تازہ ترین
پدم شری ایوارڈ کو لے کر جاری تنازع پر پاکستانی نزاد گلوکار عدنان سامی کا بڑا بیان ، کہی یہ بات

عدنان سامی نے کہا کہ تنقید کرنے والے کچھ چھوٹے موٹے سیاستداں ہیں ۔ وہ کسی سیاسی ایجنڈہ کے تحت یہ کررہے ہیں اور اس کا مجھ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ میں سیاسی لیڈر نہیں ہوں ، میں گلوکار ہوں ۔
پاکستانی نزاد گلوکار عدنان سامی کو پدم شری ایوارڈ دئے جانے کا اعلان ہونے کے بعد سے شروع ہوئے تنازع پر ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک فنکار ہیں اور ان کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اپنے ذاتی مفاد کی وجہ سے ان کا نام تنازع میں گھسیٹ رہے ہیں ۔ انہوں نے اس تنازع کو لے کر سوال کیا کہ ان کے والد کا ان کے اس ایوارڈ سے کیا لینا دینا ہے ۔
دراصل عدنان سامی کے والد پاکستانی فضائیہ میں پائلٹ تھے اور اس لئے ان کے نام پر تنازع ہورہا ہے ۔ لیکن سامی پورے تنازع کو غیر ضروری مانتے ہیں ۔ عدنان سامی کو 2016 میں ہندوستان کی شہریت دی گئی تھی ۔ انہوں نے اس باوقار ایوارڈ کیلئے منتخب کئے جانے پر حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا ہے ۔
عدنان سامی نے کہا کہ تنقید کرنے والے کچھ چھوٹے موٹے سیاستداں ہیں ۔ وہ کسی سیاسی ایجنڈہ کے تحت یہ کررہے ہیں اور اس کا مجھ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ میں سیاسی لیڈر نہیں ہوں ، میں گلوکار ہوں ۔
انہوں نے کہا کہ میرے والد معزز جنگی پائلٹ تھے اور ایک پیشہ ور فوجی تھے ۔ انہوں نے اپنے ملک کیلئے اپنا فرض ادا کیا ، جس کیلئے میں ان کا احترام کرتا ہوں ، وہ ان کی زندگی تھی اور اس کیلئے انہیں اعزاز سے نوازا گیا ۔ میں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا اور نہ ہی اس کا کریڈٹ لیا ۔ ٹھیک اسی طرح سے میں جو کرتا ہوں اس کا کریڈٹ انہیں نہیں دیا جاسکتا ۔ میرے ایوارڈ کا میرے والد سے کیا لینا دینا ؟ یہ غیر ضروری ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اب میں ہندوستانی شہری ہوں ، اس ایوارڈ کو پانے کا پورا حقدار ہوں ، وہ میرے پاکستانی پس منظر کو سامنے لا رہے ہیں ، یہ مضحکہ خیز اور چونکانے والا ہے ۔ وہ کسی بھی چیز کو اٹھا رہے ہیں ، کیونکہ ان کے پاس کہنے کیلئے اور کچھ نہیں ہے ۔ حالانکہ انہوں نے کہا کہ الگ الگ سیاسی پارٹیوں کے لوگوں سے ان کے اچھے تعلقات ہیں ۔(نیوز 18 اردو)
جموں و کشمیر
سوپور میں طلبہ احتجاج کے پرتشدد ہونے پر پولیس نے چھ افراد کے خلاف پی ایس اے کے تحت کارروائی کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے سوپور سب ضلع میں حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران مبینہ طور پر امن و امان میں خلل ڈالنے اور توڑ پھوڑ میں ملوث ہونے کے الزام میں پولیس نے جمعہ کو چھ افراد کے خلاف سخت پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت مقدمہ درج کیا۔
پی ایس اے کے تحت بعض معاملات میں بغیر باضابطہ الزام یا مقدمہ کے دو سال تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔
پولیس کے مطابق جن افراد کے خلاف پی ایس اے کے تحت کارروائی کی گئی ان میں سیلو کے عمر اکبر حاجم، شالپورہ کے سلمان احمد شالا، پنزی پورہ ترزو کے الطاف احمد شیخ، نصیر آباد کے مبشر احمد گلکار، آرام پورہ کے مزمل مشتاق چنگا اور چنکی پورہ کے مجید فردوس ڈار شامل ہیں۔ ان تمام افراد کو جموں خطے کی ضلع جیل بھدرواہ میں رکھا گیا ہے۔
ان افراد کو بارہمولہ کے ضلع مجسٹریٹ سے باضابطہ حراستی وارنٹ حاصل کرنے کے بعد پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران بدامنی پھیلانے، توڑ پھوڑ کرنے اور امن خراب کرنے کی کوششوں میں سرگرم تھے۔ پولیس کے مطابق “ان کی سرگرمیاں عوامی نظم و نسق اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تھیں”۔ مزید یہ کہ اس واقعے میں ملوث دیگر افراد کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے اور ان کے خلاف بھی اسی طرح کی قانونی کارروائی، بشمول پی ایس اے کے تحت حراست، عمل میں لائی جا رہی ہے۔
گزشتہ ہفتے سوپور میں ایک خاتون طالبہ کی جانب سے ایک سینئر لیکچرر پر ہراسانی کے الزامات کے بعد شدید طلبہ احتجاج ہوا تھا۔ جموں و کشمیر حکومت نے اس سینئر لیکچرر کو معطل کر دیا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ میں ملوث کئی افراد کو گرفتار بھی کیا۔
سوپور پولیس نے واضح کیا کہ ضلع میں امن و استحکام کو متاثر کرنے والی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ پولیس نے سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ حساس حالات کا فائدہ اٹھانے یا عوامی نظم و نسق میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش پر فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
عوام، خاص طور پر نوجوانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایسی غیر قانونی سرگرمیوں سے دور رہیں اور شرپسند عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ والدین اور سماجی رہنماؤں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور انہیں مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
