جموں و کشمیر
کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن جاری، موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل

جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے چھاترو جنگلی علاقے میں سیکورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کر دیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق کارروائی کا مقصد جیش سے وابستہ تین دہشت گردوں کو گرفتار یا بے اثر کرنا ہے جو اس علاقے میں روپوش ہیں۔ فورسز نے چھاترو بیلٹ کے مختلف حصوں کو مکمل طور پر محاصرے میں لے لیا ہے اور ممکنہ فرار ہونے کے تمام راستوں پر پہرے بٹھا دیے ہیں تاکہ دہشت گرد علاقے سے باہر نہ نکل سکیں۔ سرچ آپریشن میں جدید ڈرون کیمروں، تھرمل امیجنگ آلات اور کھوجی کتوں کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ہر جھاڑی، ہر درہ اور ہر ممکنہ مخفی مقام کی چھان بین کی جا سکے۔
حکام کے مطابق دہشت گرد انتہائی دشوار گزار پہاڑی اور جنگلی راستوں کا فائدہ اٹھا کر چھپنے کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن سیکیورٹی فورسز نے علاقے کی ہر ممکنہ گزرگاہ پر گشت بڑھا دیا ہے۔ فورسز کے اہلکار دن رات علاقے کی نگرانی میں مصروف ہیں اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ دہشت گردوں کو فرار کا موقع نہ ملے۔
اس دوران کشتواڑ کے سنگھ پورہ، چنگام اور چھاترو میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام دہشت گردوں کے ممکنہ ڈیٹا شیئرنگ، رابط کاری اور کارروائی میں مداخلت کے امکانات کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ موبائل انٹرنیٹ کی معطلی کا مقصد یہ ہے کہ دہشت گرد جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے فورسز کی سرگرمیوں پر نظر نہ رکھ سکیں اور کسی بھی طرح کی معلومات کو اپنے مقصد کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔ یہ معطلی آئی جی پی جموں زون کے حکم پر ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کی عارضی معطلی کے قواعد 2024 کے تحت نافذ کی گئی ہے اور اسے 30 جنوری کی نصف شب تک برقرار رکھا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چھاترو بیلٹ میں برف باری اور گھنے جنگلات کی وجہ سے کارروائی کافی مشکل ہو گئی ہے، لیکن فورسز نے ہر مشکل پر قابو پاتے ہوئے آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔ سرچ ٹیمیں جنگلوں اور پہاڑی ڈھلوانوں میں دہشت گردوں کے ہر ممکنہ ٹھکانے کو کھنگال رہی ہیں اور ڈرون کیمروں کے ذریعے ہر جانب نگرانی کی جا رہی ہے۔ حکام نے بتایا کہ دہشت گردوں کے پاس رسد محدود ہے اور فورسز کے مسلسل محاصرے سے ان کے چھپنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔
ادھر پونچھ ضلع کے سرنکوٹ علاقے میں بھی دو مشتبہ افراد کی موجودگی کی اطلاع پر سرچ آپریشن جاری ہے۔ حکام کے مطابق اب تک کسی مشتبہ شخص کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم نہیں ہوا، لیکن علاقے میں فورسز نے تمام ممکنہ راستوں پر پہرہ بڑھا دیا ہے اور نگرانی سخت کر دی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جاری کارروائی کے دوران حفاظتی ہدایات اور پابندیوں کا احترام کریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فورسز کو فوری فراہم کریں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ موبائل انٹرنیٹ کی معطلی اور سخت نگرانی کے اقدامات آپریشن کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں اور ان سے علاقے میں امن و امان قائم رکھنے میں مدد ملے گی۔
یو این آئی، ارشید بٹ،
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں حادثاتی دھماکے میں دو فوجیوں کی موت
سری نگر، جموں و کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب ایک حادثاتی دھماکے میں فوج کے دو جوان ہلاک ہو گئے۔ یہ اطلاع حکام نے بدھ کے روز دی۔
