ہندوستان
مسلم خواتین: ملک وسماج کے لیے کچھ کرگزرنے کا جذبہ کم نہیں

نئی دہلی، ہندوستان میں جب بھی ملک اور سماج کی تعمیروترقی کی بات ہوتی ہے تو سب سے بڑی اقلیت کے بارے میں تذکرہ مایوسی پر مبنی ہوتا ہے اور اگر اس کمیونٹی کی مسلم خواتین کا ذکر ہوتو بات مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے، لیکن خواتین کے تعلق سے غیر جانبدارانہ طریقہ سے جائزہ لیا جائے تو صورتحال اتنی مایوس کن نہیں، جتنی نظر آتی ہے یا جس کا شور ہے، مسلم خواتین نے گزشتہ برسوں کے دوران ہر شعبے میں اپنی نمایاں موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ ادب وثقافت، معیشت، کارپوریٹ اور سرکاری ملازمت، تحقیق و ترقی، اسپورٹس گویا کہ کوئی شعبہ ایسا نہیں، جہاں مسلم خواتین کی نمائندگی نہیں ہے ۔
اگر ادب کی بات کریں تو 2025 میں ایک کنڑ مصنفہ بانو مشتاق کو”ہارٹ لیمپ” کے لیے بین الاقوامی بکر انعام سے نوازاگیا۔ بانو مشتاق کی پیدائش 3 اپریل 1948 کرناٹک میں ہوئی۔ دیپا بھاستی نے ان کی مختصر کہانیوں کا ترجمہ کیا تھا ،جس پر انھیں یہ انعام ملا۔ انھوں نے چھ مختصر کہانی کے مجموعے، ایک ناول، ایک مضمون کا مجموعہ اور ایک شعری مجموعہ شائع کیا ہے۔ ان کی تصنیفات کا اردو، ہندی، تمل، ملیالم اور انگریزی میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
بانومشتاق کو چھوٹی عمر سے ہی لکھنے کا شوق تھا۔انھوں نے اپنے احساسات اور تجربات کو روبہ عمل لانے کے لیے تحریروں کا رخ کیا۔ ان کی زیادہ تر تحریر خواتین کے مسائل پر نظر آتی ہے۔ مجموعے کی کہانیاں ایک صحافی اور وکیل کے طور پر مشتاق کی زندگی کی عکاسی کرتی ہیں، جس میں خواتین کے حقوق اور ملک کے اس حصے میں ذات پات اور مذہبی ناانصافیوں کے خلاف مزاحمت پر توجہ دی گئی ہے۔
ممتاز ادیبہ اور مترجم ارجمندآرا کے بقول “بے شک وہ کنڑ زبان میں کنڑ علاقے کی کہانیاں بیان کرتی ہیں لیکن ان کا اطلاق پورے برصغیر پر اور خصوصاً برِ صغیر کے مسلم معاشرے پر ہوتا ہے۔ یہ کہانیاں ہمیں غورو فکر پر مجبور کریں گی، قدرے حساس اور عقلمند اور نسبتاً بہتر انسان بننے پر مائل کریں گی۔”
بکر انٹرنیشنل ججوں کے سربراہ میکس پورٹر نے کہا کہ اگرچہ کہانیاں حقوق نسواں کی علم بردار ہیں اور ان میں پدرانہ نظام اور مزاحمت کے غیر معمولی بیانات ہیں، لیکن سب سے پہلے وہ ‘روزمرہ کی زندگی اور خاص طور پر خواتین کی زندگیوں کے خوبصورت بیانات ہیں۔’دی گارڈین نے تبصرہ کیا کہ ‘لہجہ خاموش سے مزاحیہ تک مختلف ہوتا ہے، لیکن نقطہ نظر میں استقلال ہے’ اور اس نے اسے ‘حیرت انگیز مجموعہ قرار دیا۔ بکر انعام کے علاوہ انھیں کرناٹک ساہتیہ اکیڈمی سمیت دیگر ایوارڈ سے بھی نوازاگیا ہے ۔
اس کے علاوہ ادیبہ انعم اشفاق احمد نے یواپی ایس سی 2024 کے امتحان میں 142 کا آل انڈیا رینک حاصل کرنے کے بعد مہاراشٹر کی پہلی مسلم خاتون آئی اے ایس (انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس) آفیسر بن کر تاریخ رقم کی۔ انھوں نے یہ کامیابی مالی مشکلات کے باوجود حاصل کی۔ مہاراشٹر کے ایوت محل ضلع کی طالبہ ادیبہ اشفاق احمد نے یونین پبلک سروس کمیشن(یوپی ایس سی ) کے نتائج میں اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔ ایک آٹو ڈرائیور کی بیٹی نے ایسا کارنامہ انجام دیا، جو ریاست میں اس سے پہلےکوئی مسلم طالبہ انجام نہیں دے سکی۔
یو پی ایس سی امتحانات کے لیے کلاسز اور سہولیات کی کمی کے باوجود ایوت محل کی اس ہونہار طالبہ نے اپنی محنت اور لگن سے مقصد کو حاصل کر لیا۔ ضلع کے بہت سے طلباء اپنے مقصد کو پورا کرنے اور امتحان کی تیاری کے لیے پونے، ممبئی اور دہلی جاتے ہیں۔
دوسری جانب جو طلباء غربت کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر ہیں، وہ آن لائن کورسز مکمل کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔
محترمہ ادیبہ نے اپنی ابتدائی تعلیم ظفر نگر ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول سے حاصل کی۔ انھوں نے یہاں پہلی سے ساتویں کلاس تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے آٹھویں سے دسویں جماعت تک کی تعلیم ضلع پریشد کے سابق گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سے حاصل کی۔
ادیبہ نے اپنی 11ویں اور 12ویں کی تعلیم ضلع پریشد سابق گورنمنٹ کالج، ایوت محل سے مکمل کی۔ اس کے بعد ادیبہ نے انعامدار سینئر کالج، پونے سے ریاضی میں بی ایس سی کیا۔
بعد ازاں، ادیبہ انعم نے پونے کی ایک اکیڈمی سے یو پی ایس سی فاؤنڈیشن کی کوچنگ لی۔ ان کو چوتھی کوشش میں کامیابی ملی۔ ادیبہ کے والد کی مالی حالت بہت خراب تھی، اس لیے انہیں اپنی بیٹی کی تعلیم کے لیے اپنا گھر فروخت کرنا پڑا۔ انھوں نے اپنی بیٹی کی تعلیم کے لیے اپنا رکشہ تک بیچ دیا۔ ادیبہ انعم کی داستان سن کر یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اگر انسان میں ہمت اور لگن ہوتو کوئی بھی چیز اسے اپنے مقصد کےحصول میں حائل نہیں ہوسکتی۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ کمپیوٹر انجینئرنگ سے حال ہی میں ایم ٹیک مکمل کرنے والی طالبہ تمکین فاطمہ کی وزارتِ دفاع، حکومتِ ہند کے تحت ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) میں بطور سائنس داں ‘بی’ تقرری عمل میں آئی ہے۔ ان کا انتخاب ایک مسابقتی عمل کے ذریعے ہوا، جس میں علمی کارکردگی، گیٹ اسکور اور انٹرویو شامل تھے۔
محترمہ تمکین فاطمہ نے 2025 میں ایم ٹیک (کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ) میں فرسٹ رینک حاصل کی۔ انہوں نے 2023 میں بی ٹیک بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے مکمل کیا تھا۔ علاوہ ازیں، انہوں نے 2024 میں اپنی پہلی ہی کوشش میں یو جی سی نیٹ (جے آر ایف) امتحان، کمپیوٹر سائنس میں آل انڈیا رینک 2 کے ساتھ پاس کیا۔
سیاست کی بات کی جائے تو اقراحسن چودھری جون، 2024 سے کیرانہ حلقے کی نمائندگی کرنے والی ہندوستان کی سب سے کم عمر مسلم رکن پارلیمنٹ (ایم پی) بن گئی ہیں۔ وہ کیرانہ کے سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے دادا چودھری اختر حسن ، والد منور حسن اور والدہ تبسم حسن، تینوں لوک سبھا سے رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں۔ جب کہ اقرا کے بھائی ناہید حسن کیرانہ سے رکن اسمبلی ہیں۔
اقرا حسن بتاتی ہیں کہ ان کا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، شاید ان کے والد نے انہیں گھر سے دور تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھا کیونکہ وہ انہیں گھر کے سیاسی ماحول سے دور رکھنا چاہتے تھے لیکن جب ان کے والد ایک حادثے میں انتقال کر گئے اور والدہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئیں تو ان سے قربت کی وجہ سےمجھے بھی سیاسی لوگوں سے ملاقات کرنے کا موقع ملا۔ اس طرح ان کے سیاسی سفر کا آغاز ہوا۔
ہندوستانی فوج کی کرنل صوفیہ قریشی اور ہندوستانی فضائیہ کی ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ نمایاں شخصیات تھیں، جنہوں نے مئی، 2025 میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن سندور کے بارے میں دنیا کو بریف کیا، جو مسلح افواج میں خواتین کی قیادت کی علامت ہے۔ کرنل صوفیہ نے جہاں اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دیکر حکومت اور اعلی افسران کا اعتماد حاصل کیا، وہیں یہ ثابت بھی کیا کہ اگرخواتین کو موقع ملے تو مشکل ترین کام سے بھی پیچھے نہیں ہٹتیں ۔
