دنیا
کویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
کویت سٹی، کویت کی قومی ایئر لائن ‘کویت ایئرویز’ نے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے لیے اپنی کمرشل پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق کویت کی قومی ایئر لائن ‘کویت ایئرویز’ کا کہنا ہے کہ یہ پروازیں سعودی عرب کے شہر دمام (کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ) کے ذریعے چلائی جائیں گی ایئر لائن کے مطابق، ڈھاکہ کے لیے پروازوں کا آغاز 24 اپریل سے ہو رہا ہے، جو ہفتے میں دو بار آپریٹ کی جائیں گی۔
کویت ایئرویز کے قائم مقام سی ای او، عبدالوہاب الشطی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ڈھاکا کے روٹ کی بحالی مسافروں کی ضرورت اور اہمیت کے پیشِ نظر کی گئی ہے۔ ہم اپنے نیٹ ورک کو وسعت دینے اور دمام آپریشنز کے ذریعے مختلف مقامات کو دوبارہ منسلک کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دمام کے ذریعے حال ہی میں جن دیگر شہروں کے لیے پروازیں بحال کی گئی ہیں، ان میں لاہور، لندن، قاہرہ، استنبول، عمان، ممبئی اور دہلی شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کویت ایئرویز اس وقت 14 مقامات کے لیے پروازیں چلا رہی ہے اور بڑھتی ہوئی طلب کے پیشِ نظر مزید روٹس کی بحالی پر کام جاری ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جب تک لبنان میں فائر بندی جاری ہے ہُرمز کھُلا رہے گا:ایران
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لئے مکمل طور پر کھلا رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
عباس عراقچی نے آج بروز جمعہ ‘ایکس’ سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ “آبنائے ہُرمز کو، لبنان میں فائر بندی سے متوازی شکل میں اور ایران پورٹ اینڈ میری ٹائمز کمیٹی کے اعلان کردہ راستوں سے ، تمام تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لئے مکمل شکل میں کھُلا رکھنے کا اعلان کر دیا گیا ہے”۔
امریکہ کےصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا اورجمعہ کو اپنے ‘ٹروتھ سوشل’ پلیٹ فارم پر “شکریہ!” لکھ کر کہا ہے کہ “ایران نے اس آبی راستے کو مکمل طور پر کھولنے اور مکمل ٹرانزٹ کے لیے تیار ہونے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم تہران کے ساتھ امن معاہدہ ہونے تک ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی”۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی کے حملوں کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہُرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت انتہائی محدود رہی ہے۔ ہفتے کے آخر میں ہونے والے معمولی اضافے کے علاوہ آبنائے سے یومیہ گزرنے والے جہازوں کی تعداد دہائیوں تک نہیں پہنچ سکی۔ امریکی بحریہ کی حالیہ پابندیوں کے تحت جہازوں کے مالکان کے لیے خلیج سے تیل اور دیگر اشیاء باہر نکالنے کے لیے ایرانی اور امریکی حکام، دونوں سے اجازت لینا ضروری ہے۔ اس پابندی نے کارگو کی روانی سے متلق غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر دیا ہے۔ اگرچہ گزشتہ ہفتے غیر ایرانی خام تیل لے جانے والے تین سپر ٹینکر آبنائے سے نکلنے میں کامیاب رہے لیکن ناکہ بندی نافذ ہونے سے پہلے کے سات ہفتوں کے دوران بھی اس آبنائے سے بہت کم کارگو گزر سکا ہے۔
‘شالامار’ نامی ٹینکر نے سب سے پہلے اتوار کے روز خلیج میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی، لیکن امریکہ۔ایران امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد ٹینکر واپس مڑ گیا تھا۔ بعد ازاں اس نے اپنا سفر مکمل کیا اور ‘داس آئی لینڈ’ کی طرف روانہ ہوا، جہاں سے خام تیل لادنے کے بعد وہ جمعرات کو مشرق کی جانب روانہ ہو گیا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ گزشتہ تین دنوں میں 14 جہاز واپس مڑ گئے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے جہازوں کے مالکان موجودہ حالات میں آبنائے سے گزرنے کا خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ بحری ناکہ بندی عمان کے ساحل پر ‘راس الحد’ کے قریب سے لے کر ایران اور پاکستان کی سرحد تک پھیلی ہوئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران پر غیر قانونی حملوں سے علاقائی سیکیورٹی خطرات میں اضافہ ہوا:ایردوان
انقترہ، ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ایران پر غیرقانونی حملوں نے خطے میں سلامتی کے خطرات بڑھا دیے ہیں۔
ترک محکمہ اطلاعات کے مطابق بروز جمعہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران، ایردوان نے کہا کہ ترکیہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری اور تیز کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خطے میں جاری تنازعہ نے ایک نئے اور مضبوط بنیاد پر قائم علاقائی سیکیورٹی ڈھانچے کی ضرورت واضح کر دی ہے اور مزید کہا کہ ترکیہ اس مسئلے پر خطے کے ممالک کے ساتھ جامع طور پر بات چیت جاری رکھے گا۔ تینوں رہنماؤں نے پورے خطے میں پائیدار اور دیرپا امن حصول کے لیے ممکنہ مشترکہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
