تازہ ترین
کشمیر میں برف باری کے بعد موسم میں بہتری آئی،درجہ حرارت میں اضافہ

دن بھرکھلی دھوپ نکلی، ہوائی سروس،رابطہ سڑکیں اور بجلی سپلائی بحال
31جنوری تک موسم خشک رہے گا:محکمہ موسمیات
سری نگر: کشمیروادی میں دوسری تازہ برف باری کا سلسلہ گزشتہ رات تھم گیا جس دوران موسم میں بہتری کے ساتھ ہی معمولات کی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوئی۔ اس دوران حکام نے تقریباً تمام رابطہ سڑکوں سے برف ہٹا لی جب کہ بجلی سپلائی کو بحال کیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں نے راحت کی سانس لی۔
اس دوران حکام سرینگر جموں شاہراہ کو قابل آمد رفت بنانے میں مصروف تھے جبکہ ہوائی سروس کو بھی چالو کیا گیا ہے۔ادھر کھلی دھوپ نکلنے کے ساتھ ہی درجہ حرارت میں برف برف کے باوجودبہتری آئی ہے۔اس دوران محکمہ موسمیات نے 31جنوری تک وادی کشمیر میں موسم خشک رہنے کی پیش گوئی کی ہے ۔
کشمیرنیوزسروس (کے این ایس) کے مطابق وادی کشمیر کے شمال،جنوب اور وسطی کشمیر میں سنیچر کے روز ہوئی دوسری شدید باری برف کا سلسلہ دوران شب ہی رک گیا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔اس دوران اتوار کو پوری وادی میں صبح سویرے سے ہی آسمان صاف رہا ہے جس دورا ن کھلی دھوپ نکلی۔
اس دوران موسم میں بہتری اور برف باری اور بارشو ں کا سلسلہ رک جانے کے ساتھ ہی انتظامیہ نے مشینری کو متحرک کیا ہے جنہوں نے پوری وادی کے تمام رابطہ سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام شروع کیا ہے اس دوران بعد دو پہر تک تقریباً پوری وادی میں تمام چھوٹی بڑی سڑکیں آمد رفت کے لئے بحال کی گئی تھی،جبکہ محکمہ بجلی نے بھی ان علاقوں میں بجلی سپلائی کو بحال کیا ہے جہاں گزشتہ روز شدید برف باری اور بارشوں کے نتیجے میں سپلائی متاثر ہوئی تھی۔
محکمہ آر اینڈ بھی،میکنکل اور پی ایم جی ایس وائی کے ذرائع نے بتایا پوری وادی میں تقریباً تمام رابطہ سڑکوں کو قابل آمد رفت بنایا گیا ہے۔انہوں نے بتایا برف باری رک جانے کے ساتھ ہی برف ہٹانے کا کام شروع کیا گیا ہے جس کو بعد دو پہر تک مکمل کیا گیا ہے۔ادھر دھوپ نکلنے کے ساتھ ہی ہوائی سروس کو بحال کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں یہاں گزشتہ روز سے درماندہ مسافروں نے راحت کی سانس لی ہے۔
تاہم سرینگر جموں شاہراہ کے متعدد مقامات پرپسیاں گر آنے کے نتیجے اور برف باری کے باعث سڑک پر پھلسن پیدا ہونے کی وجہ سے شاہراہ پر دوسری روز بھی ٹریفک بحال نہیں کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں دونوں اطراف کے درماندہ مسافروں اور ٹرک ڈرائیوروں کو تکلیف دہ صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے اس دوران ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام نے بتایا شاہراہ کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاہم بعد دو پہر تک شاہراہ کو بحال کرنے کی کوشش جاری تھی جس پر مشینری اور مزدور کام پر لگائے گئے تھے۔
خیال رہے وادی کشمیراور خطہ پیرپنچال اورچناب وادی میں جمعہ اورسنیچر کی درمیانی رات اور دن بیشتر علاقوں میں 4انچ سے لیکر ایک فٹ تک تازہ برف جمع ہوئی تھی۔سنیچر کے روز برف باری کے بعدسڑکوں پرپھسلن پیداہوگئی اورگاڑیوں کاچلنامشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بن گیا۔اس دوران تازہ برف باری کاسلسلہ شروع ہونے کے بعدحکام نے سری نگرجموں شاہراہ کویک طرفہ ٹریفک کیلئے بندکردیاجبکہ سنیچر کوشیڈول کے مطابق گاڑیوں کوجموں سے سری نگرآنے کی اجازت تھی۔حکام نے بتایاکہ جموں شاہراہ پر تازہ برفباری کے نتیجے میں ہفتہ کو پھسلن پیدا ہونے کے بعد اس پرگاڑیوں کی آمد و رفت بند کردی گئی تھی۔
