تازہ ترین
ویڈیو: گورنر نے ہی مجھے فیکس بھیجنے کے لئے بولا، گورنر حقائق کو توڑ مڑوڑ کر پیش کر رہے ہیں : سجاد لون

خبراردو:
ریاست کا اسمبلی تحلیل تنازعہ ختم ہونے کے بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔ پہلے سجاد لون بھاجپا اور دوسری طرف این سی پی ڈ پی کانگریس کی طرف سے سرکار تشکیل دینے کے دعوؤں کو مسترد کرنا پھر اسکے بعد اچانک اسمبلی تحلیل کر دینا .اور اب گورنر کا ائی ٹی ایم یونیورسٹی میں معنی خیز بیان دینا کہ اگر انہوں نے دلی کی طرف دیکھا ہوتا تو انہیں سجاد کی سرکار بنانی پڑتی ، اور جہاں پی ڈی پی این سی نے پہلے اچانک اسمبلی تحلیل کرنے کے فیصلے پر گونر کو سخت تقیند کا نشانہ بنایا ، محبوبہ مفتی نے کہا تھا یہ اقدام جمہوریت کے شایان شان نہیں ، عمر نے حیرانگی کا اظہار کیا تھا ۔ اور وہیں بھاجپا کے اتحادی سجادلون گورنر کے فیصلے پر خوش دیکھائی دے رہے تھے ، اور انہوں نے کہا تھا کہ انہیں گورنر کا فیصلہ منظور ہے ۔
لیکن اب معاملہ پھر سے الٹا ہو گیا ہے ۔ کیون کہ گورنر کے گولیار میں دئے گئے بیان کے بعد اب این سی پی ڈی پی نے گورنر کے اسمبلی تحلیل کرنے کے فیصلے پر مبارکباد دی کہ انہوں نے دلی کا نہیں سنا اور بھاجپا کو سرکار بنانے سے روکا ۔
دوسری طرف سجاد لون گورنرکے بیان پر بھڑک گئے گئے ، اور گورنر پر حقائق کو توڑ مڑور کر پیش کر نے کا الزام بھی لگا ڈالا ۔ انہوں ن کہا کچھ لوگون اور بدقسمتی سے عزت ماب گورنر صاحب کی طرف سے حقائق اور کچھ واقعات کو بڑے پیمانے پر توڑ مرور کر پیش کیا جا رہا ہے ۔ اس لئے میں ریکارڈ اکو درست کرنا چاہتا ہوں ، جس دن ہم نے حکومت تشکیل دینے کا دعوی کیا تو میں پہلا شخص تھا جس نے ٹیلیفون پر گورنر سے بات کی اور ان سے کہا کہ میں ریاست میں سرکار بنانے کا دعوی کرنا چاہتا ہوں ‘‘۔
گورنر جواب میں کہا کہ آپ فیکس بھیجے ، اسکے بعد ہم تین گھنٹے تک فیکس راج بھون کرنے کی کوشش کی ، لیکن فیکس نہیں ہوا ، اور کئی کوششوں کے با وجود جب فیکس راج بھون نہیں کیا جا سکا تو میں نے گورنر کے سیکریٹری سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے فون نہیں اٹھایا ۔اور اس دوران حکومت تشکیل دینے کا ایک اور دعوی سوشل میڈیا پر پوسٹ کئے گئے مکتوب میں سامنے آیا جو محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پر اپلود کیا تھا ۔ میں نہیں کہ انہوں نے مطلوبہ تعداد ہونے کی بنیاد پر یہ دعوی پیش کیا تھا ا ور اس سلسلے میں میں نے گورنر کو آگاہ بھی کیا تھا ‘‘۔
سجاد نے مزید کہا کہ جب محبوبہ مفتی کو اس بات کی جانکاری ہوئی کہ ہم حکومت سازی کا دعوی پیش کرنے جا رہے ہیں تو محبوبہ مفتی نے فوری طور ٹویٹر کا سہارا لے کر اس پر دعوی پیش کر دیا ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حکومت تشکیل دینے کا دعوی پیش کیا تو میں نے سب آئین دفعات اور مکمل طور قانون کے مطابق کیا ۔اور مین نہیں جانتا کہ انہوں نے کب آئینی دفعات کو غیر قانونی بنا دیا ۔ اس بات کی وضاحت گورنر کو کرنی ہوگی ۔
اب یہاں پر سجاد لون یہ دعوی کر رہے ہیں کہ انہوں نے سرکار تشکیل دینے کے دعوی کیلئے گورنر سے ٹیلیفون پر بات کر کے اس بات سے آگاہ کیا تھا ۔ لیکن دوسری اور گورنر یہ دعوی کر رہے ہیں کہ ان کسی نے فون نہیں کیا ہے ۔
اب کون سچ کہہ رہا ہے کون جھوٹ؟
ہندوستان
سی بی ایس ای کے او ایس ایم سائبر سکیورٹی تنازع پر کانگریس نے کی وزیر تعلیم کے استعفے کی مانگ
نئی دہلی، کانگریس نے پیر کو مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) کے ‘آن اسکرین مارکنگ’ (او ایس ایم) نظام میں سائبر سکیورٹی میں نقب زنی کے تعلق سے مرکزی حکومت پر اپنا حملہ تیز کر دیا ہے۔ پارٹی نے وزارت تعلیم سے جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کی مانگ کی ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری (انچارج مواصلات) جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ سی بی ایس ای نے شروع میں اپنے ڈیجیٹل ایویلیوشین پلیٹ فارم میں خامیوں سے انکار کیا تھا، لیکن آخر کار اس نے تسلیم کر لیا کہ سسٹم میں نقب زنی ہوئی تھی۔ انہوں نے ٹھیکیدار کمپنی ‘سی او ای ایم پی ٹی’ کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے اور حکام پر الزام لگایا کہ وہ اس کمپنی کی خراب کارکردگی کے خدشات کے باوجود اسے بچا رہے ہیں۔ جے رام رمیش نے ‘ایکس’ پر پوسٹ میں کہا، “ہفتوں تک اپنے ‘آن اسکرین مارکنگ’ نظام میں سائبر سکیورٹی کی خامیوں سے انکار کرنے کے بعد سی بی ایس ای نے آخر کار تسلیم کر لیا ہے کہ سسٹم میں نقب زنی ہوئی ہے۔”
