ہندوستان
دنیا کی سرکردہ ہوابازی کمپنیوں کے لیے ہندوستان سرمایہ کاری عمدہ موقع فراہم کرتا ہے: وزیر اعظم

نئی دہلی، عالمی معیار کا ہوائی بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے اور کنیکٹیویٹی میں اضافہ کرنے کے اپنے عزم کے عین مطابق، وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں بین الاقوامی ہوائی نقل و حمل ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کی 81ویں سالانہ جنرل میٹنگ (اے جی ایم) اور عالمی ہوائی نقل و حمل سربراہ اجلاس(ڈبلیو اے ٹی اس) کے مکمل اجلاس سے خطاب کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور چار دہائیوں کے بعد ہندوستان میں اس تقریب کی واپسی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے اس مدت کے دوران ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کا ہندوستان پہلے سے زیادہ پر اعتماد ہے۔ انہوں نے عالمی ہوابازی ایکو نظام میں ہندوستان کے کردار پر ، نہ صرف ایک وسیع مارکیٹ کے طور پر بلکہ پالیسی قیادت، اختراع اور جامع ترقی کی علامت کے طور پر بھی زور دیا ۔ وزیر اعظم نے یہ اظہار خیال کرتے ہوئے کہ شہری ہوا بازی کے شعبے نے گذشتہ دہائی کے دوران تاریخی ترقی ملاحظہ کی ہے، جسے اچھی طرح تسلیم کیا جاتا ہے، کہا کہ “آج، ہندوستان خلائی ہوا بازی کے شعبے میں ایک عالمی رہنما کے طور پر ابھر رہا ہے”۔
اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ یہ سربراہ اجلاس اور مکالمہ نہ صرف ہوا بازی کے لیے بلکہ عالمی تعاون، آب و ہوا کے وعدوں اور مساوی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔جناب مودی نے روشنی ڈالی کہ سربراہ اجلاس میں ہونے والی بات چیت سے عالمی ہوا بازی کو نئی سمت ملے گی، اس کے لامحدود امکانات واشگاف ہوں گے اور اس کی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے گا۔ انہوں نے انسانیت کی وسیع فاصلوں اور بین البراعظمی سفر کو محض گھنٹوں میں طے کرنے کی صلاحیت پر تبصرہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ 21ویں صدی کی امنگیں اور آرزوئیں روایتی سفر سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ وزیر اعظم نے اختراعات اور تکنیکی ترقی کی تیز رفتاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے رفتار بڑھ رہی ہے، دور دراز منزلیں ہمارا مقدر بن رہی ہیں۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ سفر اب صرف شہروں تک محدود نہیں ہے، خلائی پروازوں اور بین سیارہ سفر کو تجارتی بنانے کی امنگوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اور انہیں شہری ہوا بازی شعبے سے مربوط کرنے کی خواہش پائی جاتی ہے، جناب مودی نے تسلیم کیا کہ اگرچہ اس طرح کی پیشرفت میں وقت لگے گا، تاہم یہ چیزیں ہوابازی کے مستقبل کو تبدیلی اور اختراع کے مرکز کے طور پر اجاگر کرتی ہیں، جس کے لیے ہندوستان پوری طرح تیار ہے۔ وزیر اعظم نے ہندوستان کے ہوابازی کے شعبے کو چلانے والے تین بنیادی ستونوں کا خاکہ پیش کیا، پہلا، ایک وسیع بازار – نہ صرف صارفین کا مجموعہ بلکہ ہندوستان کے پرامید معاشرے کا عکاس۔ دوسرا، ایک مضبوط آبادیاتی اور ٹیلنٹ پول — جہاں نوجوان اختراع کار مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، اور صاف ستھری توانائی میں پیش رفت کر رہے ہیں۔ تیسرا، ایک کھلا اور معاون پالیسی ماحولیاتی نظام—جو صنعتی ترقی کے لیے راہ ہموار کرتا ہے۔ جناب مودی نے اس امر پر زور دیا کہ ان قوتوں کے ساتھ، ہندوستان اپنے ہوابازی کے شعبے کو بے مثال بلندیوں سے ہمکنار کرنے کے لیے تیار ہے۔
