ہندوستان
ہندوستان امن پسند ملک ہے لیکن وہ بری نظر ڈالنے والوں کو نہیں بخشے گا:راج ناتھ سنگھ

نئی دہلی، وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ’’آپریشن سندور اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان اُن لوگوں کو منہ توڑ جواب دیتا ہے جو امن اور خیرسگالی کی زبان نہیں سمجھتے۔‘‘انہوں نے دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی کارروائی کا موازنہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کے مضبوط عزم اور قیادت سے کیا اور کہا کہ سردار پٹیل ہمیشہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتے تھے، لیکن جہاں ضرورت پڑتی تھی وہاں جرأت مندانہ روش اختیار کرنے میں کبھی ہچکچاتے نہیں تھے، جیسا کہ حیدرآباد کے ہندوستان سے انضمام کے وقت ہوا۔وزیردفاع 2 دسمبر 2025 کوگجرات کے وڈودرا میں سردار سبھا سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ تقریب ’یونٹی مارچ‘ کا حصہ تھی، جو نوجوانوں کے قومی پلیٹ فارم میرا یووا (ایم وائی) ہندستان کی جانب سے نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت کے تحت سردار ولبھ بھائی پٹیل کی 150 ویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقد کی گئی تھی۔
آپریشن سندور کے کامیاب نفاذ کے لیے مسلح افواج کی ہمت اور لگن کی تعریف کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ دنیا آج ہندوستانی فوجیوں کی بہادری اور صلاحیتوں کو تسلیم کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کارروائی نے ایک واضح پیغام بھیجا ہے کہ’’ہم ایک امن پسند قوم ہیں جو کبھی بھی کسی ملک کو اشتعال نہیں دلاتی، لیکن اگر اشتعال دلایا جاتا ہے تو وہ ان لوگوں کو نہیں چھوڑتی جو بری نظر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں‘‘۔
مسٹر راج ناتھ سنگھ نے سردار پٹیل کو قوم کو متحد کرنے میں کلیدی معاون قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں’ون انڈیا ، بیسٹ انڈیا‘کے ان کے خواب کو مزید تقویت ملی ہے۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس فیصلے نے جموں و کشمیر کو ملک کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کو یقینی بنایا ہے۔
وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت سردار پٹیل کے دکھائے ہوئے راستے پر چل رہی ہے، جس کے نتیجے میں ہندوستان، جو کبھی شکوک و شبہات سے گھرا ہوا تھا، آج دنیا کے ساتھ اپنی شرائط پر بات چیت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے برعکس، دنیا اب بین الاقوامی پلیٹ فارم پر ہندوستان کی بات سنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک بڑی اقتصادی اور اسٹریٹجک طاقت بننے کی طرف آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ سردار پٹیل کے بے پناہ تعاون کی وجہ سے ہواہے۔
اقتدار میں آنے کے بعد سے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت کے غیرمتزلزل عزم کا اظہار کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ 2014 سے پہلے ہندوستان اقتصادی حجم کے لحاظ سے دنیا میں 11 ویں نمبر پر تھا اور آج یہ چوتھے مقام پر پہنچ گیا ہے، جو جلد ہی سرفہرست تین معیشتوں میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سیاسی اور جغرافیائی اتحاد کے ذریعے سردار پٹیل کی آزاد قوم کی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے ’کم سے کم حکومت، زیادہ سے زیادہ حکمرانی‘کے ہدف کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت ہندوستان کو ثقافتی، سماجی، روحانی اور اقتصادی اتحاد کے تانے بانے سے باندھ رہی ہے۔ ہم ’’ایک بھارت ، شریشٹھ بھارت ‘‘کے وژن کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہمارا مقصد 2047 تک وکست بھارت کی تعمیر کرنا ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ حکومت سردار پٹیل کے قومی سلامتی کے وژن کو آگے بڑھا رہی ہے جنہوں نے دفاعی جدید کاری اور ہتھیاروں اور گولہ بارود کی مقامی سطح پر پیداوار پر زور دیا تھا۔ آج میک ان انڈیا پہل کی وجہ سے ہم دوست ممالک کو فوجی آلات برآمد کرتے ہوئے دفاعی پیداوار میں آتم نربھر بن رہے ہیں۔ گزشتہ 11 سالوں میں ہماری دفاعی برآمدات میں تقریبا 34 گنا اضافہ ہوا ہے۔ ہمارا مقصد 2029 تک 3 لاکھ کروڑ روپے کی دفاعی پیداوار اور 50,000 کروڑ روپے کی دفاعی برآمدات حاصل کرنا ہے۔
