ہندوستان
میرٹھ کی دلت طالبہ للیتا گوتم قتل کیس پر کھرگے کا بی جے پی پر شدید حملہ، کہا، حکومت دبا رہی ہے انصاف کی آواز
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے میرٹھ کی دلت طالبہ للیتا گوتم کے قتل پر اتر پردیش کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت پرتندوتیزحملہ کیا ہے انہوں نے الزام لگایا کہ یہ واقعہ بی جے پی کی ”ڈبل انجن حکومت“ کا خاتون اور دلت مخالف چہرہ اجاگر کرتا ہے اور متاثرہ کنبہ انصاف کے لیئے فریادکر رہا ہے لیکن حکومت ان کی آواز سننے کے بجائے انصاف کا مطالبہ کرنے والوں کو ہی دبانے میں لگی ہے۔
مسٹر کھرگے نے سوشل میڈیا ’ایکس‘ پر جمعہ کو لکھا، ”میرٹھ کی دلت طالبہ للیتا گوتم کے بے رحمانہ قتل نے بی جے پی کی ڈبل انجن حکومت کا خاتون اور دلت مخالف چہرہ ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ متاثرہ کنبہ انصاف کے لیئے فریاد کر رہا ہے لیکن حکومت اس کی آواز سننے کے بجائے انصاف کا مطالبہ کرنے والوں کو ہی کچلنے میں لگی ہے۔“
کانگریس صدر نے کہا کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2013 سے 2024 کے درمیان خواتین کے خلاف درج جرائم میں تقریباً 42.6 فیصد اور درج فہرست ذاتوں کے خلاف جرائم میں تقریباً 41 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں ہر دو گھنٹے تین منٹ میں ایک درج فہرست ذات کی خاتون کے ساتھ عصمت دری کا معاملہ درج ہوتا ہے، یعنی روزانہ اوسطاً 12 دلت خواتین کے ساتھ عصمت دری کے معاملے سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں، بلکہ خواتین، دلتوں اور پسماندہ طبقات کی بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کا ثبوت ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جب کانگریس لیڈر متاثرہ کنبے سے ملنے اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے پہنچتے ہیں، تو انہیں گرفتار کیا جاتا ہے، نظر بند کیا جاتا ہے اور پولیس فورس کا استعمال کر کے روکا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ یوگی حکومت آخر کس سچ کو چھپانا چاہتی ہے اور اپوزیشن لیڈروں کو متاثرہ کنبے سے ملنے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ ہاتھرس اور اناؤ کے واقعات میں بھی ملک نے دیکھا تھا کہ بی جے پی حکومت نے کس طرح متاثرین کی آواز دبانے اور اقتدار سے جڑے لوگوں کو بچانے کی کوشش کی تھی۔ ان کے مطابق اب میرٹھ میں بھی وہی رویہ دہرایا جا رہا ہے۔ مسٹر کھرگے نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ کے کنبے کو جلد انصاف ملے، قصورواروں کو سخت ترین سزا دی جائے اور متاثرہ کنبے اور انصاف کا مطالبہ کرنے والوں کے خلاف پولیس کارروائی فوری طور پر بند کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں، پسماندہ اور کمزور طبقات کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت سے لوگوں میں ہے مایوسی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ اتراکھنڈ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کے تئیں لوگوں میں مایوسی اور ناراضگی ہے اور عوام ریاست میں تبدیلی چاہتے ہیں کانگریس نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جمعہ کو پارٹی کے جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے گزشتہ دو دنوں میں اتراکھنڈ کانگریس کے مختلف لیڈروں سے ملاقات کر کے کئی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران سیاسی امور کی کمیٹی، ضلع کانگریس صدور، ارکان اسمبلی اور سابق ارکان اسمبلی کے ساتھ الگ الگ میٹنگیں کی گئی ہیں۔
مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ پارٹی کے تمام لیڈر آئندہ اسمبلی انتخابات پوری مضبوطی کے ساتھ لڑنے کے لیے تیار ہیں اور کانگریس کو اپنی جیت کا پورا یقین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ کے لوگ بی جے پی حکومت سے مایوس اور ناراض ہیں۔ عوام ریاست میں حکومت بدلنا چاہتے ہیں اور کانگریس لوگوں کے ساتھ مل کر ریاست میں تبدیلی لانے کے لیے پرعزم ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور البانیز نے ہند-آسٹریلیا کھیل تعاون روڈ میپ جاری کیا
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی اور آسٹریلیا کے وزیراعظم اینتھنی البانیز نے جمعہ کو میلبورن کرکٹ گراؤنڈ کا دورہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں میں تعاون بڑھانے کے لیے کھیل تعاون روڈ میپ جاری کیا اس موقع پر وکٹوریہ کی پریمیئر جینسٹیلا ایلن بھی موجود تھیں تینوں رہنماؤں نے میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں ہندوستان-آسٹریلیا کھیل تعلقات کے جشن کے موقع پر ایک تقریب میں حصہ لیا۔ اس تقریب میں اسٹیو وا اور لیسا اسٹالیکر سمیت آسٹریلیا کے کئی معروف کھیلاڑی موجود تھے۔ اس دورے نے ہندوستان-آسٹریلیا جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے اہم ستونوں کے طور پر کھیلوں، ثقافتی تبادلوں اور عوامی رابطوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا۔
تقریب کے دوران دونوں وزرائے اعظم نے مشترکہ طور پر ہندوستان-آسٹریلیا کھیل تعاون روڈ میپ جاری کیا، جو کھیل کی تربیت اور صلاحیت سازی، اسپورٹس سائنس اور ٹیکنالوجی اور کھیل کی صنعت و سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دے گا۔ اس کا مقصد ہندوستان-آسٹریلیا یوتھ اسپورٹس فیسٹیول کا انعقاد کرنا بھی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے کھیلوں کے شعبے میں ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا خیرمقدم کیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے لوگوں کو متحد کرنے میں کھیلوں کے منفرد کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ روڈ میپ دونوں ممالک کو اپنی کھیل شراکت داری میں تنوع لانے کے قابل بنائے گا۔ انہوں نے ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے پر آسٹریلیا کو مبارکباد دی۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان اور آسٹریلیا بین الاقوامی کھیلوں کی ایک اہم دہائی میں ساتھ ساتھ داخل ہو رہے ہیں، جس میں ہندوستان 2030 میں دولت مشترکہ کھیلوں کی ميزبانی کرے گا اور آسٹریلیا 2032 میں برسبین اولمپکس کی ميزبانی کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پیش رفت کھیل اور اس سے متعلقہ صنعتوں میں دونوں ممالک کے درمیان زیادہ قریبی دوطرفہ تعاون کے قدرتی مواقع فراہم کرتی ہے۔ دورے کے دوران رہنماؤں نے کبڈی، آسٹریلین فٹ بال اور کرکٹ کے نمائشی میچوں میں حصہ لینے والے نوجوان کھلاڑیوں سے بات چیت کی۔
اس دورے نے ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان متحرک کھیل تعلقات اور عوامی رابطوں کو مؤثر طریقے سے ظاہر کیا۔
یو این آئی۔ایم جے
ہندوستان