کانگریس رہنما نے سوال کیا کہ کیا اس سسٹم کو چلانے کے لیے ذمہ دار ٹھیکیدار کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا، “لیکن وہ اپنے ٹھیکیدار کمپنی ‘سی او ای ایم پی ٹی’ کے خلاف کیا کارروائی کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے؟ لگتا تو نہیں ہے۔” جے رام رمیش نے مزید دعویٰ کیا کہ معاہدہ سے پہلے ٹینڈر کی شرائط میں کی گئی تبدیلیوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وینڈر کو بچانے کی کوشش کی گئی تھی۔
ان کے مطابق، اگست 2025 میں جاری سی بی ایس ای کے ‘ریکویسٹ فار پروپوزل’ (آر ایف پی) میں ان دفعات کو برقرار رکھا گیا تھا، جو مؤثر طریقے سے کام نہ کرنے والے وینڈرز کو بلیک لسٹ کرنے کا بورڈ کو اختیار دیتے تھے۔ تاہم، انہوں نے الزام لگایا کہ اگلے ہی مہینے جاری ایک ترمیمی خط کے ذریعے ایسی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کا بورڈ کا اختیار ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے کہا، “ایسا لگتا ہے کہ سی بی ایس ای اور وزارت تعلیم میں بیٹھے ‘سی او ای ایم پی ٹی’ کے مددگاروں کو پہلے سے ہی اندازہ تھا کہ ٹھیکیدار کمپنی اس کام کے لائق نہیں ہوگی۔” انہوں نے اس تبدیلی کو ‘سی او ای ایم پی ٹی کو بچانے کی کوشش اور حکومت کی سرپرستی میں ہونے والی سرگرمی’ بتایا، جو کمپنی کو باقاعدہ طور پر کانٹریکٹ ملنے سے پہلے ہی شروع ہو گیا تھا۔
یہ تنازع پرچوں کے ڈیجیٹل ایویلیوشن کے لیے سی بی ایس ای کے زیر استعمال او ایس ایم نظام سے جڑا ہے، جو ملک بھر کے لاکھوں طلبہ کو متاثر کرنے والے امتحانی عمل کا انتہائی اہم حصہ ہے۔ سائبر سکیورٹی کی خامیوں اور جانچ کے عمل کی شفافیت کے تعلق سے پیدا ہوئے خدشات نے سیاسی تنقید کو ہوا دی ہے۔ اس کے بعد اپوزیشن جماعتیں اس سسٹم کے انتظام اور اس سے متعلق کانٹریکٹ دیے جانے کے معاملے میں مزید شفافیت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ حکومت پر حملے کو اور تیز کرتے ہوئے جے رام رمیش نے وزارت تعلیم پر ان بے ضابطگیوں کو شہ دینے کا الزام لگایا، جنہوں نے ان کے دعوے کے مطابق طلبہ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا، “ملک کو کب تک ایسے ‘وزیر پردھان’ کو برداشت کرنا پڑے گا، جن کی وزارت نے اپنے ٹینڈروں میں ایسی ناقابل تصور بے ضابطگیوں کو ہونے دیا اور اوربڑھاوا دیا، جس سے لاکھوں طلبہ کا ذہنی سکون چھن گیا؟” کانگریس رہنما نے عوامی عہدے پر جوابدہی کی کمی کا الزام لگاتے ہوئے وزیر اعظم اور مرکزی وزیر تعلیم کو بھی نشانہ بنایا۔ جے رام رمیش نے کہا، “وزیر پردھان کو اپنے ‘راج دھرم’ پر عمل کرنا چاہیے اور استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ان الزامات پر وزارت تعلیم، سی بی ایس ای یا سی او ای ایم پی ٹی کی طرف سے فی الحال کوئی فوری ردعمل نہیں آیا ہے۔
بورڈ نے پہلے یہ رخ اپنایا تھا کہ وہ اپنے امتحان اورایویلیوشن نظام کی سکیورٹی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ ان تازہ بیانات نے سی بی ایس ای کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے کام کاج کو لے کر چل رہے سیاسی تنازع کو اور بڑھا دیا ہے، جس میں اپوزیشن سائبر سکیورٹی کے اقدامات، خریداری کے طریقہ کار اور تعلیمی نظام کے اندر جوابدہی پر جواب مانگ رہی ہے۔
یواین آئی۔ایف اے
دنیا
ایران امریکہ جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے: ایران
تہران، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بلاشبہ تمام محاذوں پر جنگ بندی ہے، جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے۔
