تجزیہ
ایران کی جنگ میں سفارتی تعطل: کیا پاکستان ثالثی سے باہر اور ہندوستان بطور برکس صدراس میں شامل ہورہا ہے
تحریر: رمیش بھان
نئی دہلی، مغربی ایشیا کے موجودہ بحران، بالخصوص ‘آبنائے ہرمز’ کے گرد گھومتی جنگ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان ثالثی کرنے کی پاکستان کی خواہشات بظاہر دم توڑتی نظر آ رہی ہیں، کیونکہ اطلاعات کے مطابق ایران نے اسلام آباد میں مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اگرچہ ایران یا امریکہ و اسرائیل کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران نے باضابطہ طور پر ثالثوں کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں ہونے والے کسی بھی مذاکراتی عمل میں شرکت نہیں کرے گا، جس نے پاکستان کے کردار پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
اس سفارتی تعطل کے بعد اب یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا اسلام آباد اس عمل سے باہر ہو چکا ہے اور کیا ہندوستان (بطور برکس صدر) اس میں شامل ہو رہا ہے؟ دونوں جانب سے آنے والے بیانات ایک بڑھتے ہوئے سفارتی فاصلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ممبئی میں ایرانی قونصل خانہ اور وزارتِ خارجہ نے پاکستان کی قیادت میں کسی بھی ثالثی میں شرکت کی تردید کی ہے۔
ایران نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس 15 نکاتی امن منصوبے کو بھی مسترد کر دیا ہے جو اسلام آباد کے ذریعے تہران پہنچایا گیا تھا۔ ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی تجاویز کو “غیر معقول اور غیر حقیقی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے فورمز ان کے اپنے ہیں، ہمارا ان سے تعلق نہیں ہے۔
دوسری جانب، پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ابتدائی طور پر “بامعنی مذاکرات” کی میزبانی کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی، لیکن 2 اپریل کو پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اپنی کوششوں میں “رکاوٹوں” کا اعتراف کیا۔ وال اسٹریٹ جنرل کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ پاکستان کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد اب ترکی اور مصر جیسے ممالک دوحہ یا استنبول میں مذاکرات کے لیے ممکنہ مقامات کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
کیا بھارت کو آگے آنا چاہیے
اپریل تک، ایک ثالث کے طور پر ہندوستان کے ممکنہ کردار کو عالمی سطح پر بڑی دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے، لیکن یہ ایک پیچیدہ اور پرخطر سفارتی مسئلہ ہے۔ اگرچہ فن لینڈ کے صدر جیسے رہنماؤں نے ہندوستان کی عالمی ساکھ کو دیکھتے ہوئے اسے جنگ بندی کے لیے بہترین پوزیشن میں قرار دیا ہے، لیکن ہندوستان کا موجودہ رخ ہائی پروفائل ثالثی کے بجائے خاموش سفارت کاری اور متوازن غیر جانبداری پر مرکوز ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عوامی سطح پرہندوستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 2026 میں برکس کی صدارت کے ناطے دشمنی ختم کروانے میں فعال کردار ادا کرے۔ ہندوستان کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ ان چند طاقتوں میں سے ہے جس کے تینوں فریقین کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات ہیں: اسرائیل (دفاع اور ٹیکنالوجی)، ایران (چاہ بہار بندرگاہ) اور امریکہ (بڑا تجارتی شراکت دار)۔ اس کے علاوہ ہندوستان اپنی خام تیل کی ضروریات کا 85 فیصد درآمد کرتا ہے، جس کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، لہذا معاشی استحکام ہندوستان کا براہ راست قومی مفاد ہے۔
تاہم، ہندوستان کے لیے کئی چیلنجز بھی موجود ہیں۔ برکس اس جنگ پر منقسم ہے؛ جہاں روس اور چین کھل کر ایران کی حمایت کر رہے ہیں، وہیں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا موقف ایران کے خلاف سخت ہے۔ اس کے علاوہ، صدر ٹرمپ کثیر جہتی طریقہ کار کے بجائے انفرادی سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں توہندوستان کے لیے برکس کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
