رکھ کر احتیاطی طور معطل کرنا پڑا۔ انٹرنیٹ سروس بند رکھنے کے نتیجے میں کار باری افراد کے علاوہ صحافیوں کو آٹے میں نمک کے برابر ملی سہولیات کی عدم موجودگی سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
حکام نے بارہمولہ۔بانہال ریل خدمات کو بھی ایک دن کیلئے معطل رکھا گیا ہے،جس کے نتیجے میں سینکڑوں کی تعداد میں ٹرین کے ذریعے سے سفر کر نے والے مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ریل محکمہ کے ایک افسر نے بتایا سروس کو لوگوں کی حفاظت اور ریل املاک کے تحفظ کے لئے احتیاطی طور بند رکھا گیا ہے۔
ادھر انتظامیہ میں شامل ایک اعلیٰ افسر نے بتایا دونوں سروس کو وادی میں امن قانون کی صورت حال کو بنائے رکھنے لئے اٹھا گیا ہے تاکہ کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اور افواہ بازی پر روک لگ جائے۔بعد ازاں سہ پہر 4بجے ہی وادی میں 2۔جی موبائیل انٹر نیٹ خدمات بحال کرد ی گئیں۔ادھر پولیس نے ہڑتال کی کال دینے پر جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے خلاف پولیس تھانہ کوٹھی باغ میں ایک مقدمہ بھی درج کیا گیا۔
پولیس ترجمان نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے کالعدم تنظیم جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے وادی میں امن وقانون کی صورتحال میں رخنہ ڈالنے اور تشدد بھڑکانے کی کوشش کا سنجیدہ نوٹس لیا۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ کالعدم تنظیم نے وادی کشمیر میں آنے والے دنوں میں تشدد بھڑکانے اور امن وقانون کی صورتحال میں رخنہ ڈالنے کے منصوبے کے تحت پروپگنڈا پر مبنی بیانات جاری کئے۔ پولیس ترجمان نے بتایا کہ ایسے بیانات سے کشمیر وادی میں امن وقانون کی صورتحال بگڑنے اور تشدد ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے اور اسی ضمن میں پولیس اسٹیشن کوٹھی باغ میں ایف آئی آر زیر نمبر11/2020کے تحت ایک مقدمہ بھی درج کیا گیا جبکہ مزید تحقیقات جاری ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ میڈیا میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے ایک بیان آیا تھا،جس میں لوگوں سے 9اور11فروری کو محمد افضل گورو اور محمد مقبول بٹ کی برسیوں کے موقع پر عام ہڑتال کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔
لبریشن فرنٹ کی سرگرمیوں پر مرکزی وزارت داخلہ نے پابندی عائد کرکے اس کو کالعدم قرار دیا تھا۔اس کے علاوہ جماعت اسلامی جموں وکشمیر کو بھی کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک اپریل2019سے نظر بند ہیں۔محمد افضل گورو کو پارلیمنٹ حملے میں ملوث قرار دیکر سنہ2013میں دلی کی تہاڑ جیل میں خفیہ طور پھانسی دی گئی تھی اور اُنہیں بعد ازاں یہی دفن بھی کیا گیا تھا۔جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی محمد مقبول بٹ کو سنہ1984میں 11فروری کو دلی کی ہی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔
محمد مقبول بٹ کی میت بھی تہاڑ جیل میں ہی سپرد لحد کی گئی۔دونوں مہلوکین کی باقیات واپس کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔تاہم حکومت ہند اس سے صاف انکار کررہی ہے۔ہر برس وادی میں دونوں مہلوکین کی یاد میں ہڑتال کی جاتی ہے اور علیحدگی پسند تنظیمیں اس حوالے سے باضابط طور بیانات جاری کرتے تھے،تاہم دفعہ370کی تنسیخ کے بعد صرف مختلف پیدا ہوگئی ہے،جسکی وجہ سے اخبارات میں اس طرح کے بیانات شائع نہیں ہوئے۔
جموں و کشمیر
‘پرسنالٹیز اینڈ لیجنڈز آف جے اینڈ کے’ پر پابندی کا مطالبہ
جموں، جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے ہفتہ کے روز ‘پرسنالٹیز اینڈ لیجنڈز آف جے اینڈ کے’ پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری کتب خانوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