وزیر اعظم نے گزشتہ برسوں کے دوران شہری ہوا بازی میں ہندوستان کی نمایاں تبدیلی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مزید کہا، “ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی گھریلو ہوابازی منڈی بن گیا ہے”۔ اُڈان اسکیم کی کامیابی پر زور دیتے ہوئے اور اسے ہندوستانی شہری ہوابازی کی تاریخ کا ایک سنہرا باب قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس پہل قدمی کے تحت، 15 ملین سے زیادہ مسافرین قابل استطاعت ہوائی سفر سے مستفید ہوئے ہیں، جس سے متعدد شہریوں کو پہلی مرتبہ پرواز کرنے کے قابل بنایا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی ایئر لائنز دوہرے ہندسے کی ترقی کو جاری رکھے ہوئے ہیں، جس میں سالانہ 240 ملین مسافرین سفر کرتے ہیں — جو دنیا بھر کے بیشتر ممالک کی کل آبادی سے زیادہ ہے۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ 2030 تک یہ تعداد 500 ملین مسافروں تک پہنچنے کی امید ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ہندوستان میں سالانہ 3.5 ملین میٹرک ٹن کارگو ہوائی راستے سے منتقل کیا جاتا ہے اور اس دہائی کے آخر تک یہ حجم بڑھ کر 10 ملین میٹرک ٹن ہو جائے گا۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ اعداد و شمار صرف اعداد و شمار نہیں ہیں بلکہ ہندوستان کی بے پناہ صلاحیت کی عکاسی کرتے ہیں، وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان اس صلاحیت میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنے کے لیے ایک مستقبل کے روڈ میپ پر سرگرمی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ انہوں نے عالمی معیار کے ہوائی اڈے کے بنیادی ڈھانچے میں ہندوستان کی سرمایہ کاری پر زور دیا، اور کہا کہ 2014 میں، ملک میں 74 آپریشنل ہوائی اڈے تھے، جو اب بڑھ کر 162 ہو گئے ہیں۔ جناب مودی نے مزید کہا کہ ہندوستانی ایئر لائنوں نے 2,000 سے زیادہ نئے طیاروں کے آرڈر دیے ہیں، جو اس شعبے میں تیزی سے ترقی کا اشارہ دیتے ہیں۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ صرف شروعات ہے، کیونکہ ہندوستان کی ہوابازی کی صنعت ایک اہم پرواز کے لیے تیار کھڑی ہے، جو بے مثال بلندیوں کو حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، انہوں نے روشنی ڈالی کہ یہ تبدیلی نہ صرف جغرافیائی حدود سے تجاوز کرے گی بلکہ عالمی سطح پر پائیداری، سبز نقل و حرکت اور مساوی رسائی کو بھی فروغ دے گی۔
یہ بتاتے ہوئے کہ حفاظت، اثر انگیزی اور پائیداری کو مساوی طور پر ترجیح دی جا رہی ہے، وزیر اعظم نے کہا، ’’ ہندوستان کے ہوائی اڈوں میں اب 500 ملین مسافروں کی سالانہ ہینڈلنگ کی گنجائش ہے اور تکنالوجی کے ذریعے صارف کے تجربے میں نئے معیارات قائم کرنے والے چند ممالک میں شامل ہیں۔‘‘ انہوں نے پائیدار ہوا بازی کے ایندھن، سبز تکنالوجیوں میں سرمایہ کاری، اور کاربن اثرات کو کم کرنے کی کوششوں کی طرف ہندوستان کی منتقلی پر مزید زور دیا۔ جناب مودی نے ریمارک کیا کہ ہندوستان ترقی اور ماحولیاتی تحفظ دونوں کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے، ترقی کے لیے متوازن نقطہ نظر کو تقویت فراہم کرتا ہے۔