اگلے ماہ 14 اور 15 مئی کو نئی دہلی میں برکس وزرائے خارجہ کا اجلاس ہونے والا ہے، جوہندوستان کے لیے ایک سخت آزمائش ہوگی کیونکہ اسے ایران اور متحدہ عرب امارات دونوں کی میزبانی کرنی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات، بالخصوص ایران پر حملے سے چند دن قبل وزیراعظم مودی کا دورہ تل ابیب، بعض حلقوں میں ہندوستان کی مکمل غیر جانبداری کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کر رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہندوستان اس سفارتی رسی پر چل کر کوئی حل نکال پاتا ہے یا نہیں۔
یواین آئی ۔ایف اے
تجزیہ
کاربن کے اخراج، درخت کاری اور حیاتیاتی تنوع: موسمیاتی حکمتِ عملی کے درمیان توازن کی تلاش
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نہ صرف واضح ہو چکے ہیں بلکہ تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں، بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، گلیشیئرز کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ اور حیاتیاتی تنوع کا زوال یہ اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ انسان کو اپنی ترقی کے ماڈل پر نظرثانی کرنا ہوگی، کاربن کے اخراج کو کم کرنا اس جدوجہد کا بنیادی جزو ہے، لیکن موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ صرف اخراج میں کمی کافی نہیں ہوگی۔ ہمیں فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو نکالنے کے مؤثر طریقے بھی اپنانے ہوں گے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کاربن کو ہٹانے کے لیے درخت لگانا ہمیشہ فائدہ مند ہوتا ہے؟ یا یہ بعض حالات میں ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے؟ حالیہ سائنسی تحقیق اس پیچیدہ سوال کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے، خاص طور پر جب بات حیاتیاتی تنوع (biodiversity) کی ہو۔
دنیا بھر میں انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہر سال تقریباً 42 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہو رہی ہے۔ اس میں سب سے بڑا حصہ جیواشم ایندھن (fossil fuels) جیسے کوئلہ، تیل اور گیس کے استعمال سے آتا ہے، جبکہ زمین کے استعمال میں تبدیلی—جیسے جنگلات کی کٹائی—بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اگرچہ مختلف ممالک نے اخراج کم کرنے کے وعدے کیے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر اخراج میں اب بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف اخراج کو کم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ہمیں ‘نیٹ زیرو’ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کاربن کو فضا سے نکالنا بھی ہوگا۔
پیرس معاہدہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دنیا کو نہ صرف اخراج میں بڑی حد تک کمی لانی ہوگی بلکہ کاربن ہٹانے کی ٹیکنالوجیز اور حکمت عملیوں کو بھی بڑے پیمانے پر اپنانا ہوگا۔
لیکن یہاں ایک چیلنج ہے۔کاربن کو ہٹانے کے لیے استعمال ہونے والے طریقے خود ماحول پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر اگر انہیں بغیر منصوبہ بندی کے اپنایا جائے۔
کاربن کو ہٹانے کے کئی طریقے زیرِ غور ہیں، جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
(اول) درخت لگانا: درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور اسے اپنے اندر ذخیرہ کرتے ہیں۔ اس لیے درخت کاری کو سب سے قدرتی اور سستا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
(دوم) توانائی کی فصلیں (Bioenergy Crops): ایسی فصلیں اگائی جاتی ہیں جنہیں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکے، اور پھر ان کے جلنے سے پیدا ہونے والے کاربن کو پکڑ کر ذخیرہ کیا جائے۔
(سوم) کاربن کیپچر اور اسٹوریج (CCS): صنعتی ذرائع سے نکلنے والے کاربن کو پکڑ کر زمین کے اندر محفوظ کرنا۔