صدر ایردوان اور شہباز شریف نے دوطرفہ تعلقات اور ایران سے متعلق جاری جنگ بندی مذاکرات پر بات چیت کی اور بڑھتی ہوئی سفارتی ہم آہنگی کو اجاگر کیا۔ ایردوان نے کہا کہ ترکیہ توانائی، تجارت اور دفاع سمیت اہم شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو وسعت دیتا رہے گا۔ انہوں نے جنگ بندی کو یقینی بنانے میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ دونوں فریقین وسیع تر امن معاہدے کی جانب اسے بڑھانے کے لیے کام کریں گے۔
ایردوان نے زور دیا کہ غزہ کی جنگ بندی کو مضبوط بنانا ضروری ہے، انہوں نے نئے علاقائی سیکیورٹی ڈھانچے کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ عدم استحکام کے ماحول میں فلسطین کے دو ریاستی حل کی کوششیں جاری رکھی جانی چاہییں۔ صدر نے فورم کے دوران شامی ہم منصب احمد الشرع سے بھی ملاقات کی، جو جاری علاقائی تبدیلیوں کے درمیان ایک قابلِ ذکر ملاقات تھی۔ شام کی تعریف کرتے ہوئے ایردوان نے کہا کہ دمشق اپنی وحدیت اور اتحاد کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ تعمیر نو اور ترقی کے لیے پختہ اقدامات کر رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس عمل کے دوران ترکیہ شام کے ساتھ کھڑا ہے۔ ایردوان نے مطالبہ کیا کہ شام خطے کے تنازعات سے دور رہے اور کہا کہ انقرہ اور دمشق کے درمیان دفاع، سیکیورٹی، تجارت، توانائی اور نقل و حمل سمیت تمام شعبوں میں تعاون میں اضافہ شام کی بحالی کی کوششوں کے لیے اہم ہوگا۔ ایردوان نے شمال مشرقی شام میں ضم کے عمل کو بغیر خلل کے مکمل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ اس طرح کا نتیجہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ ملاقات میں اعلی سطحی ترک حکام نے شرکت کی جن میں وزیرِ خارجہ حاقان فیدان اور خفیہ سروس کے سربراہ ابراہیم قالن بھی شامل تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران سے ڈیل درست انداز میں جاری ہے، مذاکرات ویک اینڈ کے دوران بھی جاری رہیں گے: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل کا عمل اچھی طرح سے جاری ہے، مذاکرات ویک اینڈ کے دوران بھی جاری رہیں گے۔
امریکی صدر نے ایریزونا میں تقریب سے خطاب میں ایران سے ایٹمی زرات واپس لانےکا اعلان کیا اور کہاکہ امریکہ ایران کی نیوکلیئر ڈسٹ حاصل کرےگا۔ صدر ٹرمپ بولے ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے، ایران سے ڈیل کے تحت رقم کا تبادلہ بھی نہیں کیا جائےگا۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم سے اظہار تشکر کیا، امریکی صدر نےکہاکہ پاکستان کے وزیراعظم او ر فیلڈ مارشل زبر دست شخصیات ہیں، انہوں نے مدد کی، میں دونوں پاکستانی شخصیات کا بہت شکر گزار ہوں۔
امریکی صدر نے سعودی عرب، یواے ای، قطر،کویت اور بحرین کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سعودی عرب، یواے ای، قطر،کویت اور بحرین ، یہ تمام ممالک شاندار ہیں، سب نے بہت مدد کی، ان ممالک میں بہت ہمت ہے۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا نیٹو کی جانب سےکال موصول ہوئی، مدد کے لیے پوچھا جا رہا تھا، لیکن ہمیں 2 ماہ پہلے ان کی مددکی ضرورت تھی، اب بالکل نیٹوکی مدد درکارنہیں، دراصل ہمیں نیٹو کی مدد کی کبھی ضرورت تھی ہی نہیں، نیٹو کو ہماری ضرورت ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کو آخرکار آدھار میں علیحدہ شناخت مل گئی، ‘ریاست’ کے خانے میں جموں و کشمیر کی جگہ لے لی
ہندوستان1 week agoمغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی
دنیا1 week agoایران کی پہلی 10 نکاتی تجویز مسترد، نئی تجاویز پر ایران اور پاکستان سے بات چیت ہورہی ہے: جے ڈی وینس
جموں و کشمیر5 days agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا5 days agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا5 days agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
جموں و کشمیر1 week agoایل جی نے 11 اپریل سے شروع ہونے والی 100 روزہ ‘نشہ مکت جموں و کشمیر ‘ مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا
دنیا5 days agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
دنیا5 days agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا7 days agoڈونلڈ ٹرمپ کی شہرت میں کمی: ڈیموکریٹ کملا ہیرس نے 2028ء کا صدارتی انتخاب لڑنے کا عندیہ دیدیا
جموں و کشمیر7 days agoبخاری نے 100 روزہ ’نشہ مکت‘ مہم کی حمایت کی، جموں و کشمیر میں عوامی تعاون کی اپیل
دنیا7 days agoایرانی وفد کی پیشگی شرائط منظور کرلیں تو دوپہر کو امریکی حکام سے مذاکرات ہوں گے: ایرانی میڈیا










































































