مسٹر راج ناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ سردار پٹیل کی پوری زندگی پاکیزگی اور دیانتداری کی علامت تھی اور ان اعلی نظریات سے متاثر ہو کر حکومت کا مقصد پارلیمنٹ میں آئین (130 ویں ترمیم) بل 2025 کو منظور کرانا ہے، جس میں اعلی عہدوں پر فائز افراد کو بدعنوانی کے خلاف اخلاقی طور پر برتاؤ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی عہدے پر موجود شخص کو کسی سنگین الزام کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے اور اسے 30 دن کے اندر ضمانت نہیں دی جاتی ہے تو وہ خود بخود اپنے عہدے سے فارغ ہو جائے گا‘‘۔
وزیر دفاع نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ترقی یافتہ ہندوستان کے خواب کو پورا کرنے کے لیے کوشش کریں۔انہوں نے کہا کہ قوم کے اتحاد، سالمیت اور خودمختاری کو برقرار رکھنا ایک ذمہ داری ہے جو سردار پٹیل نے ملک کی آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اور معاشرے کو متحد رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم نہ صرف سردار پٹیل کی اقدار کو پوری عقیدت اور پاکیزگی کے ساتھ پروان چڑھائیں گے بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی ان کے لیے تیار کریں گے ۔ یہ سردار پٹیل کی وراثت کو حقیقی خراج تحسین ہوگا۔
پنجاب کے گورنر مسٹر گلاب چند کٹاریہ، اتراکھنڈ کے وزیر اعلی مسٹر پشکر سنگھ دھامی، محنت و روزگار اور نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کے وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ، بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانہ درجے کی کمپنیوں اور محنت و روزگار کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ شوبھا کرندلاجے اور ریاستی حکومت کے عہدیداران اس موقع پر موجود تھے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
ہندوستان
کانگریس نے حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کی ، پاکستان کے ‘بڑھتے ہوئے سفارتی کردار’ پر متنبہ کیا
نئی دہلی ، کانگریس نے پیر کے روز مرکز کی خارجہ پالیسی پر شدید حملہ کرتے ہوئے سینئر لیڈر جے رام رمیش کے ذریعے یہ الزام لگایا کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے باوجود ہندوستان پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایک سخت بیان میں رمیش نے ان رپورٹس کی طرف اشارہ کیا جن میں پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، اور انہوں نے اسے اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت قرار دیا۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے پہلے کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس ملک کو ہمارے عالم اور ہمیشہ خوش لباس وزیر خارجہ نے ‘دلال’ قرار دیا تھا، وہ مبینہ طور پر آج امریکہ-ایران امن مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کر رہا ہے۔
رمیش نے پاکستان کی نازک معاشی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور واضح کیا کہ اس ملک نے حال ہی میں اپنے قرضوں کی ادائیگی کے لیے خلیجی ممالک سے اربوں ڈالر ادھار لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت واضح طور پر مشکل میں ہے اور اس کا انحصار دوست ممالک کی خیرات پر ہے، لیکن اس کے باوجود اسلام آباد ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
کانگریس لیڈر نے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھنے کا الزام بھی لگایا اور اس سلسلے میں اسامہ بن لادن کو پناہ دینے اور پہلگام دہشت گردانہ حملے سمیت ماضی کے دیگر حملوں میں ملوث ہونے کا ذکر کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے رمیش نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی پاکستان پر مستقل بین الاقوامی دباؤ بڑھانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ وزیر اعظم مودی کی علاقائی اور عالمی مشغولیت کے انداز اور بیانیے کے انتظام نے پاکستان کو تنہا کرنے میں ناکامی کا سامنا کیا ہے۔