اپنے بیان ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تمام محاذوں پر خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ترکیہ۔آذربائیجان گیس سپلائی منصوبہ شام کی ترقی میں مدد کرے گا: اردوعان
انقرہ۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوعان نے کہا ہے کہ شام کے لئے ترکیہ۔آذربائیجان مشترکہ گیس سپلائی اقدام اس ملک کی ترقی اور علاقائی سلامتی میں معاون ثابت ہوگا۔
پیر کے روز باکو انرجی ہفتے کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں صدر اردوعان نے کہا ہے کہ “ترکیہ۔آذربائیجان مشترکہ منصوبے کے نتیجے میں شام کو گیس کی فراہمی کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ قدم اس ملک کی ترقی اور علاقائی سلامتی میں ناقابلِ تردید کردار ادا کرے گا”۔ انہوں نے کہا ہے کہ حالیہ علاقائی پیش رفت نے توانائی کے شعبے میں آذربائیجان کے ساتھ مل کر اٹھائے گئے اقدامات کی اہمیت کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔ دونوں ممالک اُن بڑے بڑےمنصوبوں کوعملی جامہ پہنا رہے ہیں جو کبھی ناممکن سمجھے جاتے تھے۔
انہوں نے، آذربائیجان کے ساتھ مل کر شروع کئے گئے اور جارجیا کے تعاون سے مکمل ہونے والے، باکو۔تبلیس۔جیہان، باکو۔
تبلیس۔ارض روم اور ٹرانس اناطولیائی قدرتی گیس پائپ لائن منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔ صدر اردوعان نے کہا ہے کہ ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان تعاون، آذری۔چراغ۔گنیش لی اور شاہ دنیز شراکت داریوں کے ذریعے مزید گہرا ہوا ہے۔ شاہ دنیز میں “شفق۔آسیمان” شراکت داری اس بات کی علامت ہے کہ دوطرفہ توانائی تعاون بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔
اردوعان نے مزید کہا ہے کہ گزشتہ سال فعال ہونے والی ائیغدر۔ناہچیوان گیس پائپ لائن نے آذربائیجان کے علاقے ناہچیوان میں توانائی کی سلامتی کو تقویت دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان بجلی کے رابطے بھی اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں اور ترکیہ، آذربائیجان، جارجیا اور بلغاریہ کے درمیان جاری “گرین الیکٹرک ٹرانسمیشن اینڈ ٹریڈ” منصوبے سے وسیع خطے کی توانائی سلامتی میں اضافہ متوقع ہے۔
خطے کے توانائی راستوں پر بات کرتے ہوئے صدر اردوعان نے کہا ہے کہ براستہ آذربائیجان اور ترکیہ ترکمان گیس کی برآمد نے تعاون میں فروغ کے نئے مواقع پیدا کئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ باکو۔تبلیس۔جیہان پائپ لائن، قزاقستان کے قدرتی وسائل کو مغربی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے،اب بتدریج زیادہ استعمال ہو رہی ہے۔ صدر نے کہا ہے کہ بشمول قابلِ تجدید اور سبز توانائی ترکیہ کی پالیسی توانائی کے تمام شعبوں میں موثر کارکردگی، کفایت اور ماحولیات کے احترام پر مبنی ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا ہے کہ ترکیہ 9 تا 20 نومبر انطالیہ میں COP31 کانفرنس کی میزبانی کرے گا، جس سے عالمی موسمیاتی اقدامات میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے عزم کو مزید تقویت ملے گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا2 days agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا3 days agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
ہندوستان1 week agoپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
جموں و کشمیر6 days agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
دنیا2 days agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
ہندوستان1 week agoایندھن کی قیمتوں پر کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، ہر روز ہو رہی ہے عوام کی جیب پر ڈکیتی
دنیا2 days agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
دنیا1 week agoمکمل طور پر اسرائیلی انخلاء ایک قومی ترجیح ہے:لبنانی صدر
دنیا3 days agoامریکہ اسرائیل کے تمام جرائم میں شریک ہے: ترجمان ایرانی دفترِ خارجہ
دنیا3 days agoایرانی صدر نے ایک بار پھر پاکستان کے کردار کو سراہا






























































































