تازہ ترین
ترال سے اُمید کی کرن نظر آئی:شکار گاہ ترال کے جنگلات میں کشمیر ہانگل کی کثیر تعداد موجود

ماہرین کے ساتھ ساتھ عوامی حلقوں کا اظہار اطمنان،شکار پر سخت پابندی کا مطالبہ
سرینگر:جہاں ایک طرف ماہرین کو کشمیر میں کشمیری ہانگل کی تعداد میں پائی جا رہی کمی کے سبب سخت تشویش پایا جا رہا ہے ویہی دوسری جانب مشہور صحت افزا مقام شکار گاہ ترال میں ہانگل کی کثیر تعداد کو مقامی لوگوں نے دیکھا ہے جو لوگوں کے میوہ باغات میں غذا کی تلاش میں آتے ہیں۔علاقے میں ہانگل کی موجودگی پر محکمہ وائلڈ لائف اور ماہرین نے اطمنان کا اظہار کیا۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق وادی کشمیرمیں اگر چہ گزشتہ کئی سالوں سے ہانگل کی تعداد کم واقع ہورہی ہے جس پر ماہرین میں تشویش پائی جاری تھی۔ تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ جنوبی کشمیر کے سب ضلع ترال سے تین کلو میٹردور وائلڈ لائف کے تحت آنے والے جنگلات”شکار گاہ“ میں حال ہی میں کشمیری ہانگل کی ایک کثیر تعداد دکھائی دے رہی ہے جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ہانگل کی تعداد میں اب آہستہ آہستہ اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
مزکورہ صحت افزا مقام شکار گاہ کے کچھ لوگوں ہمارے نمائندے سید اعجاز کو بتایا کہ خوراک کی تلاش میں یہ جانور نہ صرف یہاں کے جنگلات میں گھومتے ہیں بلکہ یہاں شکاگاہ،لری بل،کوئل،کے ساتھ ساتھ نذدیکی بستیوں کے میوہ باغات میں داخل ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا یہ جانور میوہ باغات کے ساتھ ان کی سبزی کو بھی شدید نقصان پہنچارہے ہیں۔
شکار گاہ ترال قصبہ ترال سے صرف3کلو میٹر کی دوری پر واقعہ ہے قابل ذکر بات یہ ہے وادی کشمیر میں اگر چہ گزشتہ 30سال کے نامسائد حالات کے دوران مختلف اواقات کے دوران جنگلات کا صفایا کیا گیا ہے تاہم شکار گاہ واحد جنگل ہے جہاں کے جنگل کو ایک فیصد کا نقصان بھی نہیں پہنچا ہے جو قابل تعریف اور اطمنان کے لائق بات ہے۔
شکار گاہ ترال میں مرکزی معاونت والی اسکیم کی مدد سے لاکھوں روپے کی مالیت سے ہانگل بریڈنگ سنٹر تعمیر کیا گیا ہے تاہم زر کثیر خرچ کرنے کے بعد بے معنی رہ گیا ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا جس انداز سے یہ سنٹر تعمیر کرنا تھا اس انداز سے نہیں کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں یہاں رکھا گیا ہرن چند سال قبل ایک رات کے بعد ہی تیندوے کا آسانی کے ساتھ شکار بن گیا ہے۔
محکمہ وائلڈ لائف کا کہنا ہے کہ سنٹر کا کام نا مکمل تھا جو اس سال مکمل ہو گی۔خیال رہے شکار گاہ ترال کے جنگلات کا سلسلہ آورہ پہلگام اور داچھی گام کے ساتھ ملتا ہے جس کے نتیجے میں اس جنگل کے بیچو بیچ غذا کی تلاشی میں آسانی اور گھنے جنگلات میں انسانی مداخلت نہ ہونے کے برابر ہے۔
ماہرین نے کشمیری ہانگل کی موجود گی پر کوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب ان بچے جانوروں کی حفاظت کرنا ہم سب کی ملی زمہداری ہے
دنیا
ایران کا کویت میں امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰ
تہران، ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے کویت میں واقع احمد الجابر امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملہ کرکے اہم امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جسے حالیہ امریکی کارروائیوں کا جواب قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون حملوں میں لڑاکا طیاروں کے ہینگرز، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اور فوجی سازوسامان کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جزیرہ قشم میں ایک رہائشی مکان پر ہونے والے امریکی حملے کے ردعمل میں کی گئی۔
ایرانی فوج کے مطابق کویت میں واقع احمد الجابر فضائی اڈہ خطے میں امریکی فضائی نگرانی اور عسکری کارروائیوں کے لیے ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے حملے کا یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ تاہم اس دعوے پر امریکہ یا کویت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
راہل گاندھی کا مودی اور امت شاہ پر نوجوانوں کی آواز دبانے کا الزام
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت جین زی کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مسٹر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا، “مودی اور امت شاہ، آپ جین زی کو خاموش نہیں کرا سکتے۔ پہلے آپ نے ان کی ہڈیاں توڑیں، اب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہے ہیں اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرا رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “آپ ہندوستان کا ماضی ہیں، اس لیے ہندوستان کے مستقبل کے ساتھ اپنے رویے میں احتیاط برتیں۔”
راہل گاندھی کے اس بیان کو ملک میں حالیہ واقعات اور نوجوانوں کے خلاف کارروائیوں کے تناظر میں حکومت پر ایک سخت سیاسی حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
مسلم ممالک اسرائیل کی سازشوں سے ہوشیار رہیں: عباس عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مصر کی ایک بندرگاہ پر دو جہازوں کو ڈرونز سے نشانہ بنانے کے واقعے کو اسرائیل کا “فالس فلیگ آپریشن” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات کا مقصد خطے کے امن کو سبوتاژ کرنا اور مسلم ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنا ہے۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ سب کو اسرائیل کی ان سازشوں اور فالس فلیگ آپریشنز سے ہوشیار رہنا چاہیے، جن کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا اور امن کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ خطرہ واضح اور مشترکہ ہے، جو پوری مسلم دنیا کے اتحاد کو لاحق ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران مصر کو اپنا دوست اور خطے میں ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے، جبکہ مصر کی سلامتی اور استحکام تہران کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا1 week agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
ہندوستان1 week agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے رامسو میں چٹان کھسکنے سے دو لوگوں کی موت، پانچ زخمی
دنیا7 days agoابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
جموں و کشمیر1 week agoسکیورٹی فورسز نے اننت ناگ میں دہشت گردوں سے منسلک دو مکانات منہدم کر دیے
دنیا1 week agoایران پر امریکی میزائل حملے میں 2 افراد شہید، 11 زخمی
ہندوستان1 week agoپیپر لیک کی ذمہ داری بھی لیں مودی: پرینکا
دنیا1 week agoایرانی مذاکرات میں سنجیدہ نہیں: مارکو روبیو
دنیا1 week agoامریکہ سعودی جوہری معاہدہ ہماری قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتا ہے: سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینٹ
دنیا1 week agoامریکی حملے جاری رہے تو نئی حکمتِ عملی اپنائیں گے: ایران کا انتباہ
جموں و کشمیر1 week agoاے اے آئی نوکری گھپلے میں چار افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل




































































































