تازہ ترین
فوج کسی بھی طرح کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار:آر می چیف

300عسکریت پسندوں کو در اندازی کا انتظار
بار بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں، عسکریت پسندوں کو جموں وکشمیر کے حدود میں داخل کرانے کی کوشش
سرینگر: آرمی چیف، جنرل ایم ایم نار اوانے،نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بار بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کررہی ہے،جس کا بنیادی مقصد عسکریت پسندوں کو جموں وکشمیر کے حدود میں داخل کرانا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں اب 25سے30تربیتی کیمپ فعال ہیں جبکہ300عسکریت پسند لانچنگ پیڈوں پر در اندازی کے انتظار میں ہیں۔آر می چیف نے کہا کہ فوج کسی بھی طرح کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہے۔
کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) ایک نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف،جنرل ایم ایم نار اوانے،نے کہا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں اب بھی عسکریت پسندوں کا بنیادی ڈھانچہ فعال ہے۔ان کا کہناتھا کہ پاکستانی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کا دعویٰ کرکے اقوام عالم کو گمراہ کررہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی نے جموں وکشمیر میں دہائیوں سے درپردہ جنگ چھیڑ رکھی ہے،تاہم ماضی کی جنگوں کی طرح درپردہ جنگ میں بھی پاکستان کو شکست کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے،کیونکہ اسکے عزائم کو کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہونے دیاجائیگا۔
آر می چیف،جنرل ایم ایم نار اوانے،نے مزید کہا کہ پاکستان جموں وکشمیر میں حالات کو بگھاڑ نے کیلئے ہتھیار بند عسکریت پسندوں کو بھیجتا ہے،تاہم فوج ان کو اپنے انجام تک پہنچا تی ہے۔آر می چیف نے بتایا کہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدہ 2003کی مسلسل خلاف ورزیاں پاکستانی فوج ہی کررہی ہے جبکہ بھارتی فوج کا معقو ل اور مؤثر جواب دیتی ہے۔ان کا کہناتھا کہ سرحدوں کی حفاظت پر ما مور فوج کسی بھی صورتحال اور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تیا ر ہے۔
آر می چیف نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر بار بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں،دراصل پاکستانی منصو بے کی ایک کڑی ہے،تاکہ ہتھیار بند عسکریت پسندوں کو جموں وکشمیر کے حدود میں داخل کرایا جاسکے اور یہاں امن وقانون و سلامتی کی صورتحال میں رخنہ ڈالا جاسکے۔جنرل ایمایم نارا وانے،نے مزید کہا کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں نہ صرف عسکریت پسندوں کاڈھانچہ فعال ہے،بلکہ انکے تربیتی کیمپ موجود ہیں،جہاں عسکریت پسندوں کو پاکستانی فوج ہی تربیت فراہم کرتی ہے۔
ان کا کہناتھا کہ 25سے30تربیتی کیمپ اب بھی پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ہیں،جو فوج کے راڈر پر ہے۔ان کا کہناتھا کہ لانچنگ پیڈوں پر 300ہتھیار بند عسکریت پسند جموں وکشمیر کے حدود میں داخل ہونے کیلئے تیار بیٹھے ہوئے ہیں اور اُنہیں صرف اپنے آقاؤں کے اشارے کا انتظار ہے۔
فوج کے سربراہ جنرل،ایم ایم نارا وانے نے مزید بتایا کہ پاکستان کیساتھ لگنے والی لائن آف کنٹرول کیساتھ ساتھ بین الا قوامی سرحد پر در اندازی مخالف سیکیورٹی گرڈ انتہائی مضبوط ہے اور جب کبھی بھی عسکریت پسندوں کی جانب سے در اندازی کی کوشش کی گئی،تو اُنہیں سرحدی علاقوں تک محدود رکھنے کیساتھ ساتھ انجام کو بھی پہنچایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر فوج انتہائی چوکس ہے اور در اندازی کی کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا۔(کے این ایس)
دنیا
افزودہ یورینیئم کے ذخائر اب بھی ایرانی جوہری تنصیبات میں موجود ہیں: سربراہ آئی اے ای اے
ویانا، اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخائر اب بھی اس کی جوہری تنصیبات میں موجود ہیں، تاہم صورتِ حال کی حتمی تصدیق کے لیے معائنہ کاروں کی دوبارہ رسائی ضروری ہے۔
انہوں نے روسی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ مجموعی تاثر یہی ہے کہ مواد اب بھی وہیں موجود ہے۔
رافیل گروسی کے مطابق حتمی تصدیق کے لیے ضروری ہے کہ معائنہ کار دوبارہ تنصیبات کا دورہ کریں، معائنہ کریں اور اس بات کی تصدیق کریں کہ تمام مواد اپنی جگہ موجود ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ ادارے نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد تنصیبات تک رسائی ختم ہونے سے قبل افزودہ یورینیئم کی کسی بڑی نقل و حرکت کا مشاہدہ نہیں کیا۔