انہوں نے بتایا کہ منگل کی شام ایل او سی کے قریب کمل کوٹ، اُری سیکٹر میں غلطی سے ہونے والے ایک دھماکے میں دو فوجی شدید زخمی ہو گئے تھے۔
دونوں زخمی جوانوں کو فوری طور پر جائے وقوعہ سے نکال کر علاج کے لیے سری نگر کے بادامی باغ میں واقع فوج کے 92 بیس اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام نے کہا کہ اسپتال میں دونوں فوجیوں کی زخموں کی وجہ سے موت ہوگئی۔ ہلاک ہونے والے فوجی ریاست مہاراشٹر کے رہنے والے تھے۔
واقعے کے حوالے سے تاحال دفاعی ترجمان کی جانب سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
این سی کے رکنِ پارلیمان روح اللہ دہلی احتجاج میں شامل ہوں گے، کہا ریاستی درجہ اور آئینی حقوق کی جدوجہد جاری رہنی چاہیے
سری نگر، نیشنل کانفرنس (این سی) کے ناراض رکنِ پارلیمان روح اللہ مہدی نے منگل کو کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے ریاستی درجے اور آئینی ضمانتوں کی بحالی کے مطالبے کے لیے دہلی میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ تحریک محض عوامی جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ایک روزہ علامتی پروگرام نہیں بننی چاہیے۔
گزشتہ ہفتے حکمران نیشنل کانفرنس نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن نئی دہلی میں احتجاج کیا جائے گا تاکہ جموں و کشمیر کو فوری طور پر ریاستی درجہ اور آئینی ضمانتیں بحال کرنے کا مطالبہ کیا جا سکے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روح اللہ مہدی نے کہا کہ عوام نے انہیں آرٹیکل 370 اور اگست 2019 سے قبل موجود آئینی تحفظات کی بحالی کے لیے جدوجہد کی ذمہ داری سونپی ہے۔
انہوں نے کہاکہ”میں دہلی جاؤں گا اور آرٹیکل 370 کے بارے میں بات کروں گا۔ میں ریاستی درجے کے بارے میں بات کروں گا۔ عوام نے ہمیں آرٹیکل 370 اور اپنے آئینی حقوق کے لیے لڑنے کی ذمہ داری دی ہے۔”
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ جدوجہد وقتی احتجاجوں یا سیاسی پروگراموں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔
روح اللہ نے کہاکہ”ریاستی درجے کے لیے صرف ایک دن کا احتجاج نہیں ہونا چاہیے۔ ایسا کوئی پروگرام نہیں ہونا چاہیے جس کا مقصد صرف لوگوں کو خاموش کرنا ہو۔ یہ ایک منظم اور مسلسل جدوجہد ہونی چاہیے، صرف ریاستی درجے کے لیے نہیں بلکہ ان تمام آئینی تحفظات کی بحالی کے لیے بھی جو 2019 سے پہلے موجود تھے۔”
2024 کے پارلیمانی انتخابات میں سری نگر لوک سبھا نشست جیتنے والے روح اللہ مہدی کو آرٹیکل 370، ریاستی درجہ اور جموں و کشمیر کے آئینی حقوق کے معاملے پر نیشنل کانفرنس کے سب سے واضح اور سرگرم رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
واضح موقف رکھنے والے اس رکنِ پارلیمان نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے سخت ناقد کے طور پر بھی اپنی شناخت بنائی ہے۔
وہ متعدد بار عمر عبداللہ پر آرٹیکل 370 کے معاملے میں نرم رویہ اختیار کرنے اور نیشنل کانفرنس کو عوام کی جانب سے دیے گئے مینڈیٹ سے انحراف کا الزام عائد کر چکے ہیں۔
روح اللہ مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ آئینی تحفظات کی بحالی اور جموں و کشمیر کی شناخت کا تحفظ سیاسی بحث و مباحثے کا مرکزی موضوع رہنا چاہیے۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران انہیں پارٹی قیادت کی جانب سے نظر انداز کیا گیا اور نیشنل کانفرنس کے کئی اہم اجلاسوں میں بھی مدعو نہیں کیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
زوجیلا سرنگ میں آج اہم پیش رفت، گڈکری تاریخی تقریب میں شرکت کریں گے
سری نگر، سری نگر–لیہ شاہراہ پر واقع اسٹریٹجک اہمیت کے حامل زوجیلا سرنگ منصوبے میں منگل کے روز ایک بڑا سنگِ میل حاصل ہونے جا رہا ہے، کیونکہ سرنگ کی کھدائی کا کام آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ پیش رفت ہمالیائی خطے میں ہندوستان کی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ تصور کی جا رہی ہے۔
مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نتن گڈکری زوجیلا سرنگ کے مشرقی دہانے پر منعقد ہونے والی بریک تھرو تقریب میں شرکت کریں گے۔ حکام کے مطابق صرف تقریباً تین میٹر چٹان باقی رہ گئی ہے، جس کے بعد کشمیر کے بالتال اور لداخ کے مینامرگ کی جانب سے کھودی گئی سرنگ آپس میں مل جائے گی۔
گڈکری نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھاکہ”ہمالیہ کی دور افتادہ بلندیوں میں ہندوستان کا سب سے چیلنجنگ بنیادی ڈھانچہ حقیقت کا روپ دھار رہا ہے: زوجیلا سرنگ! مرکزی ‘ٹنل بریک تھرو’ تقریب: 9 جون 2026۔”
وزیر لداخ کی جانب سے سرنگ کے “بریک تھرو پوائنٹ” تک پہنچیں گے۔ دونوں سروں کو ملانے والے آخری دھماکے کے بعد علامتی طور پر محدود تعداد میں گاڑیوں کو سرنگ سے گزارا جائے گا، جو اس تاریخی مرحلے کی نشاندہی کرے گا۔
وزیر کے پروگرام میں سرنگ کا معائنہ، بریک تھرو تقریب میں شرکت اور مشرقی دہانے پر موجود کارکنوں اور عملے سے ملاقات بھی شامل ہے۔
منصوبے سے وابستہ حکام کے مطابق یہ بریک تھرو 13 کلومیٹر سے زائد طویل سرنگ کی کھدائی کے اہم مرحلے کی تکمیل کی علامت ہوگا۔ اس سرنگ کی تعمیر کشمیر اور لداخ کے درمیان ہر موسم میں رابطہ برقرار رکھنے کے لیے کی جا رہی ہے۔
ہرپال سنگھ، جو میگھا انجنیئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمٹیڈ کے جوائنٹ چیف آپریٹنگ آفیسر ہیں، نے پہلے بتایا تھا کہ 13,155 میٹر طویل سرنگ کی کھدائی آخری مرحلے میں ہے اور دونوں جانب سے کام کرنے والی ٹیمیں جلد سرنگ کے اندر آپس میں مل جائیں گی۔
انہوں نے کہا تھاکہ”بریک تھرو کے بعد دونوں جانب کے لوگ سرنگ کے اندر ایک دوسرے سے مصافحہ کریں گے۔ یہ ایک تاریخی لمحہ ہوگا اور آئندہ تعمیراتی کاموں کو مزید آسان بنا دے گا۔”
دنیا کے دشوار ترین جغرافیائی علاقوں میں تعمیر کی جانے والی یہ سرنگ مکمل ہونے پر ہندوستان کی طویل ترین سڑک سرنگ اور ایشیا کی سب سے طویل دوطرفہ ٹریفک والی سرنگ بن جائے گی۔ اس کے فعال ہونے کے بعد سونامرگ اور دراس کے درمیان سفر کا وقت تقریباً تین گھنٹے سے کم ہو کر صرف 15 منٹ رہ جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ کھدائی کا مرحلہ مکمل ہونے والا ہے، لیکن پورے منصوبے کی تکمیل کی مقررہ تاریخ فروری 2028 ہی برقرار ہے، کیونکہ سرنگ کی اندرونی لائننگ، وینٹیلیشن، حفاظتی نظام اور دیگر تکمیلی کام ابھی باقی ہیں۔
زوجیلا سرنگ کو غیر معمولی اسٹریٹجک اور معاشی اہمیت حاصل ہے۔ یہ منصوبہ لداخ کو سال بھر زمینی رابطہ فراہم کرے گا، جو سردیوں میں شدید برف باری اور برفانی تودوں کے باعث اکثر باقی ملک سے کٹ جاتا ہے۔ اس منصوبے سے دفاعی رسد، سیاحت، تجارت اور علاقائی اقتصادی سرگرمیوں کو بھی نمایاں فروغ ملنے کی توقع ہے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر7 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
کھیل1 week agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
ہندوستان6 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا6 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا5 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
دنیا7 days agoامریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں: ایران
دنیا4 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا7 days agoیہ بھی ممکن ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر سے کبھی ملاقات کروں: ٹرمپ
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کیلئے برطانیہ اور فرانس متحرک
دنیا1 week agoواضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی






































































































