ہندوستان
ہندوستانی فوج نے لشکر طیبہ اور جیش محمد کے 9 ٹھکانے تباہ کر دیئے

نئی دہلی، ہندوستانی مسلح افواج نے کل رات سرحد پار آپریشن میں لشکر طیبہ اور جیش محمد کے کل نو ٹھکانوں کو نیست ونابو کردیا ہے، جن میں سے چار پاکستان کے اندر اور باقی پاکستانی مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں تھے۔
ذرائع کے مطابق ہندوستان نے پاکستان کے اندر لشکر طیبہ اور جیش محمد کے بڑے ہیڈکوارٹرز پر حملہ کیا ہے اور جو پاکستان اور پی او کے میں واقع تھے۔ یہ مقامات درج ذیل ہیں:-
1. مرکز سبحان اللہ، بہاولپور (پنجاب، پاکستان)
یہ جیش محمد کا ہیڈکوارٹر ہے۔ اس جگہ سے 14 فروری 2019 کو پلوامہ بم دھماکے سمیت دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ حملہ آوروں نے اس کیمپ میں تربیت حاصل کی۔
2. مرکز طیبہ، مریدکے (شیخ پورہ، پنجاب، پاکستان)
2000 میں قائم کیا گیا، یہ لشکر طیبہ کا مرکزی تربیتی اور نظریاتی مرکز ہے، جو نانگل سہدان، مریدکے میں واقع ہے۔
3. سرجل/تہرہ کلاں (نارووال، پنجاب، پاکستان)
جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کی دراندازی کے لیے جیش محمد کا ایک پرائمری لانچنگ پیڈ۔تہرا کلاں گاؤں میں اسے دنیا کی نظروں سے چھپانے کے لیے ایک بنیادی صحت مرکز کے اندر چھپا کر بنایا گیا تھا۔
4. مہمونا جویا کیمپ، سیالکوٹ (پنجاب، پاکستان)
حزب المجاہدین کے زیر انتظام یہ کیمپ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ میں کوٹلی بھٹہ سرکاری اسپتال کے قریب ہے۔ پاکستان کی آئی ایس آئی کی حمایت سے یہ کیمپ بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ سرکاری کمپاؤنڈز کے اندر خفیہ طور پر قائم کیا گیا تھا۔
5. مرکز اہل حدیث، برنالہ (بھمبر، پی اوجے کے)
یہ لشکر طیبہ کا ایک اسٹریٹجک کیمپ ہے جسے پونچھ-راجوری-ریاسی علاقے میں دراندازی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ برنالہ کے مضافات میں کوٹ جمیل روڈ پر واقع یہ شہر برنالہ سے صرف 500 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
6. مرکز عباس، کوٹلی (پی اوجے کے)
کوٹلی میں بائی پاس روڈ کے قریب محلہ رولی میں واقع حضرت عباس بن عبدالمطلب کے نام پر جیش محمد کا کیمپ ہے۔ یہ کیمپ کوٹلی فوجی کیمپ سے تقریباً 2 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
7. مسکار راحیل شاہد، ضلع کوٹلی (پی اوجے کے)
میرپور کوٹلی روڈ پر مہولی پلی سے 2.5 کلومیٹر کے فاصلے پر حرکت المجاہدین کا ایک پرانا کیمپ ہے۔ پہاڑیوں میں واقع ہے اور صرف کچے راستے سے ہی قابل رسائی ہے، یہ بیرکوں، ہتھیاروں کے ذخیرہ کرنے کے کمرے، دفاتر اور انتہا پسندوں کے رہائشی کوارٹرز پر مشتمل ہے۔
8. شوائی نالہ کیمپ، مظفرآباد (پی اوجے کے)
یہ لشکر طیبہ کے لیے دہشت گردوں کی بھرتی، رجسٹریشن اور تربیت کے لیے استعمال ہونے والا ایک بڑا کیمپ ہے۔ یہ 2000 کی دہائی کے اوائل سے فعال ہے۔
9. مرکز سیدنا بلال، مظفرآباد (پی اوجے کے)
پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں جیش محمد کا مرکزی مرکز مظفرآباد میں لال قلعہ کے سامنے واقع ہے۔ یہ کیمپ جیش محمد کے دہشت گردوں کے جموں و کشمیر میں دراندازی کرنے سے پہلے ایک ٹرانزٹ کیمپ کا کام کرتا ہے۔ کسی بھی وقت اس کیمپ میں 50-100 دہشت گرد رہتے ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
حکومت کا 12 سالہ سفر قلت سے خود انحصاری اور خود انحصاری سے وکست بھارت کی سمت بڑھنے کا: راجناتھ
نئی دہلی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ مودی حکومت کا 12 سالہ سفر قلت سے خود انحصاری کی طرف، خود انحصاری سے خود اعتمادی کی طرف اور خود اعتمادی سے وکست بھارت کی تعمیر کی سمت میں پیش رفت کا رہا ہے۔