ڈاکٹر شبنم شبیر شیخ مہاراشٹر کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والی ایک بین الاقوامی ریسلنگ کوچ ہیں۔ انھیں ہندوستان کی ایسی پہلی خاتون کے طور پر جانا جاتا ہے، جنہوں نے اسپورٹس اسٹڈیز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ انھوں نے متعدد ریاستی اور قومی تمغے جیتے ، جن میں 2010 میں ‘ویمن مہاراشٹر کیسری’ خطاب بھی شامل ہے۔ وہ دوسری لڑکیوں کو کھیلوں کی حوصلہ افزائی کے لیے سرگرمی سے کام کرتی ہیں۔
فہرست یہیں ختم نہیں ہوتی، ایسی خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہے، جوکچھ کرگزرنے کا جذبہ رکھتی ہیں اور ملک وسماج کی تعمیروترقی میں تعاون کرنا چاہتی ہیں۔ ان خواتین نے اپنی ہمت،لگن اورجوش وجذبہ سے نہ صرف اپنے لیے خاص مقام حاصل کیا بلکہ ملک وملت کانام بھی روشن کیا۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ان خواتین کی زندگی ،جدوجہد اور حصولیابیاں لاتعداد مسلم لڑکیوں کے لیے باعث تحریک بنیں گی ۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
آپریشن سندور نے دنیا کو دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی عہد بستگی کا پیغام دیا: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ آپریشن سندور نے دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ ہندوستان اپنی سرزمین پر دہشت گردانہ حملوں کے بعد اب محض سفارتی بیانات جاری کرنے کی پرانی ذہنیت تک محدود نہیں ہے، بلکہ آگے بڑھ کر فیصلہ کن کارروائی کے لیے پرعزم ہے راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو یہاں ایک قومی سلامتی سے متعلق ایک چوٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے واضح موقف اپنایا ہے کہ کسی بھی صورت حال میں دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے سرجیکل اسٹرائیک، فضائی حملوں اور آپریشن سندور کو دہشت گردی کے خلاف حکومت کے پختہ عزم کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے کہا، “دہشت گردی ایک بگڑی ہوئی اور ذہنی خلل والی ذہنیت سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ انسانیت پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف قومی سلامتی کا معاملہ نہیں ہے، یہ بنیادی طور پر انسانی اقدار کے تحفظ کی جنگ ہے۔ یہ ایک وحشیانہ نظریے کے خلاف جدوجہد ہے جو ہر انسانی قدر کے براہ راست مخالف کھڑی ہے۔ ہم نے اس ہندوستانی نقطہ نظر کو ملک کے اندر اور بیرون ملک واضح طور پر پیش کیا ہے۔”
وزیر دفاع نے کہا کہ جب تک دہشت گردی موجود رہے گی، یہ اجتماعی امن، ترقی اور خوشحالی کو چیلنج کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا، “دہشت گردی کو مذہبی رنگ دے کر یا اسے نکسل ازم جیسے پرتشدد نظریات سے جوڑ کر جائز قرار دینے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ یہ انتہائی خطرناک ہے اور ایک طرح سے دہشت گردوں کو ڈھال فراہم کرتا ہے تاکہ وہ آہستہ آہستہ اپنے مقصد کی طرف بڑھ سکیں۔ دہشت گردی صرف ملک دشمن فعل نہیں ہے، اس کے کئی پہلو ہیں—آپریشنل، نظریاتی اور سیاسی۔ اس سے اسی وقت نمٹا جا سکتا ہے جب ہم ان تمام پہلوؤں پر کام کریں۔”
پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کی مسلسل حمایت پر راج ناتھ سنگھ نے کہا، “ہندوستان اور پاکستان دونوں نے ایک ہی وقت میں آزادی حاصل کی تھی۔ تاہم آج ہندوستان کو عالمی سطح پر انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے لیے جانا جاتا ہے، جب کہ پاکستان کو ایک الگ قسم کے آئی ٹی یعنی ‘بین الاقوامی دہشت گردی’ کا مرکز مانا جاتا ہے۔”
وزیر دفاع نے آپریشن سندور کو ہندوستانی مسلح افواج کے اتحاد اور ہم آہنگی کی بہترین مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی بری فوج، ہندوستانی بحریہ اور ہندوستانی فضائیہ نے متحد ہو کر اور مربوط منصوبہ بندی کے تحت کام کیا، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ ہندوستان کی فوجی طاقت اب الگ الگ حصوں میں کام نہیں کرتی، بلکہ یہ ایک متحدہ، مربوط اور عالمی طاقت کے طور پر ابھری ہے۔
