جموں و کشمیر
لداخ کو آخرکار آدھار میں علیحدہ شناخت مل گئی، ‘ریاست’ کے خانے میں جموں و کشمیر کی جگہ لے لی
لہہ، لداخ کو آدھار ریکارڈز میں باضابطہ طور پر ایک علیحدہ شناخت دے دی گئی ہے، جہاں اب ‘ریاست’ کے خانے میں “جموں و کشمیر” کی جگہ “لداخ” درج کیا گیا ہے۔
اگرچہ 2019 میں جموں و کشمیر سے الگ ہو کر لداخ کو ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ (یونین ٹیریٹری) بنایا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود لداخ کے لوگوں کے آدھار ریکارڈز میں پرانا نام یعنی “جموں و کشمیر” ہی درج تھا، جس کی وجہ سے لوگوں کو کافی مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر، ونے کمار سکسینہ نے اس طویل عرصے سے زیر التوا مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت دی کہ اسے جلد از جلد حل کیا جائے۔
یو ٹی کے ایک ترجمان کے مطابق اس کے بعد انتظامیہ نے اس معاملے کو اعلیٰ سطح پر یونیک آئیڈینٹیفکیشن اتھارٹی آف انڈیا (یو آئی ڈی اے آئی) کے ساتھ اٹھایا۔
ترجمان نے کہاکہ “یہ طویل عرصے سے منتظر اصلاح اب کامیابی کے ساتھ نافذ کر دی گئی ہے، جس سے لداخ کی الگ علاقائی شناخت کو آدھار میں درست طور پر ظاہر کیا جا سکے گا۔”
یو ٹی انتظامیہ نے یو آئی ڈی اے آئی کے ساتھ مل کر ایک نیا طریقہ کار تیار کیا، جس کے تحت ہر فرد کو آدھار سینٹر جا کر تبدیلی کروانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ اس کے بجائے، لداخ کے مخصوص پن کوڈز کی بنیاد پر مرکزی سطح پر ریکارڈز کو اپڈیٹ کیا گیا۔
ان پن کوڈز کی تصدیق محکمہ ڈاک کے تعاون سے کی گئی اور پھر یو آئی ڈی اے آئی کو فراہم کی گئی۔
آدھار ریکارڈز میں “جموں و کشمیر” کا نام برقرار رہنے کی وجہ سے لداخ کے باشندوں کو کافی مشکلات کا سامنا تھا۔
لوگوں کو مختلف خدمات حاصل کرنے کے دوران آدھار کو بطور شناخت اور پتہ کے ثبوت استعمال کرنے میں دشواری پیش آ رہی تھی، کیونکہ ‘ریاست’ کا خانہ لداخ کی نئی حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
اس مسئلے نے نہ صرف عوام کو پریشان کیا بلکہ آدھار سے منسلک ریکارڈز اور رپورٹوں میں لداخ کی درست نمائندگی کو بھی متاثر کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر سکسینہ نے کہا کہ اس پیش رفت سے لداخ کے عوام کو بڑی سہولت ملے گی کیونکہ اس سے انتظامی رکاوٹیں ختم ہوں گی اور خدمات تک رسائی آسان ہو جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ “یہ یقینی بنانا کہ لداخ کی شناخت سرکاری ریکارڈز میں درست طور پر ظاہر ہو، نہ صرف انتظامی ضرورت ہے بلکہ ہمارے لوگوں کی شناخت اور سہولت کا بھی معاملہ ہے۔ اس طویل عرصے سے زیر التوا مسئلے کا کامیاب حل، یو ٹی انتظامیہ کے عوام دوست طرز حکمرانی، آسان طرز زندگی اور لداخ کی منفرد شناخت کو تمام سرکاری پلیٹ فارمز پر یقینی بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔”
اس پیش رفت سے لداخ کے لوگوں کو نمایاں راحت ملی ہے کیونکہ اب انہیں اپنے ریکارڈز اپڈیٹ کروانے کے لیے آدھار سینٹر جانے کی ضرورت نہیں رہی۔ لوگ اب آسانی سے یو آئی ڈی اے آئی کی سرکاری ویب سائٹ سے اپنا اپڈیٹ شدہ ای-آدھار ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں، اور جو لوگ پی وی سی آدھار کارڈ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ معمولی فیس ادا کر کے آن لائن آرڈر بھی کر سکتے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
جموں و کشمیر
جموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع ادھم پور میں ایک 20 سالہ لڑکی کالج پکنک پر جاتے ہوئے بس سے گر کر ہلاک ہو گئی۔
پولیس کے مطابق متوفیہ کی شناخت انجلی چودھری کے طور پر ہوئی ہے، جو جموں کے علاقے میراں صاحب کی رہائشی تھی۔
وہ ضلع ادھم پور میں کھیری کے مقام پر چلتی بس سے اچانک نیچے گر گئی۔ پولیس نے بتایا کہ “لڑکی اپنے کالج کے ساتھیوں کے ساتھ سیاحتی مقام پتنی ٹاپ (جو ادھم پور سے تقریباً 50 کلومیٹر دور ہے) پکنک منانے جا رہی تھی۔”
