تازہ ترین
15دسمبرکوریاستی انتظامی کونسل کی اہم میٹنگ میں سالانہ بجٹ کومنظوری دئیے جانیکاامکان ، مکمل رپورٹ

خبراردو:
ریاست کے پرنسپل سیکرٹری فائنانس نوین کمارچودھری نے محکمہ خزانہ کے اعلیٰ حکام کیساتھ ملکراگلے مالی سال کیلئے مرتب کئے جانے والے سالانہ بجٹ کے بارے میں مشاورت مکمل کرلی ہے اورانہوں نے سالانہ بجٹ برائے مالی سال2019-20کاخاکہ مرتب کرکے اسکومنظوری کیلئے گورنرسیکرٹریٹ کوروانہ کردیاہے ۔ذرائع نے بتایاکہ مجوزہ سالانہ بجٹ کوریاستی انتظامی کونسل کی میٹنگ میں زیرغورلایاجائیگا۔ذرائع کاکہناتھاکہ سالانہ بجٹ سے متعلق حتمی فیصلہ لینے اوردیگرکچھ فوری نوعیت کے انتظامی امورات کے بارے میں فیصلہ لئے جانے کیلئے ریاستی گورنرایس پی ملک نے رواں ماہ کی15تاریخ بروزسنیچروارکوجموں میں ریاستی انتظامی کونسل کی اہم میٹنگ طلب کی ہے ۔
سیکرٹریٹ ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ15دسمبرکوہونے والی اس میٹنگ میں گورنرایس پی ملک کے صرف3مشیریاصلاحکارموجودرہیں گے کیونکہ بی بی ویاس استعفیٰ دے چکے ہیں ۔ذرائع کاکہناتھاکہ سنیچروارکوجموں میں گورنرایس پی ملک کی زیرصدارت منعقدہونے والی انتظامی کونسل کی میٹنگ میں ممکنہ طورپرسالانہ بجٹ کومنظوری دی جائیگی ۔خیال رہے اس وقت ریاست میں گورنرراج نافذہے جبکہ گزشتہ دنوں ریاستی اسمبلی بھی تحلیل کردی گئی اورایسے میں اگلے مالی سال کیلئے بجٹ کوگورنرانتظامیہ ہی حتمی شکل دیکرمنظوری دینے کی مجازاورذمہ داربھی ہے۔
اُدھرذرائع نے بتایاکہ ریاستی سرکارکے پرنسپل سیکرٹری برائے محکمہ خزانہ نوین کمارچودھری نے متعلقہ حکام ،تاجروں ،صنعت کاروں اوردیگرمتعلقین کیساتھ بجٹ کے بارے میں مشاورت مکمل کرلی ہے اورمختلف طبقوں کی رائے لینے کے بعدنوین کمارچودھری نے ڈائریکٹرجنرل اکاوئنٹس اینڈٹریجڈیزمحمدیوسف پنڈت،ڈائریکٹرفائنانس کوڈس برائے محکمہ خزانہ محمدرفیع اندرابی ،ڈائریکٹربجٹ برائے محکمہ خزانہ امتیازاحمدوانی اوردیگرمتعلقہ حکام کیساتھ بجٹ کامسودہ زیرغورلایا۔ذرائع نے مزیدبتایاکہ اگلے مالی سال کے سالانہ بجٹ کامسودہ پرنسپل سیکرٹری برائے محکمہ خزانہ نوین کمارچودھری نے مرتب کرلیا،جسکے بعدانہوں نے سالانہ بجٹ کامسودہ گورنرانتظامیہ کوبھیج دیا۔ذرائع نے بتایاکہ اب پرنسپل سیکرٹری فائنانس کے مرتب کردہ بجٹ کامسودہ ریاستی انتظامی کونسل میں زیرغورلایاجائیگااورعین ممکن ہے کہ 15دسمبرکوہونے والی میٹنگ میں انتظامی کونسل اگلے مالی سال کے سالانہ بجٹ کومنظوری دے گی ۔
ذرائع نے بتایاکہ انتظامی کونسل کی میٹنگ میں سیول اورپولیس انتظامیہ میں زیرالتواء پڑے کچھ اہم تبادلوں اورتقرریوں کوبھی منظوری دی جائیگی ۔ذرائع نے بتایاکہ ضلعی سطح کے کچھ اعلیٰ سیول وپولیس حکام کے تبادلوں اوراُنھیں نئی ذمہ داریاں تفویض کئے جانے سے متعلق فیصلہ پہلے ہی لیاگیاتھاتاہم ریاست میں بلدیاتی اورپھرپنچایتی انتخابات کاعمل کئی ماہ تک جاری رہنے کے باعث یہاں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذرہا،اسلئے تبادلوں اورتقرریوں کامعاملہ التواء میں پڑارہا۔
ہندوستان
سی بی ایس ای کے او ایس ایم سائبر سکیورٹی تنازع پر کانگریس نے کی وزیر تعلیم کے استعفے کی مانگ
نئی دہلی، کانگریس نے پیر کو مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) کے ‘آن اسکرین مارکنگ’ (او ایس ایم) نظام میں سائبر سکیورٹی میں نقب زنی کے تعلق سے مرکزی حکومت پر اپنا حملہ تیز کر دیا ہے۔ پارٹی نے وزارت تعلیم سے جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کی مانگ کی ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری (انچارج مواصلات) جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ سی بی ایس ای نے شروع میں اپنے ڈیجیٹل ایویلیوشین پلیٹ فارم میں خامیوں سے انکار کیا تھا، لیکن آخر کار اس نے تسلیم کر لیا کہ سسٹم میں نقب زنی ہوئی تھی۔ انہوں نے ٹھیکیدار کمپنی ‘سی او ای ایم پی ٹی’ کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے اور حکام پر الزام لگایا کہ وہ اس کمپنی کی خراب کارکردگی کے خدشات کے باوجود اسے بچا رہے ہیں۔ جے رام رمیش نے ‘ایکس’ پر پوسٹ میں کہا، “ہفتوں تک اپنے ‘آن اسکرین مارکنگ’ نظام میں سائبر سکیورٹی کی خامیوں سے انکار کرنے کے بعد سی بی ایس ای نے آخر کار تسلیم کر لیا ہے کہ سسٹم میں نقب زنی ہوئی ہے۔”
