ہندوستان
ہندوستان اور پاکستان کے کئی سرکردہ شخصیات کی مودی اور شریف سے بات چیت اور سفارتی تعلقات بحال کرنے کی اپیل
نئی دہلی، ہندوستان اور پاکستان کے کئی سرکردہ شخصیات کے ایک گروپ نے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے “جنوبی ایشیا میں امن، معمول کے حالات، بات چیت اور تعاون بحال کرنے کی سمت میں معنی خیز اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔
دونوں ممالک کے 117 لوگوں کے دستخط والے اس مشترکہ خط میں سفارتی تعلقات بحال کرنے، منظم بات چیت، اعتماد کو مضبوط کرنے والے مسلسل اقدامات کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان عداوت کم کرنے اور امن کو فروغ دینے کے لیے عوام کے درمیان رابطے بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس خط پر ہندوستان کے 61 اور پاکستان کے 56 لوگوں نے دستخط کیے ہیں۔ خط میں دونوں حکومتوں سے معمول کے حالات بحال کرنے کی سمت میں معنی خیز اقدامات کرنے کا اصرار کیا گیا ہے جس میں سفارتی تعلقات کی مکمل بحالی، دارالحکومت دہلی اور اسلام آباد میں ہائی کمشنروں کی دوبارہ تقرری اور دونوں ممالک کے شہریوں کے لیے باقاعدہ ویزا خدمات پھر سے شروع کرنا شامل ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر سمیت تمام زیر التوا مسائل پر جامع دوطرفہ بات چیت پھر سے شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور 2004-2007 کے بات چیت کے فریم ورک پر پھر سے غور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
خط میں کشیدگی کم کرنے، فوجی تعیناتی گھٹانے اور مسلسل بات چیت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، ساتھ ہی دونوں فریقوں کے “جائز سکیورٹی خدشات” کو بھی ذہن میں رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ طویل عرصے سے چلے آ رہے تناؤ کی وجہ سے لاکھوں لوگ بالخصوص نوجوان ترقی، خوشحالی اور محفوظ مستقبل کے مواقع سے محروم ہو رہے ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان مل کر دنیا کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں، اور یہاں کے لوگوں کا مستقبل بداعتمادی اور تصادم کے بجائے امن، کنیکٹیویٹی اور تعاون سے طے ہونا چاہیے۔ انہوں نے تجارت اور سفر کے لیے اٹاری-واگھہ سرحد پھر سے کھولنے، سرینگر-مظفرآباد بس سروس بحال کرنے اور سفر کا وقت اور خرچ کم کرنے کے لیے تجارتی پروازوں کے واسطے فضائی حدود کھول کر فضائی رابطے بڑھانے کا اصرار کیا ہے۔ انہوں نے کرتارپور صاحب راہداری کو پھر سے شروع کرنے اور پاکستان کی نیلم وادی میں شاردا پیٹھ تک رسائی آسان بنانے کے ساتھ ساتھ سرحد کے دونوں طرف مذہبی اور ثقافتی ورثے کے مقامات تک وسیع رسائی کی بھی اپیل کی ہے۔
خط پر دستخط کرنے والے ہندوستانیوں میں نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، پی ڈی پی صدر محترمہ محبوبہ مفتی، راجیہ سبھا ایم پی منوج جھا، کانگریس کے منی شنکر ائیر اور را کے سابق چیف اے ایس دلت شامل ہیں۔ پاکستان کی طرف سے دستخط کرنے والوں میں سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سفارت کار اشرف جہانگیر قاضی، نیشنل اسمبلی کے رکن اسفندیار بھنڈارا اور سائنسدان پرویز ہودبھائی شامل ہیں۔ ‘سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس’ کی جانب سے یہ پہل ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سرحد پار دہشت گردی اور پہلگام حملے جیسے حالیہ واقعات کی وجہ سے تناؤ بنا ہوا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کو ملتوی کرنے کے ہندوستان کے فیصلے کے بعد پہلے سے ہی کشیدہ تعلقات مزید بگڑ گئے۔
اسلام آباد میں انٹرنیشنل انڈس واٹرز ٹریٹی کانفرنس میں اظہارخیال کرتے ہوئے، پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مبینہ طور پر ہندوستان کو “1960 کے معاہدے کو کمزور کرنے کی کوششوں” کے خلاف وارننگ دی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ مشترکہ دریاؤں کا استعمال کبھی بھی “ہتھیار کے طور پر نہیں کیا جانا چاہیے” اور انتباہ دیا کہ پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے والا کوئی بھی اقدام علاقائی امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ہندوستان کے اس موقف کا ذکر کرتے ہوئے کہ سرحد پار دہشت گردی کے باعث پاکستان سے بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی، حکام نے دہرایا کہ معنی خیز بات چیت تبھی ممکن ہے جب ماحول دہشت گردی سے پاک ہو، پاکستان دہشت گردانہ ڈھانچے کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے اور ہندوستان کے سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے قابل اعتماد یقین دہانی کرائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان بات چیت کی حمایت تبھی کرتا ہے جب تحمل برتنے اور دہشت گردی سے پاک ماحول کے واضح ثبوت ہوں، جس سے مستحکم اور معنی خیز تعلقات قائم ہو سکیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سپریم کورٹ نے بنگال مدرسہ اسٹاف کو مستقل کیئے جانے کی عرضی مسترد کی
