تازہ ترین
سنڈے مارکیٹ میں لوگوں کا اژدھام

سری نگر 18 دسمبر(یو این آئی) جموں وکشمیر کی گرمائی راجدھانی سری نگر کے ٹی آر سی گراونڈ سے ہر ی سنگھ ہائی اسٹریٹ تک لگنے والے روایتی سنڈے مارکیٹ میں حسب معمول لوگوں کا اژدھام اُمڈ آیا تھا، بھیڑ بھاڑ کا یہ عالم تھا کہ گاڑیوں کا ہی جام نہیں بلکہ راہگیروں کا بھی جام لگ جاتا تھا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ مختلف اشیائے ضروریہ خاص کر گرم ملبوسات اور گھریلو ساز وسامان خریدنے کے لئے لوگوں کے رش کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ دوپہر تک بیشتر اے ٹی ایم میشنوں میں پیسے ختم ہوئے تھے۔
سویٹر بیچنے والے ایک ریڑا بان نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ گزشتہ اتوار کو شدید سردی کی وجہ سے کام قدرے متاثر ہوا تھا لیکن اس اتوار کو موسم بھی قدرے بہتر ہے جس کی وجہ سے کام بھی بہتر رہا۔
معلوم ہوا ہے کہ سردی کے باعث سنڈے مارکیٹ میں اتوار کے روز لوگوں نے گرم ملبوسات کی جم کر خریداری کی۔
بتادیں کہ سری نگر کے سول لائنز میں ٹی آر سی کراسنگ سے تاریخی لال چوک تک ہر اتوار کو سنڈے مارکیٹ لگتا ہے جس میں سینکڑوں ریڑہ بان ضرورت زندگی کی مختلف چیزیں بالخصوص ملبوسات سستے داموں فروخت کرتے ہیں۔
دنیا
ایران نے فائرنگ کی تو امریکہ ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کر دے گا: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو سخت دھمکی دے دی۔
ٹروتھ سوشل پر بیان میں صدر ٹرمپ نے لکھا کہ آبنائے ہرمز میں ایران نے فائرنگ کی تو امریکہ ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کر دے گا۔
انہوں نے کہا کہ تہران کے قریب یا اندر واقع تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جائے گا، میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی بھی ہتھیار سے جہاز پر فائرنگ کا جواب دیا جائے گا۔
ایران جنگ میں دوبارہ شدت آنے کے بعد امریکی فوج نے مسلسل گیارہویں رات ایران پر فضائی حملے کیے، جواب میں ایران نے بھی کویت کے کیمپ دوحہ کو نشانہ بنایا۔
ترجمان سینٹکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران پر گزشتہ شام سات بجے فضائی حملے شروع کیے گئے، امریکی فوج نے اپنا بیانیہ دہراتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں ایرانی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔
سینٹکام نے یہ بھی کہا کہ ایران کی دوبارہ ناکہ بندی کے دوران 21 جولائی تک 8 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا، اور امریکی فوج نے ایک تجارتی جہاز کو ناکارہ بھی بنایا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکہ نے بوشہر کے نواحی علاقوں میں فضائی حملے کیے، کنارک اور سیریک میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، کرمانشاہ اور خوزستان میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، حملوں کی وجہ سے تہران کے مشرق اور شمال مشرق میں فضائی دفاعی نظام فعال کیا گیا۔
ادھر ایران کی فوج نے مغربی کویت کے کیمپ دوحہ میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں، ایرانی فوج نے کہا کہ اس کی افواج نے امریکا کی ’’بار بار جارحیت‘‘ کے جواب میں اڈے پر ’’گولہ بارود کے ڈپو‘‘ اور ’’زمینی فورسز کمانڈ لاجسٹک آلات‘‘ کو نشانہ بنایا۔
بیان میں بتایا گیا کہ کیمپ دوحہ خطے میں امریکی اہلکاروں اور ساز و سامان کے لیے ایک اہم معاون مرکز ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
محبوبہ مفتی کا عمر عبداللہ پر دفعہ 370 کے معاملے میں لوگوں کو ‘شکست کا احساس’ دلانے کا الزام
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے بدھ کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر الزام لگایا کہ وہ یہ کہہ کر جموں و کشمیر کے لوگوں کو “شکست خوردہ محسوس” کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ موجودہ مرکزی حکومت کے تحت دفعہ 370 کی بحالی ناممکن ہے۔
عمر عبداللہ کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہ موجودہ بی جے پی حکومت سے دفعہ 370 کی بحالی کا مطالبہ کرنا غیر عملی ہے، محبوبہ نے سوال اٹھایا کہ اگر نیشنل کانفرنس کا ماننا تھا کہ اسے حاصل نہیں کیا جا سکتا، تو پھر اس نے اپنے 2024 کے انتخابی منشور میں اس مسئلے کو کیوں شامل کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ “..وہ لوگوں کو شکست کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں کسی بھی لیڈر کو اپنے لوگوں کو یہ محسوس نہیں کرانا چاہیے کہ وہ ہار چکے ہیں۔ میں اب بھی کہتی ہوں کہ کشمیر کا مسئلہ زندہ ہے اور اسے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ دفعہ 370 اور 35A کو اس حل کا حصہ رہنا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کی سیاسی خواہشات کو محض ریاست کے درجے کی بحالی تک محدود کرنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے اور یہ اگست 2019 کی آئینی تبدیلیوں کو معمول کے طور پر قبول کرنے کے مترادف ہے۔
