تازہ ترین
ویڈیو: مرکز نے تمام ریاستوں کو بچوں کے سکولی بیگ کے وزن کو کم کرنے کی دی ہدایات

خبراردو:
چھوٹے چھوٹے سکولی بچے جو اپنے وزن سے بھی زیادہ سکولی بیگ اٹھائے ہوتے ہیں اب مرکز کی طرف سے ان کے لئے ایک خوشخبری ہے اور جلد ہی انہیں اب اتنے بھاری بیگ اٹھانے سے چھٹکارہ ملنے والا ہے ۔
کیوں کہ مرکز کی وزارت ترقی انسانی وسائل نے تمام ریاستوں اور یونین ٹیروٹریز کو حکم نامہ جاری کیا ہے کہ وہ اب سکولوں میں پڑھانے کا نصاب اور سکولی بیگ کے وزن کو مرکزی حکومت کی ہدایات کے مطابق ترتیب دیں ۔
اور وہ ہدایات کیا ہیں ۔
اول اور دوم کلاس کے سکولی بچوں کے لئے خوشخبری یہ ہے کہ اب انہیں ہوم ورک سے جلد ہی چھٹکارہ ملنے والا ہے ۔ پہلی اور دوسری جماعت کے بچوں کو ہوم ورک نہیں دینے کو کہا گایا ہے
۲۔۔ وہیں ہوم ورک سے چھٹکارے کے علاوہ اب انہیں صرف میتھ اور لینگویج کے ہی دو سبجیکٹس پڑھائے جائیں گے ۔
وہیں پہلی کلاس سے دوسویں کلاس تک سکول بیگ کا وزن کتان وہونا چاہیے وہ بھی ایم ایچ آر ڈی نے بتا دیا ہے ۔
اول دوم کے لئے 1.5 kg تیسری سے پانچویں کلاس تک ، 2.3kg ، چھٹی اور ساتویں کلاس کیلئے چار کلو ، آٹھویں اور نویں کلاس کیلئے ساڑھے چار کلو ، اور دسویں کلاس کیلئے بیگ کا وزن ۵ کلو سے زیادہ نہیں ہوا نا چائیے ۔
آپ کو بتا دیں اسی سال مئی میں مدراس ہائی کورٹ نے مرکز سے کہا تھا کہ وہ ریاستی حکومتون کو ہدایات دیں کہ وہ سکولی بیگ کے وزن کم ، اور پہلی دوسری کلاس کیلئے ہوم ورک سسٹم کو ختم کریں ۔
واضح رہے پچھے سال The directorate of education (DoE) نے بھی ملک کے تما م تعلیمی اداروں کو کہا تھا وہ سکولی بیگ کے وزن کو کم کرانے کے طریقے ڈھونڈیں ، وہیں انہوں نے تجویز بھی پیش کی تھی کہ وہ بچوں کو لاکر فراہم کریں جہاں وہ اپنی کتابیں رکھی سکیں ۔
وہیں ڈائیریکٹوریٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ کہ سکولی بیگ کا وزن بچے کے وزن سے ۱۰ فیصد زیادہ نہیں ہونا چائیے ، لیکن اس ہدایت پر کوئی بھی عمل نہیں کیا گیا ۔
ڈاکٹروں کے مطابق بچوں کے بھاری بیگ اٹھانے سے وہ کمر درد ، کندھے کے درد میں مبتلا ہو جاتے ہیں ، اور وہیں کئی منزلہ سکول کی عمارتوں میں اتنے بھاری بیگ اٹھا کر لے جانا ان کے ذہنوں پر برے اثرات مرتب کرتا ہے ۔
مرکز نے تو ہدایات جاری کردیں اب دیکھنے والی بات ہوگی کہ ان ہدایات کو تعلیمی اور خاص طور پر نجی تعلیمی ادارے لاگو کرتے ہیں یا نہیں ۔
دنیا
واضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی
تہران، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ سے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، واضح نتیجہ سامنے آنے تک مذاکرات سے متعلق کوئی فیصلہ یا رائے نہیں دی جا سکتی۔
عباس عراقچی نے کہا کہ قیاس آرائیوں کو اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ دشمن کی باتوں اور وعدوں پر بھروسہ نہیں، امریکہ کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ ٹھوس نتائج کے بغیر نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ دشمن ملکی اتحاد کو کمزور کر کے انتشار پھیلانا چاہتا ہے، فوجی ناکامی کا بدلہ معاشی دباؤ کے ذریعے لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ کے بغیر کوئی معاہدہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں ایرانی پارلیمنٹ کے رکن علی رضا سلیمی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں کے درمیان واقع ہے، کسی
دوسرے ملک کو اس کے بارے میں فیصلے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ جلد آبنائے ہرمز سے متعلق قانون سازی کی منظوری دے گی۔
ہندوستان
ہند۔عمان تجارتی معاہدہ آج سے نافذ، دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز
نئی دہلی، مرکزی وزیر برائے تجارت و صنعت پیوش گوئل نے ہندستان اور عمان کے درمیان آزادانہ تجارتی معاہدے کے پیر سے نافذ العمل ہونے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا ہے مسٹر گوئل نے سوشل میڈیا پر کہا، “آج سے ہندستان-عمان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) نافذ ہو رہا ہے اور میں اس بارے میں لکھ رہا ہوں کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کو کیسے مزید مضبوط کرے گا۔”
وزیر تجارت نے کہا، “وزیر اعظم نریندر مودی کے ہندستان کی عالمی تجارتی شراکت داری کو وسعت دینے کے وژن سے متاثر یہ معاہدہ نئی مارکیٹیں کھول کر، برآمدات کو بڑھا کر، سرمایہ کاری کو راغب کر کے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں تیزی لا کر ہندستانی طلبہ، کاریگروں، خواتین، کسانوں، ماہی گیروں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے اداروں کو نمایاں طور پر فائدہ پہنچائے گا۔”
