اہم خبریں
کشمیر میں خواتین ریڈیو جوکیز(ار جے)

ساحل اقبال
دنیا کے ساتھ ساتھ کشمیری خواتین بھی ہر شعبہ میں نمائیا کارکردگی کا مُظاہرا کر رہی ہیں، پھر چائے وہ کھیلوں کا میدان ہو، سیاست ہو ،سقافت ہوا،صحافت ہو یاکوئی اور بڑا ادارہ ہو، یہاں تک کی کشمیری خواتین کی اونچی پرواز انہیں ہواؤں سے بھی باتیں کرواتی ہے۔ کشمیر کی انہی باصلاحیت خواتین میں سے چند ایک ایسی خواتین ہے جو ہر گھر کی آواز بنی ہوئی ہیں، صبح سے لےکر شام تک یہ خواتین کشمیری عوام کے مُرجیائے ہوئے چہرون پر مُسکراہٹ برقرار رکھنے میں ہمیشہ آگے رہتی ہیں۔جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں کشمیر کی اپنی خواتین ریڈیو جوکیز (ار جے) کی ، جو ریڈیوں پردن کی شروعات مورنگ شو سے کرتی ہیں اور دن کا اختتام ایننگ شو سے۔ اس دوران وہ اپنے سننے والوں تک ہر چھوٹی بڈی خبر پہنچانے کے ساتھ ساتھ ان کی تفری بھی کرتی ہیں،۔ ان خواتین میں سے کوئی صبح اپنے سننے والوں کو خوش خبری دیتی ہے تو کوئی تھکاوٹ بھرے دن کا اختام اپنے منفرد انداز سے کرتی ہے، اسٹوڈیو سے لوگوں کے دلوں تک پہنچنے والی ان خواتین کو وادی کے ہرگاؤں، شہراورہر قصبہ جات میں سنا جاتا ہیں . انہی خواتین ریڈیو جوکیز میں سے ہم اج آپ کی ملاقات چند ایک سے کروانے جا رہے ہیں۔
بیگ مورنگ بیئٹز صبح 8سے 11فرحوما کے ساتھ
(ار جے فرحوما اقبال)

RJ Faruhma/facebook
سرینگر کے رنگ ریٹ علاقے سے تعلق رکھنے والی فرحوما ، 92.7 Big FM کی ریڈیو جو کی (ار جے )ہے ،
انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم سرینگر سے حاصل کی ہے، جس کے بعد انہوں نے دہلی یونیورسٹی سے صحافت میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگری حاصل کی، اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے فرحوما ڈیگری ختم کرتے ہی ، ’این ’ڈی‘ ٹی ‘’وی ‘ کے ساتھ وابستہ ہوگئی، اس کے بعد انہوں نے مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں کے ساتھ کام کیا، جن میں home shop 18، کے ساتھ ساتھ دبئی اور ملیشیا میں بطور کنٹنٹ ریٹرکام کیا۔
کشمیر واپس آنے پر ان کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے آل انڈیاریڈیو سیرینگر میں ان کا انٹرویو لیا گیا ، ریڈیو پر بات کرتے ہوئے لوگوں نے فرحوما کی آواز کو کافی زیادہ پسند کیا، اور انہیں ریڈیو براڈکاسٹر بننے کی صلاحیت دے ڈالی۔
اس پر غور کرتے ہوئے فر حوما نے ایک نجی ایف ایم سٹیشن میں عرصی ڈالی، اور اس طرح سے ان کا ریڈیو جوکی بننے کا سفر شروع ہوا اور پچھلے دو سالوں سے وہ لگاتار اپنے سننے والوں کو اپنی مٹی اور با عصر آواز سے موضوض کر رہی ہیں۔
گھر میں اگرچہ کوئی بھی افراد خانہ صحافت سے تعلق نہیں رکھتا تھا تاہم صحافت کا پیشہ چننے میں فرحوما کوگھر والوں کا پورا پورا سپورٹ حاصل ہوا ،
خبر اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا، ”میں نے اپنے کیریئر میں دنیا بھر میں کام کیا مگر کشمیر میں ریڈیو جوکی بننا ایک الگ بات ہے، اور مجھے لگتا ہے میں بہت خوش قسمت ہوں جو لوگوں نے مجھے بہت جلدی کھلے دل سے تسلیم کرلیا۔
انہوں نے کہا، میں بہت جلدی لوگوں کی نظر میں آنا شروع ہو گئیں، مجھے میرے کام پے فکر ہے،
فرحومانے بتایا،” اپنے کیریئر میں مجھے کبھی بھی اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ میں ایک میل ڈومینیٹیڈ پروفیشن میں کام کر رہی ہو ،میں جہاں بھی گئی مجھے میرے کام سے پہچانا گیا ،انہوں نے کہا پہلے پہل جب وہ صحافت کے پیشے سے وابستہ تھیں تووہ بھی لوگوں کی تنقید کا نشانہ بنیں ،