بین الاقوامی مہمانوں سے ڈیجی یاترا ایپ کو سمجھنے کی اپیل کرتے ہوئے ، اور اسے ڈیجیٹل ہوا بازی کی ایک اہم مثال کے طور پر اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجی یاترا چہرے کی تصدیق کی تکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک مکمل، ہموار سفر کی سہولت فراہم کرتی ہے، جس سے مسافروں کو ہوائی اڈے میں داخل ہونے سے بورڈنگ گیٹس تک کاغذی دستاویزات اور شناختی کارڈ کے بغیر جانے میں آسانی ہوتی ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ بڑی آبادی کی خدمت میں ہندوستان کی اختراعات اور تجربہ متعدد ممالک کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، “ڈیجی یاترا ایک محفوظ اور اسمارٹ حل کے طور پر نمایاں ہے، جو گلوبل ساؤتھ کے لیے تحریک کے نمونے کے طور پر کام کرتی ہے”۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مسلسل اصلاحات ہندوستان کے تیزی سے پھیلتے ہوا بازی کے شعبے کا ایک اہم محرک رہا ہے، وزیر اعظم نے اس وژن کی حمایت کرنے والے اہم اقدامات کے ساتھ، عالمی مینوفیکچرنگ کا مرکز بننے کے لیے ہندوستان کے عزم پر زور دیا۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس سال کے بجٹ میں مشن مینوفیکچرنگ کا اعلان کیا گیا تھا، جس سے صنعتی ترقی پر ہندوستان کی توجہ کو تقویت حاصل ہوئی، جناب مودی نے اس سال پارلیمنٹ میں پاس ہونے والے ایئر کرافٹ آبجیکٹ بل میں مفادات کے تحفظ کو مزید اجاگر کیا، جو ہندوستان میں کیپ ٹاؤن کنونشن کو قانونی اختیار دیتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ قانون ہندوستان میں گلوبل ایئر کرافٹ لیزنگ کمپنیوں کے لیے نئے مواقع کھولتا ہے۔ انہوں نے گفٹ سٹی میں پیش کی جانے والی مراعات کی جانب بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے ہندوستان کو ایئرکرافٹ لیزنگ کے لیے ایک پرکشش مقام بنا دیا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ “نیا انڈین ایر کرافٹ ایکٹ ہوابازی کے قوانین کو عالمی بہترین طریقوں کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے، ایک ہموار ضابطہ جاتی فریم ورک، تعمیل میں آسانی، اور ایک آسان ٹیکس ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جو بڑی بین الاقوامی ہوابازی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کا ایک اہم موقع پیش کرتا ہے”۔ اس امر کا ذکر کرتے ہوئے کہ صنعت پائلٹس، عملے کے ارکان، انجینئرز اور زمینی عملے کے لیے وسیع مواقع پیدا کر رہی ہے، انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہوا بازی کے شعبے میں ترقی نئی پروازوں، نئی ملازمتوں اور نئے امکانات کی ترجمانی کرتی ہے۔ وزیر اعظم نے دیکھ بھال، مرمت اور اوور ہال (ایم آر او) کو ایک ابھرتے ہوا شعبے کے طور پر اجاگر کیا اور کہا کہ ہندوستان ہوائی جہاز کی دیکھ بھال کا عالمی مرکز بننے کی کوششوں کو تیز کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 2014 میں، ہندوستان کے پاس 96 ایم آر او سہولیات تھیں، جو اب بڑھ کر 154 ہو گئی ہیں جبکہ خودکار راستے کے تحت 100فیصد ایف ڈی آئی ، جی ایس ٹی میں تخفیف، اور ٹیکس کو معقول بنانے کے اقدامات نے ہندوستان کے ایم آر او شعبے کو نئی رفتار دی ہے۔ جناب مودی نے ملک کی ہوابازی کی ترقی کی حکمت عملی کو تقویت بہم پہنچاتے ہوئے 2030 تک 4 بلین امریکی ڈالر کے بقدر ایم آر او مراکز قائم کرنے کے ہندوستان کے ہدف کا خاکہ پیش کیا۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہندوستان کو محض ہوابازی منڈی کے طور پر نہیں بلکہ ایک ویلیو چین لیڈر کے طور پر دیکھا جانا چاہئے، وزیر اعظم نے کہا کہ ڈیزائن سے لے کر بہم رسانی تک، ہندوستان عالمی ہوابازی سپلائی چین کا ایک جزو لاینفک بن رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کی سمت اور رفتار درست راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے ملک کی مسلسل تیز رفتار ترقی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ جناب مودی نے ہوابازی کمپنیوں سے اپیل کی کہ وہ نہ صرف ‘میک ان انڈیا’ بلکہ ‘ڈیزائن ان انڈیا’ کو بھی اپنائیں، جس سے ہوا بازی کی عالمی جدت طرازی میں ہندوستان کی قیادت کے وژن کو تقویت حاصل ہوگی۔
