اہم خبریں
وادی میں جشن میلادالنبی ﷺ مذہبی عقیدت و احترام سے منایاگیا

دنیا کے مختلف حصوں کی طرح وادی کشمیر میں بھی جمعہ کے روز پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیﷺکی ولادت باسعادت کی مناسبت سے منائے جانے والے جشن میلادالنبی ﷺکی تقریب سعید نہایت ہی عقیدت واحترام اور تزک و احتشام کے ساتھ منائی گئی۔اس دن کی مناسبت سے سب سے بڑی تقریب آثار شریف درگاہ حضرت بل میں منعقد ہوئی جہاں وادی کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے عاشقان رسول ﷺ نے شب خوانی کی روح پرور مجالس میں حصہ لیا۔ درگاہ حضرت بل میں عاشقان رسولﷺ موئے مقدس کے دیدار سے بھی فیضیاب ہوئے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق جشن عید میلادالنبی ﷺدنیا بھر کی طرح جمعہ کو وادی میں بھی مذہبی جوش و جذبے سے منا یا جارہا ہے۔وادی کی فضا آج ختم النبیین ﷺ کے نام اور درود و سلام سے گونجے گی۔سرور کائنات ختم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی آمد آمد ہے جبکہ شہر ودیہات میں عاشقانِ رسول نے گھروں اور گلیوں ،سڑکوں ،بازاروں کو برقی قمقموں سے سجا دیا گیا ہے جبکہ ہر طرف توصیف رسولﷺ کو اشعار کی صورت میں بیان کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔جشن عید میلادالنبی ﷺ کے سلسلے میں دارالحکومت سرینگر سمیت وادی بھرکی مساجد، عمارتوں اور شاہراہوں کوبرقی قمقموں سے سجایا گیا ہے۔اس دوران درجنوں مقامات سے جلوس برآمد ہونے کے علاوہ سینکڑوں مساجد، زیارت گاہوں، خانقاہوں اور امام بارگاہوں میں عید میلاد النبی ﷺکی مناسبت سے خصوصی مجالس کا انعقاد کیا گیا۔ نماز جمعہ کے خطبات میں علمائے کرام اور ائمہ مساجد نے پیغمبر اسلام ﷺکی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔وادی کی مساجد، زیارت گاہوں اور خانقاہوں میں رات بھر جاری رہنے والی پرنور اور پروقار شب خوانی کی تقریبات میں سردی کے باوجود لاکھوں کی تعداد میں عاشقان رسول ﷺ وعظ و تبلیغ، درود و اذکار ، ختمات المعظمات اور نعت و منقبت میں محو رہے جبکہ دن کے دوران وادی کے اطراف و اکناف میں جشن میلاد کے عظیم الشان جلوس برآمد ہوئے جن میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ جلوسوں کے راستوں پر جگہ جگہ چائے ، گرم دودھ اور روٹی کا انتظام رکھا گیا تھا۔اس دن کی مناسبت سے سب سے بڑی تقریب شہرہ آفاق جھیل ڈ ل کے کناروں پر واقع آثار شریف درگاہ حضرت بل میں منعقد ہوئی جہاں وادی کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے عاشقان رسول ﷺ نے شب خوانی کی روح پرور مجالس میں حصہ لیا۔ درگاہ حضرت بل میں عاشقان رسول ﷺ موئے مقدس کے دیدار سے بھی فیضیاب ہوئے۔ درگاہ حضرت بل میں نماز جمعہ کے اجتماع میں ہزاروں کی تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی اور موئے پاک کا دیدار کیا۔ شب خوانی کی مجالس آثار شریف شہری کلاش پورہ، پنجورہ، صورہ، حضرت مخدوم صاحب اور دوسری عبادگاہوں میں بھی منعقد ہوئیں۔مرکزی جامع مسجد سرینگر میں بھی لوگوں کی ایک خاصی تعداد نے یہاں منعقدہ روح پرو ر مجلس میں شرکت کی جبکہ خطہ لداخ کے لیہہ، کرگل اور دراس میں بھی پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی ولادت کے ضمن میں منائے جانے والے جشن میلادالنبی کے سلسلے میں خصوصی مجالس کا انعقاد کیا گیا۔ وادی کشمیر جہاں جشن عید میلاد النبیﷺ کی تقریبات کئی روز تک جاری رہیں گی، شہر کے تقریباً تمام تجارتی مراکز، مساجد، زیارت گاہوں اور اور دیگر عبادت گاہوں کو برقی قمقموں سے سجایا گیا ہے۔ادھر زائرین کی سہولیات کے لئے ٹرانسپورٹ سے لیکر ہر طرح کی سہولیات میسر رکھی گئی تھیں ۔محکمہ صحت کی جانب سے حضرتبل جانے والے راستوں پر جگہ جگہ طبی کیمپ منعقد کئے گئے تھے ۔سیکیورٹی کے کڑے انتظامات تھے جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے فائر اینڈ ایمر جنسی سروسزکے عملے کو بھی تیاری کی حالت میں رکھا گیا تھا ۔