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کے مدرسوں میں اپنی تقرری کو منظوری دینے کا مطالبہ کرنے والے 350 اساتذہ اور دیگر اسٹاف کی عرضی پیر کو مسترد کر دی مغربی بنگال مدرسہ سروس کمیشن ایکٹ 2008 کو کلکتہ ہائی کورٹ کی سنگل جج بنچ نے غیر آئینی قرار دیا تھا، جس کے بعد ان سبھی کی ملازمت چلی گئی تھی۔ عدالت نے بعد میں اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ عرضی گزاروں نے سپریم کورٹ سے کہا کہ ان کی تقرری مستقل تھی اس لیے انہیں مغربی بنگال کی گرانٹ ان ایڈ اسکیم کے تحت تنخواہ ملنی چاہیے۔
جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس اے جی مسیح کی بنچ نے متعلقہ عرضیوں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ وہ سماعت کے قابل نہیں ہیں۔ عدالت عظمی میں 361 سے زیادہ عرضی گزاروں نے 40 سے زیادہ عرضیاں دائر کی تھیں۔ اعلیٰ عدالت نے مارچ 2016 کے کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
اس سے پہلے چھ جنوری 2020 کو سپریم کورٹ نے 2008 کے قانون کو آئینی طور پر درست بتایا تھا۔
سپریم کورٹ نے ان عرضیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 13 عرضی گزاروں کے معاملات گزشتہ حکم کے بعد اس کے سامنے رکھے گئے تھے۔ اعلیٰ عدالت نے کہا تھا کہ اگر یہ 13 عرضیاں اسے راضی کرنے میں کامیاب رہتی ہیں تو باقی عرضی گزاروں کے دعووں کی بھی جانچ کی جائے گی، تاہم کوئی بھی عرضی عدالت کو اپنی بات نہیں سمجھا سکی۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
رام مندر چڑھاوا خورد برد معاملے میں سی بی آئی جانچ کے مطالبے پر مرکز، یوپی حکومت، ٹرسٹ کو سپریم کورٹ کا نوٹس
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے ایودھیا رام مندر چڑھاوا میں خوردبرد اور فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے جانچ کرانے کا مطالبہ کرنے والی عرضیوں پر پیر کو مرکزی حکومت، اتر پردیش حکومت اور شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ کو نوٹس جاری کیا عدالت نے اتر پردیش حکومت کے ذریعہ تشکیل دی گئی خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) کو اب تک کی جانچ کی صورتحال پر رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ رپورٹ میں ایس آئی ٹی کے بارے میں بھی ذکر کرنے کو کہا گیا ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہن کی بنچ نے عرضیوں پر سماعت کی۔ مرکز اور اتر پردیش حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ ایس آئی ٹی کی اسٹیٹس رپورٹ سیل بند لفافے میں داخل کی جائے گی۔ سماعت کے دوران سالیسیٹر جنرل نے مندر ٹرسٹ کو نوٹس جاری کرنے کو ٹالنے کی درخواست کی، جسے بنچ نے مسترد کر دیا۔
عرضی گزاروں میں سے ایک کے وکیل نے عدالت سے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی۔ عرضی گزاروں نے ایس آئی ٹی کی رپورٹ کی کاپی انہیں بھی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن بنچ نے فی الحال اس سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جانچ جاری ہے اور اس پر بعد میں غور کیا جائے گا۔
ایک عرضی نریندر کمار گوسوامی نے خود دائر کی ہے، جس میں سی بی آئی جانچ کے ساتھ ساتھ شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ کے مالی لین دین کا کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) سے آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دوسری عرضی اجے کمار رائے اور دنیش کمار یادو نے دائر کی ہے۔ اس میں بھی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے مرکز، اتر پردیش حکومت اور ٹرسٹ کو عقیدت مندوں اور عطیہ دہندگان کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ الزامات آخر کار درست ثابت ہوں یا نہیں، لیکن مالی بے ضابطگیوں کی رپورٹوں سے رام مندر تحریک کی حمایت کرنے والے اور عطیہ دینے والے لوگوں میں بڑے پیمانے پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔ تیسری مفادِ عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ایم پی سدھاکر سنگھ نے دائر کی ہے۔ اس میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی جانچ کے علاوہ ٹرسٹ کے پورے مالی لین دین کی فورینسک جانچ کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں تمام مالی دستاویزات، ڈیجیٹل لیجر، یو پی آئی لین دین کی تفصیلات اور بینک ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاکہ کسی بھی ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ ہو سکے۔ عرضی گزار نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ مجوزہ نگرانی کمیٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر ٹرسٹ کو بڑی سرمایہ کاری، اہم معاہدوں یا بڑے مالی فیصلے کرنے سے روکا جائے۔ ساتھ ہی ٹرسٹ کو شفافیت کے مفاد میں جانچ کی گئی مالی رپورٹ اور عطیات سے متعلق تفصیلات اپنی آفیشل ویب سائٹ پر عام کرنے کی ہدایت دینے کا بھی درخواست کی گئی ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
بدعنوانی ، وصولی نظام میں بدل چکے تعلیمی نظام میں ’طلبہ کی گونج‘ لائے گی انقلاب: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ملک کا تعلیمی نظام بدعنوانی، وصولی اور جانبدار ہوکر طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے، اس لیے طلبہ کو اب متحد ہو کر لڑنا ہوگا تاکہ ’طلبہ کی گونج‘ مہم تعلیمی نظام میں انقلاب کا ذریعہ بنے مسٹر گاندھی نے پیر کو سوشل میڈیا ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ ’بدعنوانی ، ناانصافی، جانبداری اور بے ایمانی‘ جیسے الفاظ ان کے نہیں، بلکہ ملک کے طلبہ کے ہیں، جو آج کے تعلیمی نظام کی عکاسی کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بچوں کا مستقبل سنوارنے کے لیے بنایا گیا تعلیمی نظام اب ایک ’بے ایمان وصولی نظام‘ میں بدل چکا ہے، جو طلبہ اور ان کے خاندانوں کو قرض، تناؤ اور مایوسی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام میں پھیلی بدعنوانی نے پیپر لیک مافیا کو جنم دیا ہے، جو لاکھوں طلبہ کی برسوں کی محنت ایک جھٹکے میں برباد کر دیتا ہے۔ ان کا الزام تھا کہ اس نظام میں قصوروار وینڈروں اور افسران کو کارروائی کے بجائے نئے ٹینڈر اور ترقیاں ملتی ہیں جبکہ سزا طلبہ بھگتتے ہیں اور انہیں ٹوٹے ہوئے خوابوں اور غیر یقینی مستقبل کے ساتھ چھوڑ دیا جاتا ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت اور مرکزی وزیر تعلیم اس پورے معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں نیز جواب دہی سے بچ رہے ہیں اور میڈیا بھی اس سنگین مسئلے پر خاموش ہے۔ اب بہت ہو چکا ہے اور تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ضرورت ہے۔“ انہوں نے طلبہ، نوجوانوں اور سرپرستوں سے 17 جولائی کو دہرادون میں منعقد ہونے والے ’طلبہ کی گونج‘ پروگرام میں بڑی تعداد میں شرکت کرکے تعلیمی نظام میں تبدیلی کی اس مہم کو مضبوط کرنے کی اپیل کی ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے
دنیا1 week agoسپریم لیڈر کے قاتل کو سزائے موت کی طرف لے جائیں گے: سربراہ ایرانی عدلیہ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا نفاذ مشکل لیکن ممکن: قالیباف
ہندوستان6 days agoرام مندر چڑھاوا تنازع گرما گیا، تیواری بولے– ’قصورواروإ کو بچانے میں مصروف بی جے پی حکومت‘
ہندوستان1 week agoحکومت کی ایم ایس ایم ای مخالف پالیسیوں سے راجستھان کے بس ٹرک باڈی بلڈرز پر بحران۔ راہل
دنیا6 days agoٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی
دنیا7 days agoایران کا انتقاماً یروشلم کو آزادی دلانے کا اعلان
دنیا6 days agoایران کے امریکی اڈوں پر میزائل حملے، امریکہ پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
دنیا1 week agoنیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین پر روس کا بدترین فضائی حملہ، 11 افراد ہلاک
دنیا1 week agoاسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کی ایرانی قیادت کو دھمکی
دنیا5 days agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
دنیا6 days agoامریکہ کا ایران پر حملہ، اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری
جموں و کشمیر1 week agoڈوڈا کے تھاتھری قصبے میں بادل پھٹنے سے گھروں اور گاڑیوں کو نقصان





































































































