دنیا
امریکہ و ایران 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کو پوری طرح کھولنے پر ہوئے راضی :رپورٹس
ماسکو، امریکہ اور ایران نے ایک ابتدائی معاہدے کے تحت 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کو پوری طرح کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔ ’واشنگٹن‘ پوسٹ نے ایک نامعلوم سفارت کار کے حوالے سے یہ معلومات دی ہے۔
اخبار نے ایک نامعلوم ایرانی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ-ایران کے ابتدائی امن معاہدے میں جوہری مذاکرات کو بعد کی تاریخ تک ملتوی کرنے کی بھی گنجائش ہے۔ اخبار نے ایک نامعلوم سفارت کار کے حوالے سے بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ابتدائی ڈھانچہ جاتی معاہدے کی ابھی تک ایرانی فریق کی طرف سے منظوری نہیں دی گئی ہے۔
اخبار کے مطابق، حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دونوں فریق 60 دنوں کے لیے جنگ بندی بڑھانے پر متفق ہوئے ہیں۔
فاکس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ-ایران ڈھانچہ جاتی معاہدہ “95 فیصد مکمل ہو چکا ہے”، تاہم مذاکرات کار اب بھی آبنائے ہرمز اور تہران کے جوہری ذخائر سے متعلق الفاظ پر بحث کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر کافی حد تک اتفاق ہو چکا ہے اور حتمی پہلوؤں اور تفصیلات پر بات چیت چل رہی ہے، جن کا اعلان جلد ہی کیا جائے گا۔ نام نہ بتانے کی شرط پر امریکی حکام نے چینل کو تصدیق کی کہ ایران نے اصولی طور پر معاہدے کے ڈھانچے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
ایک اہلکار نے براڈکاسٹر کو بتایا، “ہم 95 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔ جوہری ذخائر اور آبنائے ہرمز پر ہمارا معاہدہ ہو چکا ہے، لیکن ہم زبان پر بات چیت کر رہے ہیں۔” 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں ٹھکانوں پر حملے شروع کیے، جن میں 3,000 سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ 8 اپریل کو واشنگٹن اور تہران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اسلام آباد میں ہونے والی بعد کی بات چیت بے نتیجہ رہی۔ اگرچہ دشمنی کے دوبارہ آغاز کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا، لیکن امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کر دی۔
یو این آئی/اسپوتنک
دنیا
ہمارا معاہدہ اوباما جیسا نہیں ہوگا: ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن، ایران کے ساتھ معاہدہ اپنے آخری مراحل میں ہونے کا اعلان کرنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ایک بیان کے ردِ عمل میں یہ بھی کہا کہ ان کا یہ معاہدہ اوباما جیسا نہیں ہوگا۔
اتوار کو ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اوباما دور کے ایران نیوکلیئر معاہدے پر تنقید کی اور دوبارہ اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ امریکی صدر نے لکھا کہ اگر میں ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتا ہوں تو وہ ایک اچھا اور مناسب معاہدہ ہوگا، اُس معاہدے جیسا نہیں جو اوباما نے کیا تھا، جس نے ایران کو بے تحاشا نقد رقم دی اور ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کا ایک واضح اور کھلا راستہ فراہم کیا۔
مائیک پومپیو نے ایران معاہدے پر کیا کہا کہ وائٹ ہاؤس سینئر اہلکار آپے سے باہر ہو گئے؟ ٹرمپ نے کہا ہمارا معاہدہ اس کے بالکل برعکس ہے، لیکن ابھی تک کسی نے اسے دیکھا نہیں اور نہ ہی کوئی جانتا ہے کہ وہ کیا ہے۔ ابھی تو اس پر مکمل مذاکرات بھی نہیں ہوئے۔ لہٰذا اُن ناکام لوگوں کی باتوں پر دھیان نہ دیں جو ایسی چیز پر تنقید کر رہے ہیں جس کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے۔
انھوں نے کہا مجھ سے پہلے کے صدور کو یہ مسئلہ بہت پہلے حل کر لینا چاہیے تھا، ان کے برعکس میں خراب ڈیل نہیں کرتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’مذاکرات منظم اور تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور میں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ کسی معاہدے میں جلد بازی نہ کریں کیوں کہ وقت ہمارے حق میں ہے۔‘‘
دریں اثنا، امریکی صدر ٹرمپ نے ایک اور ٹرتھ سوشل پوسٹ میں ایک جنگی طیارے کے نیچے لگے میزائل کی تصویر شئیر کی ہے، اور میزائل پر لکھا ہے ’’اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کا افزودہ یورینیئم کا ذخیرہ کیا محفوظ طریقے سے منتقل کیا جا سکتا ہے؟
