دنیا
امریکہ نے ایران پر فضائی حملوں کا دائرہ کار بڑھادیا
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے ایران پر فضائی حملوں کا دائرہ کار پہلے کی نسبت کافی حد تک بڑھا دیا ہے، ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی تازہ حملوں کی لہر نے جنوبی اور مغربی ایران کے ایک وسیع حصے کو اپنی زد میں لے لیا ہے۔
میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان حملوں میں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں قشم، سرک، بندرعباس، جسک، بوشہر، خندب، مہشہر، آبادان، خرمشہر سمیت کئی علاقے شامل ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے امریکی تازہ حملوں میں ایک سیکیورٹی گارڈ کی ہلاکت اور 4 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے تنازع پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی ہے، جب کہ تہران کا کہنا ہے کہ تازہ حملوں نے گزشتہ چند مہینوں کی تمام سفارتی کوششوں کو ’’بے معنی‘‘ بنا دیا ہے۔ امریکی فوج نے اتوار کو رات 9 بجے (جی ایم ٹی) ایران پر مزید حملے شروع کیے۔ سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایکس پر کہا کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے تاکہ وہ آبنائے ہرمز سے آزادانہ گزرنے والے شہری بحری جہازوں اور تجارتی جہازوں پر حملے نہ کر سکے۔
سینٹ کام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی افواج کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے ان حملوں کا حکم دیا، ٹرمپ نے ہفتے کے آخر میں ایران پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’’ہم انھیں بری طرح مار رہے ہیں۔‘‘ اتوار کے روز اس سے قبل تہران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور کہا کہ اس نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز بند کر دی ہے۔
اس نئی کشیدگی نے گزشتہ ماہ طے پانے والے امریکہ اور ایران کے عبوری جنگ بندی معاہدے کے مستقبل پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تاہم سینٹکام کے مطابق کچھ جہاز اب بھی اس آبی گزرگاہ سے گزر رہے تھے۔ دی گارڈین نے رپورٹ کیا کہ امریکا کے تازہ حملوں کی رفتار اور دائرہ کار پہلے سے کہیں زیادہ وسیع تھا۔ سینٹ کام کے مطابق صرف ہفتہ کی رات تقریباً 140 حملے کیے گئے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ اس نے آبنائے ہرمز بند کر دی ہے، جب کہ علاقے میں کنٹرول کی کشمکش جاری ہے۔ دوسری طرف اتوار کو ایران کے حملے قطر تک بھی پھیل گئے، جو جنگ بندی مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا تھا اور اپریل کے بعد پہلی بار حملوں کی زد میں آیا۔ متحدہ عرب امارات، جسے مئی کے اوائل کے بعد نشانہ نہیں بنایا گیا تھا، نے بتایا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو روکا۔
سینٹکام نے ہفتہ کو بتایا کہ امریکی افواج نے اس ہفتے تین راتوں کے دوران ایران کے 300 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جب کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس کے جواب میں اس نے اردن، کویت، عمان اور قطر میں اہداف پر حملے کیے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی اڈوں پر کارروائیاں حقِ دفاع میں کی گئیں: اسماعیل بقائی
تہران، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکی اڈوں پر کارروائیاں حق دفاع میں کی گئیں۔
پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا ہے کہ جب تک دوسرا فریق اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کرتا، ایران بھی ایم او یو پر عملدرآمد نہیں کرے گا۔
اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران کو دفاع پر موردِ الزام ٹھہرانا غیر ذمے دارانہ ہے۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سےمتعلق عمان کے ساتھ مشترکہ طریقۂ کار طے کرنے کی کوشش کر رہا ہے، عمان پر امریکہ کے دباؤ نے ان کوششوں میں رکاوٹ ڈالی ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت بحران سے گزر رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ مفاہمتی یادداشت کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، جس نے آبنائے ہرمز پر ایرانی وعدے سے متعلق طے 1 ماہ کی مہلت بھی مکمل ہونے نہیں دی۔
ان کا کہنا ہے کہ ثالثین امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں اب بھی جاری رکھے ہوئے ہیں، بارہا کہہ چکے علاقائی ممالک ایران کے خلاف اپنی زمین استعمال نہ ہونے دیں، ایران آبنائے ہرمز میں تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایرانی اخبار نے ’انتقامی فہرست‘ جاری کر دی، ٹرمپ، اسٹارمر، میکرون، میلونی سمیت متعدد عالمی رہنما شامل
ہران، ایران کے ایک اخبار ’ہمشہری‘ نے آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد مبینہ طور پر ’انتقامی اہداف‘ کی ایک فہرست شائع کی ہے جس میں کئی عالمی رہنماؤں کی تصاویر شامل ہیں۔
اخبار ’ہمشہری‘ کی جانب سے شائع کی گئی فہرست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی تصاویر کو ٹارگٹ کے نشان کے ساتھ دکھایا گیا ہے جبکہ مزید 11 عالمی رہنماؤں کو نارنجی رنگ کے قیدی لباس میں پیش کیا گیا ہے۔