کانگریس رہنما نے سوال کیا کہ کیا اس سسٹم کو چلانے کے لیے ذمہ دار ٹھیکیدار کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا، “لیکن وہ اپنے ٹھیکیدار کمپنی ‘سی او ای ایم پی ٹی’ کے خلاف کیا کارروائی کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے؟ لگتا تو نہیں ہے۔” جے رام رمیش نے مزید دعویٰ کیا کہ معاہدہ سے پہلے ٹینڈر کی شرائط میں کی گئی تبدیلیوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وینڈر کو بچانے کی کوشش کی گئی تھی۔
ان کے مطابق، اگست 2025 میں جاری سی بی ایس ای کے ‘ریکویسٹ فار پروپوزل’ (آر ایف پی) میں ان دفعات کو برقرار رکھا گیا تھا، جو مؤثر طریقے سے کام نہ کرنے والے وینڈرز کو بلیک لسٹ کرنے کا بورڈ کو اختیار دیتے تھے۔ تاہم، انہوں نے الزام لگایا کہ اگلے ہی مہینے جاری ایک ترمیمی خط کے ذریعے ایسی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کا بورڈ کا اختیار ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے کہا، “ایسا لگتا ہے کہ سی بی ایس ای اور وزارت تعلیم میں بیٹھے ‘سی او ای ایم پی ٹی’ کے مددگاروں کو پہلے سے ہی اندازہ تھا کہ ٹھیکیدار کمپنی اس کام کے لائق نہیں ہوگی۔” انہوں نے اس تبدیلی کو ‘سی او ای ایم پی ٹی کو بچانے کی کوشش اور حکومت کی سرپرستی میں ہونے والی سرگرمی’ بتایا، جو کمپنی کو باقاعدہ طور پر کانٹریکٹ ملنے سے پہلے ہی شروع ہو گیا تھا۔
یہ تنازع پرچوں کے ڈیجیٹل ایویلیوشن کے لیے سی بی ایس ای کے زیر استعمال او ایس ایم نظام سے جڑا ہے، جو ملک بھر کے لاکھوں طلبہ کو متاثر کرنے والے امتحانی عمل کا انتہائی اہم حصہ ہے۔ سائبر سکیورٹی کی خامیوں اور جانچ کے عمل کی شفافیت کے تعلق سے پیدا ہوئے خدشات نے سیاسی تنقید کو ہوا دی ہے۔ اس کے بعد اپوزیشن جماعتیں اس سسٹم کے انتظام اور اس سے متعلق کانٹریکٹ دیے جانے کے معاملے میں مزید شفافیت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ حکومت پر حملے کو اور تیز کرتے ہوئے جے رام رمیش نے وزارت تعلیم پر ان بے ضابطگیوں کو شہ دینے کا الزام لگایا، جنہوں نے ان کے دعوے کے مطابق طلبہ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا، “ملک کو کب تک ایسے ‘وزیر پردھان’ کو برداشت کرنا پڑے گا، جن کی وزارت نے اپنے ٹینڈروں میں ایسی ناقابل تصور بے ضابطگیوں کو ہونے دیا اور اوربڑھاوا دیا، جس سے لاکھوں طلبہ کا ذہنی سکون چھن گیا؟” کانگریس رہنما نے عوامی عہدے پر جوابدہی کی کمی کا الزام لگاتے ہوئے وزیر اعظم اور مرکزی وزیر تعلیم کو بھی نشانہ بنایا۔ جے رام رمیش نے کہا، “وزیر پردھان کو اپنے ‘راج دھرم’ پر عمل کرنا چاہیے اور استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ان الزامات پر وزارت تعلیم، سی بی ایس ای یا سی او ای ایم پی ٹی کی طرف سے فی الحال کوئی فوری ردعمل نہیں آیا ہے۔
بورڈ نے پہلے یہ رخ اپنایا تھا کہ وہ اپنے امتحان اورایویلیوشن نظام کی سکیورٹی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ ان تازہ بیانات نے سی بی ایس ای کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے کام کاج کو لے کر چل رہے سیاسی تنازع کو اور بڑھا دیا ہے، جس میں اپوزیشن سائبر سکیورٹی کے اقدامات، خریداری کے طریقہ کار اور تعلیمی نظام کے اندر جوابدہی پر جواب مانگ رہی ہے۔
یواین آئی۔ایف اے
دنیا
ایران امریکہ جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے: ایران
تہران، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بلاشبہ تمام محاذوں پر جنگ بندی ہے، جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے۔
اپنے بیان ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تمام محاذوں پر خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ترکیہ۔آذربائیجان گیس سپلائی منصوبہ شام کی ترقی میں مدد کرے گا: اردوعان