(چہارم) ڈائریکٹ ایئر کیپچر (DAC): جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فضا سے براہِ راست کاربن کو نکالنا۔
ان میں سے سب سے زیادہ زیرِ بحث طریقہ درخت لگانا ہے، کیونکہ یہ فطری اور نسبتاً آسان ہے۔ لیکن اس کے بھی کئی پیچیدہ پہلو ہیں۔
بظاہر درخت لگانا ایک بہترین حل معلوم ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف کاربن کو جذب کرتا ہے بلکہ مٹی کو محفوظ رکھتا ہے، پانی کے چکر کو بہتر بناتا ہے اور ماحولیاتی نظام کو مستحکم کرتا ہے۔ لیکن جب اسے بڑے پیمانے پر نافذ کیا جاتا ہے، تو اس کے منفی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
بڑے پیمانے پر درخت لگانے کے لیے لاکھوں مربع کلومیٹر زمین درکار ہوتی ہے۔ یہ زمین کہاں سے آئے گی؟ اکثر یہ زرعی زمین یا قدرتی گھاس کے میدان (grasslands) ہوتی ہے، جو خود بھی اہم ماحولیاتی نظام ہیں۔
اگر ایک ہی قسم کے درخت بڑے پیمانے پر لگائے جائیں (monoculture plantations)، تو یہ مقامی پودوں اور جانوروں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس سے حیاتیاتی تنوع کم ہو جاتا ہے۔
کچھ درخت بہت زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں، جس سے مقامی آبی وسائل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ زمین کے استعمال میں تبدیلی سے مقامی لوگوں کی روزی روٹی متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر کسانوں اور چرواہوں کی۔
حالیہ مطالعات میں سائنسدانوں نے مختلف موسمیاتی منظرناموں کا تجزیہ کیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کاربن ہٹانے کی حکمت عملیوں کا حیاتیاتی تنوع پر کیا اثر پڑتا ہے۔
انہوں نے عالمی نقشوں کو استعمال کرتے ہوئے یہ دیکھا کہ مستقبل میں کہاں درخت لگائے جائیں گے یا توانائی کی فصلیں اگائی جائیں گی، اور یہ علاقے حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے کتنے حساس ہیں۔
بہت سے ایسے علاقے جہاں درخت لگانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے نہایت اہم ہیں۔ اگر ان علاقوں میں غیر مقامی درخت لگائے جائیں، تو مقامی ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔کچھ علاقوں میں درخت لگانا فائدہ مند ہو سکتا ہے، خاص طور پر جہاں پہلے جنگلات موجود تھے اور انہیں بحال کیا جا سکتا ہے۔
کاربن ہٹانے اور حیاتیاتی تنوع کے درمیان تعلق کو دو طریقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔درخت لگانے سے کاربن تو کم ہو سکتا ہے، لیکن حیاتیاتی تنوع متاثر ہو سکتا ہے۔ زرعی زمین کو جنگل میں تبدیل کرنے سے خوراک کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
مقامی انواع کے درخت لگانے سے دونوں اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ جنگلات کی بحالی (restoration) سے کاربن ذخیرہ بھی ہوتا ہے اور حیاتیاتی تنوع بھی بڑھتا ہے۔
ان چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے، ماہرین درج ذیل حکمت عملی تجویزکرتے ہیں۔
درخت لگاتے وقت مقامی پودوں کو ترجیح دی جائے۔حساس ماحولیاتی علاقوں کو محفوظ رکھا جائے۔مقامی لوگوں کو منصوبوں میں شامل کیا جائے تاکہ ان کے مفادات کا تحفظ ہو۔ صرف درخت لگانے پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ مختلف طریقوں کو یکجا کیا جائے۔
موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی مسئلہ ہے۔ کاربن کو ہٹانا اس کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن اسے اکیلے حل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
ہمیں ایک متوازن نقطہ نظر اپنانا ہوگا جس میں: کاربن کا اخراج (removal)، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، سماجی و اقتصادی انصاف سب کو یکجا کیا جائے۔
درخت لگانا ایک بہتر حل ہو سکتا ہے، لیکن یہ کوئی جادوئی حل نہیں ہے۔ اگر اسے بغیر سوچے سمجھے اپنایا جائے تو یہ ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سائنسی شواہد کی بنیاد پر فیصلے کریں اور ایسے اقدامات کریں جو نہ صرف کاربن کو کم کریں بلکہ زمین کے حیاتیاتی نظام کو بھی محفوظ رکھیں۔مستقبل کی کامیابی اسی میں ہے کہ ہم ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن قائم کریں —ایسا توازن جو انسان اور فطرت دونوں کے لیے فائدہ مند ہو۔
