دنیا
بنگلہ دیش میں ہادی کی موت کے بعد تشدد

نئی دہلی/ڈھاکہ، بنگلہ دیش میں انقلابی منچ تحریک کے ایک سرکردہ رہنما شریف عثمان ہادی کی موت کے بعد مشتعل ہجوم نے جمعرات کی دیر رات سے جمعہ کی صبح تک ڈھاکہ اور دیگر کئی شہروں میں زبردست ہنگامہ کیا اور ہندوستانی ہائی کمیشن کے دفتر کے باہر مظاہرہ کرتے ہوئے ہند مخالف نعرے لگائے۔
بنگلہ دیش میں ’’جولائی بغاوت‘‘ کے نمایاں چہرے اور دائیں بازو کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے ترجمان شریف عثمان ہادی کا جمعرات کی رات سنگاپور کے ایک اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ 12 دسمبر کو ڈھاکہ کے بیجوئے نگر علاقے میں ایک انتخابی مہم کے دوران ہوئے حملے میں ان کے سر میں گولی لگی تھی۔
ہادی کی موت کی خبر پھیلتے ہی ان کے حامی اور شدت پسند طلبا سڑکوں پر آگئے اور آگ زنی، توڑ پھوڑ اور مخصوص اہداف پر حملے شروع کر دیے۔
مشتعل ہجوم نے کھلنا اور چٹاگانگ میں بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمشنرز پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ چٹاگانگ میں مظاہرین ہندوستانی ہائی کمیشن کی عمارت کی جانب بڑھے، ذاکر حسین روڈ پر پولیس بیریکیڈ توڑ دیے اور احاطے کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ اس دوران انہوں نے ’’ہندوستان کا بائیکاٹ کرو‘‘، ’’عوامی لیگ کے اڈوں کو جلا دو‘‘اور ’’ہادی کا خون رائیگاں نہیں جائے گا‘‘ جیسے نعرے لگائے۔
ڈھاکہ میں مظاہرین بلڈوزر کے ساتھ آئے اور دھان منڈی 32 میں واقع بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمن کے تاریخی گھر کے باقی ماندہ حصے کو منہدم کر دیا۔ عوامی لیگ کے کئی رہنماؤں کے دفاتر اور گھروں پر بھی حملے کیے گئے یا ان میں آگ لگا دی گئی، جن میں چشمہ ہل میں سابق وزیرِ تعلیم محیب الحسن چودھری نوفیل کا گھر اور اُترا میں سابق ڈھاکہ-18 عوامی لیگ کے رکنِ پارلیمنٹ حبیب حسن کے بھائی کا گھر شامل ہے۔
مظاہرین نے ڈھاکہ کے کاروان بازار علاقے میں اخبارات دی ڈیلی اسٹار اور پروتھوم آلو کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی اور آگ لگا دی۔ سینکڑوں مظاہرین نے پروتھوم آلو کی عمارت کی کئی منزلوں میں توڑ پھوڑ کی، فرنیچر، دستاویزات اور آلات سڑکوں پر پھینک دیے اور پھر انہیں آگ کے حوالے کردیا۔
دی ڈیلی اسٹار کے دفتر میں صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی۔ وہاں کم از کم 20 صحافی اور عملے کے افراد گہرے دھوئیں کے درمیان چھت پر پھنس گئے تھے اور آگ تیزی سے عمارت میں پھیل رہی تھی۔ فائر بریگیڈ کو آگ بجھانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور مشتعل ہجوم پر قابو پانے کے لیے فوج کو تعینات کرنا پڑا۔ تیجگاؤں اسٹیشن کی فائر یونٹ نے آخرکار رات تقریباً 1:40 بجے آگ پر قابو پا لیا۔
اپنے حامیوں کے ساتھ وہاں پھنسے ہوئے نائب مدیر سبرت رائے نے کہا کہ ’’اندر بہت زیادہ دھواں ہے، چھت پر بھی سانس لینا مشکل ہو رہا ہے۔‘‘ایک اور رپورٹر عبداللہ ایم ڈی عباس نے سوشل میڈیا پر اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے تمام ساتھی چھت پر ہیں، وہ سانس نہیں لے پا رہے۔ براہِ کرم ہمارے لیے دعا کریں۔‘‘ بعد میں فوجی جوانوں نے علاقے کو محفوظ بنانے اور بچاؤ مہم میں مدد کی۔
افسران نے ان واقعات پر تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے اور یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے یا نہیں۔ ان حملوں کے بعد بنگلہ دیش میں مجموعی سلامتی کی صورتحال، سفارتی مشنز، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے اداروں کی حفاظت کے حوالے سے ملک اور بیرونِ ملک شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
جرمنی میں امریکی فوج کی کمی: چانسلر فریڈرک مرز نے امریکہ سے اختلافات کو کم اہم قرار دیدیا
برلن، جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے امریکہ کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کو کم اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جرمنی اور امریکہ کے تعلقات اب بھی مضبوط ہیں۔
فریڈرک مرز نے اپنے نئے بیان میں واضح کیا کہ جرمنی میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کا فیصلہ ایران کے معاملے پر اختلافات سے متعلق نہیں ہے۔ واضح رہے کہ امریکپ نے آئندہ 12 ماہ میں تقریباً 5,000 فوجیوں کو جرمنی سے واپس بلانے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد وہاں موجود امریکی فوج میں تقریباً 14 فیصد کمی ہو جائے گی۔ اس وقت جرمنی میں قریب 36,000 امریکی فوجی موجود ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور مرز کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب مرز نے ایران کے حوالے سے امریکی حکمتِ عملی پر تنقید کی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان بیانات پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے جرمنی سے فوج نکالنے کی دھمکی دی اور جس پر اب عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔ اسی دوران یورپی یونین کی گاڑیوں پر نئے محصولات بھی عائد کر دیے گئے ہیں جس سے جرمنی متاثر ہو سکتا ہے۔ جرمن وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ متوقع تھا اور یورپ کو اپنی سیکیورٹی کی ذمے داری خود اٹھانی چاہیے۔ رپورٹس کے مطابق نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ اتحاد اس فیصلے کی تفصیلات جاننے کے لیے امریکہ سے رابطے میں ہے۔
