دنیا
عباس عراقچی کی سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک گفتگو
تہران، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے ٹیلی فونک گفتگو کی ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں کمی، سفارت کاری اور علاقائی تعاون جاری رہنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس سے پہلے ایک بیان میں سعودی وزارتِ خارجہ نے خطے میں حالیہ فوجی کشیدگی پر اظہارِ تشویش کیا تھا اور فریقین سے کشیدگی کم کرنے اور تحمل سے کام لینے کی اپیل بھی کی تھی۔
سعودی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پاکستان کی ثالثی اورسفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، یہ صورتِ حال نہ خطے اور نہ ہی دنیا کے مفاد میں ہے۔ سعودی وزارتِ خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسئلے کا ایسا سیاسی حل تلاش کیا جائے جس سے خطے کو مزید کشیدگی اور عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کا آبنائے ہرمز کے لیے نیا بحری میکانزم نافذ کرنے کا اعلان
تہران، ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے باضابطہ طور پر ایک نیا میکانزم شروع کر دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے باضابطہ طور پر ایک نیا میکانزم شروع کر دیا ہے۔ نئے قواعد و ضوابط کے تحت اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کرنا ہو گا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جہازوں کو گزرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے مخصوص ہدایات پر سختی سے عمل کرنا ہو گا اور اس حوالے سے تمام متعلقہ جہازوں کو ای میل کے ذریعے نئے قواعد سے آگاہ کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ ایران نے پہلے ہی اسرائیل اور امریکہ سے منسلک بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
مزید برآں، ایرانی پارلیمنٹ میں ایک تجویز زیرِ غور ہے جس کے تحت دشمن ممالک کے جہازوں اور غیر مسلح تجارتی جہازوں پر ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔ ان نئے قوانین میں اسرائیل سے منسلک کسی بھی بحری جہاز کے داخلے پر مکمل پابندی کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ خطے میں ایرانی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ کی 14 نکاتی امن تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں: ایران
تہران، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکہ کی 14 نکاتی امن تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی حکام اور وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ خاتمے اور ایٹمی مذاکرات کے نئے فریم ورک پر اتفاق کے لیے ایک صفحے کی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) تیار کر لی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق فریقین اس وقت معاہدے کے اتنے قریب ہیں جتنا جنگ کے آغاز سے اب تک کبھی نہیں رہے تھے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکس کو اگلے 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے چند اہم نکات پر حتمی جواب کا انتظار ہے، اگرچہ ابھی کسی دستاویز پر دستخط نہیں ہوئے، لیکن صدر ٹرمپ کے قریبی مشیر جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف ایرانی حکام سے براہِ راست اور ثالثوں کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہیں۔
معاہدے کے بعد 30 دنوں کے اندر اسلام آباد یا جنیوا میں تفصیلی مذاکرات ہوں گے جن میں پابندیوں کے خاتمے اور ایٹمی پروگرام پر حتمی بحث ہو گی۔
اس 30 روزہ مدت کے دوران ایران کی جانب سے جہاز رانی پر پابندیاں اور امریکہ کا بحری محاصرہ بتدریج ختم کر دیا جائے گا،
ایران 12 سے 15 سال تک یورینیئم کی افزودگی روکنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ امریکہ 20 سال کا مطالبہ کر رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران اب ایک نئی سپر پاور ہے، مشیر ڈاکٹر مخبر
تہران، ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر ڈاکٹر محمد مخبر نے ایک بیان میں ایران کو نیا سپر پاور قرار دے دیا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابراہیم رئیسی کی موت کے بعد ایران کے قائم مقام صدر رہنے والے اور سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر کا کہنا ہے کہ ایران ایک نئی سپر پاور ہے جو امریکہ کے سامنے کھڑی ہے۔
انھوں نے کہا آبنائے ہرمز بند ہے اور یہ ایران کی مرضی کے بغیر نہیں کھلے گا، ٹرمپ کا یہ مطالبہ بے بنیاد ہے کہ ایران میزائل طاقت کو محدود کرے۔
ایکس پر ایک تازہ پوسٹ میں محمد مخبر نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے خلاف شکستوں کے سلسلے کے نتیجے میں امریکی بالادستی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بیجنگ ایک ناکام شخص کے طور پر جائیں گے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ایران عالمی قوانین کے مطابق پر امن ایٹمی پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک اپنی حفاظت کے لیے بیرونی طاقتوں کا سہارا لینا چھوڑ دیں، خلیج میں امریکی فوج کی موجودگی امن کے لیے خطرہ ہے۔
انھوں نے کہا امریکہ خلیجی ملکوں کے اثاثوں اور ان کی زمین کو ایران پر حملوں کے لیے استعمال کر رہا ہے، جس کی وجہ سے ایران کو اپنے دفاع میں کارروائی کرنا پڑی، خطے کا امن صرف آپس کے بھائی چارے سے ہی ممکن ہے، غیر ملکی مداخلت سب کے لیے نقصان دہ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoصدر ٹرمپ نے امریکی انتخابات کو دھاندلی زدہ اور دنیا کے لیے مذاق قرار دے دیا
جموں و کشمیر2 days agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا6 days agoپوتن نے صدر ٹرمپ کو ایرانی جوہری پروگرام پر تجاویز دے دیں
دنیا4 days agoایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز سے گزرنے کی ایرانی فیس دنیا کے لیے ناقابل برداشت ہوگئی
دنیا1 week agoعالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ
جموں و کشمیر1 week agoاردو زبان پر تنازع: التجا مفتی کا عمر عبداللہ سے سوال، “جو بی جے پی نے نہیں مٹایا، وہ آپ کیوں مٹا رہے ہیں
ہندوستان1 week agoگریٹ نکوبار پروجیکٹ پر راہل نے حکومت سے مانگا جواب
دنیا5 days agoامریکی وزیر دفاع کی کانگریس میں سخت تقریر، ایران سے جنگ میں اسلحہ کی قلت کا اعتراف
دنیا4 days agoہم کسی پاگل کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے: ٹرمپ











































































