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کا ہوا بازی کا شعبہ اس کے جامع ماڈل سے مضبوط ہوا ہے، ہندوستان میں 15فیصد سے زیادہ پائلٹ خواتین ہیں، یہ تعداد عالمی اوسط سے تین گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں کیبن عملے میں خواتین کی عالمی اوسط تقریباً 70 فیصد ہے، وہیں ہندوستان میں یہ تعداد 86 فیصد ہے۔ جناب مودی نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کے ایم آر او شعبے میں خواتین انجینئرز عالمی اوسط سے زیادہ ہیں، جو صنعت میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کو ظاہر کرتی ہیں۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ڈرون ٹکنالوجی ہوا بازی کے مستقبل کا ایک اہم جز ہے، اور ہندوستان تکنیکی ترقی کے ساتھ ساتھ مالی اور سماجی شمولیت کے لیے اس کا فائدہ اٹھا رہا ہے، وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ڈرون کا استعمال خواتین کے سیلف ہیلپ گروپوں کو بااختیار بنانے، زراعت، خدمات بہم رسانی اور دیگر مختلف شعبوں میں ان کی شراکت کو بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نے بین الاقوامی بہترین طریقوں سے ہندوستان کے عزم کو تقویت دیتے ہوئے کہا، “ہوابازی سے متعلق سلامتی ہمیشہ سے ہندوستان کی اولین ترجیح رہی ہے۔ ہندوستان نے اپنے ضابطوں کو آئی سی اے او کے عالمی معیارات کے ساتھ جوڑ دیا ہے”۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ آئی سی اے او کے حالیہ سیفٹی آڈٹ میں ہوا بازی کی حفاظت کو مضبوط بنانے میں ہندوستان کی کوششوں کو تسلیم کیا گیا ہے اور ایشیا پیسفک وزارتی کانفرنس میں دہلی اعلامیہ کو اپنانا عالمی ہوا بازی کی عمدہ کارکردگی کے لئے ہندوستان کے عزم کا مزید ثبوت ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کھلے آسمانوں اور عالمی رابطے کی مسلسل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے شکاگو کنونشن کے اصولوں کی ہندوستان کی توثیق کا بھی ذکر کیا، اور مزید مربوط اور قابل رسائی ہوابازی نیٹ ورک کی وکالت کی۔ جناب مودی نے متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ ایک ایسا مستقبل بنانے کے لیے مل کر کام کریں جہاں ہوائی سفر سب کے لیے قابل رسائی، قابل استطاعت اور محفوظ ہو۔ انہوں نے ہوا بازی کو مزید بلندیوں سے ہمکنار کرنے کے لیے نئے حل تیار کرنے کے شعبے کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنی بات مکمل کی اور تمام تر متعلقہ فریقوں کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
جناب کنجاراپو رام موہن نائیڈو، جناب مرلی دھر موہول جیسے مرکزی وزراء، آئی اے ٹی اے کے بورڈ آف گونرس جناب پیٹر ایلبرس، آئی اے ٹی اے کے ڈائرکٹر جنرل جناب وِلی والش، انڈیگو کے منیجنگ ڈائرکٹر جناب راہل بھاٹیہ دیگر معززین کے ساتھ اس تقریب میں موجود تھے۔
یواین آئی، م ش-م ا
ہندوستان
حکومت کا 12 سالہ سفر قلت سے خود انحصاری اور خود انحصاری سے وکست بھارت کی سمت بڑھنے کا: راجناتھ
نئی دہلی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ مودی حکومت کا 12 سالہ سفر قلت سے خود انحصاری کی طرف، خود انحصاری سے خود اعتمادی کی طرف اور خود اعتمادی سے وکست بھارت کی تعمیر کی سمت میں پیش رفت کا رہا ہے۔