جموں میں آر ایس پورہ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ، سینئر وکیل سنیل سیٹھی اور پارٹی کے ترجمان زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنیل شرما نے اس اشاعت کو ‘تعلیمی تخریب کاری’ قرار دیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس کتاب کو سرکاری کتب خانوں میں شامل کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ”ہندوستان مخالف اور علیحدگی پسند ماحولیاتی نظام” کا اثر اب بھی برقرار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کتاب دہشت گردوں، علیحدگی پسندوں اور ملک مخالف عناصر کی ستائش کرتی ہے، جس سے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو سنگین خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائس پریس کی شائع کردہ یہ کتاب کوئی مستند تاریخی دستاویز نہیں، بلکہ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور ملک مخالف نظریات کو جائز قرار دینے کی کوشش ہے۔
سنیل شرما نے الزام لگایا کہ کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں میں ملوث افراد کو ‘ہیرو’ اور ‘مجاہدِ آزادی’ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جبکہ ہندوستان اور ہندوستانی سیکورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی زبان اور علیحدگی پسند بیانیے کی تشہیر ہندوستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے براہِ راست چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس قسم کے مواد کا مقصد تاریخ کو مسخ کرنا، قومی اداروں کو کمزور کرنا اور نوجوان نسل کو گمراہ کرنا ہے۔ ان کا الزام تھا کہ یہ کتاب انتہا پسندی کو فروغ دینے کے ایک ذریعہ کے طور پر کام کرتی ہے اور نوجوانوں کے ذہنوں میں بھارت مخالف جذبات پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس کتاب کو فوری طور پر سرکاری کتب خانوں سے ہٹایا جائے۔
سنیل شرما نے مزید الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ کی ستائش کی گئی ہے حالانکہ اس میں قتل کے مقدمات میں ان کی سزا اور 1984 میں تہاڑ جیل میں دی گئی پھانسی کا بھی ذکر موجود ہے۔
یو این آئی۔ اے ایم۔
دنیا
پاکستانی حکام کی جابرانہ کارروائیوں کے خلاف پی او کے رہنماؤں کا 5 جولائی کو مکمل ہڑتال کا اعلان
مظفر آباد، پاکستانی حکام کی جابرانہ اور وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف مظاہرین نے 5 جولائی کو پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (پی او کے) میں مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان، مقامی رہنماؤں نے شہریوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جبر کے خلاف احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
‘جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی’ کے رہنما سردار امان خان نے سری نگر، جموں، پونچھ، راجوری اور لداخ کے عوام سے پی او کے کے باشندوں کے ساتھ یکجہتی ظاہر کرنے کی اپیل کی اور دعویٰ کیا کہ انتظامیہ نے مظاہرین پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں الزام لگایا، “ہم پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور ہماری غذائی سپلائی روک دی گئی ہے۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک کو کچلنے کے لیے جان بوجھ کر راشن کی فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔
یہ اپیل مظفر آباد، راولاکوٹ اور پی او کے کے دیگر حصوں میں جاری مسلسل احتجاج کے درمیان سامنے آئی ہے۔ اس تحریک کی قیادت کرنے والی تنظیم جے اے اے سی اپنے 38 نکاتی مطالبات کے چارٹر پر مہم چلا رہی ہے، جس میں معاشی اصلاحات اور مقامی وسائل کی منصفانہ تقسیم شامل ہے۔
