ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے آغاز پر خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت ‘تاریخی قدم’ کا خیر مقدم کیا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز کہا کہ آج سے شروع ہونے والا پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس ملک میں خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت ایک “تاریخی قدم” ہے، جس سے عوامی زندگی میں خواتین کے وقار اور نمائندگی کو آگے بڑھانے کے حکومت کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم مودی نے کہا، “آج سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے ذریعے ہمارا ملک خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت ایک تاریخی قدم اٹھانے جا رہا ہے۔ ہماری ماؤں اور بہنوں کا احترام ملک کا احترام ہے، اور اسی جذبے کے ساتھ ہم اس سمت مضبوطی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔”
ایک سنسکرت شلوک کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے مزید کہا، “تم ابھرو اور اپنی کرنوں سے دنیا کو منور کرو۔ کنوا خاندان کے رشیوں نے خوشحالی اور فراوانی کے لیے اپنی حمدوں کے ذریعے تمہیں پکارا ہے،” جس کے ذریعے انہوں نے قومی ترقی میں خواتین کے مرکزی کردار پر ثقافتی اور فلسفیانہ زور دیا۔
یہ تبصرے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پارلیمنٹ کا ایک نایاب خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں قانون ساز اداروں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی تجاویز سمیت اہم قانون سازی کے اقدامات متوقع ہیں۔ حکومت نے مسلسل ایسے اقدامات کو جامع ترقی اور صنفی مساوات کو یقینی بنانے کی ایک وسیع مہم کے طور پر پیش کیا ہے۔
خواتین کو بااختیار بنانے کا معاملہ ہندوستان کے سیاسی منظرنامہ میں ایک مرکزی نقطہ رہا ہے، جہاں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں فیصلہ سازی کے اداروں میں خواتین کی شرکت بڑھانے کے طریقہ کار پر بحث کرتی رہی ہیں۔ اگرچہ خواتین کے ریزرویشنچ کے حوالے سے قانون سازی کی کوششیں برسوں تک نشیب و فراز کا شکار رہی ہیں، لیکن موجودہ سیشن پر سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں کہ آیا دیرینہ66 وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھایا جاتا ہے یا نہیں۔
وزیر اعظم مودی کا یہ پیغام اس سیشن کے رخ کا تعین کرتا ہے، جہاں خواتین کو بااختیار بنانے کو نہ صرف ایک پالیسی ترجیح بلکہ قومی فخر اور ثقافتی اقدار کے معاملے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
فتح گڑھ صاحب میں بس کو حادثہ، 7 مسافر جاں بحق، 21 زخمی
چنڈی گڑھ، پنجاب کے ضلع فتح گڑھ صاحب میں منگل کی رات ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جب زائرین کو لے جانے والی ایک بس ہمت پورہ گاؤں کے قریب الٹ گئی، جس کے نتیجے میں سات افراد کی موت ہوگئی جبکہ 21 زخمی ہوگئے۔
یہ تمام افراد بیساکھی کی تقریبات میں شرکت کے بعد سری آنند پور صاحب سے واپس آ رہے تھے۔ مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں دو بھائی لکھبیر سنگھ اور ہرویر سنگھ بھی شامل ہیں، جو مین ماجری گاؤں کے رہائشی تھے۔
حادثہ رات تقریباً 9:30 بجے پیش آیا، جب بس میں اچانک خرابی پیدا ہوئی جس کے باعث ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا۔ بس سڑک سے نیچے اتر گئی، ایک بجلی کے کھمبے سے ٹکرائی اور الٹ گئی۔
حادثے میں بچ جانے والے مسافروں کے مطابق ٹکر کے بعد کچھ دیر کے لیے بس میں بجلی دوڑ گئی، جس سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ قریبی گاؤں والے شور سن کر موقع پر پہنچے اور پھنسے ہوئے مسافروں کو باہر نکالا، تاہم انہوں نے امدادی گاڑیوں کی آمد میں تاخیر کی شکایت بھی کی۔
سینئر پولیس افسران، جن میں ایس ایس پی ڈاکٹر شُبھم اگروال شامل ہیں، جلد ہی موقع پر پہنچ گئے اور ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی۔ ان کے مطابق حادثہ مین ماجری سے محض ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا، جہاں مسافروں کو اترنا تھا۔
زخمیوں میں سے 12 کو مورِنڈا کے اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ 9 افراد کو فتح گڑھ صاحب میں داخل کیا گیا۔ کئی شدید زخمیوں کو بہتر علاج کے لیےپی جی آئی چندی گڑھ ریفر کیا گیا ہے۔
مرنے والوں میں جگوندر سنگھ، اقبال سنگھ ، لکھبیر سنگھ، ہرویر سنگھ، پردیپ کور، رنجیت کور اور کلویندر سنگھ (کجّل شامل ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق بس کو موقع سے ہٹا دیا گیا ہے اور علاقہ صاف کر دیا گیا ہے۔ گاؤں کے لوگ پوری رات پولیس کے ساتھ مل کر امدادی کاموں میں حصہ لیتے رہے۔
یو این آئی۔ ایم جے،
ہندوستان
آؤٹر دہلی میں پلاسٹک کے کچرے کے گودام میں آگ لگنے سے تین افراد ہلاک
نئی دہلی، فائر حکام نے بدھ کے روز بتایا کہ آؤٹر دہلی کے علاقے بدھ وہار میں پلاسٹک کے کچرے کے ایک گودام میں آگ لگنے کے باعث ایک ہی خاندان کے تین افراد جان کی بازی ہار گئے۔
اطلاعات کے مطابق، جاں بحق ہونے والے افراد ایک ہی خاندان کے ارکان تھے جو بدھ وہار کے ‘مانگے رام پارک’ علاقے میں واقع اس گودام کے اندر ایک عارضی جھونپڑی بنا کر رہ رہے تھے۔
