جموں و کشمیر
ممبر اسمبلی وحید پرہ کا دعویٰ بالکل غلط اورگمراہ کن: اسپیکرعبدالرحیم راتھر

ممبراسمبلی ڈوڈہ مہراج ملک کی PSAکے تحت نظربندی کا قضیہ
اسمبلی سیکرٹریٹ کاPSA کی توثیق کرنے سے انکار
سری نگر :جے کے این ایس : جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ نے پیر کو ڈوڈہ کے ممبراسمبلی مہراج ملک کےخلاف پبلک سیفٹی ایکٹ کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا جسے سخت حفاظتی نظر بندی قانون کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ مہراج ملک، جو عام آدمی پارٹی کی جموں وکشمیر شاخ کے صدر بھی ہیں، کو پیر کی شام کٹھوعہ ڈسٹرکٹ جیل منتقل کر دیا گیا۔جے کے این ایس کے مطابق جموں وکشمیر اسمبلی سیکرٹریٹ نے یہاں ایک سرکاری بیان میں کہا کہ کچھ میڈیا رپورٹس، سوشل میڈیا پلیٹ فارم، ایکس میں یہ بات نمایاںطورپررپورٹ کی گئی ہے کہ جموں و کشمیرقانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ نے ممبراسمبلی مہراج ملک پر پبلک سیفٹی ایکٹ 1978 کی دفعات کو پبلک سیفٹی ایکٹ کی توثیق کی ہے، جو کہ حقیقت میں بے بنیاد ہے اور اس میں اسمبلی سیکرٹریٹ کا کوئی کردار نہیں ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے اصول260 کے تحت سیکرٹریٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ارکان اسمبلی کو مہراج ملک کی حراست کے بارے میں مطلع کرے۔ اس نے واضح کیا کہ قاعدہ 260میں لکھاگیاہے کہ جتنی جلدی ہو سکے، اسپیکر کو، قاعدہ 258 یا قاعدہ 259 میں حوالہ دیا گیا پیغام موصول ہونے کے بعد، اسے ایوان میں پڑھ کر سنایا جائے گا، اگر اجلاس میں ہو یا اگر ایوان براہ راست اجلاس میں نہ ہو، تاکہ اسے اراکین کی معلومات کے لیے بلیٹن میں شائع کیا جائے۔اس دوران جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے منگل کے روز ممبر اسمبلی وحیدالرحمان پرہ کے ان الزامات کو مسترد کیا کہ اسمبلی نے ممبراسمبلی ڈوڈہ مہراج ملک کی پبلک سیفٹی ایکٹ نظربندی کی توثیق کی، ان دعوو ¿ں کو مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن قرار دیا۔ اسپیکر عبدالرحیم راتھرنے کہا کہ وحید پرہ قوانین سے بے خبر تھے اور انہوں نے غلط اور جھوٹ بولا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے گمراہ کن بیانات کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور غلط معلومات پھیلانے والوں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
اسپیکر نے مزید کہا کہ گرفتاریوں کی منظوری یا نامنظور ی میں نہ تو اسمبلی اور نہ ہی اس کے سیکرٹریٹ کا کوئی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں اختیار صرف اسپیکر کے پاس ہے، جب بھی کسی رکن کو گرفتار کیا جاتا ہے توا سپیکر کا فرض ہے کہ وہ ساتھی ممبران کو آگاہ کرے، یہ ہمارے کردار کا خاتمہ ہے۔عبدالرحیم راتھر نے کہا کہ جب اسمبلی کو معراج ملک کی گرفتاری کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے اس عمل میں کسی قسم کی مداخلت کے بغیر محض اراکین کو آگاہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گرفتاری کے فیصلے میں ا سپیکر یا اسمبلی سیکرٹریٹ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، قواعد پر عمل کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر سزا دی جائے گی۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: بیرون ملک نوکری دلانے کا جھوٹا وعدہ کر کے ٹھگی کرنے کے الزام میں جاب کنسلٹنسی کے خلاف معاملہ درج
سرینگر، جموں و کشمیر کی اقتصادی جرائم شاخ (ای او ڈبلیو) نے بیرون ملک نوکری دلانے کا جھوٹا وعدہ کر کے ایک مقامی باشندے کو کمبوڈیا بھیجنے اور ٹھگی کرنے کے معاملے میں ایک فرضی جاب کنسلٹنسی کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔
افسران نے بدھ کو بتایا کہ متاثرہ شخص کو ضلع بارہمولہ کے پٹن علاقے میں چل رہی ایک غیر مجاز کنسلٹنسی نے جھانسا دیا تھا۔ اسے بیرون ملک پرکشش ماہانہ تنخواہ پر کمپیوٹر آپریٹر کی نوکری دلانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
دعوؤں پر یقین کرتے ہوئے شکایت کنندہ نے ملزم کے بینک اکاؤنٹ میں ایک بڑی رقم منتقل کر دی اور سفر و متعلقہ انتظامات پر بھی اضافی رقم خرچ کی۔ تاہم، کمبوڈیا پہنچنے پر شکایت کنندہ کو نامعلوم افراد لے گئے اور وعدہ کردہ نوکری دینے کے بجائے اسے دھوکہ دہی پر مبنی آن لائن سرگرمیوں میں شامل ہونے کے لیے مجبور کیا گیا۔
متاثرہ شخص نے ان سرگرمیوں میں شامل ہونے سے انکار کر دیا اور جلد ہی اسے احساس ہوا کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے اور جھوٹے بہانوں سے اس کے پیسے ہڑپ لیے گئے ہیں۔
