ہندوستان
وزیر اعظم نے ‘چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ڈے’ اور ‘ڈاکٹرز ڈے’ پر مبارکباد دی، ‘وکست بھارت’ کی تعمیر میں ان کے کردار کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو ‘چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ڈے’ اور ‘نیشنل ڈاکٹرز ڈے’ کے موقع پر ملک کے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اور ڈاکٹروں کو مبارکباد دی اور ہندوستان کی اقتصادی ترقی اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں ان کے تعاون کی ستائش کرتے ہوئے ملک کو ترقی یافتہ قوم بنانے کی سمت میں ان کے اہم کردار کا ذکر کیا وزیر اعظم نے ‘ایکس’ پر الگ الگ پوسٹس میں، ان شعبوں سے وابستہ پیشہ ور افراد کے عزم اور مہارت کی تعریف کی اور انہیں ہندوستان کی معیشت اور عوامی صحت کو مضبوط کرنے والا اہم ستون قرار دیا۔ ‘چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ڈے’ پر پوری سی اے برادری کو مبارکباد دیتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ شفافیت اور پیشہ ورانہ عمدگی کے تئیں ان کی عہدبستگی نے انہیں ہندوستان کی اقتصادی ترقی میں قابل اعتماد شراکت دار بنایا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پوری سی اے برادری کو ‘چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ڈے’ کی مبارکباد۔ وہ طویل عرصے سے ہندوستان کے اقتصادی سفر میں قابل اعتماد شراکت دار رہے ہیں۔ شفافیت اور پیشہ ورانہ عمدگی کے تئیں اپنے عزم سے وہ ہمارے مالیاتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں، کاروباروں کی مدد کرتے ہیں، انٹرپرینیورشپ کو فروغ دیتے ہیں اور سرمایہ کاروں میں اعتماد پیدا کرتے ہیں۔
مسٹر مودی نے ملک کی ترقی میں ان کے وسیع تعاون پر کہا کہ ان کی مہارت اقتصادی ترقی اور قوم کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہم جیسے جیسے ‘وکست بھارت’ بننے کی طرف بڑھ رہے ہیں، ان کی کوششیں ایسا ماحول بنانے میں مدد کرتی ہیں جہاں کاروبار فروغ پا سکیں اور سب کے لیے مواقع کا دائرہ وسیع ہو سکے۔
واضح رہے کہ 1949 میں پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے تحت ‘دی انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف انڈیا’ (آئی سی اے آئی) اپنے قیام کی یاد میں یکم جولائی کو ‘چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ڈے’ مناتا ہے۔ مالیاتی رپورٹنگ، آڈیٹنگ، ٹیکسیشن، کارپوریٹ گورننس اور ریگولیٹری تعمیل میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، جو انہیں ہندوستان کے کاروباری اور اقتصادی نظام کا اٹوٹ حصہ بناتا ہے۔
مسٹر مودی نے ‘نیشنل ڈاکٹرز ڈے’ پر ڈاکٹروں کی انتھک خدمات، ہمدردی اور عزم کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا اور انہیں ملک کے ہیلتھ کیئر سسٹم کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز ڈے پر ہمارے سرگرم ڈاکٹروں کو مبارکباد، جن کی سخت محنت، ہمدردی اور لگن ہندوستان کے حفظان صحت کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ان کی انتھک کوششوں نے، جو اکثر مشکل ترین حالات میں ہوتی ہیں، لاتعداد لوگوں کا اعتماد اور شکریہ حاصل کیا ہے۔ وزیر اعظم نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان کے ہیلتھ کیئر انفراسٹرکچر کی توسیع پر بھی بات کی اور طبی تعلیم کی صلاحیت میں نمایاں اضافے کی طرف اشارہ کیا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں، ہندوستان نے ہیلتھ کیئر سسٹم کو مضبوط کرنے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ میڈیکل کالجوں کی تعداد دوگنی سے زیادہ ہو گئی ہے، جبکہ انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سیٹوں میں کافی توسیع ہوئی ہے۔ یہ بے مثال ترقی مستقبل کے ڈاکٹروں کے لیے بڑے مواقع پیدا کر رہی ہے، ایک مضبوط ہیلتھ کیئر ورک فورس تیار کر رہی ہے اور یہ یقینی بنا رہی ہے کہ معیاری طبی دیکھ بھال ملک کے ہر کونے تک پہنچے۔
ہندوستان کے طویل مدتی ترقیاتی اہداف میں طبی برادری کے کردار پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ صحت کی دیکھ بھال کے نتائج کو بہتر بنانے اور معیاری علاج تک رسائی کو بڑھانے میں ڈاکٹر ہمیشہ مرکز میں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جیسے جیسے ‘وکست بھارت’ کی تعمیر کی سمت میں کام کر رہے ہیں، ہمارے ڈاکٹر بیماریوں سے بچاؤ والی صحت کی دیکھ بھال کو فروغ دینے، طبی تحقیق کو آگے بڑھانے، جدت طرازی کو اپنانے اور سب کے لیے سستی اور قابل رسائی صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔
