اہم خبریں
یہ اقتدار کی لڑائی نہیں ، اگر ہم آج بھی اقتدار کے پیچھے بھاگے،تو لوگ کبھی معاف نہیں کریں گے :عمر عبداللہ

جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو نئی دہلی سے مخاطب ہو کر کہا ’آپ کیا چاہتے ہیں ،کیا آپ چاہتے ہیں ہم مین اسٹریم چھوڑ کر چلے جائیں ؟‘۔ان کا کہنا تھا کہا کہ جموںوکشمیر کی سیاسی جماعتوں کی مشترکہ جدوجہد اقتدار کی لڑائی نہیں ہے، یہ لڑائی وزیر اعلیٰ کی کرسی کیلئے نہیں ہے، اگر ہم آج بھی اقتدار کے پیچھے بھاگے اور اگر آج بھی ہماری نظریں سکریٹریٹ پر مرکوز رہیں تو لوگ ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے ‘۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق پارٹی ہیڈکوارٹر پر منعقد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اراضی قوانین میں ترمیم کرکے ملک کے کسی بھی شہری کو جموں وکشمیر میں زمین خریدنے کا اہل بنانے کے حکومت ہندکے اقدام کو ناقابل قبول کرتے ہوئے جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اورنیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ’ہمارا سب کچھ اس زمین کیساتھ جڑا ہوا ہے اگر ہم اپنی زمین کو نہیں بچاسکے تو ہم اپنی آنے والی نسل کیلئے کیا چھوڑ کر جائیں گے، آخر ہمارے پاس اس زمین کے علاوہ اپنے بچوں کو دینے کیلئے رہا ہی کیاہے؟زرعی اصلاحات نے ہی کشمیریوں کو غربت، افلاس اور چکداری سے باہر نکالا، اسی زرعی اصلاحات نے ہمیں زندہ رکھا اور مرکز نے یہی قانون تہس نہس کردیااور یہ لوگ سوچتے ہیں کہ ہم خاموش بیٹھیں گے۔“عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ”5 اگست 2019کو ایسا زلزلہ آیا جس سے ہم آ ج بھی ہل رہے ہیں، گذشتہ سال کے ابتداءمیں جہاں ہم پارلیمانی انتخابات کے بعد اسمبلی انتخابات کی تیاری کا سوچ رہے تھے اور یہاں کی مقامی جماعتیں ایک دوسری کی مخالفت میں لگے ہوئے تھے، لیکن مرکز کے سازش کے نتیجے میں ایسا ماحول پیدا ہوا کہ ہم مشترکہ پلیٹ فارم پر آنے کیلئے مجبور ہوگئے۔ ہم نے اپنی چھوٹی سیاسی لڑائیوں میں الجھنے کے بجائے اتحاد کو ترجیح دی کیونکہ آج موقع نہیں کہ ہم الیکشن اور حکومت بنانے کی بات کریں۔ جو لڑائی ہم لڑ رہے ہیں وہ ایک دن، ایک ہفتے اور ایک مہینے کی لڑائی نہیں ہے، معلوم نہیں اس جدوجہد کے دوران ہم میں سے کتنے دم توڑ بیٹھیں گے، لیکن اس لڑائی کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں۔ہمارا سارا کچھ اس لڑائی سے جڑا ہوا ہے۔یہ لڑائی ہمارے تشخص، ہماری پہچان، ہمارے آنے والے کل اور اپنے وطن کو بچانے کیلئے ہے۔
یہ لڑائی ہم ہارنے کیلئے تیار نہیں۔عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہا کہ جموںوکشمیر کی سیاسی جماعتوں کی مشترکہ جدوجہد اقتدار کی لڑائی نہیں ہے، یہ لڑائی وزیر اعلیٰ کی کرسی کیلئے نہیں ہے، اگر ہم آج بھی اقتدار کے پیچھے بھاگے اور اگر آج بھی ہماری نظریں سکریٹریٹ پر مرکوز رہیں تو اس سے زیادہ گھناونی بات کیا ہوسکتی ہے جبکہ لوگ ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے‘۔ان کا کہناتھا ’لعنت ہم اگر ان حالات میں بھی ہم اقتدار پیچھے بھاگے ‘۔ عمر عبداللہ نے کہا ’ 2019کے ابتداءمیں ہم جموں و کشمیر میں الیکشن کی بات کررہے تھے اور آج ہم جموں وکشمیر کے تشخص اور پہچان بچانے کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں۔ ان دلی والوں نے ہمیں بے اختیار کرنے کا کوئی حربہ نہیں چھوڑا، مرکز نے بار بار کوشش کی کہ ہماری آواز بے وزن ہوجائے ، اُن کی سازش کامیاب ہوگئی اور اہم بکھر گئے اور اس کمزور آواز کا نتیجہ آج آپ کے سامنے ہے‘۔انہوں نے کہا کہ مرکز نے جموںوکشمیر کیساتھ مسلسل امتیازی سلوک جاری رکھا ہو اہے۔ ہمارچل ، اروناچل پردیش، ناگالینڈ، سکیم اور دیگر ریاستوں میں ایسے اراضی قوانین ہیں جن کے تحت وہاں ملک کے باشندے زمین نہیں خرید سکتے ہیں، لیکن پتہ نہیں جموں و کشمیر کے لوگوں کا کیا قصور ہے کہ یہاں پورے ملک کے لوگوںکو اندھا دھند زمین خریدنے کی اجازت دی جائیگی اور جب ہم اس کیلئے آواز اُٹھائے ہیں تو ہمیں ملک دشمن کہا جاتا ہے اور ہمیں ملک کیخلاف باغی کہا جاتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا ’جو بات ہم کررہے ہیں وہ اس ملک کے آئین میں ہی درج تھی ،جو ہم سے 5اگست 2019کو چھینا گیا وہ کسی اور ملک کے آئین میں درج نہیں تھا وہ اسی ملک کے آئین میں درج تھا۔ اگر جموں وکشمیر کو وہ خصوصی درجہ نہیں دیا گیا ہوتا تو شائد 1947میں کوئی اور ہی کہانی بن گئی ہوتی۔‘انہوں نے کہا کہ یہ دلی والے جب ناگالینڈ والوں سے بات کرتے ہیں، جو نہ ہندوستان کا آئین اور نہ جھنڈا مانتے ہیں ، تو انہیں ملک دشمن نہیں کہا جاتا اور نہ ہی ٹی وی چیلنجوں پر ان پر بغاوت کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں لیکن جب جموں وکشمیر کے عوام اپنی زمین اور اپنی پہچان کو بچانے کیلئے آواز اُٹھاتے ہیں تو اسے ملک کیخلاف بغاوت کا رنگ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں بغاوت کرنی ہوتی تو ہم نے 30سال تک بے بہا قربانیاں پیش نہیں کی ہوتیں۔ ہمارا یہ ماننا تھا کہ ہم جو کچھ بھی حاصل کریں گے آئین کے اندر اور پُرامن طریقے سے ہی کریں گے لیکن آج ہمیں دھکیلا جارہا ہے، آج یہی لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا راستہ غلط تھا۔سمجھ میں نہیں آتا یہ لوگ ہم سے کیا چاہتے ہیں، ہمیں ہر لحاظ سے الگ ترازو میں کیوں تولا جاتاہے۔عمر عبداللہ نے کہا ’آپ چاہتے کیا ہیں ؟کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم مین اسٹریم کو چھوڑ کر چلے جائیں ؟‘۔ اُن کا کہنا تھا کہ کل ہی جموں میں پی ڈی پی کو نئے اراضی قوانین کیخلاف پُرامن احتجاج کرنے کی اجازت دی گئی لیکن آج جب اسی جماعت نے سرینگرمیں احتجاج کی کوشش کی تو انہیں گرفتار کیا گیا۔ عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ ”آخر آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ کیا آپ یہی چاہتے ہیں کہ ہم مین سٹریم چھوڑ دیں؟جس چیز کیلئے ہم نے 30سال قربانیاں دیں،کیا آپ کہتے ہیں کہ وہ چھوڑ دیں۔“ انہوں نے کہا کہ ”سیاسی ماحول کس طرف کروٹ لیتا ہے اور ہمیں کس طرح کے فیصلے لینے کیلئے مجبور کرتا ہے کسی کو نہیں پتہ۔ کیا پتہ اللہ نے ہمارے لئے کیا سوچا ہوگا۔اللہ نے جو بھی سوچا ہوگا آخر کار اچھا ہی سوچا ہوگا اور کوئی بھی اچھی چیز آسانی سے حاصل نہیں ہوتی اور اچھی چیز حاصل کرنے کیلئے مشکل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔“تقریب پر سینئر پارٹی لیڈران علی محمد ڈار، محمد سعید آخون، پیر آفاق احمد، منظور احمد وانی، پروفیسر عبدالمجید متو، ڈاکٹر محمد شفیع، سلمان علی ساگر، عمران نبی ڈار، احسان پردیسی، صبیہ قادری، مدثر شہمیری سید توقیر احمد شاہ اور دیگر لیڈران بھی موجو دتھے۔ اس تقریب کا انعقاد سابق ایم ایل سی اور پی ڈی پی لیڈر سیف الدین بٹ کی نیشنل کانفرنس میں باضابطہ شمولیت کے سلسلے میں کیا گیا۔ اس موقعے پر پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر اور صوبائی صدر ناصر اسلم وانی کے علاوہ دیگر لیڈران بھی موجود تھے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

جموں و کشمیر1 week agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا3 days agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا4 days agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
ہندوستان1 week agoپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
دنیا3 days agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
جموں و کشمیر7 days agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
دنیا1 week agoمکمل طور پر اسرائیلی انخلاء ایک قومی ترجیح ہے:لبنانی صدر
دنیا4 days agoایرانی صدر نے ایک بار پھر پاکستان کے کردار کو سراہا
دنیا7 days agoجس طرح بھی ممکن ہو آبنائے ہرمز نے کھلنا ہی ہے، امریکی وزیر خارجہ
ہندوستان1 week agoایندھن کی قیمتوں پر کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، ہر روز ہو رہی ہے عوام کی جیب پر ڈکیتی
دنیا3 days agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
































































