مسٹر سنگھ نے ہفتہ کو یہاں ایک میڈیا آرگنائزیشن کی جانب سے منعقدہ پروگرام میں کہا، “گزشتہ 12 سال میں ہندوستان کا سفر قلت سے خود انحصاری کی طرف، خود انحصاری سے خود اعتمادی کی طرف اور خود اعتمادی سے وکست بھارت کی تعمیر کی طرف پیش رفت کا رہا ہے۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے پہلی میعاد کار میں قلت کو دور کیا، مواقع کو بڑھایا اور ورک کلچر میں تبدیلی کی، دوسری میعاد کار میں، آرزوؤں کو کامیابیوں میں تبدیل کیا اور ملک کو خود انحصاری کی راہ پر مضبوطی سے آگے بڑھایا۔ تیسری میعاد کار میں، حکومت “اصلاح، کارکردگی، تبدیلی” کی پالیسی کے ذریعے وکست بھارت کی مضبوط بنیاد رکھ رہی ہے اور چوتھی میعاد کار میں دنیا ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے عروج کی گواہ بنے گی۔ وزیر دفاع نے گزشتہ 12 سال میں ملک میں ہونے والی تبدیلیوں کے اہم پہلوؤں کے بارے میں کہا کہ جب 2014 میں ‘میک ان انڈیا’ اسکیم شروع ہوئی تھی تو کچھ لوگوں نے اسے ناکام بتایا تھا لیکن اس اسکیم نے کامیابی کے نئے معیارات قائم کیے اور یہ آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا، “ہندوستان کے عالمی وقار میں ایک انقلابی تبدیلی آئی ہے۔ پہلے جہاں دنیا ہماری بات پر توجہ نہیں دیتی تھی، وہیں آج وہ عالمی مسائل پر ہندوستان کے نقطہ نظر کو غور سے سنتی ہے۔” انہوں نے کہا کہ 2021 میں شروع کیے گئے انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن پر ابتدائی شکوک و شبہات کے باوجود، ‘پلگ اینڈ پلے’ بنیادی ڈھانچے کے ماڈل پر مبنی سیمی کنڈکٹر پارکوں کے قیام کی وجہ سے ملک نے گزشتہ سال اپنی خود کی سیمی کنڈکٹر چپ تیار کی۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ مالی سال 26-2025 میں سالانہ دفاعی پیداوار اب تک کی بلند ترین سطح 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ مالی سال 15-2014 کے اعداد و شمار سے تین گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی برآمدات ریکارڈ 38,000 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہیں۔ یہ مالی سال 14-2013 کے 686 کروڑ روپے سے تقریباً 57 گنا زیادہ ہے اور میک ان انڈیا اقدامات میں دنیا کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیر دفاع نے ہندوستان کے مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی نمایاں ترقی کے بارے میں بتاتے ہوئے موبائل مینوفیکچرنگ، آٹوموبائل برآمدات، دیسی لوکوموٹیو کی پیداوار اور میک ان انڈیا کے تحت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع کا ذکر کیا۔ انہوں نے مقامی طور پر تیار کردہ میک ان انڈیا 5جی ٹیکنالوجی کی ملک گیر تیز رفتار توسیع کی بھی بات کی اور کہا کہ 6جی کی ترقی کی سمت میں کوششیں جاری ہیں۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ 2014 سے پہلے، فلاحی اسکیموں کی تقسیم میں بدعنوانی اور غبن کو بڑے پیمانے پر ناگزیر سمجھا جاتا تھا جس کی وجہ سے فائدہ مستحقین تک نہیں پہنچ پاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر، جن دھن، آدھار اورموبائل کی ٹرینٹی اور ‘جے اے ایم ٹرینٹی ‘ کے ذریعے اس چیلنج کا حل نکالا ہے۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کا خاتمہ اور نکسلی انتہاپسندی کو ختم کرنے کے لیے کی جانے والی مسلسل کوششیں حکومت کے ان مسائل کو حل کرنے کے پختہ عزم کی روشن مثالیں ہیں جنہیں کبھی ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا، “ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بن گیا ہے۔ گزشتہ 12 سال میں، اسٹارٹ اپس کی تعداد 500 سے بڑھ کر 2 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے اور یونیکورنز کی تعداد چار سے بڑھ کر 125 ہو گئی ہے۔”