تہران، ایران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیئم کا ذخیرہ ایک بار پھر عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کا مرکز بن گیا ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں یہ معاملہ سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح اعلان کیا ہے کہ امریکہ ایران کو افزودہ یورینیئم اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔ وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم یہ یورینیئم حاصل کریں گے، ہمیں اس کی ضرورت نہیں لیکن ایران کو رکھنے نہیں دیں گے، ممکنہ طور پر اسے تباہ کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای نے حکم دیا ہے کہ ایران کا افزودہ یورینیئم کسی صورت ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا، ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ یہ ذخیرہ قومی سلامتی اور دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔ تاہم ایک سینئر ایرانی اہلکار نے ان رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے الجزیرہ کو بتایا کہ رہبرِ اعلیٰ نے یورینیئم ملک میں رکھنے سے متعلق ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس اس وقت تقریباً 440 کلو گرام یورینیئم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد سطح سے کم ہے، تاہم اس مرحلے سے 90 فیصد تک پہنچنا نسبتاً تیز اور آسان ہو جاتا ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی کے مطابق نظریاتی طور پر یہ مقدار مزید افزودگی کے بعد 10 سے زائد جوہری وار ہیڈز بنانے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن اور سول مقاصد کے لیے ہے، تاہم امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک کا دعویٰ ہے کہ 60 فیصد افزودگی عام سول نیوکلیئر پروگرام کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ افزودہ یورینیئم زیادہ تر یورینیئم ہیکسا فلورائیڈ گیس کی شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے، جو انتہائی خطرناک اور زہریلا مادہ تصور کیا جاتا ہے، اگر یہ گیس خارج ہو جائے تو مہلک کیمیائی مرکبات پیدا کرسکتی ہے جو سانس اور جلد دونوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
تاہم عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے مطابق اس مواد کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنا ممکن ہے، اس مقصد کے لیے خصوصی مضبوط اسٹیل سلنڈر استعمال کیے جاتے ہیں جو شدید دباؤ، حرارت اور حادثات کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاریخ میں اس نوعیت کی منتقلی کی مثالیں بھی موجود ہیں، سرد جنگ کے بعد امریکہ نے 1994ء میں قازقستان سے تقریباً 600 کلو گرام ہتھیاروں کے درجے کا یورینیئم خفیہ آپریشن پروجیکٹ سیفائر کے تحت منتقل کیا تھا۔ ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران کا افزودہ یورینیئم ختم یا ملک سے باہر منتقل کیے بغیر خطے میں کشیدگی کا خاتمہ ممکن نہیں ہو گا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے مطابق یورینیئم کے ذخیرے کا معاملہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک پیدا کر چکا ہے، اسی لیے اس موضوع کو وقتی طور پر مؤخر کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے ماضی میں یہ تجویز بھی دی تھی کہ 60 فیصد افزودہ یورینیئم کو دوبارہ 3.67 فیصد سطح تک کم کر دیا جائے، تاہم اس معاملے پر اب تک کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عباس عراقچی نے انتونیو گوتریس کو امریکہ سے معاہدے کی تازہ صورتحال بتادی
نیویارک، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال، بالخصوص خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں جانب سے نیو یارک میں جاری جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے جائزہ اجلاس سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی۔
عباس عراقچی نے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی عمل کی تازہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی بداعتمادی پر مبنی پالیسی، خصوصاً سفارتی وعدوں کی بار بار خلاف ورزی، ایران کے خلاف فوجی جارحیت، متضاد مؤقف اور حد سے زیادہ مطالبات، پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoعید سے قبل بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے؛ اس مقدس موقع پر ملازمین کو مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے: رفیق راتھر
دنیا1 week agoایران نے آبنائے ہرمز سے مزید جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: پولیس افسر نے مبینہ طور پر بیوی کو قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی ماری
دنیا4 days agoصدارت کے بعد اسرائیل کا وزیراعظم بن سکتا ہوں: ٹرمپ کی گفتگو وائرل
ہندوستان6 days agoملک میں بڑا معاشی بحران آنے والا ہے، عام آدمی پر پڑے گا اثر: راہل گاندھی
ہندوستان1 week agoفوجی سربراہ کا پاکستان کو واضح پیغام ، دہشت گردی کی حمایت کرے گا تو مٹا دیا جائے گا نقشہ سے
ہندوستان6 days agoپٹرول اور ڈیژل کی قیمت چار دن میں دوسری بار بڑھانے پر جواب دیں مودی:کھرگے
دنیا3 days agoٹرمپ کا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان، ہرمز سے متعلق بھی سخت مؤقف
ہندوستان1 week agoہندوستان نے سندھ طاس معاہدے پر نام نہاد ثالثی عدالت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا
دنیا3 days agoکیوبا نے مارکو روبیو پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگا دیا
دنیا4 days agoحملہ ہوا تو جنگ خطے سے باہر تک پھیل جائے گی، پاسدارانِ انقلاب کا واضح پیغام
دنیا3 days agoٹرمپ کی ایرانی تہذیب مٹنے کی دھمکی سے یورپ اور ایشیا کو نیوکلیئر حملے کے خطرات پیدا ہوگئے تھے: رپورٹ



































































