مسٹر سنگھ نے ہفتہ کو یہاں ایک میڈیا آرگنائزیشن کی جانب سے منعقدہ پروگرام میں کہا، “گزشتہ 12 سال میں ہندوستان کا سفر قلت سے خود انحصاری کی طرف، خود انحصاری سے خود اعتمادی کی طرف اور خود اعتمادی سے وکست بھارت کی تعمیر کی طرف پیش رفت کا رہا ہے۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے پہلی میعاد کار میں قلت کو دور کیا، مواقع کو بڑھایا اور ورک کلچر میں تبدیلی کی، دوسری میعاد کار میں، آرزوؤں کو کامیابیوں میں تبدیل کیا اور ملک کو خود انحصاری کی راہ پر مضبوطی سے آگے بڑھایا۔ تیسری میعاد کار میں، حکومت “اصلاح، کارکردگی، تبدیلی” کی پالیسی کے ذریعے وکست بھارت کی مضبوط بنیاد رکھ رہی ہے اور چوتھی میعاد کار میں دنیا ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے عروج کی گواہ بنے گی۔ وزیر دفاع نے گزشتہ 12 سال میں ملک میں ہونے والی تبدیلیوں کے اہم پہلوؤں کے بارے میں کہا کہ جب 2014 میں ‘میک ان انڈیا’ اسکیم شروع ہوئی تھی تو کچھ لوگوں نے اسے ناکام بتایا تھا لیکن اس اسکیم نے کامیابی کے نئے معیارات قائم کیے اور یہ آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا، “ہندوستان کے عالمی وقار میں ایک انقلابی تبدیلی آئی ہے۔ پہلے جہاں دنیا ہماری بات پر توجہ نہیں دیتی تھی، وہیں آج وہ عالمی مسائل پر ہندوستان کے نقطہ نظر کو غور سے سنتی ہے۔” انہوں نے کہا کہ 2021 میں شروع کیے گئے انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن پر ابتدائی شکوک و شبہات کے باوجود، ‘پلگ اینڈ پلے’ بنیادی ڈھانچے کے ماڈل پر مبنی سیمی کنڈکٹر پارکوں کے قیام کی وجہ سے ملک نے گزشتہ سال اپنی خود کی سیمی کنڈکٹر چپ تیار کی۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ مالی سال 26-2025 میں سالانہ دفاعی پیداوار اب تک کی بلند ترین سطح 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ مالی سال 15-2014 کے اعداد و شمار سے تین گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی برآمدات ریکارڈ 38,000 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہیں۔ یہ مالی سال 14-2013 کے 686 کروڑ روپے سے تقریباً 57 گنا زیادہ ہے اور میک ان انڈیا اقدامات میں دنیا کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیر دفاع نے ہندوستان کے مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی نمایاں ترقی کے بارے میں بتاتے ہوئے موبائل مینوفیکچرنگ، آٹوموبائل برآمدات، دیسی لوکوموٹیو کی پیداوار اور میک ان انڈیا کے تحت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع کا ذکر کیا۔ انہوں نے مقامی طور پر تیار کردہ میک ان انڈیا 5جی ٹیکنالوجی کی ملک گیر تیز رفتار توسیع کی بھی بات کی اور کہا کہ 6جی کی ترقی کی سمت میں کوششیں جاری ہیں۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ 2014 سے پہلے، فلاحی اسکیموں کی تقسیم میں بدعنوانی اور غبن کو بڑے پیمانے پر ناگزیر سمجھا جاتا تھا جس کی وجہ سے فائدہ مستحقین تک نہیں پہنچ پاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر، جن دھن، آدھار اورموبائل کی ٹرینٹی اور ‘جے اے ایم ٹرینٹی ‘ کے ذریعے اس چیلنج کا حل نکالا ہے۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کا خاتمہ اور نکسلی انتہاپسندی کو ختم کرنے کے لیے کی جانے والی مسلسل کوششیں حکومت کے ان مسائل کو حل کرنے کے پختہ عزم کی روشن مثالیں ہیں جنہیں کبھی ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا، “ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بن گیا ہے۔ گزشتہ 12 سال میں، اسٹارٹ اپس کی تعداد 500 سے بڑھ کر 2 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے اور یونیکورنز کی تعداد چار سے بڑھ کر 125 ہو گئی ہے۔”