رضاکار وں کی جانب سے زائرین کے لئے جگہ جگہ چائے ، گرم دودھ اور روٹی کا انتظام رکھا گیا تھا۔یاد رہے کہ عےد مےلادلنبی ﷺ کی تقریب سعید کے سلسلے میں ٹریفک پولیس نے گاڑیوں کے لئے روٹ پلان پہلے ہی مرتب کیا تھا ۔ عےد مےلادلنبی ﷺ کے موقعہ پر ٹرےفک پولےس سرےنگر نے درگاہ حضرتبل مےں گاڑےوں کےلئے جن جگہوں کا انتخاب کےا گیا تھا اس کے مطابق شمالی اور وسطی کشمےر سے آنے والی گاڑےاں کشمےر ےونےورسٹی مےں انہےں سرسےد گےٹ سے داخل ہوناتھا، جنوبی کشمےر اور گاندربل سے آنے والی گاڑےوں کو نسےم باغ ےونےورسٹی کےمپس مےں بڈشاہ گےٹ سے داخل ہونا تھا جبکہ رعناواری علاقہ سے آنے والی گاڑےوں کےلئے اےن آئی ٹی مےں پارکنگ مقرر کی گئی تھی۔عےد مےلاد النبی ﷺ کے موقعہ پر ٹرےفک پولےس نے سرےنگر مےں داخل ہونے والی گاڑےوں اور زائےرےن کو حضرت بل لے جانے والی گاڑےوں کےلئے باضابطہ طورپر روٹ پلان مرتب کےا تھا تاکہ عقےد ت مندوں کے علاوہ عام شہرےوں اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ٹرےفک جام سے بچاجاسکے ۔ ٹرےفک پولےس کی طرف سے اس سلسلے مےں جو پلان مرتب کےاگےا تھا اس کے مطابق شمالی ، جنوبی او ر وسطی کشمےر سے آنے والی گاڑےوں کو مختلف روٹ الاٹ کئے گئے تھے ۔ شمالی کشمےر سے درگاہ حضرت بل آنے والے عقےد مندوں کی گاڑےوں کو شالہ ٹےنگ سے پارمپورہ ، قمر واری ، سمنٹ کدل اور نورباغ کا راستہ اختےار کرنے کی ہداےت دی گئی تھی جبکہ وہاں سے سکہ ڈافر عےد گاہ، عالی مسجد ، سازگری پورہ ، حول ، علمگری بازار سے مل اسٹاپ اور مولوی اسٹاپ لال بازار سے ہوتے ہوئے بٹہ شاہ محلہ اور کنہ تار سے ہوتے ہوئے سرسےد گےٹ کشمےر ےونےورسٹی سے داخل ہو کر گاڑےوں کو کھڑا کرنے کی ہداےت دی گئی تھی ۔ واپسی پر ان گاڑےوں کو عشائی باغ کراسنگ سے ہوتے ہوئے رعناواری ، خانےار ، نوپورہ ، ڈلگےٹ ، مولاناآزاد روڑ سے ہوتے ہوئے بڈشاہ پل ، فلائی اور بٹہ مالو مومن آباد ٹےنگہ پورہ سے گزر کر بمنہ بائی پاس ، پارمپورہ اور شالہ ٹےنگ سے آگے کا راستہ اختےار کرنے کی ہداےت دی گئی تھی ۔جنوبی کشمےر سے آنی والی گاڑےوں کو پانتہ چھوک ، اتھوجن ، بٹوارہ ، سونہ وار، رام منشی باغ سے ہوتے ہوئے گپکار گرےنڈ پےلس کاراستہ اختےارکرنے اور بعد مےں زےٹھ ےار گھاٹ ، نشاط ، فور شور روڑ سے ہوتے ہوئے حبک کراسنگ پہنچ کر نسےم باغ مےں ےونےورسٹی پارکنگ مےں گاڑےاں کھڑی کرنے کی ہداےت دی گئی تھی ۔ روٹ پلان کے مطابق زائرےن سے بھری ان گاڑےوں کو واپسی پر نسےم باغ ، حبک کراسنگ ، فورشو روڑ ، رام منشی باغ سے گزر کرسونہ وار ، بٹوارہ اور پانتھ چوک کا روٹ اختےار کرنے کی ہداےت دی گئی تھی ۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

جموں و کشمیر1 week agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا3 days agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا4 days agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
ہندوستان1 week agoپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
دنیا3 days agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
جموں و کشمیر7 days agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
ہندوستان1 week agoایندھن کی قیمتوں پر کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، ہر روز ہو رہی ہے عوام کی جیب پر ڈکیتی
دنیا3 days agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
دنیا1 week agoمکمل طور پر اسرائیلی انخلاء ایک قومی ترجیح ہے:لبنانی صدر
دنیا4 days agoامریکہ اسرائیل کے تمام جرائم میں شریک ہے: ترجمان ایرانی دفترِ خارجہ
دنیا4 days agoایرانی صدر نے ایک بار پھر پاکستان کے کردار کو سراہا































































