(یواین آئی)
تجزیہ
فلم گیت گایا پتھروں کے بعد جیتندر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے

ممبئی، 7 اپریل (یواین آئی) بالی ووڈ کے مشہور اداکار جتیندرآج 84 سال کے ہوگئے 7 اپریل 1942 کو ایک جوہری خاندان میں پیدا ہونے والے جتیندرکا بچپن سے ہی فلموں کی جانب رجحان تھا اور وہ اداکار بننا چاہتے تھے۔ وہ اکثر گھر سے بھاگ کر فلم دیکھنے جایا کرتے تھے۔ جتیندرنے اپنے سنیما کیریئر کی شروعات 1959 میں ریلیز ہونے والی فلم نورنگ سے کی جس میں انہیں ایک چھوٹا سا کردار ادا کرنے کا موقع ملا تقریباً پانچ سال تک جتیندرفلم انڈسٹری میں اداکار کے طور پر کام حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ 1964 میں انہیں شانتارام کی فلم گیت گایا پتھروں نے میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم کے بعد جیتندر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئے۔
1967 میں جتیندرکی ایک اور سپرہٹ فلم فرض ریلیز ہوئی۔ روی کانت ناگائچ کی ہدایتکاری میں بنی اس فلم میں جتیندرنے ڈانسنگ اسٹار کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں ان پر فلمایا گیا گانا مست بہاروں کا میں عاشق شائقین اور سامعین کے درمیان بہت مقبول ہوا۔ اس فلم کے بعد جتیندرکو “جمپنگ جیک” کہنا شروع کر دیا گیا۔
فرض کی کامیابی کے بعد ڈانسنگ اسٹار کے طور پر جتیندرکی شبیہ بن گئی۔ اس فلم کے بعد پروڈیوسرز اور ہدایتکاروں نے بیشتر فلموں میں ان کی ڈانسنگ شبیہ کو اجاگر کیا۔ پروڈیوسروں نے جتیندرکو ایک ایسے ہیرو کے طور پر پیش کیا جو رقص کرنے میں ماہر ہو۔ ان فلموں میں ہمجولی اور کارواں جیسی سپرہٹ فلمیں شامل ہیں۔ اس دوران جتیندرنے جینے کی راہ، دو بھائی اور دھرتی کہے پکار کے جیسی فلموں میں ہلکے پھلکے کردار ادا کر کے اپنی ہمہ جہت صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا۔
سال 1973 میں ریلیز ہونے والی فلم جیسے کو تیسا کے ہٹ ہونے کے بعد فلم انڈسٹری میں ان کے نام کے ڈنکے بجنے لگے اور وہ ایک کے بعد ایک مشکل کردار ادا کرتے ہوئے فلم انڈسٹری میں اپنا مقام بناتے گئے۔ 70 کی دہائی میں جتیندرپر یہ الزام لگنے لگا کہ وہ صرف ناچ گانے سے بھرپور رومانوی کردار ہی ادا کر سکتے ہیں۔ انہیں اس شبیہ سے نکالنے میں پروڈیوسر اور ہدایتکار گلزار نے مدد کی اور ان کے ساتھ پریچے، خوشبو اور کنارا جیسی فیملی فلمیں بنائیں ۔ ان فلموں میں جتیندرکی سنجیدہ اداکاری دیکھ کر ناظرین حیران رہ گئے۔
جتیندرکے سنیما کیریئر پر نظر ڈالنے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ ملٹی اسٹارر فلموں کا اہم حصہ رہے ہیں۔ فلم انڈسٹری کے رنگین پردے پر جیتندر اور ریکھا کی جوڑی کو خوب پسند کیا گیا۔ 80 کی دہائی میں ان کی جوڑی سری دیوی اور جیا پردا کے ساتھ بھی کافی مقبول ہوئی۔ اپنے منفرد ڈانس اسٹائل کی وجہ سے اس جوڑی کو ناظرین نے بے حد پسند کیا۔
سال1982 سے 1987 کے درمیان جتیندر نے جنوبی ہندوستان کے فلم ساز ٹی راماراو، کے باپّیا کے راگھووندرا راؤ وغیرہ کی فلموں میں بھی کام کیا۔ 2000 کی دہائی میں فلموں میں اچھا رول نہ ملنے پر انہوں نے فلموں میں کام کرنا کم کر دیا۔ اس دوران وہ اپنی بیٹی ایکتا کپور کو چھوٹے پردے پر پروڈیوسر کے طور پر قائم کرنے میں ان کے رہنما بنے رہے۔ان دنوں وہ اپنی بیٹی ایکتا کپور کو فلم پروڈکشن میں مددکر رہے ہیں۔
تجزیہ
پھلوں کا بادشاہ خطرے میں: آم اور موسمیاتی تبدیلی
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی برصغیر میں ایک خاص خوشبو فضا میں پھیلنے لگتی ہے یہ خوشبو صرف ایک پھل کی نہیں بلکہ ایک پورے موسم، ایک تہذیب اور ایک جذباتی وابستگی کی علامت ہوتی ہے یہ خوشبو آم کی ہوتی ہے آم کو بجا طور پر“پھلوں کا بادشاہ”کہا جاتا ہے یہ صرف ذائقے میں لاجواب نہیں بلکہ ہماری ثقافت، معیشت اور روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ ہےلیکن آج یہ بادشاہ ایک خاموش خطرے سے دوچار ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، جو دنیا بھر میں قدرتی نظاموں کو متاثر کر رہی ہے، اب آم کی کاشت اور پیداوار کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ یہ مسئلہ محض زرعی نہیں بلکہ معاشی، ماحولیاتی اور ثقافتی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