مسٹر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی ثقافت اس کی شناخت، اتحاد اور قومی شعور کی بنیاد ہے اور تہذیب، ثقافت اور ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ہمہ جہت ترقی کو بھی آگے بڑھایا گیا ہے۔ وزیر دفاع نے آج کے دور میں میڈیا کے کردار کو ‘مواصلات کی کثرت’ کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم بتاتے ہوئے کہا کہ چیلنج معلومات کی کمی نہیں بلکہ اس کی درستگی اور معتبریت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) جیسی تکنیکی ترقی سے ‘صحافت’ بھی متاثر ہوئی ہے لیکن یہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں اور ذہانت کو پیچھے نہیں چھوڑ پائیں گی۔ انہوں نے کہا، “صحافت کی مستقبل کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ وہ اے آئی کی صلاحیتوں اور انسانی ہمدردی کے درمیان کتنا اچھا توازن اور ہم آہنگی قائم کر پاتی ہے۔ جہاں اے آئی صحافت کو تیز اور زیادہ درست بنائے گا، وہیں جذباتی ذہانت یہ یقینی بنائے گی کہ یہ انسانی اور قابل اعتماد بنی رہے۔”
مسٹر سنگھ نے کہا کہ صحافت کی اصل طاقت صرف معلومات کی تشہیر میں نہیں بلکہ سماج کو صحیح سمت میں رہنمائی کرنے، سچائی کو سامنے لانے اور جمہوریت کو مضبوط کرنے میں پنہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات سماج اور دفاعی افواج کے حوصلے پر سنگین اثرات مرتب کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافت میں سب سے پہلے خبر دینا اہم ہو سکتا ہے لیکن صحیح خبریں دینا اس سے بھی کہیں زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا، “خصوصی طور پر جب موضوع دفاعی افواج، قومی سلامتی یا ملک کی خدمت میں اعلیٰ ترین قربانی دینے والوں کے احترام سے متعلق ہو، تو ہر لفظ قومی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ میڈیا کو ہمیشہ درستگی، غیر جانبداری اور غیرجانبداری کو برقرار رکھنا چاہیے۔”
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
وزیر اعظم مودی پیر سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی پیر سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے۔
وزارت خارجہ میں سکریٹری (مشرقی امور) رودریندر ٹنڈن نے جمعہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مسٹر مودی 6 سے 11 جولائی تک ان تینوں ممالک کے دورے پر رہیں گے۔ وہ 6 سے 8 جولائی تک انڈونیشیا، 8 سے 10 جولائی تک آسٹریلیا اور 10 سے 11 جولائی تک نیوزی لینڈ کا دورہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا میں وزیر اعظم کی اہم مصروفیات دارالحکومت جکارتہ میں ہوں گی۔ بعد ازاں وہ ثقافتی دارالحکومت یوگیاکارتا بھی جائیں گے اور پرمبانن مندر کا بھی دورہ کریں گے۔
مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ گزشتہ سال انڈونیشیا کے صدر کے دورۂ ہند کے بعد ہونے والے اس دورے کے دوران مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں تعاون پر بھی بات چیت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ملاکا میں استحکام اور سلامتی کے حوالے سے انڈونیشیا کا اہم کردار ہے۔
مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں مسٹر مودی آسٹریلیا جائیں گے، جہاں وہ آسٹریلیا کے وزیر اعظم کے ساتھ تیسرے ہند-آسٹریلیا سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ دونوں رہنما اہم معدنیات، سائبر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