حکام نے بتایا کہ جواہر ٹنل کے آر پار تازہ برفباری کی وجہ سے شاہراہ پر پھسلن پیدا ہوئی ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں کا چلنا خطرے سے خالی نہیں تھا، اس لئے شاہراہ کو ہر قسم کے ٹریفک کیلئے فی الحال بند کیا گیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ شاہراہ بند ہونے کے بعد جواہر ٹنل کے دونوں طرف سینکڑوں گاڑیاں در ماندہ ہوکر رہ گئی ہیں۔دریں اثناء بھاری برف باری،دُھند اورکم روشنی ہونے کے باعث فضائی سروس بھی معطل رہی اورسنیچر کے روزسری نگرہوائی اڈے کوپروازوں کی آواجاہی کیلئے بندکردیاگیا-
ائرپورٹ حکام نے بتایاکہ روشنی کم ہونے اوررَن وے پربرف موجودہونے کے باعث پروازوں کی آمداورروانگی ممکن نہیں ہوسکی جس کے بعد اتوار کو سروس کو باضابطہ طور بحال کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وادی میں اور بیرون وادی میں درماندہ لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔ادھر محکمہ موسمیات نے بتایاگزشتہ رات اور اتوارکے روز موسم میں بہتری ریکارڑ درج ہوا ہے۔محکمہ موسمیات نے اپنی پیش گوئی میں بتایا اتوارسے موسم پھر تبدیل ہوگا،31جنوی تک خشک رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔(کے این ایس)
ہندوستان
پرچہ لیک کے خلاف سخت دفعات پر مشتمل ترمیمی بل لوک سبھا میں پیش
نئی دہلی، حکومت نے امتحانات میں پرچہ لیک اور منظم امتحانی دھاندلی پر سخت گرفت کے مقصد سے پیر کے روز لوک سبھا میں “لوک پریکشا (غیر قانونی ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026” پیش کیا سائنس و ٹیکنالوجی اور عملہ کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان یہ بل ایوان میں پیش کیا۔ بل میں قصورواروں کے لیے 10 سال تک قید، 10 کروڑ روپے تک جرمانہ، جائیداد کی ضبطی، خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں، مقررہ مدت میں تفتیش اور سماعت سمیت کئی سخت نئی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں مختلف امتحانات میں پرچہ لیک اور دیگر بے ضابطگیوں نے امتحانی نظام کی شفافیت، غیر جانبداری اور ساکھ کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان واقعات کی روک تھام اور قصورواروں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے قانون کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ یہ بل “لوک پریکشا (غیر قانونی ذرائع کی روک تھام) ایکٹ، 2024” میں ترمیم کی تجویز پیش کرتا ہے۔
ترمیمی بل کے تحت تمام ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اس قانون کے تحت جرائم کی سماعت کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے اور انہیں نوٹیفائی کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ ان عدالتوں میں مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوگی اور چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد تین ماہ کے اندر مقدمات کا فیصلہ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح ہائی کورٹ میں دائر اپیلوں کا بھی تین ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔
بل کے مطابق مرکزی حکومت کو ضرورت پڑنے پر کسی بھی معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹاسک فورس (اسپیشل ٹاسک فورس) تشکیل دینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ قانون کے تحت درج مقدمات کی تفتیش دو ماہ کے اندر مکمل کرنا لازمی ہوگا۔ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ان مقدمات کی مؤثر پیروی کے لیے ایک یا ایک سے زائد خصوصی سرکاری وکلاء (اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرز) مقرر کرنے کا اختیار بھی دیا جائے گا۔