آم صرف ایک زرعی پیداوار نہیں بلکہ ایک جذباتی تجربہ ہے۔ بچپن کی گرمیوں کی چھٹیاں، گھر میں آموں کی پیٹیاں، ٹھنڈے آم کھانے کی خوشی، آم کے شیک اور آچار یہ سب ہماری یادوں کا حصہ ہیں۔
دیہی علاقوں میں آم کے باغات نہ صرف خوبصورتی کا منظر پیش کرتے ہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔ کسان، مزدور، ٹرانسپورٹر، تاجرسب کی معیشت کسی نہ کسی طرح آم سے جڑی ہوئی ہے۔
ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا آم پیدا کرنے والا ملک ہے، جہاں لاکھوں ہیکٹر زمین پر آم کی کاشت کی جاتی ہے اور کروڑوں ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی آم اہم زرعی فصل ہے۔
آم کا درخت بظاہر مضبوط نظر آتا ہے، لیکن درحقیقت یہ اپنے ماحول کے حوالے سے نہایت حساس ہوتا ہے۔ اس کی نشوونما اور پھل دینے کا عمل کئی موسمی عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔
آم کے درخت کو گرم موسم پسند ہے، لیکن ہر مرحلے کے لیے مخصوص درجہ حرارت درکار ہوتا ہے۔ پھول نکلنے کے وقت 24 سے 27 ڈگری سینٹی گریڈ بہترین سمجھا جاتا ہے۔ بہت زیادہ گرمی یا اچانک سردی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے
آم کے درخت کو ایک معتدل سردی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس میں پھول آنے کا عمل شروع ہو سکے۔ اگر سردی مناسب نہ ہو تو پھول کم نکلتے ہیں، جس سے پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ پھول آنے اور پھل بننے کے دوران خشک موسم ضروری ہوتا ہے۔
زیادہ نمی یا بارش اس مرحلے میں بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔
اگرچہ آم کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن بارش کا وقت اور مقدار نہایت اہم ہے۔ بے وقت بارش فصل کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی سے مراد زمین کے درجہ حرارت، بارش کے نظام اور موسم کے عمومی پیٹرن میں طویل مدتی تبدیلیاں ہیں۔ یہ تبدیلیاں انسانی سرگرمیوں، خاص طور پر فوسل فیول کے استعمال، جنگلات کی کٹائی اور صنعتی آلودگی کے باعث تیز ہو رہی ہیں۔آم کی فصل ان تبدیلیوں سے براہ راست متاثر ہو رہی ہے کیونکہ اس کا حیاتیاتی چکر موسمی حالات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
.غیر متوقع بارش، پھول نکلنے کے دوران بارش آم کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔اس دوران پھول جھڑ جاتے ہیں، جرگن (pollination) متاثر ہوتا ہے، پھل بننے کا عمل رک جاتا ہے۔ یہ صورتحال کسانوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتی ہے کیونکہ ایک بار پھول ختم ہو جائیں تو پورے سیزن کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔اگرچہ بارش نہ بھی ہو، تیز ہوائیں پھل کو درخت سے گرا سکتی ہیں۔کچے پھل گر جاتے ہیں، پیداوار میں نمایاں کمی آتی ہے۔
زیادہ نمی آم کے باغات میں بیماریوں کو بڑھاتی ہے، جیسے:فنگس، اینتھراکنوز (Anthracnose)، پاؤڈری میلڈیو۔یہ بیماریاں نہ صرف پیداوار کم کرتی ہیں بلکہ پھل کے معیار کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ زیادہ گرمی یا غیر معمولی درجہ حرارت آم کے درخت کے قدرتی چکر کو بگاڑ دیتا ہے۔ پھول جلدی یا دیر سے آتے ہیں، پھل صحیح طرح نہیں بنتا، ذائقہ اور معیار متاثر ہوتا ہے
پہلے جہاں بارش کا ایک متوازن نظام ہوتا تھا، اب وہ بے ترتیب ہو چکا ہے۔کبھی شدید بارش، کبھی طویل خشک سالی،یہ غیر یقینی صورتحال کسانوں کے لیے منصوبہ بندی کو مشکل بنا دیتی ہے۔موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر کسانوں پر پڑتا ہے۔
