تازہ ترین
کوویڈ 19: پلوامہ،اننت ناگ کے 2شہری جاں بحق،اموات کی تعداد85 ہوگئی

وادی میں ہلاکتیں 74ہوگئیں،سرینگر کا 65سالہ شہری کی دہلی میں کورونا وائرس سے موت
سرینگر: چین کے شہر ووہان سے پُراسرار طور نمو دار ہوئے پوشیدہ قاتل وائرس نے پوری طرح سے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے جبکہ جموں وکشمیر بھی اس عالمگیر وبا سے کافی متاثر ہے۔
اس دوران پلوامہ کا 65سالہ شہری اور کوکرناگ کا 58سالہ شہری کی کورونا وائر س سے موت ہوگئی،جس کے ساتھ ہی اس وائر س سے مرنے والے افراد کی85ہوگئی جن میں 75ہلاکتیں وادی میں ہوئیں۔ادھر سرینگر کے65سالہ شہری کی دہلی میں کورونا سے موت ہوئی ہے۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق جنوبی ضلع پلوامہ کا ایک65سالہ شہری،جو کورونا وائرس میں مبتلاء تھا، سوموار کے روز جاں بحق ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق کاکا پورہ، پلوامہ کا رہنے والا شہری صدر اسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر نذیر چودھری کے مطابق نمونیا میں مبتلا تھا جسے21جون کو اسپتال میں داخل کرایا گیاجہاں وہ جاں بحق ہوگیا اور اس کا کورونا ٹیسٹ رپورٹ مثبت آگیا۔
جموں کشمیر میں ابھی تک کورونا سے54افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ان میں 75وادی کشمیر جبکہ10صوبہ جموں میں جاں بحق ہوئے ہیں۔اس دوران کوکرناگ کا 58سالہ شہری کی سی ڈی اسپتال سرینگر میں کورو نا وائرس سے موت ہوگئی۔سی ڈی اسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر سلیم ٹاک نے بتایا کہ58سالہ شہری کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا جسے جی ایم سی اننت ناگ سے19جون کو بعد دوپہر منتقل کیا گیا تھا۔
ان کا کہناتھا کہ مریض کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا اور وہ تھائی رائیڈ اور نمونیا میں مبتلاء تھا۔وادی میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ضلع سرینگر میں ہوئیں جن کی تعداد19ہے۔
بارہمولہ ضلع دوسرے نمبر پرہے،یہاں 13ہلاکتیں ہوئیں،شوپیان اور کولگام میں 10،10،جموں میں 7،بڈگام میں 6،، اننت ناگ میں 6، کپوارہ میں 5ہلاکتیں ہوئیں،پلوامہ میں 4،بانڈی پورہ،ڈوڈہ،ادھمپور اور راجوری میں ایک،ایک ہلاکت ہوئی۔ ادھر ایک میڈیا رپورٹ سرینگر سے تعلق رکھنے والا 65سالہ شہری کی دہلی میں موت ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق سرینگر کے مذکورہ شہری کی کووڈ۔19سے موت ہوگئی ہے۔اہلخانہ کے مطابق مذکورہ شہری امرتسر طبی معائینہ کیلئے گئے ہوئے تھے،جہاں اُس کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔وہاں سے وہ دہلی مزید علاج ومعالجہ کیلئے پہنچے،جہاں اُس نے سینے میں درد کی شکایت کی۔مذکورہ شہری کی نریندر ا موہن اسپتال واقع غازی آباد میں موت ہوگئی۔
جموں و کشمیر
محبوبہ مفتی نے جنتر منتر پر دیے گئے بیان پر معافی مانگ لی
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے منگل کے روز جنتر منتر پر دیے گئے اپنے متنازع بیان پر معافی مانگ لی۔
واضح رہے کہ محبوبہ مفتی نے حال ہی میں قومی دارالحکومت کے جنتر منتر پر منعقدہ احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے کشمیر میں جاری عسکریت پسندی کا حوالہ دیتے ہوئے وہاں طاقت کے استعمال کو درست قرار دیا تھا۔ ان کے اس بیان کے بعد جموں و کشمیر کی سیاست میں ہلچل مچ گئی تھی۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے ان پر سیکورٹی فورسز کی زیادتیوں کو جائز قرار دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا تھا۔
محبوبہ مفتی نے پارٹی کے یومِ تاسیس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنتر منتر اپنی مرضی سے نہیں گئیں بلکہ مرکز کے زیر انتظام علاقے سے باہر تعلیم حاصل کرنے والے کشمیری طلبہ کی درخواست پر وہاں پہنچیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان طلبہ کو کالجوں، یونیورسٹیوں اور ہاسٹلوں میں ہراساں کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، “میں خود وہاں نہیں گئی تھی، کشمیر کے بچوں نے مجھے بلایا تھا۔ انہوں نے مجھے اس لیے بلایا کیونکہ جب بھی کوئی واقعہ پیش آتا ہے اور یہ بچے ملک کے مختلف حصوں میں ہوتے ہیں تو انہیں کالجوں، یونیورسٹیوں اور ہاسٹلوں میں پریشان کیا جاتا ہے۔ انہیں امید تھی کہ شاید محبوبہ مفتی آئیں گی تو ہماری کچھ مدد ہو سکے گی۔”
جنتر منتر پر دیے گئے اپنے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، “میں نے کہا تھا کہ آج پورا ہندستان جموں و کشمیر بن گیا ہے۔”