واضح رہے کہ دونوں ممالک نے گزشتہ سال دسمبر میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں نافذ ہو رہا ہے جب خلیجی خطے میں کشیدگی کی صورتحال کے باعث خطے کے ممالک کے ساتھ ہندستان کی تجارت متاثر ہوئی ہے۔
عمان ایک چھوٹا ملک ہے جس کی آبادی 55 لاکھ اور مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) 110 ارب ڈالر ہے، اس لیے ہندستان اور عمان کے متوقع تجارتی حجم کے آبادی اور معیشت کی حدود میں رہنے کا امکان ہے۔ ہندستان اور عمان کے درمیان 2024-25 میں دوطرفہ تجارت 10.61 ارب ڈالر کے برابر تھی۔
دوطرفہ معاہدے کے تحت بھارت کو عمان کی مارکیٹ میں اپنی برآمداتی فہرست کی 98.08 فیصد اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی (ٹیکس) میں 100 فیصد چھوٹ ملے گی۔ اس سے انجینئرنگ، ادویات، سمندری مصنوعات (سی فوڈ)، کپڑے، کیمیکلز، الیکٹرانکس، پلاسٹک اور جواہرات و زیورات کے شعبوں کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔ حکومت نے اس معاہدے کے تحت زیادہ افرادی قوت والے ملکی شعبوں کے مفادات کو خاص طور پر مدنظر رکھا ہے۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
وزیراعظم نے چھ سال مکمل ہونے پر پی ایم سواندھی یوجنا کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو پردھان منتری اسٹریٹ وینڈرز آتم نربھر ندھی (پی ایم سواندھی) اسکیم کے چھ سال مکمل ہونے پر اس کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پہل نے بغیر گارنٹی قرض، مالی شمولیت اور ترقی کے مواقع فراہم کر کے ان گنت ریہڑی پٹری والوں کی زندگی کو بدل دیا ہے وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، اسکیم کے مستفیدین کو مبارکباد دی اور ملک کی معیشت میں ان کے تعاون کی ستائش کی۔ مسٹر مودی نے کہا، “آج ہم پی ایم سواندھی اسکیم کے چھ سال مکمل کر رہے ہیں، جس نے بغیر گارنٹی قرض، مالی شمولیت اور ترقی کے نئے مواقع تک رسائی یقینی بنا کر ان گنت ریہڑی پٹری والوں کی زندگی کو بدل دیا ہے۔ یہ اسکیم بھروسے، وقار اور بااختیار بنانے کے بارے میں ہے۔ تمام مستفیدین کو میری مبارکباد، جن کا پختہ عزم اور کاروباری جذبہ ہمارے ملک کی معیشت کو مضبوط کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔”
مرکزی حکومت کی جانب سے جون 2020 میں کووڈ وبا کے درمیان شروع کی گئی، پی ایم سوانیدھی کو ان ریہڑی پٹری والوں کو اقتصادی سہارا فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا جن کا روزگار لاک ڈاؤن اور اقتصادی رکاوٹوں سے شدید متاثر ہوا تھا۔ یہ اسکیم اہل فروخت کنندگان کو بغیر کسی ضامن کے ورکنگ کیپیٹل لون حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے، جس سے انہیں اپنے کاروبار کو دوبارہ شروع کرنے اور اسے وسعت دینے میں مدد ملتی ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں، یہ پروگرام ایک اہم پہل کے طور پر ابھرا ہے جس کا مقصد سڑکوں پر ریہڑی پٹری لگانے والوں کو باضابطہ بینکنگ نظام میں لا کر ان کے درمیان مالی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔ مستفیدین کو ڈیجیٹل لین دین اپنانے کے لیے بھی ترغیب دی جاتی ہے اور وہ وقت پر قرض کی ادائیگی سے جڑی مراعات کے اہل ہیں۔
سرکاری حکام نے پی ایم سواندھی کو ایک انقلابی فلاحی اقدام کے طور پر بیان کیا ہے جس نے شہری علاقوں میں لاکھوں چھوٹے کاروباریوں کو بااختیار بنایا ہے، جس سے انہیں اپنی آمدنی میں بہتری لانے اور اپنی مالی لچک کو مضبوط کرنے میں مدد ملی ہے۔ وزیر اعظم کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں آیا ہے جب حکومت نے اسکیم کے چھ سال مکمل ہونے پر زمینی سطح کی کاروباری صلاحیت کی حمایت کرنے اور ملک بھر میں ریہڑی پٹری لگانے والوں کے درمیان خود انحصاری کو فروغ دینے میں اس اسکیم کے کردار کا ذکر کیا ہے۔
یواین آئی۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا2 days agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا3 days agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
ہندوستان1 week agoپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
جموں و کشمیر6 days agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
دنیا2 days agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
ہندوستان1 week agoایندھن کی قیمتوں پر کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، ہر روز ہو رہی ہے عوام کی جیب پر ڈکیتی
دنیا2 days agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
دنیا1 week agoمکمل طور پر اسرائیلی انخلاء ایک قومی ترجیح ہے:لبنانی صدر
دنیا3 days agoامریکہ اسرائیل کے تمام جرائم میں شریک ہے: ترجمان ایرانی دفترِ خارجہ
دنیا3 days agoایرانی صدر نے ایک بار پھر پاکستان کے کردار کو سراہا






























































