اقتصادی جرائم شاخ نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ معاملہ بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 318(2) کے تحت قابل سزا جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ اس سلسلے میں سرینگر تھانے میں باقاعدہ معاملہ درج کیا گیا ہے۔
اس دھوکہ دہی میں ملوث افراد کی شناخت کرنے اور انہیں پکڑنے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
پلوامہ میں ایل پی جی کے غلط استعمال کے خلاف پولیس کی کارروائی؛ ڈسٹری بیوٹر کے خلاف مقدمہ درج، 80 سلنڈر ضبط
سری نگر، پلوامہ ضلع میں پولیس نے ایل پی جی کے غیر قانونی استعمال کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 80 گیس سلنڈر ضبط کر لیے اور ایک ڈسٹری بیوٹر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ حکام نے منگل کو بتایا کہ ملزم گھریلو سلنڈروں سے گیس نکال کر کمرشل سلنڈروں میں منتقل کر رہا تھا تاکہ ناجائز منافع کمایا جا سکے۔
پولیس کے مطابق مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ حاجی بل کے ایل پی جی ڈسٹری بیوٹر فردوس احمد ڈار گھریلو سلنڈروں سے گیس نکال کر کمرشل سلنڈروں میں منتقل کر رہا تھا، جس کا مقصد صارفین کو دھوکہ دینا اور غیر قانونی منافع حاصل کرنا تھا۔
حکام نے بتایا کہ یہ سرگرمی مقررہ ضوابط کی خلاف ورزی کے ساتھ انجام دی جا رہی تھی، جس سے عوامی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق تھے۔ اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن کاکہ پورہ میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران غیر قانونی سرگرمی سے جڑے مجموعی طور پر 80 گیس سلنڈر ضبط کیے گئے، جن میں 35 گھریلو اور 45 کمرشل سلنڈر شامل ہیں۔
یواین آئی۔ م س
جموں و کشمیر
ریونیو ملازمتوں سے اردو کی لازمی اہلیت ختم کرنے کے خلاف پی ڈی پی کا زبردست احتجاج
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے منگل کے روز سری نگر میں جموں و کشمیر حکومت کےاس مسودہ قوانین کے خلاف احتجاج کیا، جس میں ریونیو محکمے کی ملازمتوں کے لیے اردو کی لازمی اہلیت کو ختم کردیا گیا ہے۔
یہ احتجاج جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے ان مسودہ قوانین کے نوٹیفکیشن کے بعد شروع ہوا ہے، جن میں عوامی اعتراضات طلب کیے گئے ہیں اور ان میں ریونیو کی آسامیوں کے لیے اردو کی لازمی شرط کو ختم کر دیا گیا ہے۔
پی ڈی پی کی رہنما التجا مفتی نے سری نگر میں پارٹی احتجاج کی قیادت کی، جسے بعد میں پولیس نے روک دیا۔ انہوں نے اردو کی شرط ختم کرنے کے اقدام کو جموں و کشمیر کے انتظامی اور لسانی ورثے پر کاری ضرب قرار دیا۔
محترمہ التجا مفتی نے اس تبدیلی کو ثقافتی شناخت پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ریونیو کے بیشتر ریکارڈ اب بھی اردو میں ہیں اور اس تبدیلی سے انتظامی امور میں خلل پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے اس معاملے پر حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، “اردو کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، جامعہ سراج العلوم جیسے تعلیمی اداروں پر پابندی لگائی جا رہی ہے اور سوپور میں طلبہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، لیکن نیشنل کانفرنس کی حکومت کچھ نہیں کر رہی۔” انہوں نے مزید کہا کہ اردو جموں و کشمیر کی مختلف برادریوں کے درمیان رابطے کی زبان کے طور پر کام کرتی ہے۔
اردو کے معاملے پر نیشنل کانفرنس کی ‘خاموشی’ پر سوال اٹھاتے ہوئے محترمہ التجا مفتی نے کہا، “نیشنل کانفرنس کے پاس 50 ایم ایل اے ہیں۔ وہ خاموش کیوں ہیں؟ میں وزیر اعلیٰ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ وہ یہاں اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی بجائے دوسری ریاستوں میں میراتھن میں شرکت کرنے میں کیوں مصروف ہیں؟”
انہوں نے نیشنل کانفرنس پر اہم معاملات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کا الزام بھی لگایا۔ بعد ازاں احتجاج پرامن طور پر ختم ہوا۔
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر5 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا1 week agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
جموں و کشمیر19 hours agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
دنیا1 week agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoشہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر
دنیا1 week agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں
دنیا1 week agoامریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل کا دعویٰ
ہندوستان4 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق









































































































