جموں و کشمیر
کولگام سیٹ پر اس بار سخت تکونی مقابلے کی توقع

سری نگر، جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کی کولگام اسمبلی نشست جس پر گذشتہ کم و بیش تین دہائیوں سے سی پی آئی (ایم) کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی براجمان ہیں، پر ہونے الے اسمبلی انتخابات میں تکونی مقابلے کی امید کی جا رہی ہے۔
کولگام اسمبلی حلقے سے 10 امید وار میدان میں اتر کر اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لئے سرگرم عمل ہیں لیکن حلقے پر مسلسل چار بار کامیابی کا جھنڈا گاڑنے والے امید وار محمد یوسف تاریگامی اور پی ڈی پی امید وار محمد امین کے لئے پہلی بار الیکشن لڑنے والے جماعت اسلامی حمایت یافتہ امید وار سیار احمد ریشی ایک بڑے چلینج کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔
محمد یوسف تاریگامی کو اس بار نیشنل کانفرنس – کانگریس الائنس کا بھی سپورٹ حاصل ہے جس کی وجہ سے ان کو ایک مضبوط امید وار کے طور پردیکھا جا رہا ہے تاہم 42 سالہ سیار احمد ریشی کا بھی علاقے میں انجام دی جانے والی تعلیمی خدمات کے باعث نوجوان حلقوں میں گہرے اثر و نفوذ کو بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر تاریگامی کے ایک قریبی ساتھی نے کا کہنا ہے: ‘فیصلہ لوگوں کو کرنا ہے لیکن ہم پُر امید ہیں کیونکہ انتخابی مہم کے دوران بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو کر ہمارا پُر جوش استقبال کرتے ہیں’۔
انہوں نے کہا: ‘لوگ سیاسی طور پر بالغ النظر ہیں وہ سیکولر ووٹ کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے، وہ جانتے ہیں کہ کون لیڈر ایسا ہے جو لوگوں کو در پیش چلینجوں کا سامنا کر سکتا ہے’۔
سیاسی مبصرین کہتے ہیں: ‘اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تاریگامی صاحب ایک سینئر لیڈر ہیں اور اس سیٹ پر لگاتار کامیابیاں حاصل کرچکے ہیں لیکن اس بار سیاسی ماحول مختلف ہے’۔
انہوں کا کہنا ہے: ‘شمالی کشمیر میں خاص طور پر سیاسی بیانیہ بدل رہا ہے’۔
جماعت اسلامی حمایت یافتہ سیار احمد کے ایک حامی یاور احمد کا کہنا ہے:’لوگ جگہ جگہ پر ہمارا والہانہ استقبال کرتے ہیں اور لوگوں کے خیالات جان کر لگتا ہے کہ وہ تبدیلی چاہتے ہیں’۔
انہوں نے کہا: ‘اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمیں ایک بہت بڑے چلینج کا سامنا ہے لیکن لوگوں پر ہمیں پورا بھروسہ ہے کہ وہ ہمیں نا امید نہیں کریں گے’۔
سیار احمد نے چند روز قبل میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا: ‘لوگ جانتے ہیں جماعت اسلامی سے بہتر کوئی جماعت ان کی نمائندگی نہیں کر سکتی ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘جماعت اسلامی ہمیشہ امن کی خواہاں رہی ہے،ہم نے کبھی تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ ہم ہمیشہ سے جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں’۔
سیار احمد جنہوں نے پولیٹکل سائنس میں ایم فل کی ڈگری حاصل کی ہے، درس وتدریس سے وابستہ رہے ہیں اور اس دوران انہوں نے کولگام اور اننت ناگ کے ڈگری کالجوں میں کنٹریکچول لیکچرر کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سیار احمد، جو علاقے میں ‘سیار سر’ کے نام سے مشہور ہیں، تعلیم یافتہ نوجوانوں میں کافی مقبول ہیں۔
ایک مقامی شخص نے بتایا: ‘ سیار صاحب کی جو علاقے میں تعلیمی خدمات ہیں ان کو شاید ہی فراموش کیا جاسکتا ہے،نوجوان ان کے شیدائی ہیں لہذا ان کے حق میں ووٹ ڈال سکتے ہیں’۔
پی ڈی پی امید وار محمد امین ڈار جو ایک زمانے میں محمد یوسف تاریگامی کے دست راست رہے ہیں، کے حلقے میں اثر کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا ہے۔
پی ڈی پی کے جنوبی کشمیر کے میڈیا کوآڈینیٹر نیاز حسین کا کہنا ہے: ‘محمد امین ڈار وہ امید وار ہیں جن کو پارٹی نے مکمل سروے کے بعد اس نشست کے لئے کھڑا کیا ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘وہ اس سیٹ کے مستحکم امید وار ہیں لہذا ہماری جیت یقینی ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘سال 2014 کے انتخابات میں تاریگامی صاحب نے پی ڈی پی کے امید وار سے صرف 120 ووٹ لے کر جیت درج کی تھی لیکن اس بار جیت ہماری ہوگی’۔
