اہم خبریں
کشمیر کے اراضی قوانین میں ترمیم، کیا بھارتی حکومت آبادی کا تناسب تبدیل کرنا چاہتی ہے؟

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھارتی حکومت کی طرف سے علاقے کے اراضی قوانین میں حال ہی میں کی گئی ترامیم کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
بھارت کی وزارتِ داخلہ نے پیر کو جموں و کشمیر کے اراضی قوانین میں بڑے پیمانے پر ردّوبدل کی ہے اور تمام بھارتی شہریوں کو علاقے میں اراضی خریدنے اور دیگر غیر منقولہ جائیداد کا مالک بننے کا اہل بنا دیا ہے۔
ترمیم شدہ قوانین کے تحت زرعی اراضی کو غیر زرعی مقاصد کے لیے منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس پر تعلیمی ادارے، اسپتال اور دیگر طبی سہولیات کے لیے تعمیرات کی جا سکتی ہیں۔
نئے قوانین کے مطابق زمین کے مالک کو اس بات کا اختیار ہو گا کہ وہ اپنی زرعی اراضی کسی غیر کاشت کار کو بھی فروخت کر سکتا ہے یا اس کا تبادلہ کر سکتا ہے۔ جس کے بعد زمین لینے والا شخص اس اراضی کو غیر زرعی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
بھارتی حکومت کے اس اقدام کے خلاف سرینگر اور جمّوں میں گزشتہ چار روز سے مسلسل احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ان مظاہروں کا اہتمام مختلف سیاسی جماعتیں، جو مقامی اصطلاح میں ‘مین اسٹریم پارٹیز’ کہلاتی ہیں، کر رہی ہیں۔
جمعرات کو پولیس نے کشمیر کے گرمائی صدر مقام سرینگر میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران علاقائی جماعت ‘پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی’ (پی ڈی پی) کے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے پارٹی کے صدر دفاتر کو، جہاں سے انہوں نے ایک جلوس نکالنے کی کوشش کی تھی، عارضی طور پر سیل کر دیا ہے۔
نئے اراضی قوانین کے خلاف وہ جماعتیں بھی احتجاج کر رہی ہیں جو بھارت کے حکومتی حلقوں کے قریب سمجھی جاتی ہیں۔ ان میں پروفیسر بھیم سنگھ کی ‘نیشنل پینتھرس پارٹی’ اور حال ہی میں تشکیل دی گئی ‘جمّوں و کشمیر اپنی پارٹی’ بھی شامل ہیں۔
آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی راہ ہموار کرنے کا الزام
جموں و کشمیر کی بعض سیاسی جماعتوں نے نئے زرعی قوانین کو بھارتی حکومت کی اُن کوششوں کی تازہ کڑی قرار دیا ہے جن کا مقصد “ریاستی عوام کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے اور مسلم اکثریتی ریاست کی آبادی کا تناسب کو تبدیل کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔”
استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں کے اتحاد ‘کُل جماعتی حریت کانفرنس’ (میر واعظ عمر فاروق دھڑے) نے بھارتی حکومت کے اقدامات کے خلاف ہفتے کو عام ہڑتال کی اپیل کی ہے۔
یاد رہے کہ پانچ اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے جمّوں و کشمیر کی آئینی نیم خود مختاری ختم کرتے ہوئے اسے وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں کا درجہ دیا تھا۔
اس اقدام سے قبل ریاست میں رائج قوانین کے تحت ہر قسم کی اراضی اور غیر منقولہ جائیدادوں پر صرف جموں و کشمیر کے پشتنی یا مستقل باشندوں کو ہی مالکانہ حقوق حاصل تھے اور وہی اس کی خرید و فروخت کر سکتے تھے۔
محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کا “فیصلہ کُن لڑائی” لڑنے کا اعلان
جمّوں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ نے بھارت کی وفاقی حکومت کے خلاف “فیصلہ کن لڑائی” لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جمّوں و کشمیر کے بارے میں گزشتہ 15 ماہ کے دوران اٹھائے گئے ہر “غیر جمہوری، غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام” پر مزاحمت کریں گے۔
محبوبہ مفتی نے جمعرات کو سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وہ کسی کو بھی جمّوں و کشمیر کی زمین اور وسائل کو لوٹنے کی اجازت نہیں دیں گی۔
“ہم خاموش نہیں رہیں گے بلکہ ہر ممکن کوششں کریں گے۔ تاکہ کوئی بھی ہماری زمین اور وسائل کو ہم سے چھین نہ سکے۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، چاہے ہمیں کسی بھی حد تک جانا پڑے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارت چین کے خلاف بات بھی نہیں کر رہا جس نے حال ہی میں اس کے 20 سے زائد فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا اور ان کے بقول لداخ میں زمین کے ایک وسیع حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ بھارتی حکومت اپنی طاقت صرف کشمیریوں پر آزما رہی ہے۔ انہوں نے نریندر مودی کی حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ “اگر آپ واقعی اتنے طاقت ور ہیں تو چین کے خلاف اپنی طاقت کا استعمال کریں جس نے لداخ میں زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔”
کاش ہم پہلے متحد ہوئے ہوتے: عمر عبداللہ
سابق وزیرِ اعلیٰ اور ‘نیشنل کانفرنس’ کے نائب صدر عمر عبداللہ نے سرینگر میں اپنی جماعت کے کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا “اگر جمّوں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتیں پہلے متحد ہو جاتیں تو انہیں یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا۔”
“وفاقی حکومت نے کشمیریوں کو کمزور اور تقسیم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ اب ہماری لڑائی اپنے، اپنی شناخت اور اپنے مستقبل کے دفاع کے لیے ہے۔”