وہ کہتی ہے کہ اب کشمیر کی سوسائٹی اس چیز سے بہت آگے نکل آئی ہے اب یہاں کام کے لحاظ سے مرد اور عورت یکساں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر انہیں کبھی آن لائن تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو وہ اسے اپنی کامیابی سمجھتی ہیں، ان کے مطابق لوگ تب ہی کسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جب وہ کسی پوزیشن پہ فائز ہو اور تنقید کرنے والے وہاں نہ پہنچ پائے ہوں۔
کشمیر میں ریڈیو جوکی کے مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا ،”مجھے لگتا ہے کشمیر میں ریڈیو جاکی کا مستقبل کافی روشن ہے کیونکہ کشمیر کے ہر گھر میں ریڈیو سنا جاتا ہے“۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات سچ ہے کہ کشمیر میں بہت کم ریڈیو اسٹیشنز ہے جس کی وجہ سے ریڈیو جوکیز کے لئے بہت کم جگہ ہے، انہوں نے کہا،” آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد اب کشمیر میں بھی پرائیویٹائزیشن ہونے جا رہی ہے جس کی وجہ سے کافی ریڈیو اسٹیشنز کھولنے کا امکان ہے جہاں پر ریڈیو جوکی کا شوق رکھنے والے لوگوں کے لئے روزگار کے مراحل بڑھ سکتے ہیں“۔
ریڈیو جوکی کا شوق رکھنے والی خواتین سے مخاطب ہوکر انہوں نے کہا ،”میری صلاح ان نوجوان خواتین سے یہ رہے گی کہ اگر انہیں لگتا ہے کہ وہ اس شعبے میں آگے آ سکتی ہیں اور ان میں وہ بات ہے تو انہیں
لوگوں کی باتوں کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، انہیں چاہیے کہ اپنے آپ پر اعتماد کریں اور محنت اور لگن سے آگے بڑھے یقین کامیابی ان کے قدم چومے گی۔
رافیا کا مافیا
رافیا رحیم کا دیہاتی لڑکی سے لے کر ‘میرچی رافیا تک کا سفر

RJ Rafia/Facebook
وسطی کشمیر کے شہر چہار ِ شریف کی رہنے والی 25 سالہ رافیا رحیم ، ضلع بڈگام سے پہلی آر جے ہے اور اس میدان میں سب سے کم عمر بھی۔ ریڈیو مرچی 98.3 ایف ایم پر اس کا دوپہر کا شو رافیا کا مافیا سامعین میں کافی مشہور ہوگیا ہے۔
کشمیر یونورسٹی میں صحافت کے سوبے میں داخلے سے بہت پہلے ، رافیا نے دوردرشن پر گڈ مارننگ جے اینڈ کے کی میزبانی کی ، یہ ایک ایسا پروگرام ہے جس میں معاشرتی امور پر بحث ہوتی ہے۔
یہی وہ وقت تھا جب براہ راست پروگرام کی میزبانی کرنے اور مختلف شعبوں کے ماہرین سے بات چیت نے ان کی اس مہارت میں چمک لائی۔
ریڈیاوشو نے نہ صرف رافیاکو “پہچان” بخشی بلکہ ان لوگ جو اس سے قبل جموں وکشمیر میں مرد غالب پیشہ میں شامل ہونے کے ان کے فیصلے پر سوال کھڑے کرتے تھے کو بھی کڑا جواب دیا ۔
“مجھے اکثر کہا جاتا تھا کہ میں اپنی تعلیم مکمل کروں اور ٹیچر کی نوکری کے لئے درخواست دوں۔ لیکن میرے ابو نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا… رحیم نے کہا ، ”
اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ، انہوں نے مقامی روزنامہ کے ساتھ کام کرتے ہوئے پرنٹ میڈیا میں اپنی قسمت آزمائی۔ تاہم ، وہاں کام کرنے کے کچھ مہینوں بعد ، 2016 کے موسم گرما میں جب وادی پانچ ماہ طویل ہڑتال کی زد میں تھی ، رافیا نے کام کی تلاش میں نئی دہلی کی اوڈان بھری۔
گھر سے دور رہنے کا یہ ان کا پہلا تجربہ تھا ، اور وہ بھی بنا کسی یار و مددت گار۔ انہوں نے کہا ، “یہ ایک چیلنج تھا لیکن میں پرعزم تھی۔
ایک ماہ تک جدوجہد کرنے کے بعد ، رافیا نے بتایا کہ انہیں نوئیڈا میں مقیم اے پی این نیوز اینڈ میڈیا میں بطور نیوز اینکر / رپورٹر ملازمت ملی۔ کچھ مہینوں تک وہاں کام کرنے کے بعد ، وہ چھوڑ دیا اور بنگلور روانہ ہوگئی جہاں آن لائن نیوز پورٹل ، لوجیکل انڈیا میں بطور سب ایڈیٹر ، چند ماہ کام کیا۔
