تازہ ترین
پاک زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم نے پاکستانی حکومت کو کرتار پور راہداری کی طرز پر دیگر راستے کھولنے کی تجویز پیش کی

خبراردو:
پاکستان زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجا فاروق حیدر خان نے پاکستانی حکومت کو کرتار پور راہداری کی طرح پاک زیر انتظام میں موجود ہندو سکھ اور بدھ مذہب کے مذہبی مقامات کو کھولنے کی تجویز پیش کی ہے ۔
راجا فاروق نے کہا کہ پاک زیر انتظام کشمیر میں چھ سو سے زائد مختلف مذاہبی مقامات ہیں جن میں شاردا پٹیھ بھی شامل ہے اور انتظامیہ ان مقامات کو نئے سرے سے بحال کر کے جمون کشمیر کے یاتریوں کے لئے کھو لنے کا منصوبہ بنا رہی ہے ۔ جس سے سیاحت کو فروغ ملنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان چل رہا تنازعہ پر امن طریقے سے حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ انہوں نے پاکستانی حکومت سے ان تمام راستوں کو یاتریوں کیلئے کھولنے کی مانگ کی ہے ۔
واضح رہے پچھلے مہینے پاک بھارت کی دونوں سرکاروں نے پنجاب کے سکھوں کو کرتار پور گردوارے بغیر ویزے کے سفر کرنے کیلئے کرتار پور راستہ کھول دیا ہے ،۔ اور اسکی افتتاحی تقریب میں بھارت سے مرکزی وزیر ہرسمرت کور بادل شریک ہوئی تھیں ۔جنہوں نے کہا تھا کہ کرتار پور راہداری دونو ں ممالک کے مابین نفرت کو ختم کر سکتی ہے ۔
اسی مہینے ریاستی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے بھی پک زیر انتظام کشمیر میں موجود شاردا پٹھ کا راستہ کھولنے کیلئے وزیر اعظم مودی کو خط لکھا تھا ،۔اس سے پہلے عمران خان نے بھارتی صحافیوں کیساتھ بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی سرکار شاردا پھٹھ اور کٹسراج شرائن کھولنے پر گور کر رہے ہیں ۔
پاک بھارت کے درمیان خراب حالات کے بعد جہاں کرتار پور راہداری سے ایک امید کی کرن دیکھائی دے رہی وہیں اب اگر دونوں سرکاریں مل کر مذہبی مقامات کیلئے راستہ کھول کر دونوں اطراف کے لوگوں میں نفرتیں کم ہونگی ۔ اسکے علاوہ دونوں سرکاروں کیلئے بھی یہ مذاکرات شروع کرنے کا ایک راستہ بن سکتا ہے ۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں انسدادِ بدعنوانی بیورو نے رشوت خوری کے معاملے میں فارسٹ گارڈ کو گرفتار کر لیا
جموں، جموں و کشمیر انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے رشوت ستانی کے ایک معاملے میں ایک فارسٹ گارڈ (جنگلات کے محافظ) کو گرفتار کر لیا ہے۔
اے سی بی کے ترجمان کے مطابق ایک تحریری شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ ملزم نے شکایت کنندہ سے تفویض شدہ کاموں سے متعلق سیکیورٹی ڈپازٹ کی واپسی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے 20 ہزار روپے رشوت طلب کی تھی۔
بات چیت کے بعد ملزم مبینہ طور پر 15 ہزار روپے لینے پر آمادہ ہو گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ رشوت دینے پر آمادہ نہ ہونے والے شکایت کنندہ نے قانونی کارروائی کے مطالبے کے ساتھ اے سی بی سے رابطہ کیا۔
شکایت موصول ہونے پر اے سی بی نے خفیہ تصدیق (ویریفکیشن) کی، جس میں مبینہ طور پر ملزم ملازم کے خلاف رشوت طلب کرنے کی تصدیق ہوئی۔ اس کے بعد اے سی بی سینٹرل جموں پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی۔
