جموں و کشمیر
بارہ مولہ، کولگام پولیس نے منشیات کی خلاف ورزیوں اور عوامی سگریٹ نوشی پر سخت کارروائی تیز کی
سرینگر، بدھ کے روز بارہ مولہ اور کولگام اضلاع میں پولیس نے عوامی صحت اور منشیات کے قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کو مزید سخت کرتے ہوئے نفاذی مہم تیز کر دی۔
بارہ مولہ میں پولیس نے ریونیو حکام اور ڈرگ انسپکٹر کے ساتھ مل کر ضلع بھر میں مشترکہ معائنہ مہم چلائی۔ خصوصی مہم گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول چندوسہ کے 100 گز کے دائرے میں چلائی گئی، جہاں کئی دکانوں کا معائنہ کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ اس دوران ممنوعہ علاقے میں سگریٹ نوشی کرتے پائے گئے افراد پر سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات ایکٹ (COTPA) کے تحت جرمانہ عائد کیا گیا۔ حکام نے متعدد خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ لگایا اور موقع پر کل 1,300 روپے وصول کیے۔
افسران نے میڈیکل اور فارمیسی دکانوں کا بھی معائنہ کیا تاکہ درست لائسنس، اسٹاک اور فروخت کے ریکارڈ، سی سی ٹی وی کیمرے کی تنصیب اور کنٹرولڈ سبسٹینس کے قوانین کی تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ دکانداروں کو سختی سے قوانین پر عمل کرنے کی ہدایت دی گئی اور خبردار کیا گیا کہ خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی ہوگی۔
دوسری جانب کولگام میں پولیس نے دیوسر علاقے میں منشیات کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی میڈیکل دکانوں کے خلاف کارروائی کی۔ پولیس اسٹیشن دیوسر کی ٹیموں نے ڈرگ کنٹرولر کے ساتھ معائنہ کیا، جس میں دو میڈیکل دکانوں—عرفان میڈیکل اسٹور اور الشفا میڈیکل اسٹور—کو سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث پایا گیا۔ دونوں دکانوں کو موقع پر سیل کر دیا گیا کیونکہ وہ این آر ایکس ادویات کے لازمی ریکارڈ رکھنے میں ناکام رہے، جو ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دو دیگر میڈیکل دکانوں کو سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہ کرنے پر عارضی طور پر سیل کیا گیا، جس سے نگرانی اور جواب دہی پر سوال اٹھے۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کولگام، عنایت علی چودھری نے کنٹرولڈ سبسٹینس سے متعلق خلاف ورزیوں کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کو دہراتے ہوئے خبردار کیا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے میڈیکل دکان مالکان پر زور دیا کہ وہ قانونی دفعات کی تعمیل کریں، درست دستاویزات رکھیں اور سی سی ٹی وی نصب کریں تاکہ ادویات کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
پولیس نے کہا کہ عوامی صحت کے تحفظ اور جواب دہی کو یقینی بنانے کے لیے ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع ادھم پور میں پیر کی صبح رام نگر سے ادھم پور جا رہی ایک بس کے گہری کھائی میں گر جانے سے کم از کم 16 مسافر ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ مسافروں کو لے جانے والی بس ضلع کی رام نگر تحصیل کے کانوٹے موڑ کے قریب حادثے کا شکار ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں 16 مسافر ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔” پولیس، مقامی لوگوں اور فوج کے جوانوں نے حادثے کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ زخمیوں کو ادھم پور کے گورنمنٹ میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا ہے۔
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے ادھم پور کے ڈی سی منگا شیرپا سے بات کی، کیونکہ ایک گھنٹہ پہلے کانوٹ گاؤں کے قریب رام نگر سے ادھم پور جانے والی ایک مسافر بس کے حادثے کی خبر موصول ہوئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’بچاؤ کی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئی ہیں۔ کئی ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔ شدید زخمیوں کو ایئر لفٹ کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔” ڈاکٹر سنگھ نے لکھا کہ وہ مقامی انتظامیہ اور راجندر شرما کی قیادت میں مقامی کارکنوں کی ٹیم کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’’ادھم پور میں ہونے والا سڑک حادثہ انتہائی دردناک ہے۔ میری گہری ہمدردی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔ خدا انہیں صبر عطا فرمائے۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔ میں نے ضلع انتظامیہ، پولیس، ایس ڈی آر ایف اور محکمہ صحت کو متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔”
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر
جموں کشمیر میں کالعدم جماعتِ اسلامی اور ایف اے ٹی سے وابستہ 58 پرائیویٹ اسکول حکومت کی تحویل میں