چین کے لیے مواقع کے سارے دQروازے کھول کر قومی مفادات سے سمجھوتہ کر رہی ہے حکومت: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ گلوان تصادم کے بعد سے حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ہندستان کا چین پر اقتصادی انحصار مسلسل بڑھا ہے اور اب چینی کمپنیوں کو سرکاری پروجیکٹوں میں بھی مواقع دیے جا رہے ہیں مسٹر کھرگے نے جمعرات کو سوشل میڈیا ’ایکس‘ پر لکھا کہ گلوان میں 20 ہندستانی فوجیوں کی عظیم ترین قربانی کے چھ برس بعد بھی حکومت چین کے تئیں نرم رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ حکومت کے اس لچکدار رویے کی وجہ سے تجارت، دوا سازی کی صنعت، الیکٹرک گاڑیوں، شمسی توانائی اور دیگر تمام اسٹریٹجک شعبوں میں چین پر ملک کا انحصار بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت چین کے لیے مواقع کے سارے دروازے کھول رہی ہے اور ملک کے مفادات سے سمجھوتہ کر کے چینی کمپنیوں کو ملک میں کاروبار کرنے کے لیے فروغ دے رہی ہے۔
کانگریس صدر نے دعویٰ کیا کہ 26-2025 تک چین سے ہندستان کی درآمدات میں 101.81 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے تجارتی خسارہ 112.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اینٹی بائیوٹک، اے پی آئی، الیکٹرک گاڑیوں کے پرزوں، لیتھیم آئن بیٹریوں، میگنیٹ اور شمسی توانائی کے آلات کے لیے ضروری سلکان ویفر کے معاملے میں بھی ہندستان کافی حد تک چین پر منحصر ہے۔ مسٹر کھرگے نے یہ بھی الزام لگایا کہ مودی حکومت چین کے لیے مواقع کے سارے دروازے کھول کر قومی مفادات سے سمجھوتہ کر رہی ہے اور چینی کمپنیوں کو سرکاری بجلی پروجیکٹوں میں شرکت کا موقع دے کر ملک کے اہم شعبوں میں ان کی موجودگی بڑھانے کا راستہ کھول رہی ہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اروناچل پردیش اور لداخ میں چین کی سرگرمیاں اور قومی سلامتی سے جڑے امور بھی شدید تشویش کا موضوع ہیں۔
کانگریس صدر نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی سرگرمیوں میں چین کے کردار کو فوج کے ڈپٹی چیف نے بھی تسلیم کیا تھا اور یہ سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ گلوان کے بعد سے مودی حکومت نے چین کو ہندستان کے اہم صنعتی شعبوں میں پکڑ مضبوط کرنے کا موقع دیا ہے اور اب اس کی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع کھول کر ملک کے قومی مفادات سے سمجھوتہ کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے
دنیا1 week agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
دنیا1 week agoامریکہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل سفارتخانہ تعمیر کرنے کیلئے معاہدے پر دستخط کردیے
ہندوستان1 week agoموہن یادو پر لگے گھوٹالوں کے الزامات پر بی جے پی کی خاموشی تشویشناک: کانگریس
دنیا4 days agoسپریم لیڈر کے قاتل کو سزائے موت کی طرف لے جائیں گے: سربراہ ایرانی عدلیہ
ہندوستان1 week agoکھرگے نے شمال مشرق میں تباہ کن سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ کی صورتحال پر دکھ کا اظہار کیا
ہندوستان7 days agoسندھ طاس معاہدہ: پاکستان کو ہندوستان کا کرارا جواب، دہشت گردی کی حمایت بند کرنی ہوگی
دنیا1 week agoوینیزویلا زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 1943 ہوئی، 10500 سے زیادہ زخمی
دنیا1 week agoآیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ سے قبل ایران کا امریکا اور اسرائیل کو انتباہ
جموں و کشمیر1 week agoریاست کا درجہ بحال ہونے تک عمر کابینہ میں شامل نہیں ہوگی کانگریس: طارق کرّا
ہندوستان4 days agoحکومت کی ایم ایس ایم ای مخالف پالیسیوں سے راجستھان کے بس ٹرک باڈی بلڈرز پر بحران۔ راہل
دنیا1 week agoایران کی ’آئی اے ای اے‘ کو جوہری تنصیبات تک رسائی دینے کی تردید
تازہ ترین6 days ago’سیو امریکہ ایکٹ‘ پاس ہو گیا تو 100 سال تک ریپبلکنز ہار نہیں سکیں گے: ٹرمپ







































































