مسٹر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی ثقافت اس کی شناخت، اتحاد اور قومی شعور کی بنیاد ہے اور تہذیب، ثقافت اور ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ہمہ جہت ترقی کو بھی آگے بڑھایا گیا ہے۔ وزیر دفاع نے آج کے دور میں میڈیا کے کردار کو ‘مواصلات کی کثرت’ کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم بتاتے ہوئے کہا کہ چیلنج معلومات کی کمی نہیں بلکہ اس کی درستگی اور معتبریت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) جیسی تکنیکی ترقی سے ‘صحافت’ بھی متاثر ہوئی ہے لیکن یہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں اور ذہانت کو پیچھے نہیں چھوڑ پائیں گی۔ انہوں نے کہا، “صحافت کی مستقبل کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ وہ اے آئی کی صلاحیتوں اور انسانی ہمدردی کے درمیان کتنا اچھا توازن اور ہم آہنگی قائم کر پاتی ہے۔ جہاں اے آئی صحافت کو تیز اور زیادہ درست بنائے گا، وہیں جذباتی ذہانت یہ یقینی بنائے گی کہ یہ انسانی اور قابل اعتماد بنی رہے۔”
مسٹر سنگھ نے کہا کہ صحافت کی اصل طاقت صرف معلومات کی تشہیر میں نہیں بلکہ سماج کو صحیح سمت میں رہنمائی کرنے، سچائی کو سامنے لانے اور جمہوریت کو مضبوط کرنے میں پنہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات سماج اور دفاعی افواج کے حوصلے پر سنگین اثرات مرتب کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافت میں سب سے پہلے خبر دینا اہم ہو سکتا ہے لیکن صحیح خبریں دینا اس سے بھی کہیں زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا، “خصوصی طور پر جب موضوع دفاعی افواج، قومی سلامتی یا ملک کی خدمت میں اعلیٰ ترین قربانی دینے والوں کے احترام سے متعلق ہو، تو ہر لفظ قومی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ میڈیا کو ہمیشہ درستگی، غیر جانبداری اور غیرجانبداری کو برقرار رکھنا چاہیے۔”
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
وزیر اعظم مودی پیر سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی پیر سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے۔
وزارت خارجہ میں سکریٹری (مشرقی امور) رودریندر ٹنڈن نے جمعہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مسٹر مودی 6 سے 11 جولائی تک ان تینوں ممالک کے دورے پر رہیں گے۔ وہ 6 سے 8 جولائی تک انڈونیشیا، 8 سے 10 جولائی تک آسٹریلیا اور 10 سے 11 جولائی تک نیوزی لینڈ کا دورہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا میں وزیر اعظم کی اہم مصروفیات دارالحکومت جکارتہ میں ہوں گی۔ بعد ازاں وہ ثقافتی دارالحکومت یوگیاکارتا بھی جائیں گے اور پرمبانن مندر کا بھی دورہ کریں گے۔
مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ گزشتہ سال انڈونیشیا کے صدر کے دورۂ ہند کے بعد ہونے والے اس دورے کے دوران مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں تعاون پر بھی بات چیت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ملاکا میں استحکام اور سلامتی کے حوالے سے انڈونیشیا کا اہم کردار ہے۔
مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں مسٹر مودی آسٹریلیا جائیں گے، جہاں وہ آسٹریلیا کے وزیر اعظم کے ساتھ تیسرے ہند-آسٹریلیا سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ دونوں رہنما اہم معدنیات، سائبر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