بل میں منظم طریقے سے پرچہ لیک کرنے، امتحانات میں غیر قانونی ذرائع استعمال کرانے یا ایسے جرائم میں ملوث افراد کے لیے سزا میں اضافہ کرتے ہوئے دو سال سے 10 سال تک قید اور ایک کروڑ روپے سے 10 کروڑ روپے تک جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ عدالت کو بھارتیہ نیائے سنہتہ کی متعلقہ دفعات کے تحت اضافی سزا سنانے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
بل کی دفعات کے مطابق اگر کوئی سروس فراہم کرنے والا ادارہ، ایجنسی یا کمپنی اس نوعیت کے جرم میں ملوث پائی جاتی ہے تو اس پر ایک کروڑ روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ امتحان کے انعقاد پر آنے والی اصل لاگت بھی متعلقہ ادارے سے وصول کی جائے گی اور اسے چار سال تک کسی بھی امتحانی عمل سے متعلق کام انجام دینے سے محروم رکھا جا سکے گا۔
اگر کسی سروس فراہم کرنے والے ادارے کے ڈائریکٹر، اعلیٰ انتظامیہ، افسران، ملازمین یا دیگر ذمہ دار افراد جرم میں ملوث پائے جاتے ہیں تو انہیں بھی دو سے 10 سال تک قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا ہوگا۔
بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ اگر کوئی امتحانی اتھارٹی، اس سے وابستہ ادارہ یا کوئی منظم گروہ اس جرم میں ملوث پایا جاتا ہے تو متعلقہ افراد کے خلاف پانچ سے 10 سال تک قید اور کم از کم ایک کروڑ روپے جرمانے جیسی سخت کارروائی کی جا سکے گی۔
ترمیمی بل کے تحت جرم سے حاصل کی گئی جائیداد ضبط کرنے کی بھی تجویز رکھی گئی ہے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والے مالی فائدے کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کا مقصد عوامی امتحانی نظام میں شفافیت، غیر جانبداری اور اعتماد کو مزید مضبوط بنانا، نوجوانوں کا امتحانی نظام پر بھروسہ بڑھانا اور پرچہ لیک و منظم امتحانی مافیا کے خلاف مؤثر اور مقررہ مدت میں کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔ مرکزی کابینہ کی منظوری کے بعد یہ ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ اے ایم
ہندوستان
ای-20 پیٹرول کے مسئلے پر ملک گیر مہم چلائے گی عآپ: کیجریوال
نئی دہلی، عام آدمی پارٹی (عآپ) نے ای-20 پیٹرول کے مسئلے پر ملک گیر مہم تیز کرنے کا اعلان کیا ہےعآپ کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے پیر کو پریس کانفرنس میں کہا کہ پارٹی کی طرف سے یکم اگست کو یہاں کانسٹی ٹیوشن کلب میں ‘نیشنل ٹاؤن ہال اگینسٹ ای-20’ کا اہتمام کیا جائے گا جس میں ملک بھر سے لوگ براہِ راست اور آن لائن دونوں ذرائع سے جڑ سکیں گے۔ پروگرام میں ای-20 کے مسئلے میں دلچسپی رکھنے والے ماہرین، گاڑیوں کے مالکان اور اس سے متاثرہ لوگوں کو اپنی بات رکھنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ای-20 پیٹرول کے مسئلے پر آگے کی حکمتِ عملی پر بھی تبادلہٴ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے لوگوں سے بڑی تعداد میں ٹاؤن ہال میں شامل ہونے کی اپیل کی۔
انہوں نے بتایا کہ دہلی اور آس پاس کے شہروں سے آنے والے لوگ کانسٹی ٹیوشن کلب پہنچ کر پروگرام میں براہِ راست طور پر حصہ لے سکتے ہیں، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں رہنے والے لوگ آن لائن جڑ سکیں گے۔ آن لائن جڑنے کے لیے 8588833212 نمبر پر جمعہ تک واٹس ایپ کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس کے بعد شرکاء کو ایک لنک بھیجا جائے گا، جس کے ذریعے وہ ہفتہ کو پروگرام سے آن لائن جڑ سکیں گے۔
مسٹر کیجریوال نے وزیرِ اعظم سے ای-20 پیٹرول کے مسئلے پر مداخلت کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں لوگ اس مسئلے کی وجہ سے پریشان ہیں اور گاڑیوں کے مالکان کی طرف سے مائلیج نیز گاڑیوں پر برے اثرات کی شکایتیں سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح نوجوانوں نے متحد ہو کر اپنی آواز اٹھائی اور حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، اسی طرح ای-20 کے مسئلے پر بھی لوگوں کو متحد ہو کر آواز اٹھانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ای-20 سے جڑے تمام فریقین کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر ان کے مسائل اور تجاویز کو سامنے رکھا جائے گا۔