یہ حادثہ رات گئے اس وقت پیش آیا جب گودام میں جمع کردہ اسکریپ (کچرے) کے ڈھیر میں آگ بھڑک اٹھی۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ اس نے گودام کے اندر موجود جھونپڑی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی 7 گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ کئی گھنٹوں کی تگ و دو کے بعد فائر فائٹرز صبح تک آگ پر قابو پانے میں کامیاب رہے۔
پولیس کے مطابق لاشیں بری طرح جھلس چکی ہیں جس کی وجہ سے ان کی شناخت میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ایک سینئر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ متوفین کی شناخت کا عمل ابھی جاری ہے۔ پولیس اور متعلقہ حکام آگ لگنے کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے مزید تفتیش کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ م ع
ہندوستان
کانگریس کی خصوصی اجلاس کے وقت پر مرکز پر تنقید، ‘جمہوریت کا مذاق’ اڑانے کا الزام
نئی دہلی، کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے منگل کے روز پارلیمنٹ کے آئندہ خصوصی اجلاس کے وقت اور انعقاد کے طریقہ کار پر مرکز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ مناسب مشاورت یا شفافیت کے بغیر کام کر کے جمہوری اصولوں کو پامال کر رہی ہے ایک بیان میں رمیش نے کہا کہ خصوصی اجلاس 16 اپریل سے شروع ہونے والا ہے، جبکہ اس وقت تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں انتخابی مہم اپنے عروج پر ہوگی۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ وقت حکومت کے ارادوں اور ترجیحات پر سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، “پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس پرسوں یعنی 16 اپریل سے شروع ہوگا—جب تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں انتخابی مہم عروج پر ہوگی۔” انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے انتخابات کے اختتام کے بعد کل جماعتی اجلاس (آل پارٹی میٹنگ) بلانے کا اپوزیشن کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ، “مودی حکومت نے انتخابات مکمل ہونے کے بعد آل پارٹی میٹنگ بلانے کی اپوزیشن کی مکمل طور پر معقول اور جائز درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے،” جبکہ اس مجوزہ تاخیر کا دورانیہ صرف دو ہفتے کے قریب ہوتا۔
جے رام رمیش نے مزید الزام لگایا کہ ارکانِ پارلیمنٹ کو بحث کے لیے مقررہ مجوزہ آئینی ترامیم کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے اسے جمہوریت کا “مکمل مذاق” قرار دیتے ہوئے کہا، “آج صبح تک مودی حکومت نے ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ وہ آئینی ترمیمی بل شیئر نہیں کیے ہیں جن پر انہیں بحث اور ووٹنگ کرنی ہے۔”
وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے حکومت پر “بلڈوزر ذہنیت” کے ساتھ کام کرنے کا الزام لگایا اور اشارہ دیا کہ حکومت بغیر کسی بحث یا اتفاقِ رائے کے اہم قانون سازی کے فیصلوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔
مرکز نے یہ خصوصی اجلاس کئی ریاستوں میں جاری سیاسی سرگرمیوں اور انتخابی مہم کے دوران بلایا ہے، جس میں توقع ہے کہ آئینی ترامیم سمیت اہم قانون سازی کی تجاویز پیش کی جائیں گی۔ اپوزیشن جماعتیں ایجنڈے پر مزید وضاحت اور مشاورت کے لیے وقت کا مطالبہ کر رہی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اہم اقدامات کے لیے تمام جماعتوں کے درمیان وسیع تر بحث اور اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
جموں و کشمیر5 days agoلداخ کو آخرکار آدھار میں علیحدہ شناخت مل گئی، ‘ریاست’ کے خانے میں جموں و کشمیر کی جگہ لے لی
دنیا1 week agoمجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق تشویشناک دعویٰ، قیادت پر سوالات اٹھنے لگے
دنیا1 week agoایران میں کریک ڈاؤن تیز، مخالفین کے سہولت کاروں کے خلاف فوری فیصلوں کی ہدایت
دنیا1 week agoدنیا ایران کو آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے ادائیگی قبول نہیں کرے گی: متسوتاکس
ہندوستان7 days agoمغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی
ہندوستان1 week agoہندوستان نے ایران میں مقیم اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا
ہندوستان1 week agoہندوستان نے مغربی ایشیا میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا، مستقل امن کی اپیل
جموں و کشمیر1 week agoلشکر طیبہ کا بین ریاستی دہشت گردی کے ماڈیول کا انکشاف، دو پاکستانیوں سمیت 5 گرفتار
جموں و کشمیر7 days agoمنشیات کے کیس میں ملوث ہونے پر جموں و کشمیر میں خاتون پولیس اہلکار ملازمت سے برطرف
دنیا7 days agoایران کی پہلی 10 نکاتی تجویز مسترد، نئی تجاویز پر ایران اور پاکستان سے بات چیت ہورہی ہے: جے ڈی وینس
جموں و کشمیر7 days agoایل جی نے 11 اپریل سے شروع ہونے والی 100 روزہ ‘نشہ مکت جموں و کشمیر ‘ مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا
جموں و کشمیر3 days agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل







































































