انقرہ۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوعان نے کہا ہے کہ شام کے لئے ترکیہ۔آذربائیجان مشترکہ گیس سپلائی اقدام اس ملک کی ترقی اور علاقائی سلامتی میں معاون ثابت ہوگا۔
پیر کے روز باکو انرجی ہفتے کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں صدر اردوعان نے کہا ہے کہ “ترکیہ۔آذربائیجان مشترکہ منصوبے کے نتیجے میں شام کو گیس کی فراہمی کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ قدم اس ملک کی ترقی اور علاقائی سلامتی میں ناقابلِ تردید کردار ادا کرے گا”۔ انہوں نے کہا ہے کہ حالیہ علاقائی پیش رفت نے توانائی کے شعبے میں آذربائیجان کے ساتھ مل کر اٹھائے گئے اقدامات کی اہمیت کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔ دونوں ممالک اُن بڑے بڑےمنصوبوں کوعملی جامہ پہنا رہے ہیں جو کبھی ناممکن سمجھے جاتے تھے۔
انہوں نے، آذربائیجان کے ساتھ مل کر شروع کئے گئے اور جارجیا کے تعاون سے مکمل ہونے والے، باکو۔تبلیس۔جیہان، باکو۔
تبلیس۔ارض روم اور ٹرانس اناطولیائی قدرتی گیس پائپ لائن منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔ صدر اردوعان نے کہا ہے کہ ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان تعاون، آذری۔چراغ۔گنیش لی اور شاہ دنیز شراکت داریوں کے ذریعے مزید گہرا ہوا ہے۔ شاہ دنیز میں “شفق۔آسیمان” شراکت داری اس بات کی علامت ہے کہ دوطرفہ توانائی تعاون بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔
اردوعان نے مزید کہا ہے کہ گزشتہ سال فعال ہونے والی ائیغدر۔ناہچیوان گیس پائپ لائن نے آذربائیجان کے علاقے ناہچیوان میں توانائی کی سلامتی کو تقویت دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان بجلی کے رابطے بھی اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں اور ترکیہ، آذربائیجان، جارجیا اور بلغاریہ کے درمیان جاری “گرین الیکٹرک ٹرانسمیشن اینڈ ٹریڈ” منصوبے سے وسیع خطے کی توانائی سلامتی میں اضافہ متوقع ہے۔
خطے کے توانائی راستوں پر بات کرتے ہوئے صدر اردوعان نے کہا ہے کہ براستہ آذربائیجان اور ترکیہ ترکمان گیس کی برآمد نے تعاون میں فروغ کے نئے مواقع پیدا کئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ باکو۔تبلیس۔جیہان پائپ لائن، قزاقستان کے قدرتی وسائل کو مغربی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے،اب بتدریج زیادہ استعمال ہو رہی ہے۔ صدر نے کہا ہے کہ بشمول قابلِ تجدید اور سبز توانائی ترکیہ کی پالیسی توانائی کے تمام شعبوں میں موثر کارکردگی، کفایت اور ماحولیات کے احترام پر مبنی ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا ہے کہ ترکیہ 9 تا 20 نومبر انطالیہ میں COP31 کانفرنس کی میزبانی کرے گا، جس سے عالمی موسمیاتی اقدامات میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے عزم کو مزید تقویت ملے گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا2 days agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا3 days agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
ہندوستان1 week agoپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
جموں و کشمیر6 days agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
دنیا2 days agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
ہندوستان1 week agoایندھن کی قیمتوں پر کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، ہر روز ہو رہی ہے عوام کی جیب پر ڈکیتی
دنیا2 days agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
دنیا1 week agoمکمل طور پر اسرائیلی انخلاء ایک قومی ترجیح ہے:لبنانی صدر
دنیا3 days agoامریکہ اسرائیل کے تمام جرائم میں شریک ہے: ترجمان ایرانی دفترِ خارجہ
دنیا3 days agoایرانی صدر نے ایک بار پھر پاکستان کے کردار کو سراہا






























































