اس فہرست میں برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سمیت دیگر رہنما بھی شامل ہیں۔
یہ اشاعت ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان کے بعد سامنے آئی ہے جنہوں نے اپنے والد آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد پہلی بار عوامی بیان دیا۔انہوں نے کہا کہ انتقام ہماری قوم کی خواہش ہے اور اسے لازمی طور پر پورا کیا جائے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ جن مجرموں کے نام ایک فہرست میں شامل ہیں وہ پُرامن موت کی خواہش اپنے ساتھ قبروں میں لے جائیں گے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای جنگ سے پہلے منظرِ عام پر نہیں آئے تھے اور اطلاعات تھیں کہ وہ اسی حملے میں زخمی ہوئے تھے جس میں ان کے والد شہید ہوئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق ہمشہری اخبار نے یہ بیان آن لائن فہرست کے ساتھ شائع کیا ہے، تاہم یہ فہرست اخبار کے ایڈیشن میں شامل نہیں کی گئی۔
واضح رہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے اس فہرست کی باضابطہ حمایت کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کے منصوبے بنائے تھے۔
امریکی حکام کے مطابق اسرائیل نے امریکہ کو صدر ٹرمپ کے خلاف ایک مخصوص سازش سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق ممکنہ خطرے کے باعث ٹرمپ نے ترکی میں ہونے والی نیٹو سربراہ کانفرنس سے واپسی پر طیارہ تبدیل کیا، ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ میں ایران کی ہر فہرست میں شامل ہوں۔
ادھر خطے میں کشیدگی برقرار ہے، گزشتہ کے روز امریکا نے تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں تقریباً 140 اہداف کو نشانہ بنایا۔
ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ جہازوں نے مقررہ راستے سے متعلق انتباہ کو نظر انداز کیا۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو امریکی مداخلت کے خاتمے تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
آبنائے ہرمز سے معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل گزرتی ہے۔
ایرانی حکام نے امریکی حملوں کے بعد بحرین، کویت، قطر اور عمان سمیت کئی خلیجی ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، قطر نے حملوں کو خطرناک کشیدگی قرار دیا جبکہ عمان نے بھی ان کی مذمت کی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یک طرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا ہے، وعدے پورے کریں یا قیمت ادا کریں، حقیقت دروازے پر دستک دے رہی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اب امریکہ آبنائےہرمز کا محافظ بنے گا
واشنگٹن، امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اب امریکا آبنائےہرمز کا محافظ بنے گا۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے ٹیلیفونک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایران کے فوجی اثاثےتباہ کردیئے اور اب ایران کے ہر ڈرون حملے کا سخت جواب دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے ایران معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور صدر ٹرمپ نے کہا کہ اب امریکہ آبنائےہرمز کا محافظ بنےگا۔
صدر ٹرمپ چاہتے ہیں خدمت کے بدلے متعلقہ ملکوں کو بھاری معاوضہ ادا کرنا ہو گا ساتھ ہی ٹرمپ نے واضح کیا کہ ماضی کی طرح مفت میں حفاظت نہیں کی جائے گی۔
صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران میں اب تک 52ہزار مظاہرین مارے جا چکے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoسپریم لیڈر کے قاتل کو سزائے موت کی طرف لے جائیں گے: سربراہ ایرانی عدلیہ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا نفاذ مشکل لیکن ممکن: قالیباف
ہندوستان6 days agoرام مندر چڑھاوا تنازع گرما گیا، تیواری بولے– ’قصورواروإ کو بچانے میں مصروف بی جے پی حکومت‘
ہندوستان1 week agoحکومت کی ایم ایس ایم ای مخالف پالیسیوں سے راجستھان کے بس ٹرک باڈی بلڈرز پر بحران۔ راہل
دنیا7 days agoایران کا انتقاماً یروشلم کو آزادی دلانے کا اعلان
دنیا6 days agoٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی
دنیا6 days agoایران کے امریکی اڈوں پر میزائل حملے، امریکہ پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
دنیا1 week agoنیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین پر روس کا بدترین فضائی حملہ، 11 افراد ہلاک
دنیا5 days agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
دنیا6 days agoامریکہ کا ایران پر حملہ، اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری
دنیا1 week agoشہید رہبرِ اعلیٰ نے سکھا دیا کہ ایران کا عظیم سرمایہ عوام و اتحاد ہے: ایرانی صدر
دنیا1 week agoاسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کی ایرانی قیادت کو دھمکی



































































