ملزم کی شناخت وسیم احمد کے طور پر ہوئی ہے، جو ضلع کشتواڑ کے ہدیال علاقے کا رہائشی ہے اور اس وقت فارسٹ گارڈ کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ وہ مارواہ فاریسٹ ڈویژن کے ڈویژنل فاریسٹ آفیسر کے دفتر میں حسابات کا کام بھی سنبھال رہا تھا۔
اے سی بی کے مطابق اسے شکایت کنندہ سے 15 ہزار روپے رشوت طلب کرتے اور وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ موقع پر ہی آزاد گواہوں کی موجودگی میں اس کے قبضے سے رشوت کی رقم بھی برآمد کر لی گئی۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ایگزیکٹو مجسٹریٹ اور آزاد گواہوں کی موجودگی میں ملزم کی رہائش گاہ کی تلاشی بھی لی گئی ہے، جبکہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
سی بی ایس ای کے او ایس ایم سائبر سکیورٹی تنازع پر کانگریس نے کی وزیر تعلیم کے استعفے کی مانگ
نئی دہلی، کانگریس نے پیر کو مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) کے ‘آن اسکرین مارکنگ’ (او ایس ایم) نظام میں سائبر سکیورٹی میں نقب زنی کے تعلق سے مرکزی حکومت پر اپنا حملہ تیز کر دیا ہے۔ پارٹی نے وزارت تعلیم سے جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کی مانگ کی ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری (انچارج مواصلات) جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ سی بی ایس ای نے شروع میں اپنے ڈیجیٹل ایویلیوشین پلیٹ فارم میں خامیوں سے انکار کیا تھا، لیکن آخر کار اس نے تسلیم کر لیا کہ سسٹم میں نقب زنی ہوئی تھی۔ انہوں نے ٹھیکیدار کمپنی ‘سی او ای ایم پی ٹی’ کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے اور حکام پر الزام لگایا کہ وہ اس کمپنی کی خراب کارکردگی کے خدشات کے باوجود اسے بچا رہے ہیں۔ جے رام رمیش نے ‘ایکس’ پر پوسٹ میں کہا، “ہفتوں تک اپنے ‘آن اسکرین مارکنگ’ نظام میں سائبر سکیورٹی کی خامیوں سے انکار کرنے کے بعد سی بی ایس ای نے آخر کار تسلیم کر لیا ہے کہ سسٹم میں نقب زنی ہوئی ہے۔”
کانگریس رہنما نے سوال کیا کہ کیا اس سسٹم کو چلانے کے لیے ذمہ دار ٹھیکیدار کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا، “لیکن وہ اپنے ٹھیکیدار کمپنی ‘سی او ای ایم پی ٹی’ کے خلاف کیا کارروائی کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے؟ لگتا تو نہیں ہے۔” جے رام رمیش نے مزید دعویٰ کیا کہ معاہدہ سے پہلے ٹینڈر کی شرائط میں کی گئی تبدیلیوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وینڈر کو بچانے کی کوشش کی گئی تھی۔
ان کے مطابق، اگست 2025 میں جاری سی بی ایس ای کے ‘ریکویسٹ فار پروپوزل’ (آر ایف پی) میں ان دفعات کو برقرار رکھا گیا تھا، جو مؤثر طریقے سے کام نہ کرنے والے وینڈرز کو بلیک لسٹ کرنے کا بورڈ کو اختیار دیتے تھے۔ تاہم، انہوں نے الزام لگایا کہ اگلے ہی مہینے جاری ایک ترمیمی خط کے ذریعے ایسی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کا بورڈ کا اختیار ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے کہا، “ایسا لگتا ہے کہ سی بی ایس ای اور وزارت تعلیم میں بیٹھے ‘سی او ای ایم پی ٹی’ کے مددگاروں کو پہلے سے ہی اندازہ تھا کہ ٹھیکیدار کمپنی اس کام کے لائق نہیں ہوگی۔” انہوں نے اس تبدیلی کو ‘سی او ای ایم پی ٹی کو بچانے کی کوشش اور حکومت کی سرپرستی میں ہونے والی سرگرمی’ بتایا، جو کمپنی کو باقاعدہ طور پر کانٹریکٹ ملنے سے پہلے ہی شروع ہو گیا تھا۔