مقتولہ گورنمنٹ گاندھی نگر کالج فار وومین، جموں میں چوتھے سمسٹر کی طالبہ تھی۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس اور مقامی لوگوں نے اسے ضلع اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔
جموں و کشمیر کی وزیرِ تعلیم سکینہ اتو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’گورنمنٹ کالج فار وومین، گاندھی نگر، جموں کی چوتھے سمسٹر کی طالبہ انجلی چودھری کی المناک موت کی خبر سن کر انتہائی دکھ ہوا۔ وہ آج صبح اپنے ساتھی طلبہ کے ہمراہ پتنی ٹاپ پکنک پر جاتے ہوئے ادھم پور کے قریب ایک حادثے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ صبح تقریباً 10:30 بجے ادھم پور سے ایک کلومیٹر پہلے پیش آیا۔
وزیرِ تعلیم نے سوگوار خاندان اور کالج کے عملے سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ متاثرہ خاندان کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ: جموں و کشمیر پولیس نے کروڑوں کی جائیدادیں منجمد کر دیں
سری نگر، اننت ناگ ضلع میں منشیات کی اسمگلنگ اور اس کے مالی نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے جموں و کشمیر پولیس نے این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف کے تحت چار رہائشی جائیدادیں منجمد کر دی ہیں۔
یہ جائیدادیں ان افراد سے منسلک بتائی جا رہی ہیں جو مبینہ طور پر ضلع میں غیر قانونی منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں۔
جاری کردہ بیان کے مطابق جن افراد کی جائیدادیں منجمد کی گئی ہیں ان کی شناخت رئیس احمد ڈار، سبزار احمد ڈار، مدثر احمد ڈار اور زاہد احمد ڈار کے طور پر ہوئی ہے، جو کہ تلخان، بیجبہارہ کے رہائشی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ جائیدادیں غیر قانونی منشیات کی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بنائی گئی تھیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ این ڈی پی ایس ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مجاز اتھارٹی نے ان اثاثوں کو منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔
منجمد کی گئی جائیدادوں کی مجموعی مالیت تقریباً 2.25 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائی جموں و کشمیر پولیس کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ منشیات کے نیٹ ورک کے مالی ڈھانچے کو ختم کرنے اور ضلع میں منشیات کے ناسور پر قابو پانے کے لیے مسلسل اقدامات جاری رکھے گی۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان1 week agoمغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی
دنیا1 week agoدنیا ایران کو آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے ادائیگی قبول نہیں کرے گی: متسوتاکس
جموں و کشمیر1 week agoمنشیات کے کیس میں ملوث ہونے پر جموں و کشمیر میں خاتون پولیس اہلکار ملازمت سے برطرف
ہندوستان1 week agoہندوستان نے مغربی ایشیا میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا، مستقل امن کی اپیل
دنیا1 week agoایران کی پہلی 10 نکاتی تجویز مسترد، نئی تجاویز پر ایران اور پاکستان سے بات چیت ہورہی ہے: جے ڈی وینس
جموں و کشمیر4 days agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
جموں و کشمیر1 week agoایل جی نے 11 اپریل سے شروع ہونے والی 100 روزہ ‘نشہ مکت جموں و کشمیر ‘ مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا
دنیا4 days agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا4 days agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoایران سے دوبارہ جنگ کیلئے تیار ہیں: نیتن یاہو
دنیا4 days agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
دنیا4 days agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا











































































































