جموں و کشمیر
ویڈیو: دو کم عمر عسکریت پسندوں کی کہانی

خبراردو:
۹ دسمبر کو سرینگر کے مضافاتی علاقہ مجہ گنڈ میں فورسز اور جنگجوؤں کے مابین ہوئی ۱۸ گھنٹے تک جاری رہنے والی جھڑ پ میں تین جنگجو ہلاک ، ۵ اہلکار زخمی اور آدھے درجن سے زائد مکان زمین بوس ہونے کیساتھ اختتام پذیر ہوگئی تھی ۔
وادی میں تصادم آرائیاں ہونا کوئی نئی بات اور وہ بھی رواں سال جس میں اب تک ۲۳۰ سے زائد جنگجو ، چھیاسی سیکورٹی اہلکار اور سنتیس عام شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹے ۔
مجہ گنڈ جھڑپ وادی کے لوگوں کیلئے تکلیف دہ ان دو تصا ویر سترہ سالہ ثاقب اور اور ۲۰۰۴ میں پدا ہوئے چودہ سالہ مدثر کی وجہ سے ۔
سرینگر سے تیس کلو میٹر دور بانڈی پورہ کے حاجن علاقے کے پرے محلے سے ایک ماہ قبل ایک ساتھ گھر سے نکلے دونوں جنگجو صف میں شامل ہونے کیلئے ۔
گھر سے دونوں کے غائب ہونے کے بعد والدین نے پولیس تھانے میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی ۔
مدثر کے اہل خانہ کے ہوش تب اڑ گئے جب ایک ہفتے قبل انہوں نے سوشل میڈیا پر اسکی تصویر اے کے سنتالیس کیساتھ دیکھی ۔
اور اسکے کچھ دن بعد ہی ایک ساتھ جنگجو صف میں شامل ہوئے دونوں مجہ گنڈ معارکہ میں ۱۸ گھنٹے تک لڑنے کے بعد جاں بحق ہوگئے ۔لیکن چھوڑ کے کچھ سولات ۔ جن پر سوشل میڈیا بٹ گیا ہے ۔
کہییں سوشل میڈیا یوزرس کا ماننا ہے کہ اتنے کم عمر نوجوانوں کو بندوق نہیں اٹھانی چاہیے، انہیں پڑھائی پر دھیان دینا چاہیے تھا
اور کچھ اسے سہی فیصلہ ٹھہرا رہے ہیں ،۔
اس بیچ جب ریاست کے اگلے وزیر اعلی بننے کے لئے بے چین عمر عبداللہ کے بارے میں مدثر کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کیا جواب دیا ۔ْ
پولیس چیف دلبا غ سنگھ نے کہا انہیں دکھ ہوا ۔
آپکو بتا دیں مننان وانی کی ہلاکت کے بعد یو نائڈ جہاد کونسل کے جنرل سیرٹری نے پڑھے لکھے نوجوانوں کو تعلیم پر توجہ دینے کو کہا تھا ۔ اور جنگجو کمانڈروں سے اپیل بھی کی تھی کہ وہ ایسے نوجوانوں کو ٹریننگ فراہم نہ کرے ۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں انسدادِ بدعنوانی بیورو نے رشوت خوری کے معاملے میں فارسٹ گارڈ کو گرفتار کر لیا
جموں، جموں و کشمیر انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے رشوت ستانی کے ایک معاملے میں ایک فارسٹ گارڈ (جنگلات کے محافظ) کو گرفتار کر لیا ہے۔
اے سی بی کے ترجمان کے مطابق ایک تحریری شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ ملزم نے شکایت کنندہ سے تفویض شدہ کاموں سے متعلق سیکیورٹی ڈپازٹ کی واپسی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے 20 ہزار روپے رشوت طلب کی تھی۔
بات چیت کے بعد ملزم مبینہ طور پر 15 ہزار روپے لینے پر آمادہ ہو گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ رشوت دینے پر آمادہ نہ ہونے والے شکایت کنندہ نے قانونی کارروائی کے مطالبے کے ساتھ اے سی بی سے رابطہ کیا۔
شکایت موصول ہونے پر اے سی بی نے خفیہ تصدیق (ویریفکیشن) کی، جس میں مبینہ طور پر ملزم ملازم کے خلاف رشوت طلب کرنے کی تصدیق ہوئی۔ اس کے بعد اے سی بی سینٹرل جموں پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی۔