محبوبہ نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کی سیاسی امنگوں کو صرف ریاست کے درجے کی بحالی تک محدود کر دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ نیشنل کانفرنس، جو اسمبلی میں آرام دہ اکثریت رکھتی ہے، ان کے خیال میں “جموں و کشمیر کے پورے معاملے” کو محض ریاست کے درجے کے مطالبے تک محدود کر رہی ہے۔
محبوبہ نے کہا کہ جموں و کشمیر 1947 سے ایک طویل سیاسی جدوجہد کا گواہ رہا ہے اور یہاں کے لوگوں کی خواہشات کو کسی ایک مطالبے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا، “جموں و کشمیر ایک حساس جگہ ہے۔ 1947 سے لوگ اپنی عزتِ نفس کے لیے لڑ رہے ہیں۔ یہ کہنا کہ ریاست کا درجہ بحال ہونے سے ہر مسئلہ حل ہو جائے گا، عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔”
محبوبہ نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ پر زور دیا تھا کہ وہ ریاست کے درجے کی بحالی کے لیے نئی دہلی میں نیشنل کانفرنس کے احتجاج کے انعقاد سے قبل ایک کل جماعتی (آل پارٹی) اجلاس بلائیں۔ ان کے مطابق ایک مشترکہ سیاسی حکمتِ عملی زیادہ وزن رکھتی اور جموں و کشمیر کے سیاسی مستقبل پر ایک وسیع تر اتفاقِ رائے کی عکاسی کرتی۔ انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ عوام نے نیشنل کانفرنس کو صرف ریاست کے درجے کے حصول کے لیے ووٹ نہیں دیا، بلکہ ان بڑے سیاسی سوالات کو حل کرنے کے لیے دیا ہے جو اگست 2019 کی آئینی تبدیلیوں کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “یہ مینڈیٹ صرف ریاست کے درجے کے لیے نہیں دیا گیا تھا۔ یہ جموں و کشمیر کو درپیش بڑے مسائل کو حل کرنے کے لیے دیا گیا تھا،” انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی پی وزیر اعلیٰ کو عوام کے تئیں ان کی وسیع تر ذمہ داری یاد دلاتی رہے گی۔ محبوبہ نے این سی (نیشنل کانفرنس) پر 5 اگست 2019 کی آئینی تبدیلیوں کو “معمول” کے طور پر قبول کرنے کا الزام لگایا اور اس کا موازنہ مرکز اور اس وقت کی این سی قیادت کے درمیان 1975 میں ہونے والے معاہدے سے کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ “مجھے یاد ہے کہ نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ صورتحال کو معمول کے طور پر قبول کیا ہے۔ جب مرحوم شیخ عبداللہ نے 1975 کے معاہدے پر دستخط کیے، تو انہوں نے صدرِ ریاست اور وزیر اعظم کے سابقہ عہدوں کی جگہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ قبول کر لیا۔ اس وقت تک جو بھی آئینی تنزلی ہوئی تھی، اسے معمول کے طور پر تسلیم کر لیا گیا تھا۔ اسی طرح، میں عمر صاحب کو صرف ریاست کے درجے کے لیے جنتر منتر جاتے، صرف ریاست کے درجے کے بارے میں بات کرتے ہوئے دیکھ رہی ہوں، جہاں دفعہ 370 کا ذکر تک نہیں کیا گیا اور اب وہ کہہ رہے ہیں کہ اس کی بحالی ممکن نہیں ہے۔ میرے خیال میں وہ 2019 میں جموں و کشمیر میں جو کچھ ہوا، اسے معمول کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔”
اس سے قبل، سابق ایم ایل اے شعیب لون نے پارٹی صدر کی موجودگی میں پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کی۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے رامسو میں چٹان کھسکنے سے دو لوگوں کی موت، پانچ زخمی
جموں، جموں-سری نگر نیشنل ہائی وے پر رامبن ضلع میں رامسو کے قریب آج ایک مسافر ٹیمپو پر پہاڑی سے پتھر گرنے کی وجہ سے دو لوگوں کی موت ہو گئی اور پانچ دیگر زخمی ہو گئے۔
حکام نے بتایا کہ مسلسل ہونے والی بارش کی وجہ سے پہاڑی سے اچانک پتھر آ گرا، جس نے ٹیمپو کو اپنی زد میں لے لیا اور گاڑی کو شدید نقصان پہنچایا۔ ٹیمپو میں سوار کئی مسافر زخمی ہو گئے جنہیں قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں سے دو افراد نے علاج کے دوران دم توڑ دیا۔
پولیس نے واقعے کا نوٹس لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔
یو این آئی۔ م ع
دنیا5 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
ہندوستان1 week agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
دنیا1 week agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا5 days agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
دنیا5 days agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
جموں و کشمیر4 days agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
ہندوستان6 days agoاتراکھنڈ کے طلبہ پیپر لیک کے خلاف ‘چھاتروں کی گونج’ سے جڑے: راہل
دنیا5 days agoایران نے بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا: امریکہ
ہندوستان5 days agoامریکی فوج کے ایران پر تازہ حملوں میں 8 افراد جاں بحق
دنیا5 days agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
ہندوستان1 week agoسرکار نے 62 ہزار کروڑ کی لاگت سے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم کو منظوری دی







































































