یہ تنازع پرچوں کے ڈیجیٹل ایویلیوشن کے لیے سی بی ایس ای کے زیر استعمال او ایس ایم نظام سے جڑا ہے، جو ملک بھر کے لاکھوں طلبہ کو متاثر کرنے والے امتحانی عمل کا انتہائی اہم حصہ ہے۔ سائبر سکیورٹی کی خامیوں اور جانچ کے عمل کی شفافیت کے تعلق سے پیدا ہوئے خدشات نے سیاسی تنقید کو ہوا دی ہے۔ اس کے بعد اپوزیشن جماعتیں اس سسٹم کے انتظام اور اس سے متعلق کانٹریکٹ دیے جانے کے معاملے میں مزید شفافیت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ حکومت پر حملے کو اور تیز کرتے ہوئے جے رام رمیش نے وزارت تعلیم پر ان بے ضابطگیوں کو شہ دینے کا الزام لگایا، جنہوں نے ان کے دعوے کے مطابق طلبہ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا، “ملک کو کب تک ایسے ‘وزیر پردھان’ کو برداشت کرنا پڑے گا، جن کی وزارت نے اپنے ٹینڈروں میں ایسی ناقابل تصور بے ضابطگیوں کو ہونے دیا اور اوربڑھاوا دیا، جس سے لاکھوں طلبہ کا ذہنی سکون چھن گیا؟” کانگریس رہنما نے عوامی عہدے پر جوابدہی کی کمی کا الزام لگاتے ہوئے وزیر اعظم اور مرکزی وزیر تعلیم کو بھی نشانہ بنایا۔ جے رام رمیش نے کہا، “وزیر پردھان کو اپنے ‘راج دھرم’ پر عمل کرنا چاہیے اور استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ان الزامات پر وزارت تعلیم، سی بی ایس ای یا سی او ای ایم پی ٹی کی طرف سے فی الحال کوئی فوری ردعمل نہیں آیا ہے۔
بورڈ نے پہلے یہ رخ اپنایا تھا کہ وہ اپنے امتحان اورایویلیوشن نظام کی سکیورٹی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ ان تازہ بیانات نے سی بی ایس ای کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے کام کاج کو لے کر چل رہے سیاسی تنازع کو اور بڑھا دیا ہے، جس میں اپوزیشن سائبر سکیورٹی کے اقدامات، خریداری کے طریقہ کار اور تعلیمی نظام کے اندر جوابدہی پر جواب مانگ رہی ہے۔
یواین آئی۔ایف اے
دنیا
ایران امریکہ جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے: ایران
تہران، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بلاشبہ تمام محاذوں پر جنگ بندی ہے، جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے۔
اپنے بیان ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تمام محاذوں پر خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا2 days agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا3 days agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
ہندوستان1 week agoپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
جموں و کشمیر6 days agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
دنیا2 days agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
دنیا1 week agoمکمل طور پر اسرائیلی انخلاء ایک قومی ترجیح ہے:لبنانی صدر
دنیا2 days agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
ہندوستان1 week agoایندھن کی قیمتوں پر کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، ہر روز ہو رہی ہے عوام کی جیب پر ڈکیتی
دنیا3 days agoامریکہ اسرائیل کے تمام جرائم میں شریک ہے: ترجمان ایرانی دفترِ خارجہ
دنیا3 days agoایرانی صدر نے ایک بار پھر پاکستان کے کردار کو سراہا






























































