موصوف کوآرڈینیٹر نے کہا: ‘جہاں تک جماعت اسلامی کے امید وار کا تعلق ہے تو اس کا زیادہ اثر نہیں رہے گا’۔
قابل ذکر ہے کہ کولگام نشست سال 1972 اور سال 1987 میں جماعت اسلامی کے ہی قبضے میں رہی ہے۔
یو این آئی- ایم افضل، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ اسٹاف ویلفیئر ایسوسی ایشن کی نئی ایگزیکٹو کمیٹی کا اعلان
سرینگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ اسٹاف ویلفیئر ایسوسی ایشن نے اپنی نئی ایگزیکٹو کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یہ نوٹی فکیشن ایسوسی ایشن کے صدر سید انور شاہین نے جنرل سکریٹری تپیشور کے مشورے سے جاری کیا، جس کا مقصد ایسوسی ایشن کو مضبوط بنانا اور جموں، سرینگر اور مین ونگ کے تمام اداروں میں ہائی کورٹ کے ملازمین کی بہبود کو فروغ دینا ہے۔
نئی تشکیل شدہ ایگزیکٹو کمیٹی میں مظفر احمد میر (سرینگر) اور سوربھ رینا(جموں) بطور نائب صدور شامل ہیں، جب کہ عزیر ناظر (سرینگر) اور شوکت علی (جموں) کو جوائنٹ سکریٹری نامزد کیا گیا ہے۔ الطاف حسین جنجوعہ(ٹرانسلیٹر، جموں) اور جاوید احمد میر بطور لیگل ایڈوائزر خدمات انجام دیں گے۔دیگر عہدیداران میں دلبیر سنگھ پٹھانیہ (جموں) اور سہیل احمد گنائی (سرینگر) کو خزانچی مقرر کیا گیا ہے، عامر خان کو آرگنائزر نامزد کیا گیا، رفیق احمد کو پبلسٹی سکریٹری اور نیاز احمد لون و نتیش سنگھ کو ترجمان مقرر کیا گیا ہے۔ایگزیکٹو کمیٹی میں انیس اراکین بھی شامل ہیں جو ہائی کورٹ کے مختلف کیڈرز اور ونگز کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں ریاض احمد بھٹ، جعفر احمد زہد، سندیپ شرما، جنید ایوب، وشال، مکیش بخشی، کنال شرما، شاکب شوکت، چنی لال، جتیندر سنگھ، وشو ورما، پروین کمار، سہیل احمد ڈار، محمد رفیق بانی، رضوان، ملک عباس شمیم، ریاض احمد حجام، فیاض احمد کمار اور وپن چندر پال شامل ہیں۔ایسوسی ایشن نے اعتماد کا اظہار کیا کہ نئی تشکیل شدہ ایگزیکٹو کمیٹی ہائی کورٹ کے ملازمین کے مفادات اور فلاح و بہبود کے تحفظ، ہائی کورٹ کے تمام ونگز کے درمیان عملے میں ہم آہنگی کو مضبوط بنانے، اور اپنے اراکین کی پیشہ ورانہ اور سماجی بہبود کے لیے اقدامات کرنے کے لیے لگن کے ساتھ کام کرے گی۔ ایسوسی ایشن نے امید ظاہر کی کہ نئی ٹیم ہائی کورٹ آف جموں و کشمیر اور لداخ کے ملازمین کے درمیان اتحاد، تعاون اور خدمت کے جذبے کو برقرار رکھتی رہے گی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
سکیورٹی فورسز نے اننت ناگ میں دہشت گردوں سے منسلک دو مکانات منہدم کر دیے
سری نگر، جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں ایک پولیس اہلکار کے قتل کے بعد سکیورٹی فورسز نے کارروائی تیز کرتے ہوئے جنوبی کشمیر میں مبینہ طور پر دہشت گردوں کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے دو مکانات منہدم کر دیے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق بدھ کی رات اننت ناگ کے بجبہاڑہ علاقے میں لشکرِ طیبہ کے رکن عادل احمد ٹھوکر کے اہلِ خانہ کے مکان کے خلاف کارروائی شروع کی گئی۔ دوسرا منہدم کیا گیا مکان ہارون گنائی کے خاندان کا تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق دونوں مکانات کو دھماکہ خیز مواد کی مدد سے گرایا گیا۔ تاہم پولیس نے ابھی تک اس پیش رفت پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔
یہ کارروائی جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں جموں و کشمیر پولیس کے ایک ہیڈ کانسٹیبل کو گولی مار کر ہلاک کیے جانے کے ایک روز بعد کی گئی۔ اس واقعے کے بعد بڑے پیمانے پر سکیورٹی آپریشن شروع کیا گیا اور وادی میں مشتبہ دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف وسیع کارروائیاں کی گئیں۔
وسیع پیمانے پر جاری مہم کے دوران مختلف اضلاع سے تقریباً دو ہزار مشتبہ افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے، جن پر دہشت گردوں کی معاونت کا شبہ ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ سال اپریل میں پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد اب تک دہشت گردوں سے منسلک کم از کم نو مکانات منہدم کیے جا چکے ہیں۔