انہوں نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے اسے نوجوانوں کی یکجہتی کا نتیجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ملک کے نوجوانوں نے متحد ہو کر اپنی آواز اٹھائی اور حکومت کو جھکنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اب اسی طرح ای-20 کے مسئلے پر بھی لوگوں کو متحد ہو کر اپنی آواز اٹھانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
بیہار میں طلبہ پر اے کے-47 سے گولی چلانے کا دعویٰ، راہل نے مودی حکومت پر بولا حملہ
نئی دہلی، لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے بہار میں مظاہرہ کر رہے طالب علموں پر اے کے-47 سے گولیاں چلانے کا دعویٰ کرتے ہوئے حکومت پر شدید حملہ کیا اور الزام لگایا کہ سرکاری نظام طالبہ کے خلاف ‘جان لیوا’ قدم اٹھا رہا ہے مسٹر گاندھی نے پیر کو سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر لکھا کہ خبریں ہیں کہ بیہار میں مظاہرہ کر رہے طلبہ پر اے کے-47 سے گولیاں چلائی گئیں اور سینکڑوں طالب علموں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔ انہوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی پر اپنے وعدے سے پلٹنے کا الزام لگایا اور سوال کیا کہ طلبہ پر کوئی ایف آئی آر درج نہ کرنے اور انہیں رہا کرنے کا وعدہ کہاں گیا۔ حکومت نے وعدے نبھانے کے بجائے طالب علموں پر مہلک حملے اور بربریت کی۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ دہلی میں طالب علموں پر پیلٹ گن چلائی گئی اور بہار میں اے کے-47 کا استعمال ہوا۔ ان کے مطابق اتر پردیش، مغربی بنگال، بیہار اور دہلی ہر جگہ طلبہ کے خلاف کارروائی کا ایک جیسا پیٹرن دکھائی دے رہا ہے۔
انہوں نے حکومت پر جھوٹے وعدے کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ تعلیمی نظام میں اصلاح کرنا اس کے بس کی بات نہیں ہے۔
حکومت ہر طریقے سے طلبہ کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
کانگریس رہنما نے مسٹر مودی سے طالب علموں سے معافی مانگنے اور ان پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ دہرایا اور کہا کہ کارروائی طالب علموں پر نہیں، بلکہ ان لوگوں پر ہونی چاہیے جنہوں نے ان پر تشدد کیا۔
یو این آئی۔ ایف اے
دنیا5 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا6 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکے سے تباہ ہونے کا دعویٰ، سینٹکام کی تردید
دنیا1 week agoایران نے ہرمزگان صوبے پر امریکی حملوں میں شہید ہونے والے شہریوں کی تصاویر جاری کر دیں
ہندوستان6 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoجے ڈی وینس کی فیملی کے اچانک سفری مطالبات پر خفیہ سروس کے اہلکار نالاں
دنیا5 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
ہندوستان5 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
دنیا1 week agoامریکہ کے پاس مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا کوئی جواز نہیں: اسماعیل بقائی
دنیا1 week agoسعودی عرب کے شہر الخرج میں پرنس سلطان ائیر بیس کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا: ایرانی میڈیا
دنیا7 days agoایرانی افواج دشمن کی دراندازی کو فوری طور پر ناکام بنانے کیلئے تیار ہیں: آئی آر جی سی




































































