ہندوستان میں ہر سال یکم جولائی کو ‘نیشنل ڈاکٹرز ڈے’ طبی پیشہ ور افراد کے تعاون کو عزت دینے اور معروف طبیب اور مغربی بنگال کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر بدھان چندر رائے کے یوم پیدائش اور برسی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یہ دن عوامی صحت کے تحفظ میں ڈاکٹروں کی انمول خدمات کا اعتراف کرتا ہے اور خاص طور پر بحران کے وقت ان کے عزم کی ستائش کرتا ہے۔ وزیر اعظم کا یہ پیغام ایسے وقت میں آیا ہے جب حکومت 2047 تک ہندوستان کو ‘وکست بھارت’ میں تبدیل کرنے کے اپنے وژن کے اہم اجزاء کے طور پر صحت کی دیکھ بھال کی توسیع، طبی تعلیم کی اصلاحات، اقتصادی ترقی اور پیشہ ورانہ عمدگی پر مسلسل زور دے رہی ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سپریم کورٹ نے بنگال مدرسہ اسٹاف کو مستقل کیئے جانے کی عرضی مسترد کی
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کے مدرسوں میں اپنی تقرری کو منظوری دینے کا مطالبہ کرنے والے 350 اساتذہ اور دیگر اسٹاف کی عرضی پیر کو مسترد کر دی مغربی بنگال مدرسہ سروس کمیشن ایکٹ 2008 کو کلکتہ ہائی کورٹ کی سنگل جج بنچ نے غیر آئینی قرار دیا تھا، جس کے بعد ان سبھی کی ملازمت چلی گئی تھی۔ عدالت نے بعد میں اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ عرضی گزاروں نے سپریم کورٹ سے کہا کہ ان کی تقرری مستقل تھی اس لیے انہیں مغربی بنگال کی گرانٹ ان ایڈ اسکیم کے تحت تنخواہ ملنی چاہیے۔
جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس اے جی مسیح کی بنچ نے متعلقہ عرضیوں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ وہ سماعت کے قابل نہیں ہیں۔ عدالت عظمی میں 361 سے زیادہ عرضی گزاروں نے 40 سے زیادہ عرضیاں دائر کی تھیں۔ اعلیٰ عدالت نے مارچ 2016 کے کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
اس سے پہلے چھ جنوری 2020 کو سپریم کورٹ نے 2008 کے قانون کو آئینی طور پر درست بتایا تھا۔
سپریم کورٹ نے ان عرضیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 13 عرضی گزاروں کے معاملات گزشتہ حکم کے بعد اس کے سامنے رکھے گئے تھے۔ اعلیٰ عدالت نے کہا تھا کہ اگر یہ 13 عرضیاں اسے راضی کرنے میں کامیاب رہتی ہیں تو باقی عرضی گزاروں کے دعووں کی بھی جانچ کی جائے گی، تاہم کوئی بھی عرضی عدالت کو اپنی بات نہیں سمجھا سکی۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
رام مندر چڑھاوا خورد برد معاملے میں سی بی آئی جانچ کے مطالبے پر مرکز، یوپی حکومت، ٹرسٹ کو سپریم کورٹ کا نوٹس
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے ایودھیا رام مندر چڑھاوا میں خوردبرد اور فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے جانچ کرانے کا مطالبہ کرنے والی عرضیوں پر پیر کو مرکزی حکومت، اتر پردیش حکومت اور شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ کو نوٹس جاری کیا عدالت نے اتر پردیش حکومت کے ذریعہ تشکیل دی گئی خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) کو اب تک کی جانچ کی صورتحال پر رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ رپورٹ میں ایس آئی ٹی کے بارے میں بھی ذکر کرنے کو کہا گیا ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہن کی بنچ نے عرضیوں پر سماعت کی۔ مرکز اور اتر پردیش حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ ایس آئی ٹی کی اسٹیٹس رپورٹ سیل بند لفافے میں داخل کی جائے گی۔ سماعت کے دوران سالیسیٹر جنرل نے مندر ٹرسٹ کو نوٹس جاری کرنے کو ٹالنے کی درخواست کی، جسے بنچ نے مسترد کر دیا۔
عرضی گزاروں میں سے ایک کے وکیل نے عدالت سے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی۔ عرضی گزاروں نے ایس آئی ٹی کی رپورٹ کی کاپی انہیں بھی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن بنچ نے فی الحال اس سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جانچ جاری ہے اور اس پر بعد میں غور کیا جائے گا۔