مسٹر مودی میلبورن میں ایک کھیلوں کے پروگرام میں بھی شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ دورے کے تیسرے اور آخری مرحلے میں وزیر اعظم نیوزی لینڈ جائیں گے، جہاں وہ اپنے ہم منصب کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کریں گے۔ گزشتہ چالیس برس سے زیادہ عرصے میں کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا یہ پہلا دورۂ نیوزی لینڈ ہوگا۔ اس سے قبل سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی 1986 میں نیوزی لینڈ گئے تھے۔
پریس کانفرنس میں موجود حکام نے سوالوں کے جواب میں بتایا کہ آسٹریلیا کے دورے کے دوران ہندوستانی طلبہ کے ویزوں اور مختلف تعلیمی کورسز کی بڑھتی ہوئی فیسوں کے معاملے پر بھی بات چیت ہونے کا امکان ہے۔
وزیر اعظم تینوں ممالک میں مقیم ہندوستانی برادری کے افراد سے بھی ملاقات کریں گے، ان سے خطاب کریں گے اور مختلف تقریبات میں شرکت کریں گے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
سندھ طاس معاہدہ: پاکستان کو ہندوستان کا کرارا جواب، دہشت گردی کی حمایت بند کرنی ہوگی
نئی دہلی، ہندوستان نے سندھ طاس معاہدے کے تعلق سے پاکستان کی حالیہ بیان بازی پر اسے کرارا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں ہندوستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور پاکستان کو دہشت گردی کی حمایت بند کرنی ہوگی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو باقاعدہ میڈیا بریفنگ میں اس بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جواب میں کہا کہ ہندوستان کی طرف سے یہ معاہدہ معطل ہے اور پاکستان کو دہشت گردی کی حمایت پر روک لگانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے پر ہندوستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ یہ معاہدہ تب تک معطل رہے گا جب تک کہ پاکستان معتبر اور مکمل طور پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کرنا بند نہیں کر دیتا۔
قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں پاکستان میں سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ سیمینار میں پاکستان کے کئی اہم رہنماؤں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان کا پانی روکا جاتا ہے تو وہ اس کے لیے جنگ سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ پاکستان نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ہندوستان ندیوں کے پانی پر کنٹرول کر رہا ہے۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان نے سخت فیصلہ کرتے ہوئے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا تھا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان5 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا5 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
جموں و کشمیر1 week ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان1 week agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا4 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
جموں و کشمیر1 week agoآمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
دنیا1 week agoایران نے اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا
دنیا2 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
ہندوستان5 days agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
دنیا4 days agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صرف ایران ہٹائے گا، فرانس کا مؤقف مسترد
ہندوستان1 week agoپاسپورٹ فیس میں اضافے پر کانگریس کی مرکز پر تنقید ، سرجیوالا نےکہا ’مہنگائی کی نئی قسط‘
ہندوستان1 week agoسرکار کو ایندھن کی بڑھی ہوئی قیمتیں واپس لینی چاہئیں: کھرگے































































