یہی وہ وقت تھا جب ریڈیو مرچی کشمیر میں اپنا اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ اس دوران کشمیر میں آڈیشن ہو رہے تھے، رافیا نے ریڈیو سٹیشن کے نام ایک ایمیل ارسال کیا اور ریڈیو سٹیشن میں کام کرنے کی خواہش جتائی،جس کے بعد انہیں اوڈیشن کے لئے دئلی بلایا گیا اور ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں سلیکٹ کر لیا گیا ۔
آج ، وہ ہفتے میں چھ دن ، شام 3-7 بجے تک اپنا شو چلاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد اپنے پروگرام کے ذریعے لوگوں کو تفریح فراہم کرنا ہے۔ وہ یہی کوشش کرتی ہیں کہ ان کا پروگرام سننے کے بعد لوگوں کی پریشانی، اداسی اور تھکاوٹ دور ہوجائے۔ مختصراً یہ کہ وہ کشمیری سامعین کو تفریح فراہم کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔
رحیم نے خبر اردو کو بتایا “اس دوران بہت سارے لوگوں کی طرف سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن انہیں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے مزید کہا ”میرے ابو ہمیشہ میرے پیچھے کھڑے رہتے“ ۔ رافیا کے والد کا چند سال قبل ایک سڑک حادثے میں انتقال ہوگیا تھا۔

RK Mehak/facebook
خوش خبری دینے والی آر جے
(ار جے مہک)
مہک کا شو ، ان کے اپنے الفاظ میں ، مشہور ڈیل جھیل کے طلوع آفتاب کے شاندار رنگوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ریڈیو مرچی میں اپنے مختصر قیام میں ، اس نے اپنی ایک الگ پہچان بنا لی ہے ، وہ صبح کے آٹھ بجے ہفتہ میں چھ دن مارننگ شو کرتی ہے۔
ان کے شو کے ایک حصے میں خوشخبری دینا بھی شامل ہے ۔جو کشمیر جیسی جگہ میں کوئی آسان کام نہیں ہے۔
سری نگر کے سنت نگر علاقے میں رہنے والی مہک نے اپنی ابتدائی تعلیم کنوٹ پرزننٹیشن اسکول سے حاصل کی ،جس کے بعد ایم آے ٹی سے گریجویشن کی اور بعد میں صحافت میں پوسٹ گریجویشن کی ۔
مہک جو پچھلے تین سال سے ریڈیو مرچی کا مورننگ شو کر رہی ہیں نے اپنے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا
”میں اس سے پہلے ہوم شاپ 18 اور دوردرشن کی اینکر اور پھر سی این این-آئی بی این کے ساتھ بطور رپورٹر کام کرتی تھی“۔
صحافت سے ریڈیو جوکی بننے کا سفر میرا بہت مشکل رہا، انہیوں نے کہا ” میں سی این این میں کافی سنجیدہ صحافت انجام دے رہی تھی ، لیکن میرا مارننگ شو بھی کافی زیادہ سنجیدہ ہی رہتا ہے جس میں مجھے اپنے سننے والوں تک دن بھر کی تازہ ترین خبریں پہنچانا پڑتی ہیں ۔
” ریڈیو مرچی میں ہر چیز مرچی والے انداز میں بولی اور پیش کرنی پڑتی ہے جو کہ ایک بڑاچالینج رہا“۔
حالانکہ یہ کافی زیادہ چلنجز سے بھرا ہوا ہے لیکن ایک آرجے جے بننا میرے لئے بڑی بات ہے
وہ اپنے سننے والوں سے ان کی پریشانیوں کو سننے کے لیے regularly باقاعدگی سے بات چیت کرتی رہتی ہے اور ماہرین کو ان کے حل کی فراہمی میں مصروف رختی ہے۔ انہوں نے کہا ، “میرا کام بہت جوش و خروش سے بھرا ہوا ہے … اس سے مجھے اپنے سامعین کے ساتھ بات چیت کرنے کی بہت زیادہ آزادی ملتی ہے۔”
نہوں نے بتایا ہے کی انہیں اس کام میں آنے کے بعد کئی بار آن لائن تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا جس پر وہ کبھی کبھار غصے میں آکر لوگوں کو جواب بھی دیتی ہے تاہم وہ ہمیشہ ایسے معاملے میں چپ رہنا ہی پسند کرتی ہے۔
وہ کہتی ہیں اگر چہ کشمیر میں ریڈیو جوکی کا اچھا مستقبل نظر آ رہا ہے مگر بہت کم اسٹیشن ہونے کی وجہ سے کا م ملنا مشکل ہو رہا ہے۔