ایک عرضی نریندر کمار گوسوامی نے خود دائر کی ہے، جس میں سی بی آئی جانچ کے ساتھ ساتھ شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ کے مالی لین دین کا کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) سے آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دوسری عرضی اجے کمار رائے اور دنیش کمار یادو نے دائر کی ہے۔ اس میں بھی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے مرکز، اتر پردیش حکومت اور ٹرسٹ کو عقیدت مندوں اور عطیہ دہندگان کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ الزامات آخر کار درست ثابت ہوں یا نہیں، لیکن مالی بے ضابطگیوں کی رپورٹوں سے رام مندر تحریک کی حمایت کرنے والے اور عطیہ دینے والے لوگوں میں بڑے پیمانے پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔ تیسری مفادِ عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ایم پی سدھاکر سنگھ نے دائر کی ہے۔ اس میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی جانچ کے علاوہ ٹرسٹ کے پورے مالی لین دین کی فورینسک جانچ کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں تمام مالی دستاویزات، ڈیجیٹل لیجر، یو پی آئی لین دین کی تفصیلات اور بینک ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاکہ کسی بھی ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ ہو سکے۔ عرضی گزار نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ مجوزہ نگرانی کمیٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر ٹرسٹ کو بڑی سرمایہ کاری، اہم معاہدوں یا بڑے مالی فیصلے کرنے سے روکا جائے۔ ساتھ ہی ٹرسٹ کو شفافیت کے مفاد میں جانچ کی گئی مالی رپورٹ اور عطیات سے متعلق تفصیلات اپنی آفیشل ویب سائٹ پر عام کرنے کی ہدایت دینے کا بھی درخواست کی گئی ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
بدعنوانی ، وصولی نظام میں بدل چکے تعلیمی نظام میں ’طلبہ کی گونج‘ لائے گی انقلاب: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ملک کا تعلیمی نظام بدعنوانی، وصولی اور جانبدار ہوکر طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے، اس لیے طلبہ کو اب متحد ہو کر لڑنا ہوگا تاکہ ’طلبہ کی گونج‘ مہم تعلیمی نظام میں انقلاب کا ذریعہ بنے مسٹر گاندھی نے پیر کو سوشل میڈیا ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ ’بدعنوانی ، ناانصافی، جانبداری اور بے ایمانی‘ جیسے الفاظ ان کے نہیں، بلکہ ملک کے طلبہ کے ہیں، جو آج کے تعلیمی نظام کی عکاسی کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بچوں کا مستقبل سنوارنے کے لیے بنایا گیا تعلیمی نظام اب ایک ’بے ایمان وصولی نظام‘ میں بدل چکا ہے، جو طلبہ اور ان کے خاندانوں کو قرض، تناؤ اور مایوسی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام میں پھیلی بدعنوانی نے پیپر لیک مافیا کو جنم دیا ہے، جو لاکھوں طلبہ کی برسوں کی محنت ایک جھٹکے میں برباد کر دیتا ہے۔ ان کا الزام تھا کہ اس نظام میں قصوروار وینڈروں اور افسران کو کارروائی کے بجائے نئے ٹینڈر اور ترقیاں ملتی ہیں جبکہ سزا طلبہ بھگتتے ہیں اور انہیں ٹوٹے ہوئے خوابوں اور غیر یقینی مستقبل کے ساتھ چھوڑ دیا جاتا ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت اور مرکزی وزیر تعلیم اس پورے معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں نیز جواب دہی سے بچ رہے ہیں اور میڈیا بھی اس سنگین مسئلے پر خاموش ہے۔ اب بہت ہو چکا ہے اور تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ضرورت ہے۔“ انہوں نے طلبہ، نوجوانوں اور سرپرستوں سے 17 جولائی کو دہرادون میں منعقد ہونے والے ’طلبہ کی گونج‘ پروگرام میں بڑی تعداد میں شرکت کرکے تعلیمی نظام میں تبدیلی کی اس مہم کو مضبوط کرنے کی اپیل کی ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے
دنیا1 week agoسپریم لیڈر کے قاتل کو سزائے موت کی طرف لے جائیں گے: سربراہ ایرانی عدلیہ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا نفاذ مشکل لیکن ممکن: قالیباف
ہندوستان6 days agoرام مندر چڑھاوا تنازع گرما گیا، تیواری بولے– ’قصورواروإ کو بچانے میں مصروف بی جے پی حکومت‘
ہندوستان1 week agoحکومت کی ایم ایس ایم ای مخالف پالیسیوں سے راجستھان کے بس ٹرک باڈی بلڈرز پر بحران۔ راہل
دنیا6 days agoایران کے امریکی اڈوں پر میزائل حملے، امریکہ پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
دنیا6 days agoٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی
دنیا7 days agoایران کا انتقاماً یروشلم کو آزادی دلانے کا اعلان
دنیا1 week agoنیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین پر روس کا بدترین فضائی حملہ، 11 افراد ہلاک
دنیا6 days agoامریکہ کا ایران پر حملہ، اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری
دنیا1 week agoاسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کی ایرانی قیادت کو دھمکی
دنیا5 days agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
جموں و کشمیر1 week agoڈوڈا کے تھاتھری قصبے میں بادل پھٹنے سے گھروں اور گاڑیوں کو نقصان





































































