جے اے اے سی کور کمیٹی کے رکن خواجہ مہران نے تمام باشندوں سے سڑکیں، بازار، کاروبار اور عوامی مقامات بند رکھ کر 5 جولائی کو مکمل شٹ ڈاؤن کرنے کی گزارش کی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا، “5 جولائی کو جموں و کشمیر کی ہر ایک سڑک، دکان، چوراہا اور داخلی راستہ مکمل طور پر بند ہونا چاہیے۔” انہوں نے برمنگھم اور لندن سمیت مختلف شہروں میں مقیم کشمیری تارکینِ وطن سے بھی یکجہتی کے مظاہرے کرنے اور مساجد سے اس ہڑتال کے حق میں اعلانات کرنے کی اپیل کی ہے۔
تحریک کے پیچھے ہٹنے کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے خواجہ مہران نے واضح کیا، “جب تک ہماری آخری سانس باقی ہے، کوئی سمجھوتہ یا سرنڈر نہیں ہوگا۔ اب صرف مزاحمت، مزاحمت اور صرف مزاحمت ہوگی۔”
یو این آئی۔ م س ؎
ہندوستان
حکومت کا 12 سالہ سفر قلت سے خود انحصاری اور خود انحصاری سے وکست بھارت کی سمت بڑھنے کا: راجناتھ
نئی دہلی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ مودی حکومت کا 12 سالہ سفر قلت سے خود انحصاری کی طرف، خود انحصاری سے خود اعتمادی کی طرف اور خود اعتمادی سے وکست بھارت کی تعمیر کی سمت میں پیش رفت کا رہا ہے۔
مسٹر سنگھ نے ہفتہ کو یہاں ایک میڈیا آرگنائزیشن کی جانب سے منعقدہ پروگرام میں کہا، “گزشتہ 12 سال میں ہندوستان کا سفر قلت سے خود انحصاری کی طرف، خود انحصاری سے خود اعتمادی کی طرف اور خود اعتمادی سے وکست بھارت کی تعمیر کی طرف پیش رفت کا رہا ہے۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے پہلی میعاد کار میں قلت کو دور کیا، مواقع کو بڑھایا اور ورک کلچر میں تبدیلی کی، دوسری میعاد کار میں، آرزوؤں کو کامیابیوں میں تبدیل کیا اور ملک کو خود انحصاری کی راہ پر مضبوطی سے آگے بڑھایا۔ تیسری میعاد کار میں، حکومت “اصلاح، کارکردگی، تبدیلی” کی پالیسی کے ذریعے وکست بھارت کی مضبوط بنیاد رکھ رہی ہے اور چوتھی میعاد کار میں دنیا ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے عروج کی گواہ بنے گی۔ وزیر دفاع نے گزشتہ 12 سال میں ملک میں ہونے والی تبدیلیوں کے اہم پہلوؤں کے بارے میں کہا کہ جب 2014 میں ‘میک ان انڈیا’ اسکیم شروع ہوئی تھی تو کچھ لوگوں نے اسے ناکام بتایا تھا لیکن اس اسکیم نے کامیابی کے نئے معیارات قائم کیے اور یہ آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا، “ہندوستان کے عالمی وقار میں ایک انقلابی تبدیلی آئی ہے۔ پہلے جہاں دنیا ہماری بات پر توجہ نہیں دیتی تھی، وہیں آج وہ عالمی مسائل پر ہندوستان کے نقطہ نظر کو غور سے سنتی ہے۔” انہوں نے کہا کہ 2021 میں شروع کیے گئے انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن پر ابتدائی شکوک و شبہات کے باوجود، ‘پلگ اینڈ پلے’ بنیادی ڈھانچے کے ماڈل پر مبنی سیمی کنڈکٹر پارکوں کے قیام کی وجہ سے ملک نے گزشتہ سال اپنی خود کی سیمی کنڈکٹر چپ تیار کی۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ مالی سال 26-2025 میں سالانہ دفاعی پیداوار اب تک کی بلند ترین سطح 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ مالی سال 15-2014 کے اعداد و شمار سے تین گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی برآمدات ریکارڈ 38,000 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہیں۔ یہ مالی سال 14-2013 کے 686 کروڑ روپے سے تقریباً 57 گنا زیادہ ہے اور میک ان انڈیا اقدامات میں دنیا کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیر دفاع نے ہندوستان کے مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی نمایاں ترقی کے بارے میں بتاتے ہوئے موبائل مینوفیکچرنگ، آٹوموبائل برآمدات، دیسی لوکوموٹیو کی پیداوار اور میک ان انڈیا کے تحت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع کا ذکر کیا۔ انہوں نے مقامی طور پر تیار کردہ میک ان انڈیا 5جی ٹیکنالوجی کی ملک گیر تیز رفتار توسیع کی بھی بات کی اور کہا کہ 6جی کی ترقی کی سمت میں کوششیں جاری ہیں۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ 2014 سے پہلے، فلاحی اسکیموں کی تقسیم میں بدعنوانی اور غبن کو بڑے پیمانے پر ناگزیر سمجھا جاتا تھا جس کی وجہ سے فائدہ مستحقین تک نہیں پہنچ پاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر، جن دھن، آدھار اورموبائل کی ٹرینٹی اور ‘جے اے ایم ٹرینٹی ‘ کے ذریعے اس چیلنج کا حل نکالا ہے۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کا خاتمہ اور نکسلی انتہاپسندی کو ختم کرنے کے لیے کی جانے والی مسلسل کوششیں حکومت کے ان مسائل کو حل کرنے کے پختہ عزم کی روشن مثالیں ہیں جنہیں کبھی ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا، “ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بن گیا ہے۔ گزشتہ 12 سال میں، اسٹارٹ اپس کی تعداد 500 سے بڑھ کر 2 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے اور یونیکورنز کی تعداد چار سے بڑھ کر 125 ہو گئی ہے۔”
مسٹر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی ثقافت اس کی شناخت، اتحاد اور قومی شعور کی بنیاد ہے اور تہذیب، ثقافت اور ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ہمہ جہت ترقی کو بھی آگے بڑھایا گیا ہے۔ وزیر دفاع نے آج کے دور میں میڈیا کے کردار کو ‘مواصلات کی کثرت’ کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم بتاتے ہوئے کہا کہ چیلنج معلومات کی کمی نہیں بلکہ اس کی درستگی اور معتبریت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) جیسی تکنیکی ترقی سے ‘صحافت’ بھی متاثر ہوئی ہے لیکن یہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں اور ذہانت کو پیچھے نہیں چھوڑ پائیں گی۔ انہوں نے کہا، “صحافت کی مستقبل کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ وہ اے آئی کی صلاحیتوں اور انسانی ہمدردی کے درمیان کتنا اچھا توازن اور ہم آہنگی قائم کر پاتی ہے۔ جہاں اے آئی صحافت کو تیز اور زیادہ درست بنائے گا، وہیں جذباتی ذہانت یہ یقینی بنائے گی کہ یہ انسانی اور قابل اعتماد بنی رہے۔”
مسٹر سنگھ نے کہا کہ صحافت کی اصل طاقت صرف معلومات کی تشہیر میں نہیں بلکہ سماج کو صحیح سمت میں رہنمائی کرنے، سچائی کو سامنے لانے اور جمہوریت کو مضبوط کرنے میں پنہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات سماج اور دفاعی افواج کے حوصلے پر سنگین اثرات مرتب کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافت میں سب سے پہلے خبر دینا اہم ہو سکتا ہے لیکن صحیح خبریں دینا اس سے بھی کہیں زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا، “خصوصی طور پر جب موضوع دفاعی افواج، قومی سلامتی یا ملک کی خدمت میں اعلیٰ ترین قربانی دینے والوں کے احترام سے متعلق ہو، تو ہر لفظ قومی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ میڈیا کو ہمیشہ درستگی، غیر جانبداری اور غیرجانبداری کو برقرار رکھنا چاہیے۔”
یو این آئی ایف اے
ہندوستان6 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا6 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
ہندوستان1 week agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا5 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
دنیا3 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
جموں و کشمیر1 week ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا1 week agoایران نے اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا
جموں و کشمیر1 week agoآمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صرف ایران ہٹائے گا، فرانس کا مؤقف مسترد
دنیا1 week agoوینزویلا میں تباہ کن زلزلوں کے بعد اموات کی تعداد 920 سے تجاوز کرگئی
ہندوستان6 days agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
ہندوستان1 week agoسرکار کو ایندھن کی بڑھی ہوئی قیمتیں واپس لینی چاہئیں: کھرگے































































