ملزم کی شناخت وسیم احمد کے طور پر ہوئی ہے، جو ضلع کشتواڑ کے ہدیال علاقے کا رہائشی ہے اور اس وقت فارسٹ گارڈ کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ وہ مارواہ فاریسٹ ڈویژن کے ڈویژنل فاریسٹ آفیسر کے دفتر میں حسابات کا کام بھی سنبھال رہا تھا۔
اے سی بی کے مطابق اسے شکایت کنندہ سے 15 ہزار روپے رشوت طلب کرتے اور وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ موقع پر ہی آزاد گواہوں کی موجودگی میں اس کے قبضے سے رشوت کی رقم بھی برآمد کر لی گئی۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ایگزیکٹو مجسٹریٹ اور آزاد گواہوں کی موجودگی میں ملزم کی رہائش گاہ کی تلاشی بھی لی گئی ہے، جبکہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
سری نگر اراضی دھوکہ دہی معاملہ، تین افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس کی کرائم برانچ کے اقتصادی جرائم ونگ کشمیر نے سری نگر کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں تین ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔ یہ معاملہ سری نگر کے ایچ ایم ٹی خوشی پورہ میں زمین کے ایک ہی ٹکڑے کو دھوکہ دہی سے متعدد خریداروں کو فروخت کرنے سے متعلق ہے۔
اس معاملے میں سال 2024 میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ تفتیش کاروں کے مطابق، ملزمان نے الگ الگ سیل ڈیڈ کے ذریعے ایک ہی جائیداد کو کئی بار فروخت کر کے متعدد خریداروں کے ساتھ دھوکہ دہی کی اور انہیں مالی نقصان پہنچایا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سری نگر کے خوشی پورہ ابان شاہ کے رہائشی ملزمان معراج الدین اور شبیر احمد نے اس وقت کے پٹواری (جو اب فوت ہو چکے ہیں) کی ملی بھگت سے سری نگر کے ایچ ایم ٹی خوشی پورہ میں واقع زمین کے ایک ہی ٹکڑے کے لیے دھوکہ دہی سے کئی سیل ڈیڈ تیار کیے تھے۔ ملزمان نے خریداروں کو دھوکہ دینے اور ناجائز فائدہ حاصل کرنے کے لیے من گھڑت اور ہیرا پھیری سے تیار کردہ ریونیو ریکارڈ کا استعمال کیا۔ تفتیش مکمل ہونے پر عدالت کے سامنے چارج شیٹ پیش کر دی گئی ہے۔
یو این آئی ۔ م ع
جموں و کشمیر
منوج سنہا نے نوآبادیاتی ذہنیت کے خاتمے پر زور دیا، مصنفین سے ہندوستان کی عالمی کہانی دوبارہ پیش کرنے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا نے ہفتہ کے روز کہا کہ ’’نوآبادیاتی ذہنیت‘‘ کے باقی ماندہ اثرات کو مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے اور ہندوستان کی تاریخ اور موجودہ حالات کو عالمی سطح پر مسخ شدہ انداز میں پیش کیے جانے کا مؤثر جواب دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنفین اور دانشوروں کا اہم کردار ہے کہ وہ ان کے بقول غلط بیانیوں کی اصلاح کریں اور دنیا کے سامنے ہندوستان کا نقطۂ نظر پیش کریں۔
وہ سری نگر میں کشمیر لٹریچر فیسٹیول کے تیسرے ایڈیشن کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مصنفین پر زور دیا کہ وہ افسانہ، غیر افسانوی ادب اور دیگر تخلیقی ذرائع کے ذریعے مثبت بیانیہ تشکیل دیں اور لوگوں کو متاثر کریں، کیونکہ ’’مصنف کی تخلیق صرف الفاظ میں نہیں بلکہ لوگوں کی دھڑکنوں میں زندہ رہتی ہے۔‘‘