یو این آئی۔ ع ۔ا
دنیا
امریکہ کیلئے زیادہ سے زیادہ مطالبات سے دستبردار ہونا مشکل ہو رہا ہے: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
تہران، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے امریکہ کے لیے زیادہ سے زیادہ مطالبات سے دستبردار ہونا مشکل ہو رہا ہے، آبنائے ہرمز کی حالیہ صورتحال امریکہ کی ایران کے خلاف جارحیت کانتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے سست سفارتی کوششوں کا ذمہ دار امریکہ ہے، امریکی جارحیت سے پہلے آبنائے ہرمز عالمی میری ٹائم نیوی گیشن کے لیے محفوظ گزرگاہ تھی، ریاستیں، شپنگ کمپنیاں آبنائےہرمز سےگزرنے کے لیے ایران سے رابطے کی ضرورت سے آگاہ ہیں، آبنائے ہرمز میں اقدامات بین الاقوامی قوانین کے تحت لیے گئے ہیں۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا امریکہ نے آبنائے ہرمز اور بین الاقوامی پانیوں میں بھی سکیورٹی کے فقدان کو جنم دیا ہے، ایران آبنائے ہرمز میں سلامتی اور سکون کا محافظ ہے، عمان اور ایران آبنائے ہرمزکے ساحلی ممالک ہیں، آبنائے ہرمز سے محفوظ جہازرانی کے لیے ہمیں پروٹوکول، مکینزم بنانا چاہیے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا آبنائے ہرمز سے امریکی جنگی جہازوں کے داخلے کے امکان پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا ایران کی مسلح افواج امریکی خطروں کا جواب دینا جانتی ہیں، ہم جنگ کے خاتمے کے علاوہ کسی معاملے پر بات نہیں کر رہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف جھوٹے دعوے دہرانا جاری رکھے ہوئے ہے، آبنائے ہرمز سے محفوظ جہاز رانی کے پروٹوکول پر عمان سے مذاکرات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے ساتھ مثبت بات چیت جاری ہے، یہ عمل سب کیلئے انتہائی مثبت ثابت ہوسکتا ہے: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہےکہ ایران کے ساتھ بہت مثبت بات چیت جاری ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں لکھا میرے نمائندے ایران کے ساتھ بہت مثبت بات چیت کر رہے ہیں اور ایران سے بات چیت کا یہ عمل سب کیلئے انتہائی مثبت ثابت ہوسکتا ہے۔ امریکی صدر نے پیر سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت بحال کرنےکا بھی اعلان کردیا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہاکہ دنیا کےکچھ ممالک نے ہم سے اپنے جہاز نکالنےکیلئے مدد مانگی، امریکہ پیر کی صبح آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو آزاد کرانے کی کوشش شروع کرے گا، ان ممالک کاکہنا ہےکہ جب تک ہرمز نکلنےکےلیے محفوظ نہیں ہوجاتا وہاں سےجہاز واپس نہیں جائیں گے، آبنائے ہرمز سےجہازوں کی محفوظ نقل وحرکت کےعمل ‘ پراجیکٹ فریڈم’ کا آغازپیرکی صبح سےہوگا۔
امریکی صدر نے کہا یہ ان ممالک کےجہاز ہیں جو مشرق وسطیٰ میں حالیہ تنازع میں شامل نہیں، اپنے نمائندوں سے کہاکہ ان ممالک کو بتادیں کہ ان کے پھنسےجہاز اور عملےکو آبنائے ہرمز سے نکالنےکی بہترین کوشش کریں گے، ہرمزسے جہاز کی آزادانہ نقل وحرکت کا مقصد ان کمپنیوں اور ممالک کو ریلیف دینا ہے جنہوں نےغلط کام نہیں کیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہرمز میں پھنسے بہت سےجہازوں میں کھانے پینےکے سامان سمیت انسانی ضرورت کی بہت سی چیزوں کی کمی ہے، یہ اقدام فریقین کے درمیان خیرسگالی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، انہوں نے ساتھ ہی خبر دار کیاکہ اس انسانی ہمدردی کے عمل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالی گئی توسخت جواب دیں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
دنیا1 week agoآپ حملہ آور کا پیغام پڑھ رہی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے: ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا4 days agoپوتن نے صدر ٹرمپ کو ایرانی جوہری پروگرام پر تجاویز دے دیں
دنیا1 week agoامریکہ سے مذاکرات میں پاکستان اہم ثالث ہے: ایرانی وزیرخارجہ
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی کیلئے ایران کی نئی شرط
جموں و کشمیر1 week agoکپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
دنیا2 days agoایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام
ہندوستان1 week agoپنجاب پولیس کے سابق ڈی آئی جی بھلر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا شکنجہ، ٹھکانوں پر چھاپہ ماری
جموں و کشمیر5 days agoاردو زبان پر تنازع: التجا مفتی کا عمر عبداللہ سے سوال، “جو بی جے پی نے نہیں مٹایا، وہ آپ کیوں مٹا رہے ہیں
دنیا1 week agoجنگیں چھیڑنے والے انسانیت کے پُرامن مستقبل کو چھین رہے ہیں: پوپ لیو
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز سے گزرنے کی ایرانی فیس دنیا کے لیے ناقابل برداشت ہوگئی










































































































