جموں و کشمیر
کرکٹ گھوٹالہ کیس :ہائی کورٹ نے فاروق عبداللہ اور دیگران کے خلاف ای ڈی کی چارج شیٹ کالعدم قرار دی

سری نگرجموں و کشمیر لداخ ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعلی ڈاکٹر فاروق عبداللہ و دیگران کے خلاف جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن میں مبینہ منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے دائرچارج شیٹ کو کالعدم قرار دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہائی کورٹ کے سنگل بینچ جسٹس سنجیو کمار نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور دیگر افراد کے خلاف ای ڈی کی طرف سے مبینہ منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے مں دائر چارج شیٹ کو منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔
بتادیں کہ ای ڈی نے چارج شیٹ میں نیشنل کانفرنس کے سربراہ عبداللہ، احسن احمد مرزا (جے کے سی اے کے سابق خزانچی)، میر منظور غضنفر (جے کے سی اے کے ایک اور سابق خزانچی) اور کچھ دیگر کو ملزم کے طور پر نامزد کیا تھا۔
چارج شیٹ میں درج افراد نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ عرضی گزار کے وکیل نے ہائی کورٹ میں یہ کہتے ہوئے درخواست کی تھی کہ ای ڈی کا اس کیس پر کوئی دائرہ اختیار نہیں لہذا ان کے موکلوں کے خلاف دائر شیٹ کو منسوخ کیا جانا چاہئے۔
جموں وکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے دلائل سننے کے بعد 7اگست کو فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ ای ڈی کی نمائندگی کرنے والے ایڈیشنل سالسٹر جنرل ایس وی راجو نے ورچول مو ڈ کے ذریعے اپنے دلائل کورٹ کے سامنے رکھے تھے۔
اس کیس کے سلسلے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ستمبر 2019کے روز سابق خزانچی احسن مرزا کی گرفتاری عمل میں لائی اور نومبر کے مہینے میں چارج شیٹ بھی پیش کیا تھا۔
جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے سربراہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کوبھی کئی مرتبہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سری نگر کے آفس پر طلب کیا گیا اور فاروق عبداللہ سمیت دیگر افراد کی21.55کروڑ روپیہ مالیت کی جائیداد کو بھی ضبط کیا ۔
ای ڈی نے اس سے قبل کہا تھا کہ تحقیقات کے دوران منکشف ہوا کہ جموں وکشمیرکرکٹ ایسو سی ایشن کو مالی سال 2005-06اور 2011-12کے دوران بی سی سی آئی کی جانب سے تین مختلف بینک کھاتوں میں 94.06کروڑ روپیہ موصول ہوئے تھے۔
ای ڈی نے الزام لگایا کہ جموں وکشمیر کرکٹ ایسو سی ایشن کے نام پر کئی دوسرے افراد نے ذاتی بینک کھاتے کھولے تھے جن میں یہ رقم منتقل کی گئی تھی۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ اسٹاف ویلفیئر ایسوسی ایشن کی نئی ایگزیکٹو کمیٹی کا اعلان
سرینگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ اسٹاف ویلفیئر ایسوسی ایشن نے اپنی نئی ایگزیکٹو کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یہ نوٹی فکیشن ایسوسی ایشن کے صدر سید انور شاہین نے جنرل سکریٹری تپیشور کے مشورے سے جاری کیا، جس کا مقصد ایسوسی ایشن کو مضبوط بنانا اور جموں، سرینگر اور مین ونگ کے تمام اداروں میں ہائی کورٹ کے ملازمین کی بہبود کو فروغ دینا ہے۔
نئی تشکیل شدہ ایگزیکٹو کمیٹی میں مظفر احمد میر (سرینگر) اور سوربھ رینا(جموں) بطور نائب صدور شامل ہیں، جب کہ عزیر ناظر (سرینگر) اور شوکت علی (جموں) کو جوائنٹ سکریٹری نامزد کیا گیا ہے۔ الطاف حسین جنجوعہ(ٹرانسلیٹر، جموں) اور جاوید احمد میر بطور لیگل ایڈوائزر خدمات انجام دیں گے۔دیگر عہدیداران میں دلبیر سنگھ پٹھانیہ (جموں) اور سہیل احمد گنائی (سرینگر) کو خزانچی مقرر کیا گیا ہے، عامر خان کو آرگنائزر نامزد کیا گیا، رفیق احمد کو پبلسٹی سکریٹری اور نیاز احمد لون و نتیش سنگھ کو ترجمان مقرر کیا گیا ہے۔ایگزیکٹو کمیٹی میں انیس اراکین بھی شامل ہیں جو ہائی کورٹ کے مختلف کیڈرز اور ونگز کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں ریاض احمد بھٹ، جعفر احمد زہد، سندیپ شرما، جنید ایوب، وشال، مکیش بخشی، کنال شرما، شاکب شوکت، چنی لال، جتیندر سنگھ، وشو ورما، پروین کمار، سہیل احمد ڈار، محمد رفیق بانی، رضوان، ملک عباس شمیم، ریاض احمد حجام، فیاض احمد کمار اور وپن چندر پال شامل ہیں۔ایسوسی ایشن نے اعتماد کا اظہار کیا کہ نئی تشکیل شدہ ایگزیکٹو کمیٹی ہائی کورٹ کے ملازمین کے مفادات اور فلاح و بہبود کے تحفظ، ہائی کورٹ کے تمام ونگز کے درمیان عملے میں ہم آہنگی کو مضبوط بنانے، اور اپنے اراکین کی پیشہ ورانہ اور سماجی بہبود کے لیے اقدامات کرنے کے لیے لگن کے ساتھ کام کرے گی۔ ایسوسی ایشن نے امید ظاہر کی کہ نئی ٹیم ہائی کورٹ آف جموں و کشمیر اور لداخ کے ملازمین کے درمیان اتحاد، تعاون اور خدمت کے جذبے کو برقرار رکھتی رہے گی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
سکیورٹی فورسز نے اننت ناگ میں دہشت گردوں سے منسلک دو مکانات منہدم کر دیے