انہوں نے تسلیم کیا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان کے متنازع بیان کی ویڈیو اصلی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ جس لفظ کا انہوں نے استعمال کیا تھا، اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا، “میں یہ نہیں کہوں گی کہ یہ فرضی ویڈیو ہے، نہیں، ویڈیو اصلی ہے، لیکن ‘بہانہ’ کا لفظ مجھ سے غیر ارادی طور پر نکل گیا تھا کیوں کہ میں ایک ساتھ بہت سے لوگوں سے بات کر رہی تھی، جس کا غلط مطلب نکالا گیا۔”
یو این آئی۔ اے ایم
ہندوستان
لوک سبھا میں منگل کو بھی وقفہ سوالات خلل کا شکار رہا
نئی دہلی، لوک سبھا میں منگل کو بھی اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کے ہنگامے کی وجہ سے وقفہ سوالات خلل کا شکار رہا ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی اسپیکر اوم برلا نے کامن ویلتھ گیمز میں ہندوستان کے لیے تمغے جیتنے والے کھلاڑیوں کو مبارکباد دی انہوں نے ایوان کی جانب سے کھلاڑیوں کے روشن مستقبل کی تمنا کرتے ہوئے ان کی محنت اور کامیابیوں کی ستائش کی۔ اس دوران اپوزیشن جماعتوں کے اراکین اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر اپنی بات رکھنے کی کوشش کرنے لگے۔ اس پر مسٹر برلا نے کہا کہ وقفہ سوالات کے دوران صرف مفاد عامہ سے جڑے سوالات اور وزراء کے جوابات ہی لیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے ہنگامہ کرنے والے اراکین سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ “میں تمام جماعتوں کے لیڈروں سے گزارش کرتا ہوں کہ ایوان میں بحث ہونے دیں۔ تمام جماعتوں کے لیڈروں کے ساتھ اتفاق رائے ہوا ہے کہ دوپہر دو بجے سے بل پر بحث ہوگی۔ تمام جماعتوں نے اپنے خیالات رکھنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ بل پر بحث ہوگی اور تمام جماعتیں اس میں حصہ لیں گی تو اس سے ملک میں مثبت پیغام جائے گا۔”
ہنگامے کے درمیان اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دو بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
سپریم کورٹ کا بغیر مجرمانہ ریکارڈ والے طلباء کو رہا کرنے کا حکم
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے پر گرفتار یا حراست میں لئے گئے ان تمام طلباء کو منگل کو رہا کرنے کا حکم دیا جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے اس کے ساتھ ہی عدالت نے مرکزی حکومت اور آسام، بہار، مغربی بنگال، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر نیز کیرالہ حکومتوں سے جواب طلب کیا ہےعدالت نے یہ بھی کہا کہ ملک گیر طلباء کے مظاہروں کے دوران طلباء اور پولیس اہلکاروں کو آئی چوٹوں کے الزامات کی منصفانہ اور آزادانہ تحقیقات ضروری ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں عبوری ہدایات کا ایک سلسلہ جاری کرتے ہوئے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ اپنے ایک سابق جج کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے سکتی ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ پولیس بربریت کے الزامات والی عرضیوں کے ساتھ ساتھ زخمی پولیس اہلکاروں اور میڈیا نمائندوں کی طرف سے دائر عرضیوں پر سماعت کر رہی تھی۔ عدالت نے طلبا مظاہرین کی ذاتی معلومات اور ڈیجیٹل ڈیٹا کو محفوظ رکھنے نیز ایسی معلومات کو فی الحال عام نہ کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے خاص طور پر ہدایت دی کہ مظاہرین کی ذاتی تفصیلات شائع نہ کی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی، بغیر کسی مجرمانہ پس منظر والے طلباء کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں حصہ لینے پر کوئی بھی تادیبی یا جابرانہ کارروائی نہ کی جائے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ان واقعات سے جڑے تمام سی سی ٹی وی اور ڈرون فوٹیج، کیمرہ ریکارڈنگ، وائرلیس ریکارڈ اور پی سی آر لاگ کو محفوظ رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا6 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا7 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان7 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا6 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا6 days agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
دنیا1 week agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی
دنیا1 week agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
جموں و کشمیر7 days agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی
ہندوستان5 days agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
ہندوستان6 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoایرانی افواج دشمن کی دراندازی کو فوری طور پر ناکام بنانے کیلئے تیار ہیں: آئی آر جی سی
جموں و کشمیر1 week agoریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس کا دہلی میں احتجاج







































































