یواین آئی۔ ظا
جموں و کشمیر
عمر نے نڈا کے بیان کی تردید کی، کہا جے کے ایس ایس بی پیپر لیک ایل جی انتظامیہ کے دور میں ہوا تھا
سرینگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کے روز جے کے ایس ایس بی (جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ) پیپر لیک پر مرکزی وزیر اور بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈا کے تبصرے پر ان پر پلٹ وار کرتے ہوئے ان پر حقائق کو غلط انداز میں پیش کرنے کا الزام لگایا اور انہیں یاد دلایا کہ بھرتی کا یہ گھپلہ 2022 میں ایل جی کی قیادت والی انتظامیہ کے تحت ہوا تھا، نہ کہ این سی – کانگریس حکومت کے دوران۔
عمر نے پیپر لیک کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے انجام پر بھی سوال اٹھائے اور نڈا سے کہا کہ وہ اپنی اگلی پریس کانفرنس میں اس کی رپورٹ کے نتائج کو عام کریں۔
امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کے جاری احتجاج پر بدھ کی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نڈا نے دعویٰ کیا تھا کہ جے کے ایس ایس بی پیپر لیک اس وقت ہوا تھا جب کانگریس اور نیشنل کانفرنس اقتدار میں تھیں۔
عمر نے ایکس پر لکھا، ”جی جے پی نڈا، جموں و کشمیر میں ایس ایس بی پیپر لیک کے بارے میں آپ بالکل درست ہیں، لیکن آپ سے تاریخ غلط ہو گئی ہے۔ یہ 2022 کا واقعہ ہے۔ حکومت این سی اور کانگریس کی نہیں تھی۔ یہ لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت والی حکومت تھی لیکن ہر کسی کو اس ناکامی کی یاد دلانے کے لیے آپ کا شکریہ۔ اس میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے یہ مشاہدات اور احکامات شامل تھے۔“
”ہمیں نہیں معلوم کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی یا اس کی رپورٹ کا کیا ہوا۔ شاید آپ اپنی اگلی پریس کانفرنس میں ہمارے ساتھ اس کی معلومات شیئر کر سکیں۔“
این سی کے چیف ترجمان اور ایم ایل اے تنویر صادق نے بھی نڈا پر حقائق کو غلط طریقے سے پیش کرنے کا الزام لگایا۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھرتی پیپر لیک 2022 میں ہوا تھا، جب جموں و کشمیر لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ کے تحت تھا اور یونین ٹیریٹری میں کوئی منتخب حکومت نہیں تھی۔
صادق نے کہا، ”جموں و کشمیر میں بھرتی کا پیپر لیک 2022 میں لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ کے تحت ہوا تھا، جس کا مطلب ہے کہ براہ راست آپ کے تحت، جب وہاں کوئی منتخب حکومت نہیں تھی۔ موجودہ حکومت نے صرف اکتوبر 2024 میں اقتدار سنبھالا تھا۔“
انہوں نے مزید کہا کہ اگر نڈا لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ اور منتخب حکومت کے درمیان فرق کرنے میں ناکام ہیں، ”تو انہیں کسی کو لیکچر دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔“
یو این آئی ایم جے
دنیا6 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
دنیا6 days agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
ہندوستان1 week agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
دنیا1 week agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
دنیا6 days agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
دنیا6 days agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
جموں و کشمیر6 days agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
ہندوستان6 days agoدہلی پولیس نے صحت کی تشویش کے پیش نظر سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیا
ہندوستان1 week agoاتراکھنڈ کے طلبہ پیپر لیک کے خلاف ‘چھاتروں کی گونج’ سے جڑے: راہل
ہندوستان7 days agoامریکی فوج کے ایران پر تازہ حملوں میں 8 افراد جاں بحق
دنیا6 days agoایران نے بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا: امریکہ











































































