نشہ مکت مہم: 12 دنوں میں کئی منشیات اسمگلر گرفتار، کروڑوں مالیت کی منشیات ضبط: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کو کہا کہ “نشہ مکت ابھیان” کے تحت نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور صرف 12 دنوں میں کئی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں جبکہ کروڑوں روپے مالیت کی منشیات ضبط کی گئی ہیں۔
ریاسی ضلع میں “ڈرگ فری جموں و کشمیر مہم” کا آغاز کرنے کے بعد ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے منشیات کے استعمال کے خلاف اجتماعی سماجی ردعمل کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ یہ لعنت معاشرے کی بنیادوں کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔
انہوں نے کمیونٹیز، اداروں اور افراد سے اپیل کی کہ وہ منشیات کے خلاف اس جنگ میں متحد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 دنوں سے پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں منشیات کے خلاف ایک اجتماعی تحریک ابھری ہے اور لوگ اس خطے کو منشیات سے پاک بنانے کے عزم پر قائم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 11 سے 22 اپریل کے درمیان جموں ڈویژن میں بڑی تعداد میں مقدمات درج کیے گئے اور کئی منشیات اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا۔ تقریباً 3 کروڑ روپے مالیت کی منشیات ضبط کی گئی، جبکہ تقریباً 1 کروڑ روپے کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں بھی ضبط کی گئیں۔
کارروائیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منشیات اسمگلروں کی جائیدادیں مسمار کی گئی ہیں، 187 ڈرائیونگ لائسنس اور چار گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی ہیں، جبکہ 48 منشیات فروشوں کے خلاف مالی تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔
کیمسٹ دکانوں کا معائنہ کیا گیا اور 15 لائسنس منسوخ کیے گئے۔ منشیات کے عادی افراد کو بحالی مراکز میں بھیجا گیا اور انہیں مشاورت فراہم کی گئی۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے نکالے گئے انتخابی افسران کی عرضیاں خارج کر دیں
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے جمعہ کو ان افراد کی رٹ پٹیشنز پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا جنہیں ووٹر لسٹ کی ‘خصوصی تفصیلی نظر ثانی’ (ایس آئی آر) کے بعد مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے باہر کر دیا گیا تھا، جبکہ وہ موجودہ اسمبلی انتخابات میں انتخابی افسران کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئمالیہ باگچی کی بنچ نے عرضی گزاروں کو ان اپیلی ٹریبونلز سے رجوع کرنے کی ہدایت دی جو ووٹر لسٹ سے نام نکالے جانے کے چیلنجوں کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دیے گئے ہیں۔ عرضی گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد نے عدالت کو بتایا کہ کئی افسران کے نام کسی وجہ کے بغیر من مانے طریقے سے ووٹر لسٹ سے کاٹ دیے گئے ہیں۔
جسٹس باگچی نے تسلیم کیا کہ جن لوگوں کی اپیلیں ابھی زیر التوا ہیں، وہ شاید مغربی بنگال کے موجودہ اسمبلی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے، لیکن وہ اپنی اپیل جاری رکھ سکتے ہیں تاکہ مستقبل کے لیے ووٹر لسٹ میں ان کا نام بحال کیا جا سکے۔
عدالت نے بتایا کہ موجودہ وقت میں تقریباً 19 اپیلی ٹریبونلز کام کر رہے ہیں اور وہ عدالتی افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کر رہے ہیں۔
اس سے پہلے 13 اپریل کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ مغربی بنگال کے وہ ووٹرز جن کے نام انتخابات سے کم از کم دو دن پہلے اپیلی ٹریبونلز کے ذریعے منظور کر لیے جاتے ہیں، وہ اسمبلی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حقدار ہوں گے۔ قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال میں انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ جمعرات کو مکمل ہو گئی ہے، جبکہ دوسرے مرحلے کی پولنگ 29 اپریل کو ہوگی۔
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا1 week agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا4 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
دنیا1 week agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا1 week agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
دنیا1 week agoامریکی سینیٹ نے ایران پر مزید حملوں کی اجازت کی قرارداد مسترد کردی
دنیا1 week agoاسرائیل کا ایران و لبنان میں جنگ جاری رکھنے کا اعلان، فوج مکمل تیاری کے ساتھ ہائی الرٹ پر : اہداف تیار
دنیا1 week ago’’اگر میں امریکہ کا صدر نہ ہوتا تو دنیا ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی‘‘
دنیا3 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر3 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند










































































