جاری ۔ یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
سپریم کورٹ نے ایمس کی کیوریٹو پٹیشن مسترد کر دی، نابالغہ کے 30 ہفتوں کے حمل کو ختم کرنے کے حق کو برقرار رکھا
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے جمعرات کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس)، نئی دہلی کی جانب سے دائر کردہ اس کیوریٹو پٹیشن پر غور کرنے سے انکار کر دیا ہے جس میں دو ججوں کے بنچ کے اس سابقہ فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا جس میں ایک 15 سالہ نابالغ لڑکی کے 30 ہفتوں کے حمل کو ختم کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ عدالت نے ایمس کے ڈاکٹروں کو یہ آزادی دی ہے کہ وہ نابالغ اور اس کے خاندان کی کونسلنگ کریں اور ان کے ساتھ متعلقہ طبی رپورٹس اور معلومات شیئر کریں تاکہ وہ حمل جاری رکھنے یا اسے ختم کرنے کے حوالے سے ایک باخبر فیصلہ کر سکیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جے مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے حمل ختم کرنے کی اجازت دیتے ہوئے ایمس کو یہ طریقہ کار مکمل کرنے کی ہدایت دی۔
عدالت نے کہا کہ ایمس اپنا یہ فیصلہ کہ حمل ختم نہیں کیا جانا چاہیے ماں پر مسلط نہیں کر سکتا، اور عورت کے پاس باخبر فیصلہ کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے ریمارکس دیے کہ ناپسندیدہ حمل کا بوجھ عورت پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ اس سے قبل 24 اپریل کو جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اجول بھویان کے بنچ نے بھی حمل ختم کرنے کی اجازت دی تھی اور گزشتہ روز ایمس کی نظرثانی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ عجیب بات ہے کہ ایمس سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرنے کے بجائے اسے چیلنج کر رہا ہے تاکہ ایک نابالغ لڑکی کے آئینی حقوق کو ختم کیا جا سکے۔
اس کے بعد ایمس نے کیوریٹو پٹیشن دائر کی جسے آج صبح چیف جسٹس کے بنچ کے سامنے فوری طور پر پیش کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈاکٹر پیدا ہونے والے بچے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور اس ماں کو نظر انداز کر رہے ہیں جو اتنی شدید تکلیف سے گزر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے پر ضرورت سے زیادہ توجہ دی جا رہی ہے جبکہ اس ماں کا خیال نہیں رکھا جا رہا جس نے یہ دکھ جھیلا ہے۔ ہندوستان کی سب سے بڑی عدالت کے اس فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ ماں کے حقوق اور اس کی مرضی کو ترجیح حاصل ہے۔یواین
آئی ۔ایف اے
ہندوستان
کانگریس کا ذات پات پر مبنی مردم شماری میں تاخیر پر سوال، وزیر اعظم سے معافی اور وضاحت کا مطالبہ
نیو دہلی، کانگریس نے جمعرات کو ملک گیر سطح پر ذات پات پرمبنی مردم شماری میں تاخیر پر مرکز پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں، جس میں سینئر لیڈر جے رام رمیش نے حکومت پر اس مسئلے پر “ڈرامائی یو ٹرن” لینے کا الزام لگایا اور وزیر اعظم نریندر مودی سے وضاحت طلب کی ہے۔ حکومت کی جانب سے آئندہ مردم شماری میں ذات پات پر مبنی گنتی کو شامل کرنے کے اعلان کے ایک سال مکمل ہونے پر جاری ایک تفصیلی بیان میں، رمیش نے کہا کہ آج سے ٹھیک ایک سال پہلے مودی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ پوری آبادی کی ذات پات پرمبنی گنتی مردم شماری کا حصہ ہوگی لیکن ایک پورا سال گزرنے کے باوجود اس بات کی تفصیلات کہ یہ کام کیسے انجام دیا جائے گا، ابھی تک انتظار میں ہیں۔