جب فصل خراب ہوتی ہے تو کسان کو براہ راست مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔قرض بڑھ جاتے ہیں، آمدنی کم ہو جاتی ہے۔مسلسل نقصان اور غیر یقینی حالات کسانوں کے ذہنی سکون کو متاثر کرتے ہیں۔
آم کی پیداوار کم ہونے سے اس سے جڑے دیگر شعبے بھی متاثر ہوتے ہیں، جیسے: مزدور، ٹرانسپورٹ، مارکیٹ،آم کے باغات صرف زرعی زمین نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام ہوتے ہیں۔
یہ پرندوں اور کیڑوں کے لیے مسکن فراہم کرتے ہیں، زمین کی زرخیزی کو برقرار رکھتے ہیں، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ جب یہ باغات متاثر ہوتے ہیں تو پورا ماحولیاتی توازن بگڑ جاتا ہے۔
آم ہماری ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ مہمان نوازی میں آم پیش کرنا،آم کی مختلف اقسام پر فخر، ادبی اور شعری حوالوں میں آم،اگر آم کی پیداوار کم ہو جاتی ہے تو یہ ثقافتی روایات بھی متاثر ہوں گی۔
اس آفت سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم جدید زرعی تکنیک، ڈرپ اریگیشن، موسمی پیشگوئی کا استعمال، بیماریوں کے خلاف بہترا سپرے وغیرہ استعمال کریں۔ سائنسدان ایسی اقسام تیار کر رہے ہیں جو زیادہ گرمی برداشت کر سکیں، بیماریوں کے خلاف مزاحمت رکھتی ہوں۔ پانی کا بہتر استعمال: پانی کے ذخائر اور مؤثر آبپاشی کے نظام اپنانا ضروری ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کو مالی مدد ے، تحقیق میں سرمایہ کاری کرے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے منصوبے بنائے۔
عوامی شعور: لوگوں کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے: ماحول دوست طرز زندگی اپنانا، درخت لگانا، وسائل کا محتاط استعمال
اگر موسمیاتی تبدیلی پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے برسوں میں آم کی پیداوار مزید متاثر ہو سکتی ہے قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، معیار کم ہو سکتا ہے، کچھ اقسام ناپید بھی ہو سکتی ہیں۔لیکن اگر بروقت اقدامات کیے جائیں تو اس بحران کو کم کیا جا سکتا ہے۔
آم صرف ایک پھل نہیں بلکہ ہماری زندگی، معیشت اور ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے اس“بادشاہ”کو خطرے میں ڈال دیا ہے، اور یہ خطرہ صرف کسانوں تک محدود نہیں بلکہ ہم سب کے لیے ہے۔یہ وقت ہے کہ ہم سنجیدگی سے اس مسئلے کو سمجھیں اور اجتماعی طور پر اس کا حل تلاش کریں۔ اگر ہم نے آج اقدامات نہ کیے تو ممکن ہے کہ آنے والی نسلیں آم کو صرف کہانیوں اور کتابوں میں ہی دیکھیں۔
آم کی خوشبو، اس کا ذائقہ اور اس سے جڑی یادیں ہماری شناخت کا حصہ ہیں اور اس شناخت کو بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
(یواین آئی)
جموں و کشمیر6 days agoلداخ کو آخرکار آدھار میں علیحدہ شناخت مل گئی، ‘ریاست’ کے خانے میں جموں و کشمیر کی جگہ لے لی
ہندوستان1 week agoمغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی
دنیا1 week agoدنیا ایران کو آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے ادائیگی قبول نہیں کرے گی: متسوتاکس
جموں و کشمیر1 week agoمنشیات کے کیس میں ملوث ہونے پر جموں و کشمیر میں خاتون پولیس اہلکار ملازمت سے برطرف
ہندوستان1 week agoہندوستان نے مغربی ایشیا میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا، مستقل امن کی اپیل
جموں و کشمیر4 days agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoایران کی پہلی 10 نکاتی تجویز مسترد، نئی تجاویز پر ایران اور پاکستان سے بات چیت ہورہی ہے: جے ڈی وینس
جموں و کشمیر1 week agoایل جی نے 11 اپریل سے شروع ہونے والی 100 روزہ ‘نشہ مکت جموں و کشمیر ‘ مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا
دنیا4 days agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا4 days agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoایران سے دوبارہ جنگ کیلئے تیار ہیں: نیتن یاہو
دنیا4 days agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ











































































