رافیل گروسی کے مطابق اگرچہ جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بعض مقامات تک رسائی بھی محدود ہو چکی ہے، تاہم ادارے کا ابتدائی اندازہ پہلے کے معائنے اور سیٹلائٹ تصاویر پر مبنی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات
تہران، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات ہوئی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق فیلڈ مارشل اور ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات میں شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ایران کے لیے خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، شہید آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے تہران میں موجود ہیں۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور عاصم منیر نے تہران میں شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی اور شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف، عاصم منیر اور وفد کے ارکان نے فاتحہ خوانی بھی کی۔
وزیراعظم، فیلڈمارشل اور وفد کے ارکان نے ایرانی صدر اور دیگر عہدیداروں سے تعزیت کی۔
وفد میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ و دیگر شریک تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی پیر سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی پیر سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے۔
وزارت خارجہ میں سکریٹری (مشرقی امور) رودریندر ٹنڈن نے جمعہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مسٹر مودی 6 سے 11 جولائی تک ان تینوں ممالک کے دورے پر رہیں گے۔ وہ 6 سے 8 جولائی تک انڈونیشیا، 8 سے 10 جولائی تک آسٹریلیا اور 10 سے 11 جولائی تک نیوزی لینڈ کا دورہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا میں وزیر اعظم کی اہم مصروفیات دارالحکومت جکارتہ میں ہوں گی۔ بعد ازاں وہ ثقافتی دارالحکومت یوگیاکارتا بھی جائیں گے اور پرمبانن مندر کا بھی دورہ کریں گے۔
مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ گزشتہ سال انڈونیشیا کے صدر کے دورۂ ہند کے بعد ہونے والے اس دورے کے دوران مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں تعاون پر بھی بات چیت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ملاکا میں استحکام اور سلامتی کے حوالے سے انڈونیشیا کا اہم کردار ہے۔
مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں مسٹر مودی آسٹریلیا جائیں گے، جہاں وہ آسٹریلیا کے وزیر اعظم کے ساتھ تیسرے ہند-آسٹریلیا سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ دونوں رہنما اہم معدنیات، سائبر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
مسٹر مودی میلبورن میں ایک کھیلوں کے پروگرام میں بھی شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ دورے کے تیسرے اور آخری مرحلے میں وزیر اعظم نیوزی لینڈ جائیں گے، جہاں وہ اپنے ہم منصب کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کریں گے۔ گزشتہ چالیس برس سے زیادہ عرصے میں کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا یہ پہلا دورۂ نیوزی لینڈ ہوگا۔ اس سے قبل سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی 1986 میں نیوزی لینڈ گئے تھے۔
پریس کانفرنس میں موجود حکام نے سوالوں کے جواب میں بتایا کہ آسٹریلیا کے دورے کے دوران ہندوستانی طلبہ کے ویزوں اور مختلف تعلیمی کورسز کی بڑھتی ہوئی فیسوں کے معاملے پر بھی بات چیت ہونے کا امکان ہے۔
وزیر اعظم تینوں ممالک میں مقیم ہندوستانی برادری کے افراد سے بھی ملاقات کریں گے، ان سے خطاب کریں گے اور مختلف تقریبات میں شرکت کریں گے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان4 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا5 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
ہندوستان6 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا4 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
جموں و کشمیر6 days agoآمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
دنیا1 week agoایران نے اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا
دنیا2 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
ہندوستان1 week agoپاسپورٹ فیس میں اضافے پر کانگریس کی مرکز پر تنقید ، سرجیوالا نےکہا ’مہنگائی کی نئی قسط‘


































































