سابقہ یو پی اے حکومت کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے رمیش نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد پاکستان کے خلاف عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے میں زیادہ کامیاب رہے تھے۔
رمیش نے پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کی بین الاقوامی سطح پر، خاص طور پر امریکہ میں بڑھتی ہوئی پذیرائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ منیر کے ریمارکس نے خطے میں تناؤ کو بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی بڑھتی ہوئی قربت ہندوستان کے لیے ایک خاصا سنگین دھچکا ہے۔ رمیش نے مزید کہا کہ یہ واضح ہے کہ فیلڈ مارشل اور ان کے ساتھی ٹرمپ کے خاندان اور ساتھیوں کے ایکو سسٹم کو ہندوستان کے مقابلے میں بہتر طریقے سے سنبھالنے میں کامیاب رہے ہیں، اور انہوں نے اسے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک ‘تاریخی ناکامی’ قرار دیا۔ ہندوستان کی سفارتی حکمت عملی میں مکمل تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ موجودہ قیادت مطلوبہ تبدیلی لانے کی اہلیت نہیں رکھتی۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
کھڑگے مغربی بنگال اور راہل تمل ناڈو میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے
نئی دہلی ، کانگریس کے صدر ملیکارجن کھڑگے اور سابق صدر راہل گاندھی پیر کو بالترتیب مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے مسٹر کھڑگے مغربی بنگال کے کوچ بہار اور سلی گوڑی میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے جبکہ تمل ناڈو میں ، راہل گاندھی کنیا کماری میں لکشمی پورم ، ترونیل ویلی میں نونگولیری اور تھوتھکوڈی میں سری وینکٹم میں عوامی جلسوں سے خطاب کریں گے ۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
سپریم کورٹ کی ریزولوشن پلان کی منظوری میں تاخیر پر این سی ایل ٹی کی سرزنش، ملک گیر رپورٹ طلب
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے پیر کے روز نیشنل کمپنی لاء ٹربیونل (این سی ایل ٹی) کی جانب سے ریزولوشن پلانز کی منظوری میں طویل تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا عدالت نے این سی ایل ٹی کی پرنسپل بنچ، نئی دہلی اور انسولوینسی اینڈ بینکرپٹسی بورڈ آف انڈیا (آئی بی بی آئی) کو ہدایت دی کہ وہ زیر التواء درخواستوں اور ان میں تاخیر کی وجوہات پر مشتمل جامع ملک گیر ڈیٹا فراہم کریں۔
جسٹس جے بی پارڈی والا اور جسٹس کے وی وشوناتھن پر مشتمل بنچ ایک ایسے کیس کی سماعت کر رہی تھی جہاں ایک منصوبہ تقریباً دو سال سے زیر التواء تھا۔ یہ تنازع دیوالیہ پن کی کارروائی سے پیدا ہوا تھا، جس میں آئی آئی ایف ایل کے 85 کروڑ روپے کے دعوے کو شروع میں 2020 میں ریزولوشن پروفیشنل نے مسترد کر دیا تھا، جسے بعد میں این سی ایل ٹی نے منظور کیا اور 2023 میں این سی ایل اے ٹی نے برقرار رکھا، جس کے بعد سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئیں۔
عدالت نے اشارہ دیا کہ جب ریزولوشن پلان پیش کیا جاتا ہے تو این سی ایل ٹی کے لیے اسے بروقت منظور کرنا لازمی ہے، ورنہ آئی بی سی کا وقت کے پابند کارپوریٹ انسولوینسی ریزولوشن پراسیس (سی آئی آرپی ) مکمل کرنے کا مقصد ناکام ہو جائے گا۔
عدالت نے این سی ایل ٹی کی پرنسپل بنچ کو حکم دیا کہ وہ جلد از جلد یہ معلومات فراہم کرے کہ منظوری کے لیے کتنی درخواستیں زیر التواء ہیں اور یہ درخواستیں کتنے عرصے سے لٹکی ہوئی ہیں۔ مزید برآں، عدالت نے ان وجوہات کی بھی وضاحت طلب کی ہے جن کی بنا پر منظوری کی درخواستوں پر اب تک فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا3 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ
دنیا3 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی: دی اکنامسٹ
جموں و کشمیر3 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
جموں و کشمیر4 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک





































































