انہوں نے حکومت کے بدلتے ہوئے موقف کا خاکہ پیش کرتے ہوئے یاد دلایا کہ 21 جولائی 2021 کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا کو مطلع کیا تھا کہ پالیسی کے طور پر ذات پات کے لحاظ سے آبادی کا شمار نہیں کیا جائے گا۔ رمیش نے ستمبر 2021 میں سپریم کورٹ میں مرکز کی طرف سے دائر کردہ ایک حلف نامے کی طرف بھی اشارہ کیا جس میں کہا گیا تھا کہ اس طرح کی مشق کرنے کی کوئی بھی ہدایت حکومت کے پہلے سے کیئے گئے پالیسی فیصلے میں مداخلت کے مترادف ہوگی۔ کانگریس لیڈر نے پارٹی صدر ملکارجن کھرگے کی خط و کتابت کا بھی حوالہ دیا جنہوں نے 16 اپریل 2023 کو وزیر اعظم کو خط لکھ کر زور دیا تھا کہ باقاعدہ مردم شماری کے حصے کے طور پر اپ ڈیٹ شدہ ذات پات کی مردم شماری کو شامل کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نے 28 اپریل 2024 کے ایک انٹرویو میں اس مطالبے کو “اربن نکسل” سوچ کی عکاسی قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی تھی۔ رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم اس الزام کے لیے انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت سے معافی کے مقروض ہیں اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ وہ ہندوستان کے عوام کو اس پوزیشن میں اچانک تبدیلی کے لیے وضاحت دینے کے پابند ہیں جب انہوں نے 30 اپریل 2025 کو ذات پات پر مبنی گنتی کا اعلان کیا تھا۔ رمیش نے الزام لگایا کہ اعلان کے باوجود بہت کم پیش رفت یا شفافیت نظر آئی ہے اور اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں، ریاستی حکومتوں یا ماہرین کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی گئی کہ اتنی پیچیدہ اور حساس مشق کیسے کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ 5 مئی 2025 کو کھرگے کی جانب سے وزیر اعظم کو بھیجے گئے ایک اور خط کا اعتراف تک نہیں کیا گیا جس میں مجوزہ ذات پات پرمبنی مردم شماری پر خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔ کانگریس لیڈر نے مزید دعویٰ کیا کہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس سمیت حالیہ پیش رفت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حکومت اس مشق میں تاخیر کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ واضح ہے کہ وزیر اعظم کا ارادہ ذات پات پرمبنی مردم شماری کو ملتوی کرنے کا ہے۔ ذات پات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ ایک سیاسی طور پر متنازعہ مسئلہ رہا ہے جس میں اپوزیشن جماعتوں کا استدلال ہے کہ باخبر پالیسی سازی اور سماجی انصاف کے اقدامات کے لیے اپ ڈیٹ شدہ ڈیٹا ضروری ہے، جبکہ حکومت ماضی میں انتظامی اور پالیسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر7 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
جموں و کشمیر3 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
ہندوستان6 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
دنیا7 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
جموں و کشمیر3 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
ہندوستان6 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
دنیا1 week agoایران کی تجارتی ومالی مدد ہماری پابندیوں کا سامنا کرے گی:امریکہ
دنیا6 days agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی
دنیا1 week agoجان کیری کا ایران جنگ سے متعلق بڑا انکشاف
دنیا1 week ago“جنگ بندی میں توسیع ” تیل کے حصص میں کمی،سرمایہ کار محتاط
دنیا1 week agoایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کو ناممکن قرار دیدیا، امریکی ناکہ بندی سے عالمی معیشت دباؤ کا شکار
دنیا6 days agoامریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات بلواسطہ ہوں گے:ایران








































































