انہوں نے کہاکہ ’’ہمیں نوآبادیاتی ذہنیت کے ہر نشان کو مٹانا ہوگا اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ بیرونِ ملک لوگ ہماری تاریخ اور حال کو اپنی پسند کے بیانیے کے لیے مسخ نہ کریں۔‘‘ ان کے مطابق، ایسی غلطیوں کی اصلاح کرنا اور حقیقت کو عالمی قارئین تک پہنچانا مصنفین کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہمیں دنیا کو بار بار یاد دلانا ہوگا کہ تقریباً 6,000 سال قبل جب ویدوں کی تدوین ہوئی، اس وقت ہندوستان دنیا کی معیشت، تعلیم، ثقافت اور فلسفے کا مرکز تھا۔ صدیوں تک ہندوستان عالمی تہذیب اور ثقافت کا محرک رہا اور اس نے سائنس، ریاضی، فلکیات اور طب کے میدان میں دنیا کی سماجی و معاشی ترقی کی بنیاد رکھی۔‘‘
منوج سنہا نے کہا کہ تاریخ کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے اور معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچانے کی فوری ضرورت ہے تاکہ بھارت کا بیانیہ درست انداز میں تشکیل پا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ویدی دور سے ہمارے آبا و اجداد حقائق کو درستگی کے ساتھ محفوظ اور منتقل کرتے رہے، لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر جدید دور میں بھارت اپنی تاریخ خود لکھنے کی روایت سے دور ہو گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہم اپنی قیمتی روایات، ثقافت، علم اور سائنسی ورثے کو دنیا تک پہنچانے میں ناکام رہے، اسی لیے بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کچھ چیزیں باہر سے آئیں یا حملہ آوروں نے متعارف کرائیں، جبکہ یہ دعوے بے بنیاد ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے الزام لگایا کہ بعض غیر ملکی مؤرخین نے جان بوجھ کر بھارت کی قدیم سائنسی دریافتوں، ادبی، فنی اور تعمیراتی کامیابیوں کو نظر انداز کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’جب ہندوستان سائنسی ترقی کی بلندی پر تھا، بہت سے ممالک میں سائنس کا ذکر تک نہیں ملتا۔ فارس اور دیگر خطوں میں سائنس، ریاضی اور فلکیات کے ابتدائی حوالہ جات آٹھویں صدی میں سامنے آئے اور وہ بھی بڑی حد تک ہندوستان کے اثرات کے مرہونِ منت تھے۔ یورپ کی پہلی نشاۃ ثانیہ نے 12ویں صدی میں ہندوستان کے علم، سائنس، ثقافت اور فن کے خزانے سے استفادہ کیا۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر1 week agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا2 days agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا3 days agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
ہندوستان1 week agoپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
جموں و کشمیر6 days agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
دنیا2 days agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
دنیا1 week agoمکمل طور پر اسرائیلی انخلاء ایک قومی ترجیح ہے:لبنانی صدر
دنیا2 days agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
ہندوستان1 week agoایندھن کی قیمتوں پر کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، ہر روز ہو رہی ہے عوام کی جیب پر ڈکیتی
دنیا3 days agoامریکہ اسرائیل کے تمام جرائم میں شریک ہے: ترجمان ایرانی دفترِ خارجہ
دنیا3 days agoایرانی صدر نے ایک بار پھر پاکستان کے کردار کو سراہا






























































