سننے والوں کی پسندیدہ یہ ار جےہر گزرتے دن کے ساتھ مقبولیت حاصل کررہے ہیں۔
تین سے پانچ صوفی کے ساتھ
(ار جے صوفی)

RJ Sofie/facebook
شوپیان ضلع سے تعلق رکھنے والی ،سری نگر شہر کے میئر کی اہلیہ یو سرا، جن کا بروڈ کاسٹنگ نام ار جے صوفی ہے،پچھلے کئی سالوں سے ریڈیو اسٹیشن میں نہ صرف بطور ریڈیو جوکی بلکہ پروگرامنگ ہیڈ کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں ،
یوسرا 93.5 Red FM پر اپنا تین سے پانچ کا شو کرتی ہیں،
یوسرا نے بنیادی تعلیم کان ویٹ پریزنٹیشن سکول سے حاصل کی ہے ،جس کے بعد ومنز کالج ایم اے روڈ سرینگر سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی، جس کے فوراً بعد ہی وہ ریڈیو سے منسلک ہو گئیں،
گھر کے ماحول کو دیکھتی ہوئی صوفی کے پاس صرف تین ہی راستے تھے ، اپنے والد کی طرح وکالت کا پیشہ اختیار کرلینا، یا سوشل ورکر بن کے سماجی خدمات انجام دینا،یا پھر صحافت۔ سوفی نے صحافت کو ترجیح دی،
خبر اردو سے بات کرتے ہوئے صوفی نے بتایا, “میں ریڈیو اسٹیشن کے فنانس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے کی غرض سے گئی تھی،جہاں میری صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اسٹیشن کی ویس پریزیڈنٹ نے مجھے کریٹیو ڈیپارٹمنٹ میں شامل کرلیا”،
میرے لحاظ سے ریڈیو جوکی بننا کوئی ماہرانہ کام نہیں ہے، مگر بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اس کام کو انجام دیے پاتے ہیں ،اس کام کے لیے آپ کے پاس وہ صلاحیت ہونی چاہیے جو اس کے لیے درکار ہے،
انہوں نے کہا”میل ڈومینیٹیڈ سوسائٹی میں جب بات آر جے یا کریٹیویٹی کی آتی ہے تو خواتین ہر لحاظ سب سے آگے ہیں”۔
وہ کہتی ہیں،سوشل میڈیا کے وجود میں آنے سے ہر شخص اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے، وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں دوسروں کو ٹرول کرنے میں مزہ آتا ہے ، اور خاص کر خواتین جو نمایاں کارکردگی کی وجہ سے ایک پبلک فیگر کی حیثیت رکھتی ہیں ان لوگوں کی تنقید کا اکثر نشانہ بنتی ہے۔
نوجوان خواتین جو اس شعبہ میں انا چاہتی ہیں انہیں صلہ دیتے ہوئے صوفی نے کہا ، ریڈیو میں آنے کے بہت کم ظرائیے ہیں ، اگر ہم بات کریں کشمیر کی تو یہاں پر بھی اس شعبے میں بہت کم لوگوں کو لیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا ”میری صلاح ان نوجوانوں کے لئے جو اس فیلڈ میں اگے انا چاتے ہیں سے یہی رہے گی کہ وہ اپنے اپ کو اس لایق بنائے کی وہ لوگوں کی نظر میں اسکے ، انہوں نے کہا کہ اج کل انٹرنیٹ پر بہت ساری سہولیت دستیاب ہیں جن کا استمال کر کے اپ لوگوں کی نطر میں اسکتے۔ اگر اپ میں ٹیلنٹ ہے تو اپ کو کوئی روک نہیں سکتا“۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

جموں و کشمیر4 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا7 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر7 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا7 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoشہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر
دنیا1 week agoامریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل کا دعویٰ
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ زیادہ دور نہیں
دنیا7 days agoٹرمپ امریکہ کو ایک اور تباہ کن ڈیل میں نہیں جھونکیں گے: وائٹ ہاؤس
دنیا7 days agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں







































































