مسٹر مودی میلبورن میں ایک کھیلوں کے پروگرام میں بھی شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ دورے کے تیسرے اور آخری مرحلے میں وزیر اعظم نیوزی لینڈ جائیں گے، جہاں وہ اپنے ہم منصب کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کریں گے۔ گزشتہ چالیس برس سے زیادہ عرصے میں کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا یہ پہلا دورۂ نیوزی لینڈ ہوگا۔ اس سے قبل سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی 1986 میں نیوزی لینڈ گئے تھے۔
پریس کانفرنس میں موجود حکام نے سوالوں کے جواب میں بتایا کہ آسٹریلیا کے دورے کے دوران ہندوستانی طلبہ کے ویزوں اور مختلف تعلیمی کورسز کی بڑھتی ہوئی فیسوں کے معاملے پر بھی بات چیت ہونے کا امکان ہے۔
وزیر اعظم تینوں ممالک میں مقیم ہندوستانی برادری کے افراد سے بھی ملاقات کریں گے، ان سے خطاب کریں گے اور مختلف تقریبات میں شرکت کریں گے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
سندھ طاس معاہدہ: پاکستان کو ہندوستان کا کرارا جواب، دہشت گردی کی حمایت بند کرنی ہوگی
نئی دہلی، ہندوستان نے سندھ طاس معاہدے کے تعلق سے پاکستان کی حالیہ بیان بازی پر اسے کرارا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں ہندوستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور پاکستان کو دہشت گردی کی حمایت بند کرنی ہوگی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو باقاعدہ میڈیا بریفنگ میں اس بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جواب میں کہا کہ ہندوستان کی طرف سے یہ معاہدہ معطل ہے اور پاکستان کو دہشت گردی کی حمایت پر روک لگانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے پر ہندوستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ یہ معاہدہ تب تک معطل رہے گا جب تک کہ پاکستان معتبر اور مکمل طور پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کرنا بند نہیں کر دیتا۔
قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں پاکستان میں سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ سیمینار میں پاکستان کے کئی اہم رہنماؤں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان کا پانی روکا جاتا ہے تو وہ اس کے لیے جنگ سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ پاکستان نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ہندوستان ندیوں کے پانی پر کنٹرول کر رہا ہے۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان نے سخت فیصلہ کرتے ہوئے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا تھا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان5 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا5 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
جموں و کشمیر1 week ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان1 week agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا4 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
جموں و کشمیر1 week agoآمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
دنیا2 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
دنیا1 week agoایران نے اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا
ہندوستان5 days agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
دنیا4 days agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صرف ایران ہٹائے گا، فرانس کا مؤقف مسترد
ہندوستان1 week agoسرکار کو ایندھن کی بڑھی ہوئی قیمتیں واپس لینی چاہئیں: کھرگے
دنیا1 week agoوینزویلا میں تباہ کن زلزلوں کے بعد اموات کی تعداد 920 سے تجاوز کرگئی































































