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے کالعدم تنظیم جمعات اسلامی اور اس کی تعلیمی شاخ فلاحِ عام ٹرسٹ سے وابستہ 58 نجی اسکولوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔
یہ کارروائی اس اقدام کے تقریباً آٹھ ماہ بعد کی گئی ہے، جب حکومت نے جماعت سے منسلک 215 اسکولوں کو اپنے کنٹرول میں لیا تھا۔ واضح رہے کہ وزارتِ داخلہ نے 2019 میں جماعتِ اسلامی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
جموں و کشمیر کے محکمۂ تعلیم کے سیکریٹری کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں نے مزید 58 فعال اسکولوں کی نشاندہی کی ہے، جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر جماعتِ اسلامی یا فلاحِ عام ٹرسٹ سے منسلک پائے گئے ہیں۔ حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ ان اسکولوں کی انتظامی کمیٹیوں کی قانونی حیثیت ختم ہو چکی ہے یا ان کے خلاف خفیہ رپورٹ موجود ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ماتحت محکمۂ تعلیم نے ضلع مجسٹریٹس/ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان اسکولوں کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لیں اور مناسب جانچ کے بعد نئی انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل کی تجویز پیش کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکولی تعلیم کے محکمے کے ساتھ مشاورت اور تال میل کے ذریعے ایسے اقدامات کیے جائیں تاکہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔
حکم جاری ہونے کے بعد حکام نے ہفتہ کے روز ان اسکولوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ان 58 اداروں میں سے سب سے زیادہ 29 بارہمولہ ضلع میں ہیں، جبکہ پلوامہ میں 7، کولگام اور کپواڑہ میں 5-5 اسکول شامل ہیں۔ اننت ناگ اور بڈگام میں 4-4 جبکہ بانڈی پورہ میں 2 اسکولوں کو کنٹرول میں لیا گیا ہے، جب کہ شوپیان اور سری نگر میں ایک ایک اسکول شامل ہے۔
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر
کشمیر میں دوسرے دن بھی بارش جاری، اگلے دو دنوں میں مزید بارش کا امکان
سری نگر، محکمہ موسمیات کے حکام نے ہفتہ کے روز بتایا کہ کشمیر میں مسلسل دوسرے دن بھی ہلکی سے درمیانی بارش کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ مغربی ڈسٹربنس کے باعث اونچے پہاڑی علاقوں میں ہلکی برف باری بھی ہوئی ہے۔ اگلے دو دنوں تک پورے علاقے میں کہیں کہیں گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق وادی کے مختلف علاقوں میں بارش ریکارڈ کی گئی، جہاں سری نگر اور پہلگام میں تقریباً 14.2 ملی میٹر بارش ہوئی، جبکہ شمالی کشمیر میں سب سے زیادہ بارش درج کی گئی جس میں کپواڑہ میں 19 ملی میٹر اور بارہمولہ میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ گلمرگ جیسے مشہور سیاحتی مقام پر 15 ملی میٹر بارش ہوئی، جبکہ جنوبی کشمیر میں نسبتاً کم بارش دیکھی گئی، جہاں کوکرناگ میں 5.2 ملی میٹر اور قاضی گنڈ میں 3.4 ملی میٹر بارش ہوئی، جو چھٹپٹ بارش کی عکاسی کرتی ہے۔
شمالی اور وسطی کشمیر کے بلند و بالا علاقوں، بشمول سونمرگ-زوجیلا پٹی، کپواڑہ اور گریز میں ہلکی برف باری ریکارڈ کی گئی، جبکہ بارش کے باوجود کشمیر ڈویژن کے کئی مقامات پر رات کا درجہ حرارت معمول سے 2 سے 3 ڈگری سیلسیس زیادہ رہا۔ گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت سب سے کم مائنس 1.5 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا، جبکہ سری نگر میں درجہ حرارت 10.7 ڈگری سیلسیس رہا، جو معمول سے تقریباً 2.5 ڈگری سیلسیس زیادہ ہے۔
محکمہ موسمیات نے اگلے 24 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر کے بیشتر مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش، برف باری اور گرج چمک کے ساتھ چھینٹے پڑنے کی پیش گوئی کی ہے۔ اگلے دو دنوں تک موسم کے غیر مستحکم رہنے کا امکان ہے، جس کے دوران وسیع پیمانے پر بارشیں ہو سکتی ہیں۔
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا1 week agoایران مخلص ہے تو ہم بھی کھلے دل سے بات کریں گے: جے ڈی وینس
دنیا3 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
جموں و کشمیر1 week agoبخاری نے 100 روزہ ’نشہ مکت‘ مہم کی حمایت کی، جموں و کشمیر میں عوامی تعاون کی اپیل
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وفد کی پیشگی شرائط منظور کرلیں تو دوپہر کو امریکی حکام سے مذاکرات ہوں گے: ایرانی میڈیا
دنیا1 week agoڈونلڈ ٹرمپ کی شہرت میں کمی: ڈیموکریٹ کملا ہیرس نے 2028ء کا صدارتی انتخاب لڑنے کا عندیہ دیدیا
دنیا7 days agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ







































































