عمر عبداللہ کے مطابق “نئی دہلی کی حکومت کے حملوں کے خلاف لڑائی ایک ہفتہ یا ایک مہینے کی نہیں ہے۔ بلکہ یہ طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔ اس عمل کے دوران کتنے لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، کوئی نہیں جانتا۔”
پاکستان کی جانب سے اراضی قوانین میں ترمیم مسترد
پاکستان نے بھی جمّوں و کشمیر کی اراضی کے قوانین میں ترامیم کو مسترد کیا ہے۔ بدھ کو اسلام آباد میں پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بھارتی حکومت کے اس اقدام کو “انتہائی قابلِ مذمت” اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، پاکستان اور بھارت کے مابین دو طرفہ معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ نے بھارت پر الزام لگایا کہ “5 اگست 2019 کو بھارت کی غیر قانونی اور یک طرفہ کارروائی اور اس کے بعد کے اقدامات، بالخصوص ڈومیسائل قانون اور اب زمین کی ملکیت کے قوانین میں ترامیم کا مقصد کشمیر کے آبادی کے تناسب کے ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہے۔”
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس ڈھانچے کو تبدیل کرنا “چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی اور ایک جنگی جرم ہے۔”
دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات نہ تو کشمیر کی متنازع حیثیت کو بدل سکتے ہیں اور نہ ہی کشمیری عوام کے ناقابلِ تردید خود ارادیت کے جائز حق کو دبا سکتے ہیں۔
پاکستان نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو آبادی کے تناسب کے تغیر اور کشمیر کی منفرد شناخت کو تبدیل کرنے سے روکنے کے لیے فوری طور پر کارروائی کرے۔
بی جے پی کا مؤقف
بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس الزام کو، کہ اراضی قوانین میں ترمیم کا مقصد جموں و کشمیر کے لوگوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنا اور ریاست کے آبادی کے تناسب کو بدلنا ہے، مسترد کر دیا ہے۔
بی جے پی کا کہنا ہے کہ ترمیم شدہ قوانین کسی بھی شخص کو اپنی زمین اور جائیداد بیرونی افراد کو بیچنے کے لیے مجبور نہیں کرتے۔
بی جے پی کی جمّوں و کشمیر شاخ کے صدر رویندر رینہ نے بتایا کہ کوئی بھی بیرونی شخص جمّوں و کشمیر کے عوام سے ان کی زمینیں نہیں لے گا۔ اگر کوئی اراضی بیچنا چاہتا ہے تو لوگ اسے خرید سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتیں لوگوں کو اس معاملے پر اکسانے سے باز رہیں۔
جموں و کشمیر کے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ نئے اراضی قوانین ملک کے بڑے صنعت کاروں کو جمّوں و کشمیر میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیں گے جس سے مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک کے دوسرے حصوں کی طرح جموں و کشمیر میں بھی صنعتیں قائم ہوں تاکہ یہاں بھی ترقی ہو اور بے روزگاری کا مسئلہ حل ہو۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

جموں و کشمیر1 week agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
دنیا3 days agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا4 days agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
دنیا3 days agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
ہندوستان1 week agoپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
جموں و کشمیر7 days agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
دنیا3 days agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
دنیا1 week agoمکمل طور پر اسرائیلی انخلاء ایک قومی ترجیح ہے:لبنانی صدر
دنیا7 days agoجس طرح بھی ممکن ہو آبنائے ہرمز نے کھلنا ہی ہے، امریکی وزیر خارجہ
ہندوستان1 week agoایندھن کی قیمتوں پر کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، ہر روز ہو رہی ہے عوام کی جیب پر ڈکیتی
دنیا4 days agoامریکہ اسرائیل کے تمام جرائم میں شریک ہے: ترجمان ایرانی دفترِ خارجہ
































































