سری نگر، جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں ایک پولیس اہلکار کے قتل کے بعد سکیورٹی فورسز نے کارروائی تیز کرتے ہوئے جنوبی کشمیر میں مبینہ طور پر دہشت گردوں کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے دو مکانات منہدم کر دیے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق بدھ کی رات اننت ناگ کے بجبہاڑہ علاقے میں لشکرِ طیبہ کے رکن عادل احمد ٹھوکر کے اہلِ خانہ کے مکان کے خلاف کارروائی شروع کی گئی۔ دوسرا منہدم کیا گیا مکان ہارون گنائی کے خاندان کا تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق دونوں مکانات کو دھماکہ خیز مواد کی مدد سے گرایا گیا۔ تاہم پولیس نے ابھی تک اس پیش رفت پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔
یہ کارروائی جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں جموں و کشمیر پولیس کے ایک ہیڈ کانسٹیبل کو گولی مار کر ہلاک کیے جانے کے ایک روز بعد کی گئی۔ اس واقعے کے بعد بڑے پیمانے پر سکیورٹی آپریشن شروع کیا گیا اور وادی میں مشتبہ دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف وسیع کارروائیاں کی گئیں۔
وسیع پیمانے پر جاری مہم کے دوران مختلف اضلاع سے تقریباً دو ہزار مشتبہ افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے، جن پر دہشت گردوں کی معاونت کا شبہ ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ سال اپریل میں پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد اب تک دہشت گردوں سے منسلک کم از کم نو مکانات منہدم کیے جا چکے ہیں۔
یواین آئی۔ ظا
جموں و کشمیر
عمر نے نڈا کے بیان کی تردید کی، کہا جے کے ایس ایس بی پیپر لیک ایل جی انتظامیہ کے دور میں ہوا تھا
سرینگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کے روز جے کے ایس ایس بی (جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ) پیپر لیک پر مرکزی وزیر اور بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈا کے تبصرے پر ان پر پلٹ وار کرتے ہوئے ان پر حقائق کو غلط انداز میں پیش کرنے کا الزام لگایا اور انہیں یاد دلایا کہ بھرتی کا یہ گھپلہ 2022 میں ایل جی کی قیادت والی انتظامیہ کے تحت ہوا تھا، نہ کہ این سی – کانگریس حکومت کے دوران۔
عمر نے پیپر لیک کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے انجام پر بھی سوال اٹھائے اور نڈا سے کہا کہ وہ اپنی اگلی پریس کانفرنس میں اس کی رپورٹ کے نتائج کو عام کریں۔
امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کے جاری احتجاج پر بدھ کی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نڈا نے دعویٰ کیا تھا کہ جے کے ایس ایس بی پیپر لیک اس وقت ہوا تھا جب کانگریس اور نیشنل کانفرنس اقتدار میں تھیں۔
عمر نے ایکس پر لکھا، ”جی جے پی نڈا، جموں و کشمیر میں ایس ایس بی پیپر لیک کے بارے میں آپ بالکل درست ہیں، لیکن آپ سے تاریخ غلط ہو گئی ہے۔ یہ 2022 کا واقعہ ہے۔ حکومت این سی اور کانگریس کی نہیں تھی۔ یہ لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت والی حکومت تھی لیکن ہر کسی کو اس ناکامی کی یاد دلانے کے لیے آپ کا شکریہ۔ اس میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے یہ مشاہدات اور احکامات شامل تھے۔“
”ہمیں نہیں معلوم کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی یا اس کی رپورٹ کا کیا ہوا۔ شاید آپ اپنی اگلی پریس کانفرنس میں ہمارے ساتھ اس کی معلومات شیئر کر سکیں۔“
این سی کے چیف ترجمان اور ایم ایل اے تنویر صادق نے بھی نڈا پر حقائق کو غلط طریقے سے پیش کرنے کا الزام لگایا۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھرتی پیپر لیک 2022 میں ہوا تھا، جب جموں و کشمیر لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ کے تحت تھا اور یونین ٹیریٹری میں کوئی منتخب حکومت نہیں تھی۔
صادق نے کہا، ”جموں و کشمیر میں بھرتی کا پیپر لیک 2022 میں لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ کے تحت ہوا تھا، جس کا مطلب ہے کہ براہ راست آپ کے تحت، جب وہاں کوئی منتخب حکومت نہیں تھی۔ موجودہ حکومت نے صرف اکتوبر 2024 میں اقتدار سنبھالا تھا۔“
انہوں نے مزید کہا کہ اگر نڈا لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ اور منتخب حکومت کے درمیان فرق کرنے میں ناکام ہیں، ”تو انہیں کسی کو لیکچر دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔“
یو این آئی ایم جے
دنیا7 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
دنیا7 days agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
ہندوستان1 week agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
جموں و کشمیر6 days agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
دنیا1 week agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا7 days agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
دنیا7 days agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
ہندوستان6 days agoدہلی پولیس نے صحت کی تشویش کے پیش نظر سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیا
ہندوستان1 week agoاتراکھنڈ کے طلبہ پیپر لیک کے خلاف ‘چھاتروں کی گونج’ سے جڑے: راہل
ہندوستان7 days agoامریکی فوج کے ایران پر تازہ حملوں میں 8 افراد جاں بحق
ہندوستان1 week agoسرکار نے 62 ہزار کروڑ کی لاگت سے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم کو منظوری دی











































































